کوئٹہ میں پھر دہشت گردی

(Rana Aijaz Hussain, Multan)
 انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ملک میں چند ہی روز پر امن گزرے تھے کہ پھر دہشت گردی کا بڑاسانحہ رونماء ہوگیا۔ دہشت گردوں نے کوئٹہ میں سریاب روڈ پر پولیس ٹریننگ کالج کے ہاسٹل پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 63 سے زائد اہلکار جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونیوالوں میں پانچ فوجی جوان بھی شامل ہیں۔ اس افسوسناک واقعے پر ہر پاکستانی کا دل بہت دکھی ہے۔ دہشت گردوں کی اس بزدلانہ کاروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ واضع طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ دشمن ملک بھارت اپنی خفیہ ایجنسی RAW کے ذریعے پس پردہ دہشت گردی کرکے پاکستان میں ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان میں جاری سی پیک منصوبہ بھارت کی آنکھ کا شہتیر بنا ہوا ہے جو اسے کسی بھی لمحے چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا، اس ترقی کے عمل کو روکنے ، اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارتی ظاہری بیانات اور درپردہ کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بھارت کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کبھی ترقی نہ کرپائے۔دوسری جانب چور مچائے شور کے مصداق، آئے روز بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف شور و واویلہ کیا جاتا رہتا ہے، کبھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو کبھی ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جاتی ہیں ، کہیں پاکستان کے حصے کے پانی کا حق سلب کیا جاتا ہے تو کہیں بے انتہاء پانی چھوڑ کر پاکستان کے زرعی علاقوں کو ڈبو دیا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی بلوچسان ہی سے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر، اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ کی گرفتاری عمل میں آئی ہے ، اس بھارتی ایجنٹ نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ بلوچستان اور کراچی میں فرقہ ورانہ فسادات کے ٹاسک پر کام کررہا تھا۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث متعدد بھارتی جاسوس پہلے بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ ان بھارتی جاسوسوں نے دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کی بھارتی سازشوں کا انکشاف اور اعتراف کیاہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارتی سیاست دان نہ صرف ایسے اقدامات میں ملوث رہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ وہ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات پر مداخلت پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ ایک دشمن سے اس سے زیادہ توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے، مگر بھارت نے روایتی دشمنوں سے کہیں زیادہ دشمنی نبھائی ہے جس سے اس کے مکروہ عظائم پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوئے ہیں۔

ایک طرف تو بھارت اپنی ایجنسیوں کے ایما ء پر بلوچستان، کراچی اورملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے زریعہ آگ اور خون کا ناپاک کھیل کھیل رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان پر ہی دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا رہتاہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور کراچی میں دہشت گردوں کی پیسے اور اسلحہ سے سرپرستی اب کوئی راز نہیں رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی اور قتل غارت کے واقعات رونماہورہے ہیں ان سب کے پس پردہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘سمیت دیگر ایجنسیاں اور بھارتی فوج، اور خطے کو آگ و خون کی ندی بنانے کا خواب دیکھنے والے بھارتی انتہاپسندجنونی ہندوؤں کی تنظیمیں ہی کارفرماہوتی ہیں۔ بھارت جہاں خطہ میں توازن کے بیگاڑ کا بارث بن رہا ہے وہیں پاکستان کی ترقی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی اور محفوظ پاکستان اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اور ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر امور پر پاک بھارت مذاکرات کو اہمیت نہیں دیتا۔ آج پاکستان کا شمار دنیاکی ان عظیم ایٹمی طاقتوں میں ہوتاہے جس کا بھارت کبھی گما ن بھی نہیں کرسکتا، آج اگر پاکستان چاہے تو ایک پل بھی نہ لگے کہ بھارت کا جنگی جنون اورسازشیں سب خاک ہوجائیں مگر پاکستان امن چاہتاہے ۔ پاکستان اعلیٰ درجے کی ایٹمی صلاحیتوں سے مالامال ہوکر بھی خطے میں محبت اور بھائی چارگی اور امن و سکون اورطاقت کے توازن کے دائمی قیام کے خاطر بھارت کی ہٹ دھرمی برداشت کرتا آیا ہے ، بھارت کو چاہیے کہ پاکستانی علاقوں سے دراندازی اور اپنی ایجنسیوں کے ایماء پر بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیاں فوری طور پر مکمل بند کرے ورنہ وہ یہ بات اچھی طر ح سے سمجھ لے کہ پاکستان نہ تو بھارت سے کسی معاملے میں کم ہے اور نہ ہی کسی میدان میں پیچھے ہے، اگر اس کی برداشت کی حد جواب دے گئی تو بھارت کو خطے میں اپناوجود قائم رکھنابھی مشکل ہوجائے گا۔ جبکہ پاکستان میں ترقی کے منصوبے بھی مکمل ہوں گے اور پاکستان کشمیر بھی بھارتی ناجائز تسلط سے آزاد کرواکر رہے گا۔ بھارت کسی دہشت کردی کی کاروائی سے پہلے یہ یاد رکھے کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور پاکستان کے عوام نہ کسی طرح سے کمزور ہیں نہ ہی بزدل، اگر بھارت اپنے سیاہ کارناموں سے باز نہ آیا توافواج پاکستان اسے ایسی فاش شکست دے گی جو رہتی دنیا تک مثال ہوگی۔
٭……٭……٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 783 Articles with 338112 views »
Journalist and Columnist.. View More
28 Oct, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے