آزاد کشمیر کے معاملات درست ہو سکتے ہیں

(Ghulam Ullah Kiyani, )
سٹیٹ بینک کی جانب سے آزاد کشمیر کے لئے اور ڈرافٹ کی حد ساڑھے 4ارب روپے مقرر ہے۔ اس وقت اور ڈرافٹ کم ہو کر 4ارب 29کروڑ تک آگیا ہے۔ آزاد کشمیر کے واجب الادادو ارب 82کروڑ روپے کشمیر کونسل کے پاس ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو کشمیر کونسل نے آزاد کشمیر سے ٹیکسوں کی مد میں جمع کی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں رقم واگزار کرنے میں کیا مسلہ در پیش ہو جاتا ہے۔ وفاق اور مظفر آباد کے درمیان کوئی مسلہ نہیں ہے۔ ہر ماہ کی آخری تاریخ کو باقاعدگی سے وفاق ادائیگیاں کر دیتا ہے۔ر یاست کا حصہ اور رائلٹی بھی بروقت ادا ہو تی ہے۔ منگلا ڈیم کی رائلٹی 15پیسے سے بڑھا کر اب 44پیسے کر دی گئی ہے۔ یہ رائلٹی اصل میں واٹر یوز چارجز ہیں۔ یعنی آزاد کشمیر کا پانی جس قدر استعمال ہو گا اسی حساب سے ادائیگی ہو تی ہے۔ اس میں اصل مسلہ چارجز میں اضافے کا تھا۔ 44پیسے اضافے کے باوجود منگلا ڈیم کی رائلٹی تربیلا ڈیم سے بہت کم ہے۔ وفاق اس میں اضافہ پر غور کر رہا ہے۔

اسلام آباد اور مظفر آباد کے درمیان اعتماد اور برابری کا تعلق ہے۔ وفاق کو یہ شکایت رہتی ہے کہ آزاد کشمیر کی اشرافیہ اپنا کیس بہتر طور پر پیش کرنے میں دقت محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بہتر طور پر عوام کی نمائیندگی کا وہ حق ملنے میں مشکلیں درپیش رہتی ہیں۔ یہ جذبات کا مسلہ نہیں۔ نہ ہی یہ سیاست کرنے کا وقت ہے۔ اکسانے سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ کشمیر کونسل کا مسلہ بالکل صاف ہے۔ اس کا کام وفاق اور آزاد کشمیر کے درمیان پل کاکردار ادا کرنا تھا۔ لیکن اس نے الٹ کام سنبھال رکھا ہے۔ اس کی وجہ سے آزاد کشمیر کو وفاق پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

کشمیر کونسل اگر فوری طور پر آزاد کشمیر سے جمع کئے گئے ٹیکسوں کی مد میں 80:20اصول کے تحت آزاد کشمیر کو 2ارب82کروڑ روپے اور ٹاور کمپنیوں کے دو ارب سے زیادہ کی رقم واگزار کرے تو آزاد کشمیر کا اور ڈرافٹ زیرو پر آ جائے گا۔ وفاق اور ریاست کے درمیان مالی اور دیگر معاملات بہتر طور پر چلانے کے لئے لینٹ افسران کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس پر اختلاف موجود ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کا اپنا چیف سیکریٹری، سیکریٹری مالیات، آئی جی پی، سیکریٹری صحت ،اے سی ایس ڈی ہو تو مالی بحران ختم ہو جائے گا۔ بات پھر معیار اور ٹیلنٹ کی ہو گی۔ اگر ہم اپنے عوام کے بارے میں مخلص ہوں، خدمت کا جذبہ ہو۔ معقول وقت دیں۔ اپنے کام سے انصاف کریں تو کام آسان ہو جائے گا۔ ہم اس کے برعکس کام کریں گے تو نتائج مثبت کیسے ہوں گے۔

آج آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات اور سیکریٹری مالیات کشمیر ہیں۔ بہت جلد سب کو پتہ چل جائے گا کہ آیا انھوں نے اپنے عوام کی خدمت کی یا صرف اپنا الو سیدھا کیا۔ اپنے عزیز و اقارب کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے نئی اسامیاں تخلیق کیں، کچھ اسامیوں کی اپ گریڈیشن کی گئی۔ یہ سب تب ہوتا ہے جب آپ کی پیداوار بڑھ رہی ہو۔ آمدن میں اضافہ ہو رہا ہو۔ ریاستی طلب اور ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ لیکن رسد میں اضافہ کے بجائے کمی ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے آزاد کشمیر کوتقریباً6ارب روپے بجٹ خسارہ کا سامناہے۔ صورتحال یہی رہی تو خسارہ بڑھے گا۔ سیکریٹری مالیات قواعد کے تحت ایک گاڑی استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن آج ریاستی سیکریٹری مالیات بیک وقت چار سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے اخراجات کا کیا ہو گا۔ اس کا کون جواب دے گا۔ بلا شبہ کام کرنے کے لئے سہولیات در کار ہیں۔ اگر آپ ہیلی کاپٹر استعمال کرنا چاہتے ہٰیں تو آپ کو یہ بھی احساس ہونا چاہیئے کہ اس کے اخراجات کہاں سے آئیں گے۔ اس کے استعمال سے عوام کو کیا فائدہ ملے گا۔ آمدن زیرو اور خرچ شاہانہ ہو تو کنگال ہونا ہی مقدر ٹھہرتا ہے۔

وفاق آزاد کشمیر کے ساتھ ایک ریاست کے طور پر ڈیل کرنے کے بجائے کمپنی کے طور پر معاملات چلائے گا تو مساوات کی عنصر غائب ہو جائے گا۔ نیلم جہلم پروجیکٹ کے سلسلے میں یہی ہوا ہے۔ ریاست کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ جنھیں مسائل خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ اجاگر کرنے ہیں وہ اپنے زاتی معاملات میں مصروف ہو جائیں تو عوام کے حقوق کیسے حاصل ہوں گے۔ ان کا دفاع کیسے ہو گا۔ ریاستی میڈیا اگر بیانیہ صحافت کو فروغ دے گا۔ ادارے مفادات کے لئے استعمال ہوں گے۔ صرف پیسہ کمانے کے لئے حربے بروئے کار لائے جائٰیں گے ۔ اپنی انا کی تسکین کے لئے شرفاء کو زلیل کرنے کی مہم چلے گی تو کیا فرشتے اصلاح و احوال کے لئے اتریں گے۔

آزاد کشمیر کی بجلی کے بقایاجات سوا 8ارب تک پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے ساڑھے تین ارب 46کروڑ روپے سرکاری محکموں کے پاس ہیں۔ کمرشل سوا 34کروڑ ، انڈسٹری کے پاس 18کروڑ سے زیادہ، پرائیویٹ صارفین کے پاس تین ارب روپے سے زیادہ واجب الاداء ہیں۔ فورسز کے پاس ایک ارب روپے سے زیادہ ہیں۔ محکمہ بجلی جس پر سالانہ تقریباً25کروڑ سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ عملے کی کمی کا رونا رو کر یہ بقایاجات صارفین سے وصول نہیں کر سکا۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ سوا 8ارب روپے کیسے اورکب قومی خزانے میں جمع ہوں گے۔آمدن کے بجائے اخراجات کی مد میں اضافہ مسلے کا حل نہیں۔ سارا الزام کشمیر کونسل پر یا وفاق پر ڈالنا بھی گمراہ کن ہے۔ ریاستی آمدن کا مکمل طور پر خزانے میں جمع نہ ہونا کشمیر کونسل کا قصور نہیں ۔ ریاستی متعلقہ حکام کچھ اﷲ کا خوف کریں۔ نیز کشمیر کونسل کا وفاق قبلہ درست کرے تو آزاد کشمیر کا معاملات حل ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے مخلص چیف سیکریٹری، سیکریٹری مالیات اور ان کی ٹیم کی ضرورت ہے جو مخلص سیاسی قیادت کے زیر سائیہ رہتے ہوئے برادری ازم، علاقائی تعصب سے پاک ہو کر کام کرے تو معجزے بھی ہو سکتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 587 Articles with 229977 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
21 Oct, 2016 Views: 394

Comments

آپ کی رائے