حسد کی آفت۔ ناشکری کی انتہا

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)
غصے سے کینہ پیدا ہوتا ہے اور کینے سے حسد اور حسد مہلک ترین زہر ہے انسان کے لیے۔نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ حسد نیکیوں کو اِس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کوکھا جاتی ہے۔خالق سراپا عطاء ہے اور خالق نے اپنے بندئے کو ہمیشہ نوازنا ہوتا ہے۔ خالق کی عطاء پر صابر و شاکر رہنے والا ہی اﷲ پاک کو پسند ہے۔ اگر کسی کو خالق نے زیادہ نواز دیا ہے اور کسی کو کم تو اِس پر حسد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ حسد ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان سے اُس کا ایمان چھن جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں حسد اور بغض نے انسانیت کو ہلاکت میں ڈال رکھا ہے۔کسی بھی معاشرئے کا اہم عامل فرد ہوتا ہے۔ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم مال و دولت مل پاتی ہے۔ لیکن ایسے میں حسد کا مرتکب ہوکر اپنے ایمان کو غارت کرنا۔اﷲ پاک کو کیسے پسند ہو سکتا ہے۔ مخلوق کا خالق کے دیئے ہوئے پر شاکر ہونا اور کسی سے حسد نہ کرنا وہ عمل ہے جس کی وجہ سے معاشرئے میں بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔ جب دین اسلام نے کہہ دیا کہ تم میں سے ہر کوئی دوسرئے کا بھائی ہے۔ جو کچھ اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی اپنے دوسرئے مسلمان بھائی کے لیے پسند کرو۔دین اسلام کا یہ اندازِ فکرمعاشرئے میں رواداری کا ضامن ہے۔ اسی لیے تو کہہ دیا گیا کہ دوسرئے مسلمان کا جان ومال تم پر جائز نہ ہے۔ جرائم ہونے کی وجوہات میں بہت بڑی وجہ یہ ہی عمل ہے کہ حاسد بن کر دوسروں کی خوشیوں پر ڈاکہ مارا جاتا ہے۔ چوری ڈاکے، لڑائی جھگڑئے ، لوٹ مار کی بنیادی وجہ یہ حسد ہی ہے۔ اِسی حسد کی وجہ سے انسانی جذبے انسانی اقدار سے محروم ہو جاتے ہیں اور جنگلی جانور بن جاتے ہیں۔ جن معاشروں میں معاشی آسودگی کم ہوتی ہے یا روزگار کی کمی ہوتی ہے۔ وہاں کرپشن میں بے بہا اضافہ ہوجاتا ہے اور یہ ہی کرپشن قتل و غارت کا سبب بنتی ہے اور ایسا اس لیے بھی ہے کہ ہیو اینڈ ہیو ناٹ کا معاشی چکر انسان کو سماجی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ حالیہ سالوں میں پاکستانی معاشرئے میں حسد کی وبا کی بدولت کرپشن اور بے حیائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ والدین کے رویوں سے اولاد بھی اُن کے نقش قدم پر چلنا شروع ہوجاتی ہے۔ایک اور جگہ ارشاد مرکوز ہے کہ گمان بد ، دوم فال بد ،سوم حسد۔آپﷺ نے فرمایا کہ میں تمھیں اِسکا علاج سکھلاؤں کہ کیا ہے۔جب کوئی کسی کے بارے میں بدگمانی کرے تو اپنے دل میں اِس کو سچ نہ سمجھے اور اِس پر ثابت و قائم نہ رہے اور جب بد فالی سنے تو اِس پر اعتماد نہ کرے اور جب حسد پیدا ہو تو زبان اور ہاتھ کو اِس پر عمل کرنے سے بچائے ۔نبی پاکﷺ کا فرمانِ عالیٰ شان ہے کہـ تمھارے اندروہ بات پیدا ہونے لگی جس نے اگلی اُمتوں کو ہلاک کر ایاتھا۔اور وہ حسد و عداوت ہے قسم ے اِس معبود کی جس کے دست قدرت میں مجھ محمدﷺ کی جان ہے کہ تم بہشت میں نہ جاؤ گے جب تک تم صاحب ایمان نہ ہو گے اور صاحب ایمان نہ ہوگے جب تک ایک دوسرے کو دوست نہ رکھو گے۔ میں تمھیں بتاؤں کہ یہ محبت کس طرح پیدا ہوگی۔ تم ایک دوسرے کو سلام کیا کرو ۔حاسد کے حوالے سے اﷲ پاک کے پاک نبی ؑ حضرت زکریا ؑ نے فرمایا کہ حق تعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ حاسد میری نعمت کا دُشمن ہے وہ میرے حکم پر خفا ہوتا ہے اور بندوں میں میری تقسیم کو پسند نہیں کرتا۔نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ چھ قسم کے لوگ بغیر حساب کتاب کے جہنم میں جائیں گے۔امیر اپنے ظلم کے باعث،عرب تعصب کی بدولت،مالدار تکبر کے باعث،سوداگر اپنی خیانت کی وجہ سے اور دہقان اپنی جہالت اور نادانی کے سبب سے اور علماء حسد کے باعث۔حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی پاک ﷺ کے پاس ہم بیٹھے تھے۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص اہل بہشت سے یہاں آئے گا۔۔ تب انصار کی جماعت سے ایک صاحب وہاں تشریف لائے۔اپنے بائیں ہاتھ میں لوٹا لٹکائے ہوئے تھے اور وضو کا پانی اُن کی داڑھی سے ٹپک رہا تھا۔ دوسرے اور تیسرے دن بھی نبی پاکﷺ نے اسی طرح فرمایا اور وہی صاحب تشریف لائے۔حضرت عبداﷲ ابن العاص ؓ نے چاہا کہ اِس کا رنگ ڈھنگ معلوم کریں چنانچہ اِن صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ میں اپنے باپ سے لڑا ہوا ہوں چاہتا ہوں کہ تین راتیں آپ کے پاس ٹھروں ۔ اُس شخص نے یہ بات منظور کر لی۔حضرت عبد اﷲ ابن عمر بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ اِ ن تین راتوں میں اِن کے عمل پر نظر رکھے رہا۔میں نے دیکھا وہ جب سو کر اُٹھتے تو اﷲ پاک کا ذکر کرتے۔اِس کے بعد میں نے اِن سے کہا کہ میری اپنے باپ سے لڑائی نہیں ہوئی تھی البتہ نبی پاکﷺ نے تمھارے بارے میں ایسا فرمایا تھا کہ میں نے چاہاکہ تمھارا عمل معلوم کروں۔ اُنھوں نے کہا کہ میرا عمل یہ ہی جو تم نے دیکھا، جب میں میں اُن کے گھر سے نکلا تو اُنھوں نے مجھے پکارا اور کہا ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ میں نے ہر گز کسی کی خوبی پر حسد نہیں کیا ۔ میں نے اُن کو جواب دیا آپ کو یہ درجہ اِسی سبب ملا ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 219459 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
23 Oct, 2016 Views: 390

Comments

آپ کی رائے