دھرنا منسوخ ہونے سے پہلے کادھرنے پرسیاسی ردعمل

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)
عمران خان کے اسلام آبادمیں پھرسے دھرنے کے ا علان کے ساتھ ہی اس دھرنے کے حق میں اورخلاف سیاسی شخصیات کے اظہارخیال کاسلسلہ بھی جاری ہوگیا۔سیاستدان عمران خان کے اس احتجاج کوجس زاویہ اورجس نظرسے دیکھتے ہیں وہی وہ بیان کردیتے ہیں۔عمران خان کااحتجاج سیاسی عمل ہے اورسیاسی معاملات کوسیاستدان ہی بہترسمجھتے ہیں۔اس وقت ہمارے سامنے جوبھی اس حوالے سے سیاسی ردعمل موجودہے وہ ہم قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔ قارئین سیاستدانوں کے بیانات وخیالات سے خودہی یہ بات اخذکرلیں کہ سیاستدان اس دھرنے کوقومی اورسیاسی حوالے سے کس نظراوزاویہ سے دیکھ رہے ہیں ۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دھرنوں سے ملک کونقصان پہنچے گا۔اپوزیشن کوترقی کاغم کھائے جارہا ہے۔خیبرپختونخوامیں کوئی اورنہیں ہم لائیں گے۔ اپوزیشن کوغم ہے ترقی کاسفرجاری رہاتوان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔گھبرانے والانہیں الیکشن میں ناکام ہونے والے انتقام چاہتے ہیں۔آئندہ پانچ سال بھی ہمارے ہوں گے۔مخالفین خوفزدہ ہیں۔چنددن کی بات ہے ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔دوہزاراٹھارہ کاپاکستان آج سے بہترہوگا،عمران نے ریفرنڈم میں مشرف کی حمایت کی،ہربات پراحتجاج اورسڑک پرمجمع لگاناچاہتے ہیں۔آوازخلق نقارہ خداہوتی ہے،عوام اطمینان رکھیں۔انتخابات میں مستردعناصرعوام سے بدلہ لے رہے ہیں’’میں نہ مانوں‘‘ کی پالیسی پرعمل پیرامخالفین پانامہ لیکس پرعدالتی فیصلے کاانتظارکرناچاہیے۔عمران خان کہتے ہیں کہ راستے بندکرکے نوازشریف ملک کوداؤپرلگارہے ہیں۔حکمران ملک کوخانہ جنگی کی طرف لے جارہے ہیں،عوام شریف خاندان سے چھٹکارہ چاہتے ہیں۔عوام اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔نوازشریف سن لیں جب تک زندہ ہوں آپ کاپیچھاکرتارہوں گا۔مجھے نظربندکردیا،بتایاجائے ملک میں جمہوریت ہے یابادشاہت۔سڑکیں کیوں بندکی گئیں۔کیاسارے قوانین ہمارے لیے ہیں۔ملک کوکرپٹ حکمرانوں سے آزادکرئیں گے،نوازشریف کی ذاتی کرپشن پکڑی گئی،سرکاری وکیل کے مقدمہ لڑنے کاکوئی جوازنہیں بنتا،دھرنے کوناکام بنانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔وزیراعظم کرپشن چھپانے کیلئے خون خرابے پراترچکے ہیں ۔ نوازشریف کی جمہوریت کے لبادے میں بھیڑیاچھپاہے۔دوہزاراٹھارہ بہت دورہے پہلے بہت کچھ ہونے والاہے۔زرداری شریف برادران کی طرح منافق نہیں ۔دس لاکھ لوگ اسلام آبادپہنچے توشہرخودہی لاک ڈاؤن ہوجائے گا۔عمران خان کہتے ہیں کہ نوازشریف سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں۔دھرناہوکررہے گا۔ کرپشن کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ ہورہی ہے۔وزیراعظم اپنی ذات بچانے میں لگے ہیں۔نوازشریف بھارت کے خلاف چپ کیوں ہیں۔سی پیک منصوبے پرکوئی اعتراض نہیں نوازشریف کرپٹ مافیاکے سردارہیں ۔وزیراعظم نے کوئی چوری نہیں کی توتلاشی دینے میں کیاحرج ہے۔ملک کوکرپشن سے پاک کرنے کیلئے احتساب ضروری ہے۔دونمبرکوکرپٹ الیون سے میچ ہے۔پاکستان میں چوربیٹھے ہیں لڑوں نہ توکیاکروں خورشیدشاہ ڈبل شاہ ہیں مولاناکانام لوتو ڈیزل ڈیزل کی آوازیں لگتی ہیں۔تیسری قوت آنے کے ذمہ دارنوازشریف ہوں گے۔دھرنااورحکومت ایک ساتھ ختم ہوگاہمیں احتجاج سے روکنے والے اپنی باری کاانتظارکررہے ہیں۔عمران خان ہی کہتے ہیں کہ مجھ سے حساب مانگنے والوں کوشرم آنی چاہیے وزیراعظم اپنی کرپشن چھپانے کیلئے ملک تباہ کررہے ہیں۔ شریف برادران کی حکومت کسی صورت نہیں چلنے دیں گے۔وزیراعظم کوبھاگنے نہیں دیاجائے گا،کارکن راستے میں آنے والی ہررکاوٹ گرادیں، نوازشریف کے پاس دوآپشن ہیں تلاشی دیں یاپھراستعفیٰ۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ کاکہنا ہے کہ اسلام آبادبندکرنااحتجاج نہیں جرم ہوگا۔ڈگڈگی کااشارہ غیرسیاسی لوگوں کی طرف تھا۔وزیراعظم کابیان آگ پرتیل ڈالنے کے مترادف ہے کیونکہ عمران توڈگڈگی نہیں بجارہے دونوں راہنماجمہوریت کیلئے خطرہ ہیں انہیں سیاسی بصیرت زرداری سے سیکھنی چاہیے۔نوازشریف صرف پنجاب کوپاکستان بنانے پرتلے ہوئے ہیں۔وہ پانامہ سیکنڈل میں جکڑے جاچکے ہیں، ستائیس دسمبرتک تحقیقات کااعلان نہ ہواتولانگ مارچ کریں گے۔نوازشریف اورعمران سیاست سے نابلداداروں کوتوڑنے جوڑنے میں لگے ہیں۔خورشیدشاہ کاکہنا ہے کہ پل بنیں گے نہ کندھادیں گے حکومت بلاول کے مطالبات مانے تب ساتھ دیں گے ،موجودہ حالات دیکھ کرخوف آتا ہے ،معاملات بگڑے توذمہ دارپیپلزپارٹی نہ ہوگی۔عمران خان نوازشریف کے سب سے بڑے حامی ہیں۔کیونکہ ان کی پالیسیوں سے وہ اوربھی مضبوط ہورہے ہیں۔شہربندکرنے کے حق میں نہیں ،مشکل وقت میں حکومت پاؤں پڑتی ہے اچھے وقت میں گلے پرپاؤں رکھتی ہے۔حکومت صرف دونومبرنکالناچاہتی ہے ،نوازشریف کیلئے موقع ہے عدالت میں پیش ہو جائیں،حکومت بات کرناچاہتی ہے توچارمطالبات مانناپڑیں گے ،عمران ڈبل گیم کررہے ہیں۔عمران چاہتے ہیں لاشیں گریں ،نوازشریف لچک نہیں دکھا رہے ، پی پی ڈبل گیم نہیں کرتی ،لگتانہیں حکومت مدت پوری کرپائے گی۔عمران کی سوچ سے بہت آگے ہوں دونومبرکے احتجاج سے سسٹم کوخطرہ ہوسکتا ہے،حکومت، پی ٹی آئی معاملے کوتشددکی طرف نہ لے جائیں ۔الزامات لگتے رہتے ہیں،مجھ پرایک ارب روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ہم نے اپنی لیڈرشپ کوقربان ہوتے ہوئے دیکھا،کوڑے کھائے،عمران نے ابھی کچھ نہیں دیکھا،حکومت ہمارے تین مطالبات ماننے پرراضی ہے،حکومت کوگھربھیجنے کیخلاف ہیں ،دھرناسب کاحق مگراسلام آبادبندکرنامجرمانہ فعل ہے،فوج آئی توذمہ دارنوازشریف اورعمران خان ہوں گے ،اگرحکومت ٹی اوآرزسے متعلق پارلیمنٹ کوسنجیدہ لیتی توآج یہ حالات پیدانہ ہوتے ،سب کیادھراحکومت کااپناہے،حکومت نے رابطہ کیاہے مگرہماری شرائط سامنے ہیں ۔حکومت مذاکرات کرلے توعمران کااحتجاج ختم ہو سکتا ہے،ریاستی طاقت کااستعمال غلط عمل ہے ،خواتین اوربچوں پرتشددنہیں ہوناچاہیے ،عمران کوگرفتارکیاگیاتوسمجھیں گے حکومت مسئلہ بڑھاناچاہتی ہے۔گورنرپنجاب رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ کسی کواختلاف ہے توپارلیمنٹ کھلی، کیس عدالت میں سڑکوں پراحتجاج سے گریزکیاجائے،ملک حالت جنگ میں ہے ،کچھ لوگ پیالی میں طوفان برپاکرناچاہتے ہیں دونومبرکوکچھ نہیں ہوگا،دہشت گردی جلدختم ہوگی،جنوبی پنجاب کیلئے منصوبے جاری ہیں نوازشریف پاکستان کیلئے کام کررہے ہیں ،کچھ عناصرترقی روکناچاہتے ہیں، حکومت کہیں نہیں جارہی،ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہے کسی کورکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔شہبازشریف کہتے ہیں کہ عمران کا ایجنڈاانارکی پھیلاناہے ان کی بھول ہے کہ سڑکوں سے انصاف ملے گا،انہیں ملکی ترقی ہضم نہیں ہورہی،سی پیک کوناکام بنانے پرتلے ہیں ،دھرناسیاست ملک کو بدحالی کی طرف لے جانے کی کوشش ہے،دوہزارچودہ میں دھرنانہ ہوتاتوآج ساہیوال کول پاورپلانٹ کام کررہا ہوتا،نیازی صاحب!اسلام آبادبندکرنے کا اعلان سیاسی واخلاقی حمایت کھوبیٹھا ہے،آپ ترقی وخوشحالی کے تیزسفرکوبندکرناچاہتے ہیں،بلاجوازاحتجاج کرنے والے ہوش کے ناخن لیں،خان صاحب میرے خلاف کرپشن کے ثبوت لے آئیں سیاست کوخداحافظ کہہ دوں گا،جوشخص کرپشن کی بات کررہا ہے اس کے دائیں جانب قرضے معاف کرانے والے اور بائیں جانب قبضہ مافیاکاسرغنہ کھڑاہے ،یہی لوگ سی پیک کیخلاف ہیں،تحریک انصاف میٹرٹرین کی اپیل میں درخواست دے کربے نقاب ہوگئی،منفی سیاست کے علمبردارسی پیک بندکراکے عوام کی خوشیاں چھینناچاہتے ہیں،قوم کسی تماشے کاحصہ نہیں بنے گی ،عمران خان کوقبضہ مافیاکیوں نظرنہیںآتا،اسلام آبادبندکرنے کا اعلان کرنے والے پاکستان کی تباہی کایجنڈالے کرچل رہے ہیں،یہ عناصرخائف ہیں اگرآئندہ اٹھارہ ماہ میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہوگئے توانہیں ایک مرتبہ پھر شکست کی دھول چاٹنی پڑے گی،باشعورعوام منفی سیاست کرنے والوں کوہرسطح پرمستردکرچکے ہیں ،آج وہ سیاسی میدان میں تنہاہیں۔دھرنے والے ملکی ترقی کا راستہ روک کرغریب کے منہ سے نوالہ چھینناچاہتے ہیں،لیڈرجسے قوم کوراہ دکھاناہوتی ہے وہ دروغ گوئی اورانتہادرجے کے جھوٹ پراترآیا،قوم متحدہوکرایسے عناصرکاراستہ روکے،ایک دھیلے کی بھی کرپشن کی ہوتو میراگریبان اورعوام کاہاتھ ہوگا،شہبازشریف کہتے ہیں کہ دھرنوں سے تررقی روکناجرم اوربیس کروڑ عوام کیساتھ ظلم ہے،اسلام آبادبندکرنے کی دھمکی دینے والے پاکستان سے کھلی دشمنی کررہے ہیں،تحریک انصاف ناانصاف پارٹی بن چکی ہے،سی پیک اورعوامی منصوبوں کودھچکالگاتوذمہ داردھرناگروپ ہوگا،عوام ترقی، خوشحالی اورامن چاہتے ہیں ،منفی سیاست کے علمبرداروں کوملک وقوم کی خاطرہوش کے ناخن لینے چاہئیں،منصوبوں کی تیزرفتاراورشفاف تکمیل پران کوتکلیف ہوتی ہے،ذاتی ایجنڈے کیلئے ملک کوتباہی کی بھینٹ چڑھاناچاہتے ہیں۔نیازی صاحب پاکستان کی قسمت کھوٹی کرناچاہتے ہیں عوام ان کے راستے کی دیواربنیں گے،تحریک انصاف کووطن عزیزمیں جاری تعمیروترقی کاسفرایک آنکھ نہیں بھارہا ۔وزیرداخلہ چوہدری نثارکاکہنا ہے کہ دھرنے والے پاک سیکرٹریٹ میں گھسنے کاپروگرام بناچکے ہیں ،ایک صوبے کووفاق کیخلاف کھڑاکیاجارہاہے،عمران خان پاکستان کی جڑیں ہلارہے ہیں۔بلاول بھٹوزرداری کہتے ہیں عمران خان امپائرکی انگلی کے بغیرکوئی تحریک نہیں چلاسکتے،ان کے غلط طرزاحتجاج اورسیاست سے نوازشریف کوبھرپورفائدہ مل رہا ہے۔طالبان کوجلسہ کی اجازت بلاول اورعمران کوروکتے ہیں۔اسلام آبادمیں کیاہورہا ہے حکومت ذمہ داری پوری کرے۔جوکچھ ہورہاہے ملک کیخلاف سازش ہے پرامن احتجاج ہرایک کاحق ہے ۔نوازشریف امیرالموء منین بنناچاہتے ہیں ،وزیراعظم اوروزیرداخلہ معاملات کوسنبھالنے میں سنجیدہ نہیں ۔کیمرے اورٹی وی بندکردیے جائیں توسب ڈرامہ ختم ہوجائے گا،ریٹنگ کیلئے عمران خان کے ہرکام کودکھایاجارہاہے۔پرویزخٹک کہتے ہیں کہ ہم صرف حساب مانگ رہے ہیں کہ چوری کی ہے یانہیں،وفاق نے ہمیشہ دھوکہ دہی کی حقوق دینے کی بات پرآنکھیں بندکرلیتا ہے ۔پاکستان عوام کاہے کرپٹ ٹولے کی جاگیر نہیں ،فیصلہ عوام نے کرناہے کرپٹ ٹولے کے ہاتھ میں نہیں د یں گے۔جاویدہاشمی کاکہنا ہے کہ پاکستان کیخلاف سازشیں عروج پرہیں،پاکستان کے مستقبل کی فکر ہے، تحریک انصاف میں مشاورت کاکوئی نظام نہیں کورکمیٹی کچھ فیصلہ کرتی ہے اورعمران خان کچھ اور،ہمارے سیاستدان دوسروں کی جنگیں نہ لڑیں۔وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کہتے ہیں احتجاج ہرکسی کاحق ہے مگرقانون ہاتھ میں لینے کاحق نہیں،وفاقی وزیریلوے خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ کپتان کاکام صرف مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا ہے۔لیہ سے ممبرقومی اسمبلی سیّدثقلین شاہ بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان ملکی ترقی میں رکاوٹ ہیں ،دھرنوں کے باعث ملک کواربوں کاخسارہ برداشت کرناپڑا۔عابدشیرعلی کہتے ہیں عمران خان اسلام آبادمفلوج کرنے سے پہلے خود مفلوج ہوجائیں گے۔ پرویزرشید کاکہنا ہے کہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی اورکسی کوبھی جمہوریت پر شب خون نہیں مارنے دیں گے،دھرنے دینے والے ملکی ترقی کیلئے سیاسی وذاتی مفادات سے بالاترہوکر تعمیری سیاست کریں۔ منظور وسان کہتے ہیں عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم کی لکیرنہیں۔ اسحاق ڈارکاکہنا ہے کہ عمران خان کس آئین کے تحت وزیراعظم کااستعفیٰ مانگ رہے ہیں،دھرنے کامقصدکچھ اورہے تحریک انصاف کاکوئی پریشرنہیں۔قمرزمان کائرہ کاکہنا ہے کہ شہربندکرنااچھانہیں سمجھتے، حکومت خود حالات خراب کررہی ہے ۔مصطفی کمال کہتے ہیں عمران خان اورشیخ رشیدکے احتجاج پر حکومتی ردعمل غیرآئینی ہے۔ماروی میمن نے کہا ہے کہ عمران خان صرف دھرنے کی سیاست جانتے ہیں۔یہ تمام خیالات، بیانات، ردعمل دھرنے کے موخرہونے سے پہلے کے ہیں۔ ختم نہیں کیا، بنی گالہ میں کارکنوں سے خطاب کے دوران عمران خان کاکہناتھا کہ ان کے کارکنوں نے حکومت کیخلاف احتجاج میں ان کاساتھ دیاجس پروہ ان کے مشکورہیں ،ہمارامقصدپوراہوگیا،بس کچھ دیرکی بات ہے،پرسوں سے وزیراعظم کی تلاشی کاکام شروع ہوجائے گا۔انہوں نے پریڈ گراؤنڈ میں آئندہ کے لائحہ عمل کے اعلان کرنے کااعلان کیا۔عدالت عظمیٰ نے پانامہ لیکس پردائر درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیاجائے تو فریقین یقین دہانی کروائیں کہ اس کے فیصلے کوتسلیم کیاجائے گا،عدالت نے کہا ہے اگرفریقین کمیشن کے ضوابط کارپرمتفق نہ ہوئے توعدالت خود ضوابط کاربنائے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 155307 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Nov, 2016 Views: 249

Comments

آپ کی رائے