ہم ہی ہیں اپنے دشمن

(Iftikhar Chohdury, )
بھارت تو ایک مدت سے شورشرابہ کر رہا ہے کہ انڈیا کے ممبئی دھماکوں اور دیگر دہشت گردی کی وارداتوں میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کا ہاتھ ہے۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ چند دنوں سے پاکستانی اخبارات میں انڈیا کی ہی زبان بولی جا رہی ہے پچھلے دنوں حکومتی پارٹی کے ایک رکن جن کا نام رانا افضل ہے انہوں نے تو ٹیلی ویزن پر ہانک دی کہ حافظ سعید کو کس لئے پالا جا رہا ہے ؟گرچہ وہ ایک غیر معروف سے نون لیگئے ہیں لیکن شرلی چھوڑنے کے لئے اسی قبیل کے لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔

کل کے ایک اخبار میں ایک صاحب نے تو پورا کالم اس پر لکھ ڈالا کہ حافظ سعید جیسے لوگوں کی وجہ سے اقوام عالم ہمارے خلاف ہو گئی ہے اور ہم دنیا میں تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔موصوف نے پاکستان کی تمام تر مشکلات کا حل یہ بتایا ہے کہ ہم حافظ سعید سے جان چھڑا لیں۔کیا یہ سب کچھ ویسے ہی ہو رہا ہے؟ان جانے میں اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔اس سازش کے پیچھے کون ہے؟ یہ سوال آج کا سوال ہے ہو سکتا ہے میں اپنی ان گزارشات کو کسی اور جانب لے جاتا مجھے آج کا خبریں دیکھنے کا موقع ملا پہلے ہی صفحے پر بھارت کے نامی گرامی دہشت گرد جو دنیا میں اپنی چالاکیوں اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور ہیں میری مراد اجیت کمار دوول سے ہے جو بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی کا داخلی سلامتی کا مشیر ہے اس کے بارے میں تفصیلی خبر نے ہلا کے رکھ دیا ۔خبر کے مطابق اجیت کمار دوول نے اپنی شیطانی سرگرمیوں کے لئے عراق اور شام میں دعش کے لوگوں سے ملاقات کی بتایا گیا کہ دوول کا چھوٹا راجن گینگ سے تعلق ہے اور وہ بین الاقوامی دہشت گردی پھیلانے والے لوگوں سے راہ و رسم بڑھا کر پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے۔دوول کی ان لوگوں سے ملاقات کا بھانڈہ کسی عام آدمی نے نہیں دمشق کے سفیر نے پھوڑا ہے۔امریکہ کے سابق وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری کے پیچھے اس کی بد نیتی ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے لئے سنگین مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے۔برطانوی میڈیا نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ ایک اور بین الاقوامی دہشت گرد اجیت کمار دوول کی شکل میں سر اٹھا رہا ہے۔ان خبروں میں کس حد تک صداقت ہے یہ ہم جانتے ہیں بلوچستان میں کل بھوشن یادو جیسے جاسوسوں کی گرفتاری وہاں سے پاکستانی سیاست دان محمود خان اچکزئی کی پاکستان کے عسکری اداروں کے خلاف لب کشائی پاکستان زندہ باد کے نعروں پر اعتراض یہ سب کیا ہے۔اور تو اور اسفند یار ولی بھی اسی قسم کی بات کرتے ہیں۔ہماری کشمیر کمیٹی کے سربراہ کا فاٹا اور کشمیر کے حالات کو برابر تولنا یہ سب کیا ہے۔

لگتا ہے پاک فوج کے ضرب عضب آپریشن کی کامیابیاں اب ہضم نہیں ہو رہیں اور اس کو ناکام بنانے کے لئے داعش کو ٹھیکہ دینے کا عمل شروع ہو گیا۔

میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ ہم حافظ سعید کے پیچھے لٹھ لے کر کیوں پڑ گئے ہیں ؟کیا ایسے وقت میں پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم جماعت دعوۃ کے امیر کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھنا ہمارے لئے مناسب ہے۔کیا ہمارے ادارے ہماری حکومت کسی عالمی خدا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نظر آتے ہیں؟

یہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جیسے کہ اجیت کمار دوول ہمارے لئے ایک دہشت گرد ہے لیکن وہ انڈیا کا ہیرو ہے بعین حافظ سعید ہمارا ہیرو ہے۔ہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔کشمیر میں اڑھائی ماہ سے زائد عرصہ ہوا ہے کرفیو ہے سو سے زائد لوگ شہید ہو گئے ہیں چھرے بندوق نے سینکڑوں کی آنکھیں لے لی ہیں۔زمین پر اس سے بڑی دہشت گردی ہو ہی نہیں سکتی لیکن ہم نے اپنی نالائقیوں سے کشمیر کا کیس کمزور کر دیا ہے۔ہمارے حد سے
زیادہ بوڑھے مشیران خارجہ دنیا کو بتانے میں ناکام ہو چکے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔وہ دنیا جو بلی کے بچے کے گٹر میں گر جانے پر ہاتھ ملتی رہتی ہے اس دنیا کو ہم نہیں بتا سکے کہ انسان کے بچے اب بھوکے مر رہے ہیں۔تین ماہ کے قریب کرفیو ہونے کو ہے کیا ہم نے سوچا کہ کہ ضروریات زندگی کہاں سے ملتی ہوں گی؟ہم ریڈ کراس جیسی تنظیموں کو بھی بتا نہیں سکے کہ جاؤ جا کر روٹی کا ٹکڑا پہنچا دو علاج معالجہ کر لو۔اس روز میں نے دیکھا کہ ایمبولینس سے مریضوں کو اتار کر مارا جا رہا ہے ڈاکٹروں پر تشدد جاری ہے۔ہمارے ڈاکٹر سعید الہی درد دل رکھنے والے انسان ہیں کیا وہ مناسب سمجھیں گیں کہ ان مریضوں اور ڈاکٹروں کا کیس دنیا کے سامنے لے کر جائیں۔

ہماری بد قسمتیوں کی داستاں بڑی طویل ہے۔دعش کی مدد مانگنے والے اجیت کمار دوول کی تو کوئی بات نہیں کرتا اب ہم لوگ لٹھ لے کر حافظ سعید کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ ۔میں آخری سوال پوچھ کر کالم ختم کرتا ہوں کہ کیا حفظ سعید کو پکڑوا کر پاکستان کے مسائل ختم ہو جائیں گے اس کی تنہائی آبادی میں بدل جائے گی قرضے ختم کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا اگر نہیں تو بہتر ہے ایک اور لال مسجد کا سانحہ نہ بنواؤ۔دہشت گرد اجیت کمار دوول ہے یا حافظ سعید فیصلہ کر لیں دہشت گرد کون؟کیا ہم ہی ہیں آپ اپنے دشمن؟
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 161710 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
13 Oct, 2016 Views: 345

Comments

آپ کی رائے