سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا نے حکیمانہ خطبوں اور تقریروں سے کربلا کے انقلاب کوحیاتِ نَو عطاکی

(Ata Ur Rehman Noori, India)
شہادت حسین رضی اﷲ عنہ کے بعدسیدہ زینب رضی اﷲ عنہا نے حسینی انقلاب کی قیادت و پاسبانی کے فرائض ادا کیے

 حضرت زینب رضی اﷲ عنہ مکتب اہل نبوت و ولایت کی ممتاز و عظیم اور منفرد و یگانہ نمونہ کامل بی بی حضرت فاطمۃالزہرارضی اﷲ عنہا کی آغوش میں پلی ہیں اور پیغمبر اسلام ﷺاور حضرت علی جیسی ہستیوں کے دامان فضیلت میں پروان چڑھی ہیں۔ علم و عبادت ، عفت و تقویٰ ، فصاحت و بلاغت ، ثابت قدمی ، حق کا مخلصانہ دفاع ، عزت نفس اور وفاداری اس گراں قدر خاتون کے نمایاں صفات و کمالات میں شامل ہیں۔ تاریخ اسلام کے تقدیر ساز معرکے میں حضرت زینب کبریٰ رضی اﷲ عنہا کاجاوداں کردار اُفق فضل و کمال پر آج بھی جگمگا رہا ہے۔ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے پُر شکوہ انقلاب کے ساتھ ثانیِ زہرا کانام ہمیشہ کے لیے جڑ گیا ہے۔تاریخ کربلا میں ہر ہر قدم پر جناب زینب کا مثالی کردار موجود ہے، چاہے وہ بھائی کی آخری رخصت وجدائی کا دلخراش منظر ہو یا عصر عاشورہ کی تنہائی و بے بسی کی روداد یا ظالم کے دربار میں حق و حقیقت کے دفاع کا مرحلہ ۔ آپ کی بے مثال شخصیت تاریخ کے ہر دور اور ہر زمانے کے لیے نمونہ و اسوہ ہے۔ایسے بحرانی حالات اورمصا ئب و آلام کے ماحول میں جہاں ہر انسان کے قدم متزلزل ہوجایا کرتے ہیں حضرت زینب رضی اﷲ عنہ ثابت قدم رہیں ، ظالموں اور جابروں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اورموقع و محل کے مطابق گوناگوں حالات میں بہترین کردار کامظاہرہ کیا۔

خانوادۂ نبوت کے ممتاز افراد اور رفقائے قافلہ کی شہادت کے بعد شمراور ابن سعد نے خیموں کو آگ لگادی ، سامان لوٹ لیااور پردہ نشینان ِحرم کی چادریں چھین لیں۔ایسے نازک وقت میں ہمت وجواں مردی کامظاہرہ کرتے ہوئے سیدہ زینب رضی اﷲ عنہانے فرمایا:’’شمر !تیری آنکھیں پھوٹ جائیں تو رسول اﷲﷺکی بیٹیوں کو بے پردہ کرناچاہتاہے۔ہمارے چہروں کے محافظ شہید ہوگئے ۔اب دنیامیں ہماراکوئی نہیں ہے۔یہ مانا کہ ہماری بے بسی نے تجھے دلیربنادیاہے لیکن کیاکلمہ پڑھانے کا احسان بھی تو بھول گیا؟سنگ دل ظالم !ناموس محمد ﷺکی بے حرمتی کرکے قہرخداوندی کوحرکت میں نہ لا۔تجھے اتنا بھی لحاظ نہیں ہے کہ ہم اسی رسول کی نواسیاں ہیں جس نے حاتم طائی کی قیدی لڑکی کو اپنی چادر اُڑھائی تھی۔‘‘(کربلا کامسافر،ص؍۴۸)

شہادت کے دوسرے دن اونٹنی کی ننگی پیٹھ پر سیدانیوں کورسیوں سے جکڑ کربٹھایاگیا۔خاندان رسالت کا یہ تاراج قافلہ جب مقتل سے گزرنے لگاتو سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہاکی لاڈلی بیٹی حضرت زینب نے روتے ہوئے فرمایا:’’یامحمداہ!آپ پر آسمان کے فرشتوں کااسلام ہو۔یہ دیکھیے آپ کا لاڈلاحسین ریگستان میں پڑاہے، خاک وخون میں آلودہ،تمام بدن ٹکڑے ٹکڑے ہے،نعش کو گوروکفن بھی میسر نہیں ہے۔نانا جان! آپ کی تمام اولاد قتل کردی گئی،ہَوااُن پر خاک اُڑا رہی ہے ،آپ کی بیٹیاں قید ہیں،ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،مشکیں کَسی ہوئی ہیں،پردیس میں کوئی ان کا یاوروشناسا نہیں۔نانا جان !اپنے یتیموں کو فریاد کو پہنچے۔‘‘ابن جریر کابیان ہے کہ دوست ودشمن کوئی ایسا نہ تھاجو حضرت زینب کے اس بیان پر آبدیدہ نہ ہوگیاہو۔(مرجع سابق،ص؍۵۰)

اسیران حرم کا قافلہ اشکبارآنکھوں اور جگرگداز سسکیوں کے ساتھ کربلاسے رخصت ہوکرکوفے کی جانب روانہ ہونے لگاتو امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ نے ابن سعد سے کہاکہ ’’باباجان کاسر میری گود میں دے دے تاکہ میں اسے سینے سے لگالوں۔‘‘ ظالم ابن سعد نے زخموں پرنمک چھڑکتے ہوئے کہا: گود میں نہیں تیرے قدموں کی ٹھوکر پہ ڈال سکتاہوں ۔اضطراب میں بجھی ہوئی آواز میں سیدہ زینب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:’’بدبخت!نوجوانان جنت کے سردار سے گستاخی کرتاہے۔کیاتجھے خبر نہیں ہے کہ یہ کٹاہواسراَب بھی دوجہان کا مالک ہے۔ذراغور سے دیکھ،بوسہ گاہِ رسول پر انوارو تجلیات کی کیسی بارش ہو رہی ہے؟ صرف جسم سے رابطہ ٹوٹ گیاہے عرش کا رابطہ اب بھی قائم ہے۔‘‘(مرجع سابق،ص؍۵۱)

قافلہ جب کوفہ پہنچاتو ابن زیاد نے حضرت زینب کومخاطب کرتے ہوئے کہا:خدانے تیرے سرکش سردار اور تیرے اہل بیت کے نافرمان باغیوں کی طرف سے میرادل ٹھنڈا کر دیا ہے۔اس کے بعد ابن زیاد کی نظرعابد بیمار پرپڑی تو وہ انہیں بھی قتل کرناہی چاہتاتھاکہ سیدہ زینب بے قرار ہوکر چیخ اٹھیں اور فرمایا:’’میں تجھے خداکاواسطہ دیتی ہوں اگرتواس بچے کو قتل کرناہی چاہتاہے تو مجھے بھی اس کے ساتھ قتل کرڈال۔‘‘ابن زیادپر سکتہ طاری ہوگیااور اس نے پورے قافلے کو دمشق کی جانب روانہ کردیا۔(مرجع سابق،ص؍۵۴)

امام پاک ورفقائے کار کی شہادت پر دمشق میں خوشیاں منائی جارہی تھیں،یزید تخت نشین تھا،اسیرانِ حرم کا قافلہ دربار میں پہنچا،دربار میں یزید کے طرفداروں کی کثرت اور یزید کی موجودگی کے باوجود حضرت نعمان بن بشیر نے اہل بیت اطہار کی فضیلت اُجاگرکی، یزید نے بھانپ لیاکہ اس کایہ قدم دنیاو آخرت میں ذلت ورسوائی کا باعث ہے ۔یزید نے منافقانہ چال چلتے ہوئے کہاکہ اسیروں کی رسیاں کھول دی جائیں اور سیدانیوں کو شاہی محل میں پہنچادیا جائے۔یہ سن کر حضرت زینب روپڑیں اور انہوں نے گلوگیرآواز میں کہا:’’تو اپنی حکومت میں رسول زادیوں کو گلی گلی پھراچکااب ہماری بے بسی کا تماشہ اپنی عورتوں کو نہ دکھا۔ہم خاک نشینوں کو کوئی ٹوٹی پھوٹی جگہ دے دے جہاں سر چھپالیں۔‘‘(مرجع سابق،ص؍۵۶)

سیدہ زینب رضی اﷲ عنہ نے کبھی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے عظیم خطبوں کے وار سے ان کے دلوں پر کاری ضربیں لگائیں تو کبھی غمزدہ بیبیوں اور بچوں کی تسکین کے لیے نرم ومہربان مشفقانہ لہجے میں دلجوئی کی اور امام وقت سید سجاد حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ کی جان کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں جلتے ہوئے شعلوں سے نکال کر امام حسین رضی اﷲ عنہ کے بعدحسینی انقلاب کی قیادت و پاسبانی کے فرائض ادا کیے اور ایسے خطرناک مراحل میں صرف خداوند عالم سے مدد طلب کی۔ آپ نے کربلا سے کوفہ اورکوفہ سے شام کے سفر کے دوران ظالم و جابر ستم گروں کے درباراور لوگوں کے ہجوم میں اپنے حکیمانہ خطبوں اور تقریروں سے کربلا کے انقلاب کوحیات نو عطاکی۔ خطبوں اور تقریروں کی فصاحت و بلاغت آپ کے علم و کمال کے ساتھ دیگرشخصی خصوصیتوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ خطابت کے ساتھ آپ نے جگہ جگہ وقت و حالات کے مطابق بالکل صحیح و بجا مستحکم فیصلے کیے ہیں۔اﷲ پاک سیدہ کے مزار پرانواروبرکات کی بارش فرمائے۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 409698 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
10 Oct, 2016 Views: 439

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ