جادو جنات اور علاج قسط نمبر19

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
2 سحر محبت
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: (إِن الرُّقی والتمائم ویلتِوَلۃ شرک)
“بے شک دم، تعویذات اور خاوند کے دل میں بیوی کی محبت ڈالنے والی چیز شرک ہے۔” (الصحیحۃ للألبانی:۳۳۱ )
التولۃ کا جو معنی یہاں کیا گیا ہے، حافظ ابن کثیر نے اس کو النھایۃ میں ذکر کیا ہے، اور رسول اکرمﷺ نے اسے اس لئے شرک قرار دیا ہے کہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ از خود مؤثر ہوتا ہے اور اللہ کی مرضی کے بر خلاف کام کرتا ہے۔
یہاں ایک تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ حدیثِ مذکور میں جس دَم کو شرک کہا گیا ہے اس سے مقصود وہ دم ہے جس میں جنات و شیاطین سے مدد طلب کی جائے۔ رہا قرآنی دم اور وہ جو مسنون ادعیہ اور اذکار پر مشتمل ہو تو وہ بالاجماع جائز ہے۔
رسول اکرمﷺ کا فرمان ہے: (لا بأس بالرُّقی مالَم تکُنْ شرکا)
“ہر دم جائز ہے جب تک اس میں شرک نہ ہو۔” (مسلم:کتاب السلام:ج14،ص187)
سحر محبت کیسے ہوتا ہے؟
میاں بیوی کے درمیان اکثر و بیشتر اختلافات پیدہ ہو جاتے ہیں، لیکن بہت جلدی ختم بھی ہو جاتے ہیں اور زندگی فطری انداز کے مطابق رواں دواں رہتی ہے۔۔۔۔۔ مگر کچھ عورتیں بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور بہت جلد جادوگروں(عاملوں) کا رخ کر لیتی ہیں اور ان سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ ان کے خاوندوں پر جادو کر دیں تاکہ وہ ان سے محبت کریں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دین سے ناواقفیت اور ان کی کم عقلی کی دلیل ہے۔
چنانچہ جادوگر عورتوں کے اس مطالبے پر خاوند کا وہ کپڑا منگواتا ہے جس سے اس کے پسینے کی بو آ رہی ہو، پھر وہ اس کے کچھ دھاگے نکال کر اس پر دم کرتا ہے اور بعد ازاں اسے گرہ لگا دیتا ہے، اس کے بعد عورت کر حکم دیتا ہے کہ وہ اسے غیر آباد جگہ پر پھینک دے۔ یا وہ کھانے پینے کی ایسی چیز پر دم کرتا ہے جس میں نجاست یا خونِ حیض کی ملاوٹ ہوتی ہے، پھر اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اسے اپنے خاوند کے کھانے پینے کی چیزوں میں ملا دے۔
سحر محبت کے اُلٹے اثرات
1۔ سحر محبت کا ایک الٹا اثر یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات خاوند اِس جادو کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا ہے۔ اور میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جو تین سال تک اسے وجہ سے بیمار پڑا رہا۔
2۔ اس کا ایک منفی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند خود اپنی بیوی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔
3۔ ایک اور الٹا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ بیوی دوہرا جادو کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا خاوند خود اپنی ماں، بہن اور دوسری رشتہ دار عورتوں سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے۔
4۔ دوہرے جادو کا ایک منفی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند دنیابھر کی تمام عورتوں سے حتیٰ کہ اپنی بیوی سے بھی شدید نفرت شروع کر دیتا ہے۔ اور میں ایک ایسے شخص کو بھی جانتا ہوں جس نے اس جادو کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر وہی بیوی بھاگم بھاگ جادوگر کے پاس پہنچی تاکہ اس سے سحر محبت توڑنے کا مطالبہ کرے لیکن اسے یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ وہ جادوگر مر چکا ہے۔ (جو اپنے بھائی کےلئے گڑھا کھودتا ہے خود اس میں گر جاتا ہے)
سحر محبت کے اسباب
1۔ خاوند بیوی میں اختلافات کا پھوٹ پڑنا۔
2۔ خاوند اگر مالدار ہو تو اس کے مال میں لالچ کرنا۔
3۔ بیوی کا یہ احساس کہ اس کا خاوند عنقریب دوسری شادی کر لے گا، گو شرعاً دوسری شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اس دور کی، خاص کر وہ عورتیں جو ذرائع اَبلاغ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوتی ہیں، یہ گمان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند اگر دوسری شادی کر لیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ان سے محبت نہیں ہے۔
عورت کی یہ سوچ انتہائی سنگین غلطی ہے کیونکہ خاوند باوجود یہ کہ اپنی پہلی بیوی سے محبت کرتا ہے، اسے دیگر کئی اسباب دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مثلاً کثرتِ اولاد کی رغبت، یا حالتِ حیض و نفاس میں قوتِ جماع پر کنٹرول نہ کر پانا، یا خاندانی تعلقات کو مضبوط کرنے کی خواہش رکھنا وغیرہ۔
جائز سحر محبت
عورت جائز طریقے سے اپنے خاوند پر جادو کر سکتی ہے اور وہ یہ ہے:
خاوند کی خاطر ہر وقت خوبصورت بن کے رہنا، اچھی خوشبو لگانا، خاوند سامنے آئے تو مسکراہٹ اور اچھے الفاظ سے اس کا استقبال کرنا، اچھے ساتھ کا ثبوت دینا، خاوند کے مال کی حفاظت کرنا، اس کے بچوں کی خوب دیکھ بھال کرنا، خاوند جب تک اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے اس کی فرمانبرداری کرتے رہنا۔
لیکن اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں عجیب تضاد سا محسوس ہوتا ہے، عورت کو جب کسی محفل میں شرکت کرنا ہوتی ہے، یا اپنی کسی سہیلی سے ملنے جانا ہوتا ہے تو خوب میک اپ کر کے، خوشبو لگا کر اور اپنے سارے زیورات پہنے ہوئے گھر سے گویا دلہن بن کر نکلتی ہے۔ اور جیسے ہی گھر میں واپس لوٹتی ہے تو اپنا میک اپ صاف کر دیتی ہے، زیورات اُتار دیتی ہے اور پرانے کپڑے پہن لیتی ہے، اور خاوند جس نے اس کےلئے یہ سب کچھ خریدا ہوتا ہے وہ اس سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہتا ہے اور ہمیشہ اپنی بیوی کو پرانے کپڑوں میں دیکھتا ہے جبکہ اس سے پیاز اور لہسن کی بدبو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔
اگر عورت میں کچھ عقل ہوتی تو ایسا نہ کرتی بلکہ اپنے خاوندکو زیب و زینت کا زیادہ حقدار تصور کرتی، لہٰذا اے میری مسلمان بہنو! تمہارا خاوند جب کام کےلئے گھر سے باہر چلا جائے تو اس کی غیر موجودگی میں گھر کے سارے کام کاج ختم کر لیا کرو، پھر غسل کر کے خاوندکی رضا کی خاطر جس سے یقیناً اللہ بھی راضی ہو گا خوب زیب و زینت اختیار کیا کرو، چنانچہ وہ جب گھر واپس آئے تو اسے اپنے سامنے خوبصورت بیوی، تیارشدہ کھانا اور صاف ستھرا گھر نظر آئے تاکہ تمہارے ساتھ اس کی محبت میں مزید اضافہ ہو، اور تمہارے علاوہ کسی اور پر اس کی نظر نہ پڑے۔ اللہ کی قسم یہی وہ جائز جادو ہے جو ہر بیوی اپنے خاوند پر کر سکتی ہے۔ (انتباہ'یہاں جادو کا لفظ بطور کہاوت استعمال کیا گیا ہے)
سحر محبت کا علاج
1۔ مریض پر قرآنی دم کریں جس کا ذکر ہم نے “سحر تفریق” میں کر دیا ہے، البتہ اس میں سورۃ البقرۃ کی آیت 102 کی بجائے سورۃ التغابن کی آیات 14 تا 16 کی تلاوت کریں۔
2۔ جس پر سحر کیا گیا ہو، دم کے دوران اس پر عموماً مرگی کا دورہ نہیں پڑتا، البتہ اس کے ہاتھ پاؤں سن ہو جاتے ہیں یا سر درد یا سینے کا درد یا معدے کا درد شروع ہو جاتا ہے، خاص کر اس وقت جب اس کو جادو پلایا گیا ہو تو اسے شدید معدے کا درد اٹھ سکتا ہے اور قے بھی آ سکتی ہے۔ لہٰذا اگر اسے معدے کا درد شروع ہو جائے اور وہ قے کرنا چاہے تو درج ذیل آیات پڑھ کر پانی پر دم کریں:
1۔ سورۂ یونس کی آیات 81 تا 82۔
2۔ سورۃ الاعراف کی آیات 117 تا 122۔
3۔ سورۂ طہ کی آیت 69۔
4۔ آیت الکرسی۔
پھر وہ پانی مریض کو پینے کےلئے دے دیں، اس کے بعد اسے زرد یا سرخ یا سیاہ رنگ کی الٹی آ جائے تو سمجھ لیں کہ اس کا جادو ٹوٹ گیا ہے، ورنہ تین ہفتے تک اسے یہ پانی پینے کی تلقین کریں یا اس وقت تک جب تک اس کا جادو ٹوٹ نہ جائے۔
خاوند کا علاج کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کی بیوی کو اس کا علم نہ ہو کیونکہ اگر اسے علم ہو جائے تو وہ دوبارہ اس پر جادو کر سکتی ہے۔
جاری ہے.....
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 22717 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Oct, 2016 Views: 529

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ