یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نا ہو

(Ahmad Raza siyal, lahore)
یہ وہ خطہ ہے جو ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جہاں نا اب اسلام دیکھائی دیتا ہے، نا جمہوریت، نا پاکستان۔۔۔
وہ ملک جہاں جسم سستے اور لباس مہنگے ہو گے ہیں۔ وہ ملک جہاں جہالت، غلامی، ظلم، اور وحشت پھر سے راج کر رہی ہے۔
تو اُٹھو، ان خاک کے بُتوں کو ”شاہین“ کہنے والے اُٹھو کے تمہارے خواب کی تعبیر ابھی باقی ہے۔
اے راہِ حق کے شہیدو اُٹھو۔۔۔
اُٹھو کے تمہیں وطن کی مائیں، بیٹیاں چیخ چیخ کے پکار رہی ہیں اُٹھو۔
دیکھو کہ یہاں نفرتوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں۔
دیکھو کہ ہم خود کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں اُٹھو کہ ہمیں پھر سے آزاد کرو
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 871 Print Article Print
About the Author: Ahmad Raza siyal
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

یہ شعر پورا کر دیں یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
By: Waqar, Khi on Jun, 06 2019
Reply Reply
0 Like
Bohat khob bhai
By: Hassan sial, Khewra on Oct, 27 2016
Reply Reply
1 Like
You did a really great job
Mr Ahmad Siyal
Those words are too deep to think for a minute 👍🏻👍🏻😓
By: Mukarram, Lahore on Oct, 24 2016
Reply Reply
2 Like
Very well said. We should think about it
By: Dr. Zubair Ahmad, Lahore on Oct, 24 2016
Reply Reply
2 Like
Language: