فروغ ِ تعلیم ،کرپٹ، دوغلہ پن ،سکیم،مذہب(سو لفظوں کی پانچ کہانیاں 21-25)

(Prof Talib Ali Awan, SIalkot)
٭ فروغ ِ تعلیم:
میں اتفاقاً ایک سکول کے پاس سے گزرا تو میری نظر سکول کے باہر نصب بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا:
’’ آئیں دیکھیں ! ہم فروغ تعلیم کیلئے کیسے کوشاں ہیں ۔‘‘
میں بعد از اجازت ہیڈ ماسٹر صاحب کے دفتر میں داخل ہوا۔
ہیڈ ماسٹر صاحب سے سکول کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے:
’’ آپ ہمارے پاس بچے داخل کروائیں ،یہاں کوئی فیس نہیں ہے ،
اعلیٰ تعلیم یافتہ محنتی اساتذہ ہیں اور کتابیں بھی فری ہیں ۔‘‘
’’ بہت خوب ۔۔۔! سر آپکے اپنے بچے کدھر پڑھتے ہیں ؟‘‘ ،میں نے کہا۔
’’ یہ ساتھ والے پرائیویٹ سکول میں ‘‘ ،ہیڈ ماسٹر صاحب نے جواب دیا۔
٭ کرپٹ :
باس سے دادی کی برسی کا بہانہ کر کے چھٹی لی۔
دفتر سے نکلا تو ایک سکول کے سامنے بڑا رش تھا ،ہارن پر ہاتھ رکھتے ہوئے رش سے جان چھڑائی ۔
آگے پہنچا تو پولیس نے روک لیا ،میرے پاس گاڑی کے کاغذات اور ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا،
پولیس والوں کو 100روپے دے کر خلاصی کرائی۔
ایمبولینس کو اوورٹیک کیا تو آگے ٹریفک سگنل بند تھا ۔سگنل توڑا اور گھر پہنچا۔
گھر مہمان آچکے تھے ،کھانے کے بعد ان کیساتھ کافی سیاسی گپ شپ ہوئی ۔
میں نے بھی مہمانوں کیساتھ مل کر کرپٹ حکومت پر خوب لعنت بھیجی۔
٭ دوغلہ پن :
سیلاب زدگان کی مدد کرے فوج،زلزلہ اور لینڈ سلائیڈنگ متاثرین کو ملبے تلے سے نکالے فوج ،
انتخابات اور مردم شماری کروائے فوج ، کھلاڑیوں کو ٹریننگ دے فوج ،کراچی اور فاٹا میں امن قائم کرے فوج،
مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر بیان دے فوج،چھوٹو گینگ کو پکڑے فوج،
پولیو کے قطرے پلائے فوج ، سڑکیں اور پل بنائے فوج، بھارت اور افغانستان کے بیانات کا جواب دے فوج ،
وزارت خارجہ کاکام بھی کرے فوج ،قاتلوں اور دہشت گردوں کو پھانسیاں دلوائے فوج،
دشمن کا مقابلہ کرے فوج۔۔۔اگر یہی فوج حکومت سنبھال لے تو غدار۔
٭ سکیم :
ایک کنجوس نے چڑیا گھر کھولا اور انٹری ٹکٹ 50روپے رکھی، لیکن کوئی نہیں آیا۔
اس کنجوس نے فیس کم کرکے 25روپے کردی۔لیکن پھر بھی کوئی نہیں آیا۔
پھر اس نے ٹکٹ 20روپے کا کر دیا ،مگر کسی نے چڑیا گھر کا رخ نہ کیا ۔
10روپے کی ٹکٹ رکھنے پر بھی کوئی نہ آیا ۔آخر کار ایک دن اس نے ٹکٹ فری کر دیا
اور اسی دن فٹافٹ ہی چڑیاگھر لوگوں سے بھر گیا۔
پھر کنجوس نے شیر کا پنجرہ کھول دیا اور اعلان کیا:
’’ باہر نکلنے کی فیس 200روپے ہے۔‘‘
٭ مذہب:
ایک مذہب موروثی ہوتاہے :
کہ باپ دادا جو کچھ مانتے آئے ہیں ،مانتے رہیں۔
ایک جغرافیائی مذہب ہوتاہے :
کہ جہاں آپ رہتے ہیں ،سب کی طرح آپ بھی انکے ساتھ چلتے رہیں ۔
ایک مردم شماری کا مذہب ہوتاہے:
کہ مردم شماری کے کاغذات میں اسلام درج کرادیں۔
ایک رسمی مذہب ہوتاہے:
کہ رسموں اور تقریبوں کا ایک سانچہ ہوتا ہے ،اسے نہ چھیڑیں اور اسی میں ڈھلتے رہیں ۔
ان تمام مذاہب کے علاوہ بھی ایک مذہب ہوتاہے ۔اسے حقیقی مذہب کے نام سے پکارنا پڑتا ہے،
اکثراس کی راہ گم ہوجاتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 53248 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2016 Views: 1052

Comments

آپ کی رائے
خوبصورت کمنٹس کی صورت میں قیمتی رائے دینے کا بہت بہت شکریہ جناب زاہد عباس صاحب.....
By: Prof. Talib Ali Awan , Sialkot on Nov, 05 2016
Reply Reply
1 Like
wonderful job.
By: Zahid abbas, Italy on Nov, 04 2016
Reply Reply
3 Like