شہید سید الشہید ، ابو المساکین حضرت امام حسین علیہ السلام۔

(Elina Malik, )
تحریر : کہکشاں صابر۔

محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب اور آپؐ کی پیاری بیٹی فاطمہ زہرا کے چھوٹے بیٹے امام حسین علیہ السلام ان کے بارے میں محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں بتاریخ تین شعبان چار ہجری حسین بن علی کی ولادت ہوئی اس خوشخبری کو سن کر حضرت محمدؐ تشریف لائے اور بیٹے کو گود میں لیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دی۔ پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السّلام کی پہلی غذا بنی۔حسین بن علی کی پیدائش سے پورے خاندا ن میں ایک خوشی و مسرت کی لہر دوڑ رہی تھی لیکن مستقبل کی خبر صرف حضرت محمدؐ کو ہی تھی جس بنا آپؐ کی آنکھوں سے آنسو برس پڑیں حضرت محمدؐ جوپیغام خداوندی ہے اپنے دونوں نواسوں حسن اور حسین سے بے پناہ محبت کرتے تھے خاص کر اپنے چھوٹے نواسے سے محبت کا امتیازہی الگ تھا، ایک دفعہ آپؐ نماز میں سجدہ کی حالت میں تھے کہ حسین علیہ السلام آپؐ کی پشتُ مبارک پراگئے توآپؐ نے سجدہ کو طول دیا …… یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام خود سے بخوشی آپ ؐ کی پشت پر سے علیٰحدہ نہ ہوگئے ……اس وقت تک آپؐ نے سر سجدے سے نہیں اٹھایا رسولؐ نے حسین علیہ السلام کے لیے انمول خزینہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین علیہ السلام کی بدولت ہمیشہ قائم رہے گا۔امامت کے تیسرے فرد حضرت امام حسین علیہ السلام ، آپ کی عبادت، سخاوت اور آپ کے کمالِ اخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے - خود رسول اﷲؐ نے بچپن میں آپ کی سخاوت اور عبادت کوایسا نمایاں پایا، کہ فرمایا "حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے "-ابوالمساکین امام حسینؓ کا خوبصورت لقب وہ اس لیے کے دروازے سے کوئی سوالی خالی ہاتھ نہ جاتا ، مسافروں اور حاجت مندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے - حضرت امام حسین علیہ السلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ "جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی- اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو، کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو-آپ علیہ السلام وقت آنے پہ دشمنوں پر بھی رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے - آپ علیہ السلام کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- لوگ مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا کرتے تھے - آپ کی دعاؤں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے ۔آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے - جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کی بلندی مرتبہ کے قائل تھے - ایک مرتبہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے حاکم شام معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی اس خط کو پڑھ کر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ہوئی-پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ہی سخت خط لکھئے - امیر معاویہ نے کہا "میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ہو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاہوں تو بخدا حسین میں مجھے ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہیں ملتا"- 35ہجری میں جب حضرت امام حسینؓ کی عمر 31 برس کی تھی تو عام مسلمانوں نے حضرت علی ابن ابی طالب کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کر لیا تھا …… یہ امیر المومنین کی زندگی کے آخری پانچ سال تھے ( جمل صفین اور نہروان کی دو لڑائیں ہوئی اور امام حسین علیہ السلام ان میں اپنے محترم والد کے ساتھ شریک ہوئے اور شجاعت کے جوہر بھی دکھلائے ) ……40 ہجری میں جناب امیر مسجد( حضرت علی ابن ابی طالب) کوفہ میں شہید ہوئے اور اب امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن علیہ السلام کے سپرد ہوئیں جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے بڑے بھائی تھے ……حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک باوفااور اطاعت شعار بھائی کی طرح حضرت امام حسن علیہ السلام کاساتھ دیااور جب حضرت امام حسن علیہ السلام نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے امیر معاویہ کے ساتھ صلح کرلی تھی تو حضرت امام حسین علیہ السلام بھی اس مصلحت پر راضی ہوگئے ۔مگر امیر معاویہ نے ان شرائط کو جوحضرت امام حسن علیہ السلام کے ساتھ ہوئے تھے بالکل پورا نہ کیا یہاں تک کہ خودحضرت امام حسن علیہ السلام کو سازش ہی سے زہردے دیا گیا۔اور سب سے آخری اور اہم شرط کے بالکل خلاف کہ امیر معاویہ کو اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا۔ امیر معاویہ نے یزید کو اپنے بعد کے لیے ولی عہد بنا دیا اور تمام مسلمانوں سے اس کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور زور و زر دونوں طاقتوں کو کام میں لا کر دنیائے اسلام کے بڑے حصے کا سر جھکوا دیا گیاابن زیاد نے خاندان رسالت محمدؐ کوکربلا میں قتل کیا اور تمام شہدائے اہل سنت کے سر تیروں کی نوک پرر کھ کر دمشق میں شہادت حسین علیہ السلام کی خبر جب سر زمین حجاز میں پہنچی تو کوئی آنکھ ایسی نہیں تھی جو اس سانحہ میں اشکبار نہ ہو،اس واقعہ کی خبر اﷲ نے حضور صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت امام حسین علیہ اسلام کی پیدائیش سے پہلے کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔ کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی) لہذا حجاز میں فوری طور پر انقلاب آگیا ۔اہل مدینہ نے یزید کے بجائے عبداﷲ بن زبیر کو خلیفہ چن لیا تھا شہادت حسین علیہ السلام نے لوگوں کے سوئے ھوئے جذبات کو از سر نو بیدر کر دیا حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے ملت اسلامیہ کو بہت متاثر کیا اور انھوں نے امیوں کی حکومت کا تختی الٹ دیا۔ اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ امام حسین علیہ السلام کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا باب ہے جو شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے ۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخِ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔بیشک اسلام زندہ ھوتا ھے ہرکربلہ کے بعد۔آپ کی اخلاقی جراَت، راست بازی ،استقلال، صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم ایسا تھا کہ جان دے دی لیکن سر نہ جھکا اور نہ جھکنے دیا۔۔۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Elina Malik

Read More Articles by Elina Malik: 7 Articles with 6588 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Oct, 2016 Views: 805

Comments

آپ کی رائے
بہت اچھا لکھا بہن اللہ آپ کے قلم میں مزید برکت عطا فرمائے۔
By: nabila batool, lahore on Oct, 09 2016
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ