جنرل راحیل شریف کے کارنامے وائرل ہوگئے

(Sami Ullah Malik, )
میں ذاتی تبصرہ کئے بغیر ایک تازہ ترین صورتحال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور آپ خود اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کے بارے میں جو چرچے ہورہے ہیں انکا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔۔ن دنوں فیس بک، وٹس ایپ پر جنرل راحیل شریف کی ناقابل فراموش خدمات کے حوالے سے کئی طرح کے سٹیٹس نظر آرہے ہیں ۔لیکن ایک سٹیٹس ایسا ہے جس میں انکی تین سالہ خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا جارہا ہے اور قوم کو بتایا جارہا ہے کہ پاکستان نے ایک جنرل کی تین سالہ خدمات کے صلے میں کتنا استحکام حاصل کیا اور کن کن سازشوں سے ملک کو نکالا، عالمی سازشوں کا ناطقہ کیسے بندکیا جبکہ پاکستان میں سیاست اور اقتدار کے ایوانوں میں چھپی ہوئی کرپٹ اشرافیہ بھی انکے خوف سے لرزہ کھاتی ہے۔جنرل راحیل شریف نے جمہوریت کو طاقت دی اور کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ ختم کرنے کی بھرپور کی کوششیں کیں ۔ جنرل راحیل شریف نے دفاعی ،جمہوری،داخلی اعتبار سے پاکستان کے لئے جو کارہائے نمایاں خدمات انجام دئے ہیں ان کا ذکر اس وائرل پوسٹ میں کیا گیا ہے جس کا رائٹر نامعلوم ہے ۔پوسٹ کچھ یوں ہے۔

تین سال کی ناقابل یقین مدت میں راحیل شریف پاکستان کے لیے اتناکچھ کرچکے ہیں کہ جس سے اس قوم کی نسلیں فیضیاب ہوسکتی ہیں ( اگر جمہوریت کی بھیٹ نہ چڑھ گئیں تو)۔۔۔۔۔ بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ راحیل شریف نے چیف آف آرمی سٹاف بننے سے پہلے ہی پاک فوج کی جنگی ڈاکٹرائن میں دو بنیادی تبدیلیاں کی تھیں۔ پاکستان کے خلاف انڈین جنگی حکمت عملی "کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن " کے جواب میں پاک فوج کی جانب سے " عظم نو " مشقوں کا آغاز انہوں نے کروایا اور ان کے اصرار پر پاکستان کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں کو اوّلین خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

انہی کے دور میں کولڈ سٹارٹ کے مقابلے کے لیے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری بھی مکمل کی گئی جس کے بعد انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن پر انڈیا کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور 30 سال کی محنت ضائع ہو چکی ہے۔

راحیل شریف ہی آپریشن ضرب عضب کے اصل ماسٹر مائنڈ اور معمار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم تک کو آپریشن شروع ہونے کے ایک دن بعد آگاہ کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کے ذریعے پاکستان بھر سے دہشت گردوں کے تقریباً تمام مراکز صاف کر دئیے گئے ہیں اور ان کے قبضے سے سارے علاقے چھڑا لیے گئے ہیں۔اس آپریشن کے نتیجے میں پاک فوج نے عالم اسلام کے خلاف دہشت گردی کے ذریعے جاری امریکن اور اسرائیلی پراکسی وارکو پاکستان میں ناکام بنا دیا ہے۔

جنرل راحیل شریف کے حکم پر پاکستان نے پہلی بار افغانستان اور انڈیا کی پناہ میں موجود دہشت گردوں کا افغانستان تک پیچھا کیا اور پاکستانی ہیلی کاپٹرز نے کنڑ میں دہشت گردوں کے مراکز پر کامیاب حملے کیے۔
پشاور حملے کے بعد راحیل شریف نے بطور چیف آف آرمی سٹاف افغانستان کا ایک طوفانی دورہ کیا تھا جس میں مبینہ طور پر افغان حکومت کو اسلام دشمنوں کی پشت پناہی کرنے پر "موثر" وارننگ دی اور نتائج سے خبردار کیا۔ ساتھ ہی اس بات پر قائل کیا گیا کہ پاکستان افغانستان کے اندر انٹیلی جنس آپریشن کرے گا جس کے نتیجے میں افغان حکومت کو پاکستان اینٹلی جنس کی نشاندہی پر پشاور سکول حملے میں ملوث 5 دہشت گرد گرفتار کرنے پڑے۔

پاک افغان بارڈر کا قیام اور افغان مہاجرین کی واپسی کا ناممکن کام شروع کیا جس کے لیے افغانستان سے ایک چھوٹی سی جھڑپ بھی ہوئی۔ لیکن آج الحمد اللہ یہ کام نہایت تیزی اور کامیابی سے جاری ہے۔ جمہوری لیڈروں کے تمام تر تحفظات کے باجود۔جنرل راحیل شریف ایک ایسا کام کر کے جا رہے ہیں جس کے بعد پچھلے 70 سال سے افغانستان سے پاکستان میں ہونی والی دراندازیوں کا سلسلہ رک جائے گا۔

سیاست دانوں کے تمام تر تحفظات کے باوجود انکو سزائے موت کی بحالی اور آرمی کورٹس کے قیام پرمجبورکیا۔جس پربعض سیاست دان روپڑے تھے۔ اسلام آباد کے قریب ہونے والی"جمہوری محاذآرائی‘‘جس میں لوگ مررہےتھے تو مداخلت کر کے اس کوروک دیا۔جنرل راحیل شریف کی مداخلت کے بعد حکومت اور مظاہرین دونوں ٹھنڈے ہوگئے۔۔

ملک میں پٹرول نایاب ہو گیا تو راحیل شریف نے نواز شریف سے " اہم ملاقات " کی جس کے بعد فوراً ہی ملک بھر میں دوبارہ پٹرول دستیاب ہوگیا۔جنرل راحیل شریف اور جنرل عاصم باجوہ کے امریکہ اور برطانیہ دورے کے بعد سفارتی محاذ پر انڈیا کو پے در پے جھٹکے لگے۔۔۔۔معروف صحافی اور اینکر صابر شاکر کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے جان کیری اس وقت حیران رہ گئے جب انکو پاک فوج کی جانب سے " فضل اللہ " کی ایک انڈین جنرل سے گفتگوسنوائی گئی جس میں انڈین جنرل ٹی ٹی پی کے امیر کو ہدایات دے رہا تھا۔ ساتھ ہی ان کو کئی اور ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ ٹی ٹی پی اوربی ایل اے کوانڈیا کنٹرول کررہا ہے۔ ان کے علاوہ جان کیری کوٹھوس شواہد پیش کیے گئے کہ ایل اوسی کی خلاف ورزی بھی انڈیا کی جانب سے ہو رہی ہے۔

جان کیری کے جی ایچ کیوکے دورے کے بعدانڈیامیں سخت بے چینی پائی گئی اورانہیں حیرت ہوئی کہ انڈیا کے لمبے دورے کے بعدجان کیری نے اپنے وعدے کے مطابق پاکستان کوکوئی"سخت پیغام" دینے کے بجائے پاکستانی مؤقف کی تائیدکیوں کی تھی؟؟جنرل راحیل شریف کی ان کوششوں کے نتیجے میں امریکا نے پہلی بارٹی ٹی پی کے امیر"ملافضل اللہ"کومجبوراًدہشت گردتسلیم کرلیا۔جس پرانڈیاکومزیدتکلیف ہوئی۔اس دوران جنرل راحیل شریف نے قطرکے شیخ سے اہم ملاقات کی جس کے بعدقطرنے کچھ ایسے فیصلے کیے جوانڈیاکوسخت ناگوار گزرے۔

جنرل راحیل شریف نے انڈیا کی بلوچستان میں چالیس سال کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ وہاں نہ صرف دہشت گردی ختم ہوکررہ گئی ہے بلکہ آج بلوچستان پاکستان زندہ باداورانڈیامردہ بادکے نعروں سے گونج رہاہے۔پاکستان کی تاریخ میں’’را‘‘کے سب سے زیادہ ایجنٹوں کی گرفتاری عمل میں آئی جن میں کلبھوش یادیو جیسے اعلٰی ترین عہدوں پرفائزدہشت گردوں کے ماسٹرمائنڈزکوگرفتارکیا گیا۔

جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک آرمی نے ایم کیوایم کے خلاف گھیراتنگ کردیا۔ آج الطاف حسین ایک دہشت گرد،غداراور ملک دشمن کے طورپر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکاہے۔ ایم کیوایم کی دہشت گردی اوردہشت دونوں کا خاتمہ کردیاگیاہے۔ بہت سوں کی گرفتاری کوعمل میں لایاجاچکا ہے ۔دوسری طرف اس وقت راحیل شریف نے پیپلزپارٹی کی کرپشن اوردہشت گردی پربھی آہنی شکنجہ کساہواہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلٰی ترین قیادت سمیت بہت سے اراکین مفرورہیں۔ چندایک کوگرفتارکیاگیاہےاورباقی"جمہوریت کی پناہ"میں ہیں اور راحیل شریف کے جانے کے دن گن رہے ہیں۔

یہ راحیل شریف کے چین کے دورے اورآپریشن ضرب عضب ہی کے نتائج ہیں کہ چین نے پاکستان میں وہ سرمایہ لانے کا فیصلہ کرلیاہے جومشرف دور میں طے ہواتھا۔اکنامک کوریڈوراوراس کے لیے 46 بلین ڈالر کی منظوری پاکستان کو زبردست معاشی استحکام فراہم کرسکتی ہے۔سیاست دانوں کے تمام ترشکوک و شبہات کے باوجودراحیل شریف اس منصوبے کوہرقیمت پرپوراکرنے پرتلے ہوئے ہیں۔

ایران جوسلک روڈپاکستان کوبائی پاس کر کے چین تک لے جاناچاہتاہے اس کے لیے پاکستان سی پیک کوسلک روڈ سے ملانے کی پیشکش کرے گا۔ ایران کا مطلب پوراہوجائی گالیکن پاکستان کودہرافائدہ ہوگا۔الحمداللہ آج اس پربات چیت جاری ہے اورجلدہی معاہدہ متوقع ہے جس کے بعدانڈیاکی چاہ بہارمیں ساری سرمایہ کاری بے معنی ہوجائے گی۔

جنرل راحیل شریف نے چین سے دشمن ملک میں کئی ہزارکلومیٹراندرتک نگرانی کرنے والے 4 جدید ترین اواکس طیاروں کامعاہدہ کیا۔ اس سے پہلے پاکستان کے پاس اس قسم کے طیارے صرف دوتھے جن میں سے ایک کو ٹی ٹی پی نے تباہ کردیاتھا۔

جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج کی جانب سے سمندر میں 50 ہزار مربع کلو میٹر مزید علاقہ حاصل کیا گیا جس کے بعد پاکستانی سمندری حدود میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔۔۔۔

یہ بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ راحیل شریف کی آمد کے کچھ عرصے بعد انڈیا میں خالصتان تحریک دوبارہ زندہ ہوگئی اور کشمیر آزادی کی تحریک اپنی جوبن پر ہے۔ کشمیر میں تقریباً وہی حال ہے جو جنرل ضیاء کے دور میں تھا۔ جس پر انڈیا بلبلا رہا ہے۔

راحیل شریف نے روس کے نہایت اہم دورے کیے جن کے بعد پہلی بار روس نے پاکستان پر ہتھیاروں کی فروخت سے پابندی ہٹا دی۔ پاکستان میں ابتدائی طور پر 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کا فیصلہ کیا اور روسی افواج اور پاک فوج کی مشترکہ جنگی مشقوں پر اتفاق ہوا جو آج ہمیں عملی شکل میں ہوتی نظرآرہی ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کرپاکستان کو شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن میں باقاعدہ طورپر شامل کرلیا جس کے بعدپاکستان پرحملہ روس پرحملہ تصورہوگااورروس،چین اورپاکستان مل کراپنا دفاع کریں گے۔

انڈین دھمکی کے جواب میں اس قدربھرپور،مؤثر اورتیزرفتارردِّعمل راحیل شریف ہی دے سکتے تھے۔ اس کے نتیجے میں انڈینزکو پاک فوج کی زبردست جنگی استعدادکارکا اندازہ ہوا۔ تعداد میں 3 گنا اور فوجی بجٹ کے لحاظ سے 9 گنابڑی انڈین آرمی اس وقت پاک فوج کے مقابلے میں خودکوبے بس محسوس کر رہی ہے۔ راحیل شریف انڈیاکونفسیاتی شکست دے چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت جنرل راحیل شریف انڈین میڈیاپرچھائے ہوئے ہیں۔ان کے گھر میں دونشان حیدرہیں۔ان کے کپڑوں پرداغ تک نہیں ہیں۔ جب چلتے ہیں تودیکھ کرفخر محسوس ہوتاہے کہ"یہ ہماراسپاہ سالارہے"۔۔۔نہایت مستعد،سخت محنتی، سخت محب وطن،انتہائی فرض شناس، نہایت جنگجوایک سچااورکھراسپاہی۔

راحیل شریف اپنے خاندان کے دونوں شہیدوں پربازی لے جاچکے ہیں۔ ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے جتناکچھ کرلیا ہے وہ بہت سوں کی جانیں دینے سے زیادہ ہے۔بلاشبہ پاک فوج ایک ادارے کا نام ہے لیکن اس شخص کاجاتے ہوئے دیکھنانہایت تکلیف دہ ہے۔ قوم پوچھتی ہےکیا جنرل راحیل قوم کوبیچ منجدھارمیں انہی سیاسی مگرمچھندروں کے دوبارہ حوالے کرکے رخصت ہوں گے یاپھراپنامشن مکمل کرکے اپنے رب اوررسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231670 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2016 Views: 1002

Comments

آپ کی رائے