جادو جنات اور علاج قسط نمبرA20

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

سحر محبت کے علاج کا ایک عملی نمونہ:
ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے اپنی صورت حال کچھ اس انداز سے بیان کی:
“میں اپنی بیوی کے ساتھ معمول کے مطابق زندگی بسر کر رہا تھا، لیکن چند ماہ سے عجیب وغریب صورتحال سے دو چار ہوں، اور وہ اس طرح کہ میں لمحہ بھر کیلئے بھی اپنی بیوی سے صبر نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اپنے کام پر جاتا ہوں تو وہاں بھی اسی کے متعلق سوچتا رہتا ہوں، گھر میں واپس آتا ہوں تو سب سے پہلے اپنی بیوی کو دیکھتا ہوں، اور جب مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہوں تو بار بار اٹھ کر بیوی کو دیکھنے چلا جاتا ہوں، غیر معمولی طور پر مجھے اس پر غیرت آتی ہے، وہ کچن میں جاتی ہے تو میں اس کے پیچھے ہوتا ہوں، سونے کے کمرے میں جاتی ہے تو میں بھی اس کے ساتھ سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں، گھر کی صفائی کیلئے جاتی ہے تو تب بھی میں اس کے پیچھے پیچھے ہوتا ہوں، اور یوں لگتا ہے جیسے میری نکیل اس کے ہاتھ میں ہے، وہ جب بھی کوئی مطالبہ کرتی ہے تو اسے فوراً پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔”
اس شخص کی صورتحال کو سن کر میں نے پانی پر دم کیا اور تین ہفتے تک اسے پینے اور اس سے غسل کرنے کی تلقین کی بشرطیکہ اس کی بیوی کو اس کا علم نہ ہو، وہ مدتِ مذکورہ کے بعد میرے پاس آیا، اور اس نے بتایا کہ کچھ اِفاقہ ہے، مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔ میں نے اس کا دوبارہ علاج کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔

۳۔ سحر تخیل (وہم میں مبتلا کرنے والا جادو)
فرمانِ الٰہی ہے:
﴿ قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى (٦٥)قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعٰی (٦٦) ﴾ (طہ:65،66)
“کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا توتو پہلے ہمیں ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں، جواب دیا کہ نہیں، تم ہی پہلے ڈالو۔ اب موسیٰؑ کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔”
سحر تخیل کی علامات
1۔ منجمند چیز کو متحرک اور متحرک کو منجمند دیکھنا۔
2۔ چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا سمجھنا۔
3۔ مختلف چیزوں کو ان کی حقیقت سے ہٹ کر دیکھنا، جیسے کہ لوگوں نے دیکھا کہ رسیاں اور لکڑیاں دوڑتے ہوئے سانپ ہیں۔
سحر تخیل کیسے ہوتا ہے؟
جادوگر ایک ایسی چیز لوگوں کے سامنے رکھتا ہے جسے وہ خوب اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں، پھر وہ شرکیہ وِرد پڑھتا ہے اور شیطانوں سے مدد طلب کرتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اسی چیز کو اس کی اصل حقیقت سے ہٹ کر ایک دوسری چیز تصور کر لیتے ہیں۔۔۔۔ مجھے ایک شخص نے بتایا ہے کہ اس نے جادوگر کو لوگوں کے سامنے ایک انڈا رکھتے ہوئے دیکھا، پھر اس نے کفریہ طلسم پڑھے تو وہ انڈا انتہائی تیزی کے ساتھ ان کے سامنے گھومنے لگا۔ اسی طرح ایک اور شخص نے بتایا کہ ایک جادوگر نے دو پتھر آمنے سامنے رکھے، پھر جادو والاطلسم پڑھا تو وہی دو پتھر دو بکریوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑنے لگ گئے۔ اِس طرح کے حیران کن کام یقینی طور پر جادوگر لوگوں سے مال بٹورنے کےلئے ہی کرتا ہے۔
اور یوں بھی ہوتا ہے کہ جادوگر اس طرح کے جادو کو جادو کی دوسری قسموں میں شامل کر دیتا ہے، چنانچہ وہ سحر تفریق کے ساتھ اگر اس جادو کو بھی شامل کر دے تو خاوند کو اس کی خوبصورت بیوی بدصورت نظر آتی ہے، اور اگر سحر محبت میں اسے شامل کر دے تو خاوند کو اس کی بد صورت بیوی خوبصورت نظر آتی ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ جادو کی یہ قسم اس کی دوسرئ قسم (شعوذۃ) سے بالکل محتلف ہے جس میں جادوگر ہاتھ کی صفائی سے کام نکالتا ہے۔
سحر تخیل کا توڑ
اس جادو کا توڑ ہر اس دعا اور ہر اس ذکر سے ہوتا ہے جس سے شیطان بھاگ جاتا ہے، مثلاً: اذان، آیت الکرسی، بسم اللہ اور دیگر مسنون اذکار بشرطیکہ ان کو وضو کی حالت میں پڑھا جائے۔
اگر یہ اَذکار پڑھنے سے جادوگر کی چالیں ختم نہ ہوں تو یقین کر لیں کہ یہ وہ جادوگر ہے جو صرف ہاتھ کی صفائی سے کام لیتا ہے۔
سحر تخیل کے توڑ کا عملی نمونہ
ایک بستی میں ایک جادوگر رہائش پذیر تھا، وہ لوگوں کے سامنے اپنی مہارت یوں ثابت کرتا کہ قرآنِ مجید کو لاتا، پھر سورۂ یٰسین کے صفحات کے ساتھ ایک دھاگہ باندھ دیتا، پھر اس دھاگے کے دوسرے سرے کو ایک چابی سے باندھ دیتا اور چابی کوفضا میں یوں بلند کر دیتا کہ قرآن مجید دھاگے کے ساتھ لٹکا ہوا نظر آتا، پھر کفریہ طلسم پڑھ کر قرآن مجید سے مخاطب ہو کر کہتا: دائیں گھومو، چنانچہ قرآن مجید دائیں طرف انتہائی تیزی کے ساتھ گھومنے لگ جاتا، پھر کہتا: بائیں گھومو، تو قرآن مجید بائیں طرف بہت تیزی سے گھومنے لگ جاتا، لوگوں نے اسے یہ حرکت کرتے ہوئے کئی بار دیکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ شیطان قرآنِ مجید کو ہاتھ نہیں لگا سکتا، اس لئےیہ اسی جادوگرہی کی مہارت ہے۔
مجھے اس کے بارے میں معلوم ہوا تو میں اپنے ایک دوست کو لے کر اس کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس وقت میں ایف۔اے کا طالب علم تھا۔ میں نے وہاں پہنچتے ہی اس جادوگر کو لوگوں کے سامنے چیلنج کر دیا کہ اب وہ یہ حرکت کر کے دکھائے، چنانچہ وہ ایک قرآن مجید اور ایک دھاگہ لے کر آ گیا، اب اس نے سورۂ یٰسین کے صفحات اس دھاگے سے باندھے، پھر دوسرے سرے پر ایک چابی باندھ دی اور چابی کو فضا میں بلند کر دیا اور قرآن مجید اس دھاگے کے ساتھ لٹک گیا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ وہ مجلس کی ایک جانب بیٹھ کر آیت الکرسی پڑھتا رہے اور خود میں دوسری جانب بیٹھ کر آیت الکرسی بار بار پڑھنے لگ گیا۔ لوگ یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، اِدھر جادوگر جب اپنے کفریہ طلسم پڑھ کر فارغ ہوا تو قرآن مجید سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: دائیں گھومو، تو قرآنِ مجید نے کوئی حرکت نہ کی، اس نے اپنے کفریہ طلسم دوبارہ پڑھے اور قرآن مجید سے بائیں گھومنے کو کہا، لیکن پھر بھی قرآنِ مجید نے کوئی حرکت نہ کی، اس طرح وہ لوگوں کے سامنے رسوا ہو گیا اور اس کا رعب و دبدبہ خاک میں مل کر رہ گیا۔ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿ وَلَیَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ﴾
“اور اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اس کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے”
جاری ہے.....
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 22746 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2016 Views: 584

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ