اھدنا الصراط مستقیم

(sana, Lahore)
سورت فاتحہ کو دن میں پانچ بار پڑھتے ہوئے ہم ان الفاظ کو دہراتے ہیں کہ یااللہ ہمیں سیدھی راہ پر رکھنا اور ہم اللہ سے یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ آخرت میں ہمیں پلُ صراط پر سے بھی بجلی کی سی تیزی سے گزار دینا۔

پلُ صراط پر سے گزرنا تو ہمیں دنیا میں بھی ہوتا ہے۔ پلُ صراط تو صرف ایک علامت ہے۔ زندگی میں ہر ہر گھڑی ہم ایک پلُ پر ہی کھڑے ہوتے ہیں جس پر ہم سیدھے چلیں گے کہ نہیں یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہوتا ہے۔
جب تک ہم زندگی کا ہر پل سیدھا پار نہیں کریں گے ہم آخرت کا پل بھی ڈگمگائے بغیر پار نہیں کر سکیں گے۔
جب ہم اپنے لئے کچھ خریدتے ہیں اور رشتے دار کو دینے کے لئے کچھ کم درجے کا خریدتے ہیں تو بھول جاتے ہیں ایک حکم یہ بھی ہے کہ تب تک انسان مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اپنے لئے اور بھائی کے لئے ایک ہی چیز پسند نہ کرے -

جب ہم ضرورت کے لئے ہاتھ پھیلانے میں اور بعض اوقات ضرورت بھی نہیں آسائش کو لینے کے لئے بھی کسی سے مانگتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے اور بھول جاتے ہیں کہ مسلمان سوال سے بچتا ہے
جب ہم کسی کے مکان دکان کمرا دفتر جھانکیں گے اور بھول جائیں گے کہ تانک جھانک کرنے والے کی آنکھ تک پھوڑ دینے کا حکم ہے-

جب ہم صرف انٹرٹینمنٹ کے لئے ہی ہر میڈیا استتعمال کریں گے جب ہم علم حاصل کرنے کو صرف ٹیکسٹ بک تک محدود رکھیں گے اور بحول جائیں گے کہ گود سے قبر تک عل حاصل کرنے کی تلقین ہے۔

جب ہم میاں بیوی دوستوں رشتے داروں میں بیٹھ کر شریک زندگی کے عیب ڈھونڈ ڈھونڈ کر بتائیں گے اور بھول جائیں گے کہ لباس کہا گیا ہے جو ایک دوسرے کے عیب ڈھانپ لیتا ہے-

جب ہم بچوں کو مہنگے ترین سکول میں ڈال دیں گے مگر اتنا وقت نہیں نکال سکیں گے کہ اولاد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکیں اور آداب سکھا سکیں تو یہ حکم تو یاد رہنا چاہئے کہ ماں باپ کو اولاد کو آداب سکھانے کا کہا گیا ہے -

جب ہم اپنی ماں بہن بیوی کو ہی عزت کے قابل سمجھیں اور یہ بھول جائیں کہ نگاہ نیچے رکھنے کا حکم مرد کو بھی دیا گیا ہے-

جب ہم اپنے خاوند کو تو دوسری شادی کا سوچنے پر بھی مار ڈالنا چاہیں اور یہ بھول جائیں کہ بیوی کو ایسا رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ خاوند جب بھی دکھے دل خوش ہو -

جب ہم اپنے یار دوستوں پر تو خوب خرچ کرنا چاہیں ، گھر والوں کو سستے میں ٹالنا چاہیں اور یہ بھول جائیں کہ بہترین خرچ اسکو قرار دیا گیا ہے جو گھر والوں پر کیا جائے-

جب ہم اولاد کو گالم گلوچ کرکے سکھانا چاہیں اور یہ بھول جائیں کہ نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے
جب ہم جھوٹی قسم کھانے میں عار نہ سمجھیں اور بھول جائیں کہ جھوتی تو کیا قسم تک بھی کھانے کا حکم مذاق میں بھی کھانے کا حکم نہیں ہے -

جب ہم اتنا سب کچھ غلط کر رہے ہوں اور زندگی کا ہر پلُ غلط پار کر رہے ہوں تب ہمیں آخرت کے پلُ کو آسانی سے پار کرنے سے ذیادہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے پلوُں کو اچھے سے پار کرنے کی دعا کرنی ہوگی۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 182181 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
20 Oct, 2016 Views: 550

Comments

آپ کی رائے