دھرنا شاہ اس ملک کو ترقی نہیں کرنے دے گا

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)
پاکستان کی ترقی کے پیچھے ایک ایسا شخص لگا ہے جس کی خواہش ہے کہ ہر صورت میں اس کو پاکستان کا شہنشاہ بننے دیا جائے۔اگر وہ اس ملک کی شہنشاہیت حاصل نہیں کرسکا تو کسی کو بھی اس ملک میں حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے۔126دنوں کے دھرنوں میں ان کے وعدہ وعید کرنے والے عوامی خوف کی وجہ سے خاموش رہے اور ان کے تصوراتی ایمپائر نے خود انہیں ہی ناک آؤٹ قرار دے کر ذلت و خواری موصوف کا مقدر کر دی تھی۔اب ان کا انتظار راحیل شریف کے ریٹائر منٹ تھا ۔دوسرے ان کے تصوراتی ایمپائرکے انتظارکی گھڑیاں شائد ختم ہوا چاہتی ہیں۔ انہوں دھرنے کے بعد کے دن بڑی مشکل کے ساتھ کروٹیں بدل بدل کر گذارے ہیں۔آج وہ پھر برملا اعلان کر رہے ہیں قانونی وزیر اعظم غیر قانونی طور پر اپنی وزیر اعظم کی سیٹ خالی کر دیں ورنہ تیسری قوت کے آنے کے نواز شریف خود ذمہ دار ہوں گے․․․․․اس مرتبہ انہیں پکا یقین ہے کہ راحیل شریف کے جاتے ہی ایمپائر کی انگلی اُٹھ جائے گی۔گویا ان کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں۔

عمران خان خود اپنی انکم کے ذرائع تو بتاتے ہوئے نئی دلہن کی طرح شرماتے ہیں۔مگر پاکستان کے تمام لوگوں کو اپنی ہی طرح کرپشن کی پیداوار یا کرپٹ بتاتے ہیں۔جبکہ نون لیگ والے کہتے ہیں کہ عمران اپنی منی لانڈرنگ اور ہسپتال کرپشن کا حساب کیوں نہیں دیتے ہیں؟؟؟اور فرماتے ہیں کہ اپوزیشن والے خود بھی کرپٹ ہیں جواپنی باری کے چکر میں خود بھی وزیر اعظم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں عمر ان کے بغل بچہ جو کرپشن کی دنیا کے بادشاہ بتائے جاتے ہیں وہ چوروں کا ٹولہ لے کر چور پکڑنے اسلام آباد جا رہے ہیں۔ یہ تو وہ ہی بات ہوگئی ’’چور مچائے شور‘‘

عمران خان جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے اور گرانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں تو شائد ان کی سیاسی زندگی میں کبھی وزیرِ اعلیٰ بننے کا چانس پیدا ہوجائے۔ورنہ ’’پھرتے ہیں میر خور کوئی دیکھتا ہی نہیں‘‘ ان کا ایمپائر کے سوا نہ جمہوریت پر بھروسہ ہے اور نہ ہی وہ عدلیہ پر اعتماد کرتے ہیں۔ان کی ملک میں مارشل لاء کی خوہش انشاء اﷲ کبھی پوری نہیں ہوگی اورنہ ہی اس ملک کے عوام اور سیاست دان مارشل لاء لگنے دیں گے ،اور اس کے ساتھ ہی نہ عمران خان کا شہنشاہِ پاکاکستان بننے کا خواب تکمیل کو پہنچ سکے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے جمیعتِ علمائے اسلام کے سربرہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی کا باپ بھی(پاکستان میں) جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں کر سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جس سڑک پر بھی یو ٹرن ہو عمران خان کی تصویر لگادی جائے لوگ سمجھ جائیں گے۔کہ ہر چوراہے پر یو ٹرن کا شہنشاہ کہہ رہا ہے ’’او میاں صاحب تُسی جاؤ نا ساڈی واری آنِ دیو نا‘‘مولانا کا یہ بھی کہنا ہے کہ منتخب وزیرِ اعظم کو بچانا کوئی جرم نہیں مارشل لاء کا خطرہ ہے نہ تصادم کا۔پانامہ لیکس کا معاملہ عدالت میں اٹھ جانے کے بعد دھرنے کا اخلاقی اور سیاسی جواز نہیں ہے۔اس معاملے کا فیصلہ جلسوں اور سڑکوں پردھرنوں میں نہیں سپُریم کورٹ میں ہوگا۔ عمران خان عدالت سے بھی مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں۔

دوسری جانب عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں مارشل لاء آیا تو کو خوش آمدید کہوں گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اقتدار کے حصول کے لئے یہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔کیونکہ پہلے بھی یہ مارشل لاٗ کے ایوانوں میں وزیرِ اعظم بننے کے لئے پرویز مشرف کی خوشامد کرتے رہے تھے۔مگر وہان بھی ناکامی ہی موصوف کا مقدر رہی۔عمران کی سیاست کے حوالے سے وزیر اعلی ٰپنجاب شہباز شریف کا بھی یہ کہنا ہے کہ قوم عمران خان کے کسی تماشے کا حصہ نہیں بنے گی۔پاکستان کے با شعور عوام ترقی کے دشمنوں کے چہرے پہچان چکے ہیں۔منفی سیاست کرنے والوں کا ہدف در حقیقت سی پیک منصوبہ ہے۔

اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ انہیں گرفتار کرلیا جائے ۔کپتان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نواز شریف مضبوط تر ہو رہے ہیں۔اگر 2نومبر کو نیچے اوپر ہوا تو پھر اس ڈرامے کا ذمہ دار کوں ہوگای؟یہ کھیل ڈگڈگی والا ہے پیپلز پارٹی ڈبل گیم نہیں کھیلتی ۔وہ کہتے ہیں کہ ملکی حالات دیکھ کر خوف آرہا ہے۔ہم حکومت کو صرف دو نومبر کیلئے اپنا کندھا پیش نہیں کریں گے پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے عمران خان کو خود کش بمبارقرار دینے کے ساتھ ہی کہا کہ عمران خان کے مطالبات جائز لیکن طریقہ کار غلط ہے۔ان کا دھرنا زیادہ دن نہیں چل پائے گا۔پیپلز پارٹی حکومت کی حامی نہیں مگر آنکھیں بند کر کے عمران کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ان میں سیاسی پختگی کا فقدان ہے۔پیپلز پار ٹی کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔عمران خان چاہتے ہیں کہ وہ جو فیصلہ کریں تمام اپوزیشن جماعتیں ان کے پیچھے کھڑی ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دھرنا شاہ ملک کوترقی نہیں کرنے دے گا۔ یہ ہی ویسٹ کی، اسرائیل اور ہندوستان کی مرضی و منشاء ہے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 122218 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2016 Views: 394

Comments

آپ کی رائے