سانحہ کوئٹہ اور صوبہ پنجاب

(Saima Haseeb, )
صوبہ پنجاب میں انفراسٹرکچر کی تیز رفتار کو دیکھ کر بہت فرحت و تسکین محسوس ہوتی ہے پلاننگ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق 27ہزار ملین روپے کی لاگت سے خادم پنجاب رورل روڈز پروگرام، 4ہزار چھ سو تیس ملین روپے کی لاگت سے رینویبل انرجی ڈیویلپمنٹ سیکٹر انوسٹمنٹ پروگرام ، 3ہزار ملین روپے سے ملتان میٹرو بس پراجیکٹ اور 85ہزار ملین روپے سے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ جدید ٹیکنالوجی اور تعمیرات کا شاہکار نمونہ ہیں۔

23اکتوبر کی رات ٹیلیویژن پر کوئٹہ حملہ کی خبر سن کر بہت صدمہ ہوا کہ ابھی تو کوئٹہ 9اگست سانحہ سول ہسپتال میں شہید ہونے والے وکلاء کا دکھ بھی ہم نہ بھلا پائے تھے کہ پولیس کیڈٹ کالج میں تربیتی کیڈٹس کو یرغمال بناکر 61گہر نایاب خاک میں ملادئیے گئے اور117نوجوان زخمی ہوئے۔ حسب سابق حملے کی پیشگی اطلاعات موصول ہوچکی تھیں۔ سانحے کہ دو روز پہلے پاسنگ آوٹ پریڈ ہوئی تھی پاسنگ آؤٹ پریڈ کہ بعد نہتے پولیس کیڈٹس کو تربیتی مرکزمیں کیوں رکھا گیا، زیرتربیت اہلکاروں کہ پاس کسی قسم کے ہتھیار کیوں نہیں تھے، غیرمسلح کیڈٹس کی مرکزمیں موجودگی کی اطلاع دہشت گردوں تک کیسے پہنچی ، ٹریننگ سنٹر کی دیوار کیوں تعمیر نہ کی گئی تھی، اور تفتیش کسی منطقی انجام کو پہنچ پائیگی یا پھر یہ غم صرف ان شہیدوں کہ گھر تک محدود ہو جائے گا جس کا فرد واحد کمانے والا اس سانحے میں شہید ہوا ہوگا۔۔ان تمام سوالوں کے جواب دینے کی بجائے کوئٹہ کے ایک وزیرسرفراز بگٹی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’دیوار بنانے کے پیسے وزیر اعلیٰ کی جیب میں نہیں پڑے ہوتے‘‘۔ جناب بجائے اس کے آپ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کریں۔آپ اپنی ایڈمنسٹریشن کی طرف توجہ دیں اور ایسے اقدام اُٹھائیں کہ جس سے پورے نظام میں بہتری لائی جاسکے۔

کیا حکمرانوں کے ذاتی گھروں کی دیواروں پہ کروڑوں روپے خرچ کرکے بلٹ پروف اور بم پروف بنانے کیلئے تو گورنمنٹ کے پاس فنڈز موجود ہیں ۔لیکن عوام کیلئے ان کے پاس صرف excuseہی رہ جاتی ہے۔ ساؤتھ ایشیاء ٹیررازم پورٹل کے مطابق سال 2010میں 7435، سال 2011میں 6303، سال 2012میں 6211، سال 2013میں 5379، سال 2014میں 5496، سال 2015میں 3682اور سال 2016میں اب تک 1519افراد اور سیکورٹی فورسز کے جوان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ امسال بنسبتاً پچھلے سالوں کے تناسب کم ہے لیکن پھر بھی اس کو صفر کرنے کیلئے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔

کیا سب کچھ فوج نے صحیح کرنا ہے ، حکومتی سول اہلکار کچھ کرنے کے لائق نہیں ، اور صرف بڑی بڑی تنخواہوں اور مراعات لینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ کسی بھی ٹیکنیکل یا نان ٹیکنیکل سکلڈ فرد کو تیار کرنے کیلئے بہت محنت کے ساتھ ساتھ مزید وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔ اور انسان کی اپنی کوالٹی اُسے کسی بھی شعبے میں اپنا لوہا منوانے کے لئے ضروری ہوتی ہے جو کہ سب سے زیادہ تشویش ناک بات ہے کہ سانحہ سول ہسپتال میں کوئٹہ کے تمام جید وکلاء کو شہید کرکے کوئٹہ کو مزید تاریکی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اور ان 61سے زائد پولیس فورس کے تریبیت یافتہ افراد کو بھی ایک لمحہ میں ضائع کردیا گیا۔ تمام 36000سے زائد شہداء کے گھرانوں پر نظر ڈالی جائے تو کتنی بیوایں، کتنے یتیم بچے اور کتنے ہی بے آسرا والدین نظر آئیں گے۔ ہر وقت صرف گھر کا چولہا جلانے کے لئے وہ اپنی تمام وسائل صرف کرتے نظر آتے ہوں گے۔

یہ ناانصافی صرف صوبہ بلوچستان اور صوبہ سرحد کے ساتھ کیوں ہے۔ پاکستان کے تمام دستیاب وسائل صوبہ پنجاب اور باقی ماندہ صوبہ سندھ کے استعمال میں ہیں۔ انڈسٹریل اسٹیٹس، توانائی، گھریلو الیکٹرانک اور دوسری اشیاء صرف صوبہ پنجاب میں سستی اور معیاری ہیں اور تمام پاکستانی مصنوعات کے کارخانے بھی اسی صوبے میں ہیں۔ جب کہ صوبہ بلوچستان اور صوبہ سرحد کو ہمیشہ لڑائی جھگڑوں اور جنگ و جدل کی حالت میں رکھ کر پاکستانی معشیت کا پہیہ چلایا گیا۔ نہ صرف پاکستان کی بلکہ دنیا کی دو جنگوں میں اور اکتوبر 2005کے زلزلے میں جتنا فنڈز پاکستان کو ملااور جتنی بیرونی امداد کے ذریعے پاکستانی معیشت کو چلایا گیا۔اس امداد سے پورے پاکستان کو نکھارا جا سکتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کے سیاستدان جنہیں ہم خود ہی ووٹ دے کر چنتے ہیں ، نے ہماری قوموں کو صرف نسل پرستی اور زبان پرستی کے بغیر کچھ نہ دیا۔
دشت کی پیاس سلگتی رہی یونہی صدیوں
بادلوں نے تو سمندر پہ برس جانا ہے

ہمیں حیرت اور دُکھ کا سامنا تو اس وقت کرنا پڑا جب سانحہ کوئٹہ (پولیس ٹریننگ سنٹر) کے شہداء کی میتیں پبلک ٹرانسپورٹ کی چھتوں پر رکھ کر ان کے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ کیا یہ جھنڈے میں لپٹی شہداء کی لاشوں سے بے حرمتی اور بے وفائی نہ تھی یا وزیرِ موصوف کے بقول ان کی جیب میں پیسے نہیں تھے۔ ایک ایسا ملک جس کے معمولی ایم این اے سے لیکر وزیر اعظم تک کے پروٹوکول کیلئے 20 بیس گاڑیوں کا قافلہ ہر وقت ہمہ تن گوش رواں رہتا ہے۔ ایسے ملک میں ملک کے وقار کے لئے اپنی خدمات دینا کا صلہ ہے۔ یا حکومت وقت کا سماجی اور انسان دوست پراجیکٹس صرف صوبہ پنجاب کیلئے مختص ہیں۔ کیا ہم مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے بھی کوئی سبق نہ سیکھ سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام کو سینٹ نظام کے ماتحت رکھنا چاہیے اور سینٹ کے اراکین کو منتخب کرنے کیلئے ایک جامع اُصول وضح کرنا چاہیں۔ جس کیلئے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے اُصولوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ دوسرے صوبوں کے استحصال کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ نئے صوبوں کا قیام بھی ہمارے ملک کے کئی مشکل سوالات کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
======= ختم====== شُد =======
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saima Haseeb
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Nov, 2016 Views: 463

Comments

آپ کی رائے