چائے والا یا گوری رنگت والا

(sana, Lahore)
لڑکے اگر گورے رنگ کے حامل ہوں تو باہر پھر پھر کر وہ گورے رہتے نہیں اور لڑکیاں اگر گوری رنگ کی نہ ہوں تو کچھ نہ کچھ کرکے وہ خود کو گورا بنا سکتی ہیں۔ ایسا بنالیتی بھی ہیں کہ انکی پرانی رنگت والی تصویر انکی ہمسائیوں کی بہن کی لگتی ہے۔

گوررنگت اور اس پر نیلی نیلی آنکھیں ہمرے ہاں اگر یہ دو خصوصیات کسی انسان میں یکجا ہو جائیں تو اس انسان کا وہ حشر ہو سکتا ہے جو پچھلے دنوں ان خصوصیات کے حامل چائے فروش کا ہوا ہے۔

گوررنگت اور اس پر نیلی نیلی آنکھیں ہمرے ہاں اگر یہ دو خصوصیات کسی انسان میں یکجا ہو جائیں تو اس انسان کا وہ حشر ہو سکتا ہے جو پچھلے دنوں ان خصوصیات کے حامل چائے فروش کا ہوا ہے۔

ہمارے ہاں ویسے بھی گوری رنگت والے اکڑتے ایسے ہیں جیسے رنگت انکا اپنا کمال ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی کے لوگ " گوروں" کو پروٹوکول ایسے دیتے ہیں جیسے انکا ساتھ انکا رنگ بھی گورا گورا کردے گا۔۔۔۔۔ جنیید جمشید کا گایا گانا " گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا" آج بھی اتنا ہی سچا لگتا ہے جتنے پانامہ لیکس پر احتجاج کرنے والے سچے لگتے ہیں۔

گورا رنگ اگر اللہ دے دے تو انسان کی پیدائشی لاٹری لگتی ہے کیونکہ ہر مامی چاچی تائی کو اپنا بچہ گورا بنوانے کا آسان فارمولا گورے بچے کو خوب چومنا چاٹنا لگتا ہے۔

ایک ماں باپ کے بچے سات آٹھ ہوں یا پانچ چھ لیکن جو سب سے گورا ہو وہ آنکھ کا تارا خودبخود بن جاتا ہے-

سکول میں استانی کو ہر انتہائی گورا انتہائی شریف اور تمیز دار لگتا ہے حقیقت میں چاہے وہ شیطان سے بھی چار ہاتھ آگے ہو۔

لڑکے اگر گورے رنگ کے حامل ہوں تو باہر پھر پھر کر وہ گورے رہتے نہیں اور لڑکیاں اگر گوری رنگ کی نہ ہوں تو کچھ نہ کچھ کرکے وہ خود کو گورا بنا سکتی ہیں۔ ایسا بنالیتی بھی ہیں کہ انکی پرانی رنگت والی تصویر انکی ہمسائیوں کی بہن کی لگتی ہے۔

لڑکیوں کا گورا رنگ تو اس طرح رشتے کی ڈیمانڈ ہے۔ کہ ہر گوری لڑکی کے رشتے لڑکی کے اٹھارہ کراس کرنے سے پہلے ہی تانتا باندھے ایسے کھڑے ہوتے ہیں جیسے نادرا کے باہر اٹھارہ سے اسی کے بیچ والےکھڑے ہوتے ہیں۔ اب تو گوری کو مزید گورا ہونے اور کم گوریوں کو گوریوں سے ذیادہ گوری ہونے کا شوق بیدار ہو گیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے اس دوڑ میں صرف لڑکیاں تھیں جو جتنی گوری وہ اتنی مانگ میں مگر اب تو لڑکوں نے بھی ہر قدم پر شانہ بشانہ چلتے چلتے خود بھی گورا ہونے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔ کوئی نہ کوئی مشہور درمیانی رنگت کا حامل ہیرو آپکو گوری رنگت والی کریم بیچتا ٹی وی اور بل بورڈز پر ضرور نظر آئے گا۔

گورا رنگ کرنے والی کریموں نے ایسی میراتھون دوڑ لگا رکھی ہے کہ اخبار ہو یا میگزین چاہے زراعت کو ہو یا ٹیکنالوجی کا کھیلوں کا ہو یا صنعتوں کا آپکو اندر ایک گورا رنگ کرنے والی کریم کا شتہار ضرور ٹنکا ہوا نظر آئے گا۔

گورا ہونے کے ٹوٹکے شاید انٹرنیٹ پر اور اخبار پر سب سے ذیادہ دیکھے جانے والی چیز ہیں جس مارننگ شو کو اپنے نمبر بنانے ہوتے ہیں وہ گورا رنگ کرنے والے ٹوٹکے دکھانے پہ لگے ہوتے ہیں۔ ٹوٹکے بتانے والے خود چاہے کتنے ہی جھریوں بھرے اور مناسب رنگ کے ہوں مگر ان کو کال کرنے والوں کے سوالات حیران بھی اور پریشان کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشورہ لینے والے نابینا ہیں یا ٹوٹکا بتانے والے کی رشتے دار آنٹی سکینہ

ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ لڑکا چاہے اماوس کی رات جیسا ہو مگر لڑکی کیٹ مڈلٹن جیسی ہی چاہئے ہو گی۔ کئی لڑکیاں تو اس خروش اور جوش کے ساتھ اپنی رنگت کو چھیل چھیل کر اور لیپ لیپ کر گوری کرتی نظر آتی ہیں کہ شاید رشتے کے لئے آنے والوں کو رحم آجائے اب یہ اور بات ہے کہ رشتے والے گھر گھر پھر پھر کر اتنے ایکسپرٹ یو چکے ہوتے ہیں کہ شکل سے ذیادہ پیروں کو ملاحظہ کرتے ہیں۔

جو انسان جتنی سپیڈ سے گورا ہونے لگتا ہے اسکے "فینز" اسی سپیڈ سے بڑھنے لگتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں تو یہی رواج ہے جو جتنا گورا وہ اتنا ہی " ہاٹ کیک" بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں گورا ہونا اور گورا رہنا اتنا ہی ضروری سمجھا جاتا ہے جتنا کہ شاید صحتمند رہنا بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178713 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
25 Oct, 2016 Views: 1110

Comments

آپ کی رائے