عشق یا زِنا باالرضا۔ آزما لو لڑکیوں !!

(Asma Aslam, )
حنا: تم ۵ سال سے محبت کے نام پہ ملاقاتیں کر رہے ہو، اور فون پہ رابطے بھی ،میں غیر مرد کے ساتھ مزید تعلق نہیں رکھ سکتی، کب اپنی ماں کو ہمارے گھر رشتے کے لئے بھیجو گے؟

علی:جان، ہم سچے عاشق ہیں، ہمیں شادی کی ضرورت نہیں۔ شادی تو میں ماں کے کہنے پر کزن سے کروں گا۔

حنا نے زناٹے دار تھپڑ علی کے منہ پہ رسید کرتے ہوئے کہا، ــ ’’ کتے! طوائف سمجھا ہے مجھے؟‘‘علی بھاگ گیا۔

اب وہ ہر نئے عاشق سے پہلی ملاقات میں پوچھتی ہے کہ کب رشتہ بھیجو گے؟ اور زِنا کا مارا ڈرپوک عشق غائب۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asma

Read More Articles by Asma: 26 Articles with 17875 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Oct, 2016 Views: 2190

Comments

آپ کی رائے
کہانی کا عنوان کچھ مناسب نہیں لگ رہا ہے۔اگرچہ موضوع تلخ حقیقت پر مبنی ہے۔بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم سے کوئی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر درحقیقت میں محض دل لگی کرنا چاہ رہا ہوتا ہے اور ہمیں یوں ظاہر کرتا ہے جیسے وہ بے پناہ پیار کرتا ہے اور ہم اسکی باتوں میں آجاتے ہیں اور پھر وہ ایسے ایسے بہانے تراشتا ،ادائیں دکھاتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بڑھ کر کوئی چاہنے والا ہو ہی نہیں سکتا ہے مگر پھر رفتہ رفتہ وہ ہمیں اپنے جال میں لیتا ہے اور اپنے مذہوم مقاصد کی تکمیل کی طرف جاتا ہے جو وقت بتاتا ہے کہ محض محبت کو بدنام کرنے کے لئے اور اپنی ہوس پوری کرنے کیلئے اختیار کئے جاتے ہیں۔آپ نے اکثر اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ ہوس کے پجاری نے محبت کے نام پر لڑکیوں کی عزت کو داغ دار کر دیا ہے۔یہی بات لڑکیوں کو اکثر میری تحریروں سے بھی یہی سبق دیا جاتا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی زندگی میں بے وقوفی کرنے سے گریز کریں۔یہ بات سچی ہے کہ جو سچا محبوب ہوگا وہ نکاح کے لئے گھر تک آئے گا۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Nov, 01 2016
Reply Reply
1 Like
Maen ny pehli martaba kahani likhi hy..ho sakta hy k experienced writers ko theek na lgi ho..i think, media ka kaam he yehi hy k social-issues ko clearly highlight krain..yeh kahani sadaa larkiyun ko samjhanay k liye hai, k har kisi k dhokay main na aayain..celebrities sy ly k students tk ki zindgiyan daekh lain..hr class k mard dhokay dy rhay haen.
By: Asma, Faisalabad on Nov, 01 2016
0 Like
Masha Allah kafi bold mozoo chunna hay aap nay ..... umda likha hay jeeti rehyai ... Jazak Allah HU Khairan kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Oct, 28 2016
Reply Reply
1 Like
Love to jaise gudday gudion ka khel hi ho ke reh gya hai. Aj kal hum agr isy made in china kahen to kuch galat na hoga.
By: Ramiz, Lahor on Nov, 01 2016
1 Like
Thank you Farah..it is not bold, but a bitter reality in Pakistan.. Logon ko malum he nahi k wo din badin kis gunah-e-kabira main mubtala hotay ja rhay haen..love k naam py.
By: Asma, Faisalabad on Oct, 28 2016
2 Like
so nice as it is now a days in our society
By: Muhammad Mohsin Awan, Islamabad on Oct, 25 2016
Reply Reply
2 Like
Thanks.
By: Asma, Faisalabad on Oct, 27 2016
1 Like
عمدہ موضوع
By: عمران احمد راجپوت, حیدرآباد on Oct, 21 2016
Reply Reply
1 Like
Thanks.
By: Asma, Faisalabad on Oct, 22 2016
1 Like
good work... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Oct, 18 2016
Reply Reply
2 Like
Thanks Faiza :)
By: Asma, Faisalabad on Oct, 18 2016
1 Like
Bht khoobsurat tehreer ha.
By: Farheen Naz Tariq, Chakwal on Oct, 16 2016
Reply Reply
2 Like
Thank you Farheen Naz :) .
By: Asma, Karachi on Oct, 17 2016
1 Like