محدود لفظی فن و مہارت( 10لفظوں کی 25کہانیاں1تا25)

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
٭ حیرانگی:
ایک گھر میں سلنڈر دھماکہ ہوا اور اکیلی بہو بچی ۔
٭ بری:
بہو تھی تو ساس بری ۔ ساس بنی توبہو بری۔
٭ معیار:
ہمارے ہاں با اخلاق غریب کومجبورسمجھا جاتا ہیں ۔
٭ پڑھے لکھے :
ہم پڑھے لکھوں کاکچرا، ایک ان پڑھ اٹھاتاہے ۔
٭ اوقات :
کچھ باتیں ہم بہت جلدی بھول جاتا ہے ،جیسے اوقات۔
٭ پرست:
پہلے لوگ ’’انا پرست ‘‘ ہوا کرتے تھے ،اب ’’موقع پرست ۔‘‘
٭ اپنے:
مجھے اپنے ٹھیک کرنے کیلئے اپنے کو غلط کرنا پڑا ۔
٭ فتوے:
ہم فتوے سادگی پر دیتے ہیں ، مرتے فیشن پر ہے ۔
٭ امیری :
کتا اوربلی ہم خود پالتے ہیں جبکہ بچے نوکرانی ۔
٭ لباس :
اکثرمہنگے لباسوں میں گھٹیا ، گھٹیا لباسوں میں مہنگے لوگ دیکھے ہیں ۔
٭ جھوٹ:
میں دوعورتیں اکٹھے بیٹھے دیکھیں ،وہ بھی بالکل خاموش ۔
٭ مقدر:
جن گھروں کے فیصلے عورتیں کریں ،بربادی انکامقدر ہے ۔
٭ نچوڑ:
جس کوبھی ستاروں تک پہنچایا ،اسی نے تارے دیکھائے۔
٭ بوجھ :
زندگی ہلکی پھلکی ہے ،بوجھ تو سارا خواہشات کا ہے ۔
٭ منافق :
منافق کی بات خوبصورت اور اسکا عمل دردناک ہوتا ہے ۔
٭ ترقی:
آگے ضرور بڑھیں ،لیکن دوسروں کی سیڑھی بنا کر نہیں ۔
٭ آنکھ :
جس پربند آنکھ بھروسہ کیا،اسی نے آنکھ کھولی ۔
٭ ماں باپ :
نخرے بس ماں باپ،جبکہ انگلیاں دنیا والے اٹھاتے ہیں۔
٭ وقت :
وقت کی اچھی عادت،جیسا بھی ہوگزر جاتا ہے ۔
٭ حسد و تکبر:
حسد وتکبرہمارے اندر داخل ہوجائیں توعقل باہر ۔
٭ خاموشیاں:
خاموشیاں ہی بہتر ہیں ،لفظوں سے لوگ روٹھ جاتے ہیں ۔
٭ دھوکے:
٭ اکثربہت سے دھوکے ہم اپنی مرضی سے کھاتے ہیں ۔
٭ اچھا:
ہاں!اچھا ضرور بنیں ،مگر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ۔
٭ تہذیب :
غیروں کی تہذیب اپنانے کا مطلب ،لڑے بنا ہتھیار ڈالنا ۔
٭ حیثیت :
لوگ ہم سے نہیں ،ہماری حیثیت سے ہاتھ ملاتے ہیں ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 52376 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Nov, 2016 Views: 858

Comments

آپ کی رائے
وعلیکم اسلام محترم جناب س ن مخمور صاحب!
جی الحمداللہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بخریت ہوں.
خوبصورت الفاظ کی صورت میں قیمتی رائے دینے کا بہت بہت شکریہ.....
آپ کے ہر ہر لفظ میں اخلاقی و تعریفی پہلو کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، جس سے بندہ ناچیز بہت متاثر ہوا.
اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی ہر جائز تمنا پوری کرے اور لمبی صحتمند زندگی عطا کرے. الہی آمین
جناب محترم! آپ کی بات بلکل درست ہے کہ کچھ تو کہانیاں ہیں جبکہ کچھ قول ہیں.کہانی اور قول کے فرق سے قطع تعلق، میں نے کوشش یہ کی ہے سبق آموز الفاظ کو محدود الفاظ میں قید کرکے امر کروں. بس یوں سمجھیں کہ میں یہ فن سیکھ ہی رہا ہوں. آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے، انشاءاللہ کوشش تو یہی ہے کہ ہر تحریر پہلے سے بہتر ہو......
By: Prof. Talib Ali Awan , Sialkot on Nov, 10 2016
Reply Reply
2 Like
السلام علیکم عزیز اور محترم طالب علی صاحب

امید ہے خیر سے ہونگے
اور مالک سے دعاہے آپ کو آباد و بے مثال رکھے۔۔۔آمین صد آمین

آپ کی تحاریر پڑھنے کا حسین اتفاق ہوا ۔۔۔۔۔ اتفاق اس لئے کہوں گا کہ
وقت محدود ہوتا ہے اور ویب سائیٹ پر مواد بہت کثیر تعداد میں ہے پڑھنے کے لئے
اس لئے فقیر نے آپ کی تحاریر کے پڑھنے کو عمل کو اتفاق کہا ..... اور سچ ہے
یہ اتفاق ..ایک حسین اتفاق رہا .... جو آنے والے وقت فقیر کی اولین ترجیحات
کی فہرست میں ہوگا .... یعنی اب جناب کی تحاریر کے لئے نظریں متلاشی و منتظر رہیں
گی .... عطا کا یہ سلسلہ امید ہے مستقل رکھیں گے ... اللہ آپ کو دین و دنیا کی نعمتوں
سے مالا مال فرمائے ... آمین صد آمین

آپ کی محدود کہانیاں پڑھیں ... یہ صرف لفظوں کی بندش کے سبب محدود ہیں مگر ان
کے معانی، ان کی وضاحتیں، ان کے اسباب، ان کے محرکات اور پس پردہ تحریک ایسی
نہیں کہ چند لفظوں میں بیان ہو جائے ... مگر یہ خاصہ خوب آپ ہی کی تحاریر میں نظر آیا
کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا .... ڈھیروں داد قبول فرمائیں، دعا ہے مالک حاسدوں سے
محفوظ رکھے آپ کو ... آمین صد آمین

محترم طالب علی صاحب ، فقیر نے آپ کی لکھی کہانیاں پڑھیں اور پڑھتا ہی گیا، دل چاہا دو باتیں
بھی کر لوں ... سو حاضر ہو گیا آپ کی خدمت میں .... اپنے دلی جذبات کے ساتھ امید
ہے محسوس نہیں کریں گے آپ کے لفظوں کے سحر میں مبتلا ہوا مگر ساتھ میں ایک الجھن بھی
ذہن میں سر اٹھا رہی ہے ... امید ہے فقیر کی مشکل رفع فرمائیں گے

خاموشیاں، دھوکے، اچھا، تہذیب وغیرہ کے عنوان سے جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا ہے
فقیر اس کو کہانی کہے یا پھر اقوال کے زمرے میں لئے؟؟؟

حیرانگی:
ایک گھر میں سلنڈر دھماکہ ہوا اور اکیلی بہو بچی

فقیر کے ذہن نے بالا سطر کو ایک کہانی کے ہی طور پر سمجھا مگر دیگر عنوانات کے تحت
جو کہانیاں لکھی گئی ہیں... جن کے عنوانات اوپر درج کئے ہیں وہاں تک پڑھتے
پڑھتے .. فقیر کے ذہن میں الجھن پیدا ہو گئی کہ یہ اقوال کے زمرے میں آئیں گے
یا کہانی کے .... اگر مستقبل میں یہ صفت محدود کہانیوں کے طور پر تسلیم کر لی گئی
تو اردو ادب میں اقوال کا مقام کدھر ہوگا ؟؟؟؟ پھر اقوال اور ان محدود کہانیوں میں
فرق کیسے قائم کیا جائے گا؟؟؟ ؟یا پھر اقوال ان محدود کہانیوں میں کھو جائیں گے؟؟؟؟ امید
ہے توجہ فرمائیں گے اور فقیر پر عطا فرمائیں گے

اللہ آباد و کامران رکھے آپ کو ... آمین صد آمین
By: Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور), Karachi on Nov, 09 2016
Reply Reply
1 Like