حوثی باغی ابرہہ سے سبق سیکھیں

(Habib Ullah Salfi, )
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

حوثی باغیوں کی طرف سے مسلمانوں کے سب سے مقدس شہر مکہ مکرمہ پر میزائل حملہ کی کوشش سے پوری مسلم امہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ہر شخص کا دل اس ناپاک جسارت پر غمزدہ ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حوثیوں کے ترجمان کی طرف سے یہ کہنے کے بعد کہ ہم نے یہ میزائل مکہ مکرمہ پر نہیں بلکہ جدہ ایئرپورٹ پر مارا تھا‘ ان کے حمایت یافتہ بعض لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ حوثیوں کی طرف سے اس وضاحت کے بعد ہمیں اس معاملہ کو مذہبی ایشو نہیں بنانا چاہیے اور یہ کہ بیت اﷲ کی حفاظت کیلئے اﷲ تعالیٰ ابابیلوں کو بھیج دے گا۔ حیرت ہے اس سوچ پر کہ ساری دنیا تسلیم کر رہی اور اس امر کی مذمت کر رہی ہے کہ یمنی باغیوں کی جانب سے بیت اﷲ شریف کے حرمت والے شہر مکہ معظمہ پر میزائل داغنے کی کوشش ایک نیا فسا د پھیلانے کی سازش ہے مگر بعض لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر حوثیوں کی ترجمانی کررہے ہیں اور ان کے اس گمراہ کن پروپیگنڈا کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ حوثی باغی یمن میں بغاوت کرتے وقت برسرعام یہ کہتے رہے ہیں کہ ہمارا اصل ٹارگٹ مکہ اور مدینہ پر قبضہ کرنا ہے؟۔ کیاان کے یہ بیانات میڈیا کی زینت نہیں بنتے رہے؟ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں جان بوجھ کر مشقیں کرکے اور آئے دن سرحدی علاقوں پر میزائل حملوں سے کیا پیغام دیا جاتا ہے؟اور کیا حوثی باغیوں کی جانب سے جدہ ایئرپورٹ پر میزائل حملوں جیسی مذموم کاروائیوں کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ بلاوجہ حوثی باغیوں کی اس انتہائی قبیح حرکت کو تحفظ دینے کی کوشش میں ہیں انہیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ بیت اﷲ اور مسجد نبوی والی پوری سرزمین حرمین شریفین کا تحفظ مسلم امہ پر فرض ہے۔ کیا سعودی عرب کے دوسرے شہروں میں میزائل حملوں سے تباہی پھیلا کر مکہ اور مدینہ کے امن کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے؟یہ بات درست ہے کہ بیت اﷲ کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالیٰ نے اٹھارکھاہے لیکن بحیثیت مسلمان ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے یا نہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کو مذہبی ایشو نہیں بنانا چاہیے۔انہیں سوچنا چاہیے کہ مسلمانوں کا مقدس ترین شہر جس کی عملداری سعودی حکومت کے پاس ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس پر حملہ کی کوشش ہواور سعودی عرب اس کے تحفظ کیلئے کردار ادا نہ کرے‘ایسا ممکن نہیں ہے اور کوئی بھی ذی شعور فرد اس سوچ و فکر کی حمایت نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی سرزمین پر ریاض اور جدہ مضبوط و مستحکم ہوں گے تو مکہ اور مدینہ کی حفاظت بھی بہتر انداز میں کی جاسکے گی۔ ممکن ہے کہ کسی ملک یا تنظیم کو سعودی حکومت کی کسی پالیسی سے اختلاف ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرزمین حرمین شریفین کو کمزور کرنے کی سازشوں میں حصہ دار بنا جائے یاباغیوں کی حمایت شروع کر دی جائے۔ جدہ ایئرپورٹ جہاں میزائل داغنے کا دعویٰ کیا گیا ہے حج کے ایام کے علاوہ بھی وہاں ہر وقت ملک و بیرون ممالک سے احرام پہنے عمرہ کیلئے آنے والے معتمرین کا رش رہتا ہے۔ اس مقام کوعرف عام میں مکہ کادروازہ بھی کہا جاتا ہے جہاں سے یہ معتمرین مقدس شہر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے ایئرپورٹ جہاں ہر وقت عمرہ اور حج کیلئے آنے والے معتمرین اور حجاج کرام کی کثیر تعداد موجودہوتی ہے اس پر میزائل داغنا حلال ہے ؟ اور کیا اس مذموم جسارت کی اجازت دی جاسکتی ہے؟۔ مکہ مکرمہ کا عام مطلب تو وہ مقدس شہر ہے جہاں بیت اﷲ شریف اور دیگر مقامات مقدسہ ہیں لیکن جب پورے مکہ صوبے کی بات کی جائے تو اس میں طائف، جدہ اور بعض دیگر شہر بھی شامل ہیں۔ مکہ مکرمہ پر میزائل داغنا خطرناک جارحیت ہے جو مقدس سرزمین کو نقصان پہنچانے کیلئے کی گئی ہے۔ یہاں ہمیں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ صلیبیوں ویہودیوں کی بہت بڑی سازش ہے کہ سعودی حکومت کو حرمین شریفین سے الگ ظاہر کیا جائے۔ بعض لوگ اس حوالہ سے بیرونی پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ مسئلہ مکہ اور مدینہ کا نہیں ہے ہمیں صرف سعودی حکومت سے اختلاف ہے تو بات یہ ہے کہ ہمیں سعودی عرب اور حرمین شریفین الگ الگ کر کے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ایسی باتیں کرنا بیرونی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو سعودی قیادت کو الگ تھلگ کر کے وہاں اپنے مذموم منصوبوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بعض ملکوں کا سرکاری میڈیا حوثی باغیوں کے جدہ ایئرپورٹ پر میزائل داغنے والے بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔یہ درحقیقت مقدس شہر مکہ مکرمہ پر میزائل مارنے کی ناپاک حرکت کیخلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں پیداہونے والے شدید ردعمل کو کم کرنے اور اس مسئلہ پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ آج مسلمان ملکوں میں مساجد و مدارس اور افواج پر حملے کرنے والے بھی اسلام کا نام لیتے ہیں اور مسجد نبوی اور بیت اﷲ پر حملے کرنے والے بھی مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ تکفیریت کی اس سوچ نے مسلم معاشروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ بہرحال تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بیت اﷲ پر پہلے بھی حملے کئے جاتے رہے اور صدیوں سے یہ سازشیں ہوتی آرہی ہیں۔ کبھی ابرہہ کی شکل میں ہاتھیوں کا لشکر حملہ آور ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے ابابیلوں (چھوٹے پرندوں) کی فوج بھیج دی جس نے ابرہہ کے لشکر پر کنکریاں برساکر اسے نیست و نابود کر کے رکھ دیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ابابیلوں کی طرف سے اپنی چونچوں میں پکڑی چھوٹی چھوٹی کنکریاں گرانے سے ہاتھیوں کے جسم بوٹیوں کی مانند بکھر کر زمین پر گرتے رہے اور ابرہہ سمیت اس کے لشکر میں شامل کوئی بھی زندہ باقی نہ بچ سکا۔ یوں اﷲ تعالیٰ نے خانہ کعبہ پر حملہ کی ناپاک سوچ و ارادے سے آنے والے لشکر کو قیامت تک کیلئے عبرت کا نشان بنا دیا۔بنو امیہ کے دور میں بھی بیت اﷲ شریف کی حرمت پامال کی گئی اور کعبہ کی چھت اور اس کی دیواروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ بعد ازاں قرامطہ فرقہ کے گمراہ لوگوں نے بیت اﷲ پر حملہ آور ہو کر حاجیوں کو شہید کیا اور ان کی لاشیں زمزم کے کنویں میں ڈال دیں۔ اسی طرح کعبہ پر حملوں کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تاریخ میں بیس نومبر 1979ء کو محمد بن عبداﷲ قحطانی کے گمراہ ٹولے نے حرم شریف تک اسلحہ پہنچایا اور پھر اچانک حرم کے تمام دروازوں پر مسلح درندے کھڑے کر کے لوگوں سے زبردستی اپنے امام مہدی ہونے کی بیعت لینا شروع کر دی۔ اس وقت سعودی عرب میں شاہ خالد کی حکومت تھی۔ انہوں نے فوری طور پر سپریم کونسل کا اجلاس بلایااور جیدعلماء کرام کے فتویٰ کی روشنی میں بھاری ہتھیاروں سے گریز کرتے ہوئے کامیاب حکمت عملی کے تحت مرتد ین کا مکمل صفایا کرتے ہوئے چند دن بعد حرم شریف کو دوبارہ عبادت کیلئے کھول دیا گیا۔بیت اﷲ شریف کی اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت زیادہ عظمت بیان کی ہے لیکن اس کے باوجوداس مقدس شہر کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے مختلف ادوار میں گمراہ گروہوں اور حکومتوں کی طرف سے سازشیں ہوتی رہی ہیں۔ آج کے دور میں بھی یمن کے حوثی باغی اسی حرمت والے شہر کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی یمن کے ساتھ 1800کلومیٹر تک سرحد ملتی ہے۔ اسلئے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہاں بغاوت اورعسکری سرگرمیوں کو کچلنے کیلئے سعودی حکومت کو مداخلت نہیں کر نی چاہیے وہ سخت غلطی پر ہیں۔ مکہ مکرمہ پر حملہ کی کوشش پوری مسلم امہ کے شیرازے کو بکھیرنے کی سازش ہے۔ جولوگ یہ سب کچھ کر رہے ہیں وہ ملت اسلامیہ کی وحدت، بقا اور سلامتی کے بدترین دشمن ہیں۔ انہیں پوری قوت و طاقت سے کچلنا بہت ضروری ہے۔ یہ کسی قسم کا علاقائی یا سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ امت مسلمہ کو اس انتہائی حساس مسئلہ پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنا چاہیے اور مشترکہ طور پر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں کہ دوبارہ مکہ یا مدینہ کی طرف کوئی میلی نگاہ ڈالنے کی جرأت نہ کرسکے۔حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں کلیدی کردار اداکرے۔ مکہ مکرمہ میں او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے اورعالم اسلام متفقہ طور پر سرزمین حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے متفقہ لائحہ عمل ترتیب دے۔ پاکستانی فوج کو بھی ارض حرمین کے تحفظ کیلئے سعودی عرب بھجوانے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔اسی طرح مکہ مکرمہ پر میزائل حملوں کی کوششیں کرنے والے حوثی باغیوں کو بھی ابرہہ کا انجام یاد رکھتے ہوئے ایسی مذموم حرکتوں سے باز رہنا چاہیے اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کی وحدت کے مرکز ہیں ان کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔مسلم امہ کا بچہ بچہ اپنے اس فرض کی ادائیگی میں کسی طور پیچھے نہیں رہے گا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Habib Ullah Salfi

Read More Articles by Habib Ullah Salfi: 193 Articles with 84183 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2016 Views: 457

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ