میرے وطن تجھے مسیحا کی ضرورت ہے

(Malik Arshad Jafferi, )
میں ملک کے مختلف حصوں میں اپنی تحریر کو سچائی کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے پھرتا ہوں اور عوامی رائے لیکر اپنی تحریر کو کاغذ کی زینت بتاتا ہوں کئی سالوں سے لیکن کئی دنوں سے ملکی میں افراتفری اور وقفے وقفے سے دہشت گردی اور حکومتی بو کھلاٹ پر مجبور ہو کر عوامی رائے لیکر لکھ رہا ہوں لفظ جمہوریت پر 80%لوگوں نے غصے کا اظہار کیا اور اک ہی لفظ دور ایا اب کسی کمپنی یا بہادر جرنیل کی ضرورت ہے کیونکہ جمہوریت کے دعوے داروں نے سوائے کرپشن اور ملکی دولت لوٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا جب پردہ چاک ہوگیا تو چند مداریوں نے ہر روز TVچینل پر آکر حکومتی سربراہ کے جھوٹے قیصد ے سنانے شروع کر دئیے اور چند نام نہاد مذہبی اور سیاستدانوں نے اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے انڈیا اور افغانستان کے گیت گانے شرو ع کر دیے جن میں مذہبی مولانا نے تو لالچ میں حد کراس کر دی خوشامد کی اور سخت گرمی میں چادر اوڑھنے والے نے تو اک صوبے کو افغانستان کا حصہ قرار دے دیا جس کے خلاف غداری کا مقدمہ بنتا تھا لیکن جمہوریت کے نام لیو اکرپٹ حکمرانوں نے اسکے خلاف آواز تک نہیں اٹھائی اور تیسرے نے تو اپنی جد کے نقش قدم پر چل کر یہ کہہ ڈالہ کہ میں افغانی ہوں اور افغانی تھا اور افغانی رہوں گا لیکن کسی نے انکو کچھ نہیں کیا تین کا ٹولہ جن کی خوش نصیبی یہ ہے کہ عمران خان نے حکومت کی کرپشن کے پہلے دن سے بہ نقاب کرنا شروع کیا اور آواز ہر فورم پر لگاتا آرہا ہے جسکی وجہ سے مولانا کی بھی ناشتے میں دربار ہر حاضری یقینی اور عزت بنی ہوئی ہے اور درباریوں کے بھی مزے بنے ہوئے ہیں سربراہ کے گھرانے سے ایسی حرکت کی ہے جس سے مملکت خداد کو ہی نہیں پاک فوج پر بھی مودی جیسے غدار اور ظلم کو باتیں کرنے کا موقع ملا میرے چند دوست مجھے کہتے ہیں کہ پرویز رشید انفارمیشن کا وزیر ہے اس نے خبر لیک کی میں ان سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ جو اندر میٹنگ میں تے انکو گھر کے بھیدیوں نے اس کو اسپیشل ٹاسک دیا اس نے یہ نہیں سمجھا کہ جو میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی میں نے کرنی ہے یا نہیں لیکن بچارہ عمر کے اس حصے میں تھا آدھی رات کو جو کچھ نہیں کہنا تھا وہ بھی کہہ دیا جس سے میرے پیارے ملک کی سا لمیت اور پاکستان آرمی کی شہرت کو دھچکالگالیکن ملک کی بہادرفوج نے فوری اپناردعمل ظاہرکیا اور پیچھے نہ ہٹے جس سے ملک دشمنوں کے چہرے بے نقاب ہوئے اور اصل مجرموں تک پہنچ گئے لیکن حکومتی ٹیم نے دو کی قربانی دے کر باقیوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن انشاء اﷲ تمام مجرم گرفت میں آئیں گے کیونکہ عوام کی نظریں ملک کی غیرت مند فورس پر لگی ہیں کیونکہ یہ ملک جب بناتھاخون اور دولت لگی تھی اور اب اس ملک کی دولت لوٹنے والوں کاآخری وقت آگیا ہے جنوں نے ملکی راز لیک کیے اور اس کی دولت کو غیر ممالک میں جاکے رکھا ان کو کیفرے کردارتک پہنچائے گیا اور نام نہاد جمہورت سے آزادی دلوائیں گے کیونکہ جب سے یہ حکومت آئی پنجاب کے ہر اضلاع میں ان کے من پسند لوگوں کوNTS کے امتحان لینے کے بہانے کے بعد غریبوں کے بچوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہیں من پسند لوگوں نوکریاں دی جاتی ہیں غریبوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود پرائیویٹ سکولوں اور دکانوں پرکم اُجرت لے کر اپنے گھر کے اخراجات پور ے کرنے پڑھ رہے ہیں میرے ضلع اٹک میں ایسے لوگ ہیں جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہیں ان کے اپنے گھرنہیں تھے آج کرپشن اور لوٹ مار کر کے کئی کوٹھیوں اور جائیدادوں کے مالک بن گئے ہیں انہوں نے اس ملک کواس طرح لوٹا جس طرح جنگلی گدھیں ہاتھی کو نوچ کر اڑ جاتی ہیں اب انہوں نے میگا پروجیکٹ کے نام پر کرپشن کی ہیں جب عمران خان نے اس اجاگر کیا اور اسلام آباد میں چڑائیکا اعلان کیا تو حکومت بو کھلاٹ کا شکار ہو گئی اور چادر چاردیواری کاخیال نہ آیا اور اپنے من پسند پولیس افسران کو کہ کر ان گھروں سے اٹھاوا کر جیلوں میں ڈلوادیا اور عورتوں پر پولیس کا دھاوا اور میڈیا کے سامنے ان کو ذلیل کرنے پر عوام کے ذہنوں میں تبدیلی آ گئی ہے اور لفظ جمہوریت پامال ہوگیا ہے اور باشعور عوام نے فیصلہ کر لیا کہ اٹھواور ان کو حکومت سے علیحدہ کرو اور بہادر جرنیل کی طرف نظریں جما دیں کیونکہ اب ان پڑھ بھی سمجھ گئے ہیں اور عمران خان جب بھی دھرنے کا اعلان کرتا ہے ملک میں دھماکہ اور باڈر فائرنگ ہوجاتی ہے تمام جمہوریت پسند پارٹیوں نے کرپشن کی تحقیقات آواز اٹھائی تو ملکی سربراہ نے ٹی وی پر آکر کہا میرا احتساب کرو جب بل پیش کیا گیا تو 60سال پیچھے کے گڑھے مردے اکھاڑنے کے لیٹر سپریم کورٹ بھیج دئیے گئے جنہوں نے اس کو Reject کرکے واپس حکومت کی کورٹ میں واپس بھیج دیا جس پر عوام نے مطالبہ کر دیا جس سے عوام نے ملک کی مسیحا جرنیل سے مطالبہ کیا کہ دیر نہ کرے ملک کی دولت لوٹنے والوں سے دولت واپس لیکر ملک کے خزانہ میں ڈالیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں وقت کم ہے دیر نہ ہوجائے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Arshad Jafferi

Read More Articles by Malik Arshad Jafferi: 28 Articles with 11233 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2016 Views: 438

Comments

آپ کی رائے