سو لفظوں کی کہانی۔ انسانیت

(Adeela Chaudry, Renalakhurd)
بچپن سے انسانیت کے قصے سنتی آ رہی تھی۔ دل میں ایک خواہش تھی کہ انسانیت دیکھوں۔
ایک دن میں نے بجلی کی تاروں سے چپکے کوے کو دیکھا۔ اس کی ایک پکار پہ جانے کتنے کوے غول در غول امڈ آئے۔ نہ نسل دیکھی نہ رشتہ داری بس بچانے چلے آئے کیونکہ پکار ایک کوے کی تھی۔ ذرا سی محنت کے بعد کوا آزاد ہو گیا۔
ابو نے یہ سب دیکھا تو کہا بیٹا یہی تو انسانیت ہے۔ میں نے کہا نہیں ابو جو ہم نے دیکھی وہ تو کویت تھی انسانیت تو کبھی کہیں نظر ہی نہیں آئی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adeela Chaudry

Read More Articles by Adeela Chaudry: 24 Articles with 30371 views »
I am sincere to all...!.. View More
20 Oct, 2016 Views: 1076

Comments

آپ کی رائے
انسانیت ، انسانوں کو ہی نظر آتی ہے معذرت کے ساتھ مگر میرا مشورہ ہے جو چیز آپ باہر ڈھونڈ رہے ہیں اُسے پہلے اپنے اندر سے دیکھنا شروع کریں اگر آپ کو آپ میں مل گئی تو سب جگہ پھر انسانیت ہی نظر آئی گی۔
By: Kamran Khan, Karachi on Nov, 20 2017
Reply Reply
0 Like
Masha Allah buhat e umda mozu chuna aap ne. Yahi tu almiya hai k ab insaniyat ka rishta kabi kahin dekhne mein nahi aya. sub rang nasal aur zaat paat ko ahmiyat dene lage hain. is mozu par tawajjeh dilaane ka shukriya. Allah pak ap ko is ka ajar den. Amen
By: Taimoor, Lahore on Oct, 21 2016
Reply Reply
0 Like