قیمتی گدھا ۔ بے وقعت بیوی

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)
ایک خان صاحب نے اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کی شادی پر داماد سے پیسے نہیں لئے ۔ اُسے فی سبیل اللہ دے دیا ۔

شادی کے بعد کسی وقت باہر بارش ہو رہی تھی ۔

لڑکی کو اس کے شوہر نے اپنا باہر بندھا ہوا گدھا کھول کر خیال سے اندر لانے کے لئے کہا تاکہ اُسے کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے ۔

بیوی بولی " تجھے اپنے گدھے کا تو اتنا خیال ہے میرا کوئی خیال نہیں ہے کہ مجھے بھی ٹھنڈ لگ سکتی ہے "

شوہر نے جواب دیا " گدھا میں پانچ سو روپے میں لایا تھا تُو تو مجھے مُفت میں ملی ہے "-
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 22956 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 108 Articles with 732157 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

سوائے فرح اور فائزہ کے کسی نے ہمارے گدھے کو گھاس نہیں ڈالی )-:
جبکہ کئی فیس بکیوں نے ہمارے اتنے قیمتی گدھے کو مفت کا مال سمجھ کر اس پر ہاتھ صاف کیا ۔ ھماری ویب پر ہونے والے مقابلے میں شامل ہمارا یہ گدھا ہار گیا ۔ یہاں امریکا میں بھی ہار گیا بےچارہ ۔ اور یہ دونوں سانحات ایک ہی روز یعنی ۹ نومبر کو پیش آئے ۔ ہمیں بیک وقت دوہرے صدمہء جانکاہ کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور اب خدشہ ہے کہ یہ نو نومبری کہیں ہمیں مہنگی نہ پڑ جائے ۔ دوستو! وقت ِ دعا ہے ۔ پردیسیوں پہ آ کے عجب وقت پڑا ہے ۔ اگر یہاں سے بوریا بستر گول کرنا پڑ گیا تو گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے ۔
اپنی سب کشتیاں جلا دینے والوں کا آخر میں یہی حشر ہوتا ہے )-:
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Nov, 09 2016
Reply Reply
0 Like

فرح! تبصرے اور نیک خواہشات کا بہت شکریہ ۔ ہمیں تو گدھے کی ہار نے دل شکستہ کر رکھا تھا مگر آپ تو دوسری بار میدان مار کے بھی صحیح سے خوش نہ ہو سکیں ۔ جیت بھی آپ کی دل شکنی کا سبب بن گئی ۔ مگر آپ کو ہمت ہارنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ ہماری دیگر قلمی کاوشوں کی طرف بھی قدم رنجہ فرمانے اور انہیں اپنی رائے سے نوازنے کی ضرورت ہے (-:
تمہیں دل شکنی بھلانی پڑے گی ۔ ذرا اس لنک پہ جا کے تو دیکھو
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=79523
آپ کی رائے کا انتظار رہے گا ۔ پیشگی شکریہ ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylie on Nov, 17 2016
0 Like
sir you deserve more than that .... may aap kay comments tuk baray shoq say parhti hun jahan bhi nazar ajain ... baaz dafa seekhnay ko bohoth kuch mil jata hay ...... or jahan tuk trump bhai jaan ki jeet ka sawal hay to janab Hilary clinton bhi party kay usool laiker chali thin to wo bhi kuch kum nahi thay .... is dafa to aisa hi luga kay hum Pakistani election tug of war daikh rahay hain ...... trump khul ker samnay apna agenda paish ker rahay thayor Hilary dhukay chupay andaaz may agay barh rahi thin ..... waisay bay fikar rahain kuch nahi hoga Insha Allah .... waisay bhi jo bhi ata ussay wohi kerna hota jo ab trump sahab karaingay ...... abhi to party shuroo huyee hay abhi to agay bohoth kuch daikhna hay .... Jazak Allah HU Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Nov, 10 2016
0 Like
جی بالکل فرح بہن! ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں عورت کا شوہر سے مہر طلب کرنا کسی گالی سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔ بلکہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مرد پر بیوی کے مہر کی ادائیگی صرف طلاق ہی کی صورت میں ضروری ہے ۔ عام حالات میں مرد بیوی کے اس حق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ اور بہت سے خبیث فطرت لوگ بیوی سے جان مفت میں چھڑانے کے لئے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ وہ عاجز ہو کر خلع حاصل کر لے اور یہ بےغیرت اس کا مہر ادا کرنے سے بچ جائیں ۔ اس طرح کے کئی کیس ہمارے علم میں ہیں ۔ بعض حالات میں مہر ہی مرد کے پیروں کی زنجیر بنتا ہے اور اگر وہ طلاق کے ساتھ مہر کی بھی ادائیگی پر قدرت رکھتا ہے تو ایسی صورت میں کم از کم ایک مالی حد تک تو عورت کی اشک شوئی ہو ہی جاتی ہے ۔ اور جہاں شادی کے موقعے پر مہر صرف رسمی طور پر بہت ہی قلیل مقدار میں مقرر کیا جاتا ہے تو آپس میں نبھاؤ نہ ہونے کی صورت میں طلاق عورت کو کسی حلوے کی طرح تھالی میں رکھ کر ملتی ہے ۔ کچھ مشہور زمانہ دینی کتب میں مردوں کی بھی کچھ تربیت سے زیادہ صرف عورت کو غلام بن کر رہنے کے طریقے درج ہیں ۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اچھی بیٹیاں کبھی مہر کا لفظ بھی زبان تک نہیں لاتیں ۔ جب کہ جو اچھے بیٹے ہوتے ہیں وہ انہیں اتنا موقع ہی نہیں دیتے وہ بیوی کو عزت اور محبت دینے کے ساتھ ساتھ ان کا حق مہر ان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی خوشدلی سے ادا کرتے ہیں ۔ اور یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے ۔ اور اگر کہیں اسی مہر کی ادائیگی اگر شادی سے پہلے ہی لڑکی کے والدین کو کر دی جاتی ہے تو یہ ان کے اپنے رسم و رواج ہیں جن پر ان کا اتفاق ہے وہ اسی میں راضی ہیں لہٰذا کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے ۔
تحریر کو پسند کرنے اور اتنے عمدہ کمنٹس کرنے پر آپ اور فائزہ عمیر دونوں کا بہت بہت شکریہ ۔ ہمیشہ شاد و آباد رہیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Oct, 24 2016
Reply Reply
1 Like
is liyai mahar ki raqam shohar ki amdani say m ushrooth rakhi gayee hay ... takay shohar namdar biwi ko janwar say bhi hakheer na samujh baithain magar kiya kijiyai Pakistan or India may mahar ki raqam maaf karanay ka trend bhi mojood hay .... bohoth acha likha hay sir .... Jazak allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Oct, 20 2016
Reply Reply
16 Like
100% true, muashray ka almiya hai ye k kuch mard biwi ko itna e by wuqat khayal krty hain jesa k ap ny likha hai.... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Oct, 14 2016
Reply Reply
18 Like
Language: