شہیدِ ناموسِ شہہ دین،غازی علم دین - سو لفظوں کی کہانی

(Muhammad Kaleem Ullah, )
ہندو پروفیسر سوامی پنڈت چمو پتی کی”رنگیلا رسول“ نامی فتنہ انگیز کتاب راجپال نے شائع کی،24 ستمبر 1928ء کو خدا بخش نے جبکہ 19 اکتوبر 1928 کو عبدالعزیز نے راجپال پر حملہ کیا لیکن وہ بچ نکلا ۔6 اپریل 1929ء کو غازی علم دین نے راج پال کو جہنم رسید کیا ۔ گرفتاری ہوئی،22 مئی 1929ء کو سیشن عدالت نے سزائے موت سنائی، قائد اعظم نے بچانے کی لاکھ کوشش کی لیکن لاہورہائی کورٹ نے اپیل مسترد کر دی اور غازی کو پھانسی کے لئے میانوالی جیل بھجوا دیا ۔ 31 اکتوبر 1929ء کو غازی علم دین کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad kaleem ullah

Read More Articles by muhammad kaleem ullah: 106 Articles with 70471 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Oct, 2016 Views: 1173

Comments

آپ کی رائے
رانا تبسم صاحب

حقائق کو مسخ کرنے کوشش نہ کیجیے ۔ قائد اعظم اور علماء دونوں ہم خیال تھے دونوں چاہتے تھے کہ غازی علم الدین کو رہائی ملے چنانچہ جب غازی علم دین کو گرفتار کیا گیا اور سیشن عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد انہیں سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا جس کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی گئی۔ سیشن کورٹ نے 22 مئی 1929ء کو غازی علم دین کے لئے سزائے موت سنا دی۔ یہ وہ موقع تھا جب قائد اعظم نے غازی علم دین کی سزائے موت کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی اور عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر رکیک حملے کرنا اور عوام میں نفرت پھیلانا زیر دفعہ 135 الف جرم ہے لیکن راج پال کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی اُس نے غازی علم دین کو اشتعال دلایا لہٰذا غازی علم دین کے خلاف زیردفعہ 302 قتل عمد کی بجائے زیر دفعہ 308 قتل بوجہ اشتعال کارروائی کی جائے جس کی سزا زیادہ سے زیادہ سات سال قید ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے متعصب ہندو جسٹس شادی لال نے اپیل مسترد کر دی اور غازی علم دین کو پھانسی کے لئے میانوالی جیل بھجوا دیا گیا۔
By: Muhammad Kaleem Ullah , Sargodha on Oct, 17 2016
Reply Reply
2 Like
غازی کو اشتعال علماء کی تقریروں اور ان کے سوتے جاگتے دیکھے ہوئے خوابوں اور ان میں ملنے والی ہدایات کے تذکروں نے دلایا تھا ۔ جب قائد اعظم نے ان سے متنازعہ کتاب کے مندرجات کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب باتیں ہماری کتابوں میں موجود ہیں ۔ اسی وجہ سے قائد اعظم نے غازی کو اپنے اقدام کا اعتراف نہ کرنے کے لئے کہا ۔ مگر انہوں نےانکار کر دیا کیونکہ عشق رسول میں اپنی جان دینے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا سبق علماء یا ان کی آل اولادوں کے لئے نہیں تھا وہ عشق رسول میں ایک غریب آدمی کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے کے لئے تھا ۔ کسی بھی گستاخ رسول کو جہنم واصل کرنا صرف اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اسے اس سعادت کو حاصل کرنے پر اکسانے والے گفتار کے غازیوں پر خود ان کے فتووں کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ انہیں جب اپنی موت سر پر کھڑی نظر آتی ہے تو معاملے سے قطعی لاتعلقی کا بیان حلفی بھی داخل کراتے ہیں اور سیکیورٹی گارڈز کی گود میں بھی جا بیٹھتے ہیں ۔ یہ حقائق بھی تاریخ کا حصہ ہیں انہیں مسخ نہیں کیا جا سکتا ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Oct, 18 2016
0 Like
Quaid e Azam ne un se kaha tha k ap is qatal ka ehtraaf na kren, jis se Ghazi sb ne inkar kr dya tha aur dalairana taur pr shahadat qabool ki.
By: Farheen Naz Tariq, Chakwal on Oct, 14 2016
Reply Reply
0 Like
یہاں بات علماء کی ہو رہی ہے جنہیں قائد اعظم نے عدالت میں طلب کر کے ان سے کچھ پوچھا تھا اور ان کا جواب سننے کے بعد ان کے لئے علم دین کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہا تھا ۔ انہیں اس مقدمے سے دستبردار ہونا پڑا اور علم دین کو پھانسی چڑھنا پڑا ۔ علم دین کے قاتل بھی اس دور کے منافق اور بزدل علماء تھے بالکل ممتاز قادری کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے والے آج کے فسادی علماء کی طرح ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Oct, 16 2016
6 Like
غازی علم دین کا مقدمہ قائد اعظم لڑ رہے تھے ۔ ایک پیشی پر انہوں نے علماء کو عدالت میں بلوا کر ان سے کچھ پوچھا تھا اور ان کا جواب سن کر اس مقدمے سے دستبردار ہو گئے تھے ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ قائد اعظم نے علماء سے کیا پوچھا تھا؟ اور علم دین غازی سے شہید بن گیا ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Oct, 14 2016
Reply Reply
0 Like