جینا ،مرنا ایک ساتھ

(Tanvir Sadiq, Lahore)
 ہم لوگ 1974ء میں قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ ہوئے۔ میں پاکستان میں آلام زمانہ سے برسر پیکار رہا ہوں جب کہ ہمدم دیرینہ سراج الزمان کینیڈا جا کر وہیں کے ہو رہے۔ مگر کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے اور 40 سال سے زیادہ عرصہ وہاں گزارنے کے باوجود خالص پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے درد کو محسوس کرتے ہیں اور یہاں کے حالات پر کُڑھتے ہیں۔ کینیڈا کی جمہوریت اور پاکستان کی جمہوریت کا موازنہ کرتے ہیں تو اپنوں پر شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہاں کے لیڈروں اور یہاں کے لیڈروں کی بات کرتے ہیں تو پاکستانی ہونے کے ناطے کھل کر کچھ کہتے حیا محسوس ہوتی ہے کیونکہ مادر وطن کے بارے بندہ کیا کہے، مگر اپنے سیاستدان اور بااثر بھائیوں کی بے حسی، بے غیرتی اور بے حمیتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ آج کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے کچھ آنسو نذر کئے ہیں، اپنے دل کی باتیں کہی ہیں کہتے ہیں:

پاکستانی ریاست کے کچھ معاملات عقل و شعور سے ماورا ہوتے ہیں۔ ایک طرف دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت 5 افراد ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے۔ اس کے تحت تحریک انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف نام نہاد دفاع پاکستان کونسل ہے جس کی اکثریت کالعدم تنظیموں کے کارکنان پر مشتمل ہے۔ آبپارہ اسلام آباد میں جلسہ کر رہی تھی۔ منافقت کا کوئی ایوارڈ ہوتا تو ضرور ہمیں عطا ہوتا۔

پچھلے 40,45 سال میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ سیاست بھی اور لیڈر بھی۔ سیاسی اقدار سے کچھ امید تھی لیکن یہ غلط فہمی بھی کل دور ہو گئی۔ شاہ محمود اور اسد عمر کے دائیں بائیں سے پولیس ورکروں کو پکڑ پکڑ کر مارتے ہوئے، گھسیٹتے ہوئے لے جاتی ہے لیکن وہ کیمرے کے فریم سے باہر نہیں نکل رہے تھے۔ ان کے عقب میں ورکروں کی چیخ و پکار کی آوازیں تھیں لیکن وہ مائک چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ میری نسل کے لوگوں کے لئے یہ ایک نیا منظر تھا۔ ہم نے لیڈروں، ادیبوں اور شاعروں کو پولیس کی لاٹھیاں کھاتے دیکھا ہے۔ پارٹی سربراہوں کے سر پھٹتے دیکھے ہیں، پولیس کی بچھائی ہوئی خاردار تاروں سے اُلجھتے دیکھا ہے، ورکر گرفتار ہوتے تھے تو وہ بھی ساتھ ہوتے تھے۔ ہمارے سیاسی بزرگ کہا کرتے تھے کہ لیڈر بننا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے جان بھی دینا پڑتی ہے اور ہم نے دیکھا کہ لیڈروں نے جان دی۔ کل ہم نے نئے لیڈر دیکھے جو غریب ورکروں سے جان چھڑانے کا فن جانتے ہیں۔ ایسے بھاگے کہ رات بھر نہیں آئے۔

برادر محترم! آپ کی باتیں فکر آمیز بھی ہیں اور گھر کے کسی مکین کا گھر کی حالت زار پر اپنی بے بسی کا اظہار بھی۔ مگر صورت حال واقعی بدل گئی ہے۔ آپ جن لیڈروں پر تنقید کر رہے ہیں موجودہ حالات میں وہ بہت غنیمت ہیں۔ حرام اورحلال، جائزاور ناجائز، صحیح اور غلط، تمیزاور بد تمیزی، عزت اور ذلت یہ سب دو چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں ان کا فرق مٹ گیا ہے۔ مالی قدریں اس قدر غالب آگئی ہیں کہ اخلاقی قدروں کی بات اب پاگل پن تصور ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہیں کسی بھی معاشرے میں لوگ چپڑاسی کی نوکری بھی دینے کو تیار نہیں ہوتے ہمارے ہاں صف اوّل کے سیاستدان ہیں اور وہ لوگ جو سیاستدان اور خلق کی خدمت کے حقدار اور آزمودہ ہیں آج کل بے روزگاری کا شکار ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ورکرز کے ساتھ پولیس زیادتی کر رہی تھی تو ان لوگوں کو آگے بڑھ کر نہ صرف پولیس کو روکنا چاہئے تھا بلکہ بھرپور مزاحمت بھی کرنا چاہئے تھی اسلئے کہ سیاستدانوں کا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہوتا ہے، مگر اب بے حسی اپنے اس عروج پر ہے کہ مرتے فقط کارکن ہیں۔ لیڈر تو جینے اور کھانے پینے کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔

عمران کی پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ اس کے زیادہ تر لیڈر بہت مخلص ہونے کے باوجود بھی ممی ڈیڈی کلچر سے اُبھر کر آئے ہیں۔ انہیں گلی محلے کی سیاست کا تجربہ ہی نہیں۔ اس لئے ان کا باہر نکل آنا اور کسی بھی صورت میں مزاحمت کرنا بہت بڑی بات ہے۔ اب پہلی دفعہ انہیں تجربہ ہو رہا ہے کہ سٹریٹ پا لیٹکس یعنی گلے محلے کی سیاست کیا ہوتی ہے۔اس وقت وہ لوگوں کے ساتھ پوری طرح میدان عمل میں ہیں۔ان کی استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اب امید ہے کہ وہ سیکھ جائیں گے کہ لیڈروں کو کارکنوں کے ساتھ جینا اور ساتھ مرنا ہوتا ہے۔ لیکن اب تک انہوں نے جو کیا ہے، جس دلیری سے حکومتی ہتھکنڈوں کا سامنا کیا ہے۔ قوم کو جو شعور دیا ہے اچھائی اور برائی، جائز اور ناجائز کا ، جمہوریت اور بادشاہت کاجو فرق عوام کو واضح کیا ہے بہت قابل ستائش ہے۔ افسوس کرنا ہے تو ان قوتوں پر کریں جن پر ان حالات میں مزے کی نیند سونا حرام تھا،مگر وہ سو رہے ہیں۔عوام کے ساتھ جو ہو رہا ہے اسے دیکھنے کے باوجود انہوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ دیکھیں کیا ہو عوام کو امید اﷲ سے ہے جو ہر بات کو جانتا ہے اور جو یقینا بہتر کرے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 226050 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
02 Nov, 2016 Views: 298

Comments

آپ کی رائے