"فقہ و اصول فقہ میں عرف عادت کا مقام و قوائد"

(syed imaad ul deen, samandri)
عرف و عادت کی تعریف
یعنی عادت حکم شرعی کی بنیاد ہے۔مقصد یہ ہے کہ جو چیز عرف و عادت کے لحاظ سے درست ہو شریعت اسے جائز قرار دیتی ہے۔
المرجع السابق،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
یہ قاعدہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔
مَارَآہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَناً فَھُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنٌ
یعنی وہ چیز جس کو مسلمان(اہلِ علم و اہل تقویٰ )اچھا سمجھیں وہ اﷲکے نزدیک بھی اچھی ہے۔
''المسند''الامام احمد بن حنبل،مسند عبداﷲ بن مسعود،الحدیث:۳۶۰۰،ج۲،ص۱۶.
یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جس کو حضرت امام احمد رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنی مسند میں روایت کی ہے بعض محدثین اسے مرفوع کہتے ہیں اور بعض اس کو موقوف کہتے ہیں ۔
''کشف الخفائ''،حرف المیم،الحدیث:۲۲۱۲،ج۲،ص۱۶۸.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
عرف و عادت کی تعریف علامہ ابن عابدین علیہ الرحمہ اپنی کتاب''شرح عقود رسم المفتی المنظوم''میں فرماتے ہیں:
قَالَ فِی''الْمُسْتَصْفٰی'':أَلْعَادَۃُ مَااسْتقَرَّفِی النُّفُوْسِ مِنْ جِھَۃِ الْعُقُوْلِ وَتَلَقَّتْہُ الطِّبَاعُ السَّلِیْمَۃُ بِالْقُبُوْلِ وَفِیْ''شَرْحِ التَّحْرِیْرِ''أَلْعَادَۃُ ھِیَ الأمْرُالْمُتَکَرِّرُمِنْ غَیْرِعِلاقَۃِ عَقْلَیَّۃٍ
''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،الجزالاول،ص۴۴.
اور''الأشباہ والنظائر''میںعلامہ زین الدین ابن نجیم الحنفی المصریفرماتے ہیں:
وذکرالامام الھندی فی''شرح المغنی''أَلْعَادَۃُ عِبَارَۃٌ عَمَّا یَسْتَقِرُّفِی النُّفُوْسِ مِنَ الأمُوْرِالْمُتَکَرَّرَۃِ الْمَقْبُوْلَۃِ عِنْدَالطِّبَاعِ السَّلِیْمَۃِ
''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
ان سب کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ انسان دیدہ و دانستہ کسی کام کو بار بار کرتے ہوئے اس درجہ پر پہنچ جائے کہ بلا تکلف اس سے اس کا م کا صدور ہونے لگے وہ اگر قول ہے تو وہ بلا تکلف اسی معنی میں سمجھاجانے لگے جس میں وہ حقیقت کے برخلاف استعمال کیا جارہا ہے۔
عرف و عادت کی تین اقسام
صاحب الاشباہ نے عرف و عادت کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں:
(۱)أَلْعُرْفِیَّۃُ الْعَامَّۃُ (۲) وَالْعُرْفِیَّۃُ الْخَاصَّۃُ (۳) وَالْعُرْفِیَّۃُ الشَّرْعِیَّۃُ
''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
عرف اور عادت کو فقہائے کرام نے بڑی اہمیت دی ہے فقہ کے کثیر مسائل کا حکم عرف و عادت پر مبنی ہے ''مبسوط''میں ہے:جو چیز عادت اور عرف کے ذریعہ ثابت ہوجائے وہ ایسی ہے جیسے نص شرعی سے ثابت ہو۔''ردالمحتار''جلد پنجم میں جہاں نابالغوں کے سن بلوغ سے بحث کی گئی ہے اسی موقع پر فرمایا کہ ''ان معاملات میں جہاں نص شرعی موجود نہ ہو عرف و عادت ہی شرعی حجت ہے۔''
''ردالمحتار''،کتاب الحجر،فصل بلوغ الغلام...إلخ،ج۹،ص۲۶۰.
امام شہاب الدین القرافیفرماتے ہیں:''احکام عرف اور عادت کے ساتھ ساتھ نافذ ہوتے رہتے ہیں۔''
عادت کس چیز سے اور کس طرح ثابت ہوتی ہے مختلف امور میں اس کے مختلف طریقے ہیں
۱۔ کبھی عادت ایک ہی دفعہ سے ثابت و تسلیم ہوجاتی ہے جیسے وہ لڑکی جسے پہلی بار حیض آیا تو جتنے دن یہ رہے گا اتنے ہی دن اس کی عادت شمار ہوگی لیکن تربیت کئے ہوئے شکاری کتے کی عادت اس وقت تسلیم ہوگی جب وہ مسلسل تین بار شکار کرکے اسے نہ کھائے۔
۲۔ عرف و عادت کا اعتبار اس وقت ہے جب وہ عام ہو اور غالب ہو۔جب تک عام لوگوں میں اس کا رواج عام نہ ہوجائے اس کو حکم شرعی کی بنیاد نہیں بنایاسکتا۔
۳۔ عادت اور عرف جب عام رواج ہوجائیں تو کیا وہ شرط کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔
فتاویٰ ظہیر یہ مبحث الاجارہمیں ہے: اَلْمَعْرُوْفُ عُرْفاً کَا لْمَشْرُوْطِ شَرْعًا ۔
بزازیہمیں ہے: اَلْمَشْرُوطُ عُرْفاً کَالْمَشْرُوْطِ شَرْعًا

۴۔ الفاظ کا مفہوم حقیقت کے خلاف عرف پر اس وقت محمول کیا جائے گاجب وہ عرف ایک زمانے سے چلا آرہا ہو کسی نئے رواج وعرف پر الفاظ کوحقیقت کے خلاف محمول نہ کیاجائے گا اسی لئے فقہاء فرماتے ہیں کہ ''لَا عِبْرَۃَ بِالْعُرْفِ الطَّارِیءِ '' نیز یہ کہ عرف کا اعتبار معاملات میں ہے تعلیق میں نہیں ۔ تعلیق میں وہ اپنے حقیقی معنی اور اصلی مفہوم میں لیا جائے گا جیسے کسی ظالمہ بیوی نے اپنے شوہر سے کہلوایا کہ میں اگر تیرے اوپر کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق اس نے یہ کہہ دیا اور نیت یہ کی کہاگر میں تیرے اوپر یعنی تیرے کندھوں پر یا کمر پر بٹھا کر کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ،تو اس کی یعنی شوہر کی نیت کے مطابق عمل کیا جائے گا کیونکہ اس نے اپنے الفاظ سے حقیقی معنی مراد لئے ہیں اور اس کی بیوی نے ظلماً اسے یہ قسم دلائی تھی اور مظلوم کی نیت اس کی قسم میں معتبرہے نیز اس کا یہ کلام از قسم تعلیق ہے اور تعلیق میں عرف کا اعتبار نہیں اس لئے اس کا کلام عرف پر محمول نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ کسی عور ت سے نکاح کریگا تو اسے طلاق واقع نہ ہوگی۔
۵۔ عرف اور شرع میں جب تضاد ہوگا تو عرف الاستعمال مقدم رکھاجائے گا خصوصاً اَیْمَان میں لہٰذا اگر کسی نے یہ قسم کھائی کہ وہ فرش یا بساط پر نہیں بیٹھے گا یا یہ قسم کھائی کہ وہ سراج ( چراغ )سے روشنی حاصل نہیں کریگا پھر وہ زمین پر بیٹھا یا سورج سے روشنی حاصل کی تو وہ حانث نہیں ہوگا(یعنی اس کی قسم نہ ٹوٹے گی)اگرچہ قرآن کریم میں زمین کو فراش اور بساط فرمایا گیا ہے اور سورج کو سراج فرمایا گیا ہے مگر یہاں اس کے عرفی معنی مراد لئے جائیں گے۔ اسی طرح اگر اس نے قسم کھائی کہ وہ گوشت نہیں کھائےگا پھر اس نے مچھلی کھائی تو حانث نہ ہوگا کیونکہ عرف میں گوشت کا استعمال مچھلی کے گوشت میں نہیں ہوتا۔ا گرچہ قرآن کریم نے مچھلی کے لئے لَحْماً طَرِیّاً(تازہ گوشت) کا لفظ استعمال کیا ہے اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔
''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۸۲.
۶۔ عرف اور لغوی معنی میں جب تضاد ہوگا تو عرف میں اگر شرائط معتبرہ پائی گئیں تو لفظ کو عرف پر محمول کیا جائے گا لغوی معنی پر نہیں زیلعی وغیرہ نے یہ تصریح فرمائی ہے: إِنَّ الأیْمَانَ مَبْنِیَّۃٌ عَلَی الْعُرْفِ لا عَلَی الْحَقَائِقِ اللُّغْوِیَّۃِ
اَیمان عرف پر مبنی ہوتے ہیں نہ کہ لغوی معنی پر
''تبیین الحقائق''،کتاب الأیمان،باب فی الدخول...إلخ،ج۳،ص۴۳۹.
و''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۸۳.
اس پر مسائل متفرعہ میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ روٹی نہیں کھائے گا تو وہ صرف اس صورت میں حانث ہوگا جب وہ روٹی کھائے جو اس کے شہر میں بالعموم کھائی جاتی ہے جیسے مغربی یوپی اور پنجاب میں گیہوں کی روٹی ۔
اور بقول صاحب الاشباہ والنظائر ان کے زمانے میں قاہرہ(مصر کا دارالحکومت)میں گیہوں کی روٹی ،طبرستان میں چاول کی روٹی، زبید(یمن کے ایک شہر کانام)میں باجرہ کی روٹی کھانے سے حانث ہوجائے گا اگر ان تمام علاقوں میں مروج روٹی کے علاوہ کسی اور چیز سے بنی ہوئی روٹی کھائی تو حانث نہ(6)ہوگا۔
''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۸۳.
تنبیہ :
عرف و عادت پر شریعت کے بے شمار احکام و مسائل کا دارومدار ہے اور یہ تمام غیر منصوص علیھا مسائل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لیکن عرف و عادت اور ایسے ہی عموم بلوٰی کو سمجھنے کے لئے بڑے وسیع مطالعہ اور دقت نظر کی ضرورت ہے۔ مفتیان کرام کو ان تمام اُمور سے واقفیت رکھنا ضروری ہے ورنہ وہ مسئلہ کا حکم بیان کرنے میں اکثر و بیشتر غلطیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں عرف اور اس سے مستخرجہ مسائل پر سیر حاصل اور مفصل بحثیں کی گئی ہیں۔ مفتی کے لئے ان کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ فقہائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں عرف وعادت کے مقابلہ میں کسی شے کے مفہوم کی وضاحت و تعین میں حقیقت کو ترک کردیا جائے گا۔
''الأشباہ والنظائر''،الفن الأوّل:القواعدالکلیۃ،النوع الاوّل،القاعدۃ السادسۃ،ص۷۹.
''الاشباہ ''میں ہے:عادت و عرف وہی معتبر ہے جب اس کا استعمال عرف و عادت میں غالب ہوگیا ہو۔ اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شہر میں مختلف قسم کے درہم و دینار چَل رہے ہوں(یعنی مختلف قسم کے سکے چل رہے ہوں)وہاں اگر کسی نے کوئی چیز دس ۱۰ درہم یا دس دینار میں خریدی یا فروخت کی تو بائع وہ درہم یا دینا رلینے کا مستحق ہوگا جن کا غالب چلن وہاں کا عرف و عادت ہو۔ اگرخریدار کوئی دوسرا سکہ یا دوسرے قسم کے درہم و دینار دینا چاہے تو بائع کو (بیچنے والے کو )انکار کا حق ہوگا۔
المرجع السابق،ص۸۱.
''شرح بیری''میں بہ حوالہ''مبسوط ''بیان کیا گیا ہے جو چیز عرف سے ثابت ہو وہ ایسی ہے جیسے نص سے ثابت ہو۔
''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،ج۱،ص۴۴.

فائدہ :
بہت سے وہ احکام جن پر صاحب مذہب مجتہد نے اپنے زمانے کے عرف و عادت کی بنیاد پر نص قائم کی زمانہ اور حالات کے بدل جانے سے تبدیل ہوگئے ہیں اہل زمانہ میں فساد آجانے کی وجہ سے یا عموم ضرورت کی وجہ سے جیسے تعلیم القرآن کی اجرت کا جواز اور ظاہری عدالت پر اکتفاء نہ کرنااور غیر سلطان سے اکراہ کا تحقق کیونکہ فقہائے متقدمین کے زمانہ میں اکراہ صرف بادشاہ ہی سے متحقق ہوسکتا تھاغیر سلطان سے اکراہ نہیں ہوسکتا تھا لیکن بعض عوام الناس میں سے لوگ قتل و خونریزی پر اتنے جری ہوگئے کہ ان سے بھی اکراہ کا تحقق ہوگیا فقہائے متقدمین ضمان مباشر پر واجب کرتے تھے متسبب پر نہیں لیکن بعد میں ضمان متسبب پر عائد کیا گیا اس کی وجہ فساد اہل زمانہ اور حالات کا متغیر ہونا بیان کیا گیا ایسے ہی وصی اب مال یتیم میں مضاربت نہیں کرسکتا اور وقف اور یتیم کی زمین کا غاصب ضمان دے گا اور مکان موقوفہ ایک سال سے زیادہ اور وقف زمین کو تین سال سے زیادہ مدت کے لئے اجارہ پر نہیں دیا جائے گا اور قاضی کو اپنے ذاتی علم کی بنا پر فیصلہ دینے سے روکا جائے گا اورشوہر کو روکا جائے گا اس سے کہ وہ اپنی بیوی کو سفر میں ساتھ لے جائے(جبکہ بیوی رضا مندہو)اگرچہ شوہر نے اس کا مہر معجل ادا کردیا ہو۔
''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،الجزء الأول،ص۴۴.
و''مجموعۃ رسائل ابن عابدین،نشرالعرف''،الجزء الثانی،ص۱۲۶.
عرف و عادت کی بنیاد پر یہ حکم ہے کہ دخول کے بعد بیوی اگر یہ کہے کہ اس نے قبل دخول اپنا مہر معجل وصول نہیں کیا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور اگر شوہر نے کہا کہ ہر حلال چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کی بیوی مطلّقہ ہوجائے گی بشرطیکہ یہ جملہ اور الفاظ اس علاقے میں طلاق کے لئے استعمال کئے جاتے ہوں(یعنی وہاں کا عرف یہ ہو) ایسی صورت میں اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر عرف و عادت میں ان الفاظ کا استعمال طلاق کے لیے نہیں ہے تو اس کی نیت کا اعتبار کرلیا جائے گا۔ اگر باپ یہ کہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو جو سامان جہیز دیا، میں نے اپنی بیٹی کو اس کی تملیک نہیں کی تو اس کا مدار عرف پر ہے اگر اس علاقہ کا عرف تملیک ہے تو جہیز کی ہر چیز بیٹی کی ملکیت قرار دی جائے گی ورنہ جیسا عرف ہو ویسا ہی حکم ہوگا۔ غرض یہ اور اس قسم کے صد ہا مسائل کے جواز یا عدم جوا ز کا مدار عرف و عادت ، فساد زمان، عموم بلویٰ،ضرورت اور قرائن احوال پر ہے ان میں سے کوئی حکم نہ مذہب سے خارج ہے نہ خلاف،کیونکہ مجتہد اگر اس زمانہ میں حیات ہوتے تو بلاشبہ یہی حکم شرعی بیان فرماتے یہی وہ نکتہ ہے جس نے مجتہدین فی المذاہب اور متاخرین میں سے صحیح وصواب پر نگاہ رکھنے والوں کو جرأت دلائی کہ وہ صاحب المذہب سے منقول کتب ظاہر الروایہ میں منصوص مسائل سے اختلاف کریں۔عرف و عادت اگر زمانے کے تغیر سے تبدیل ہوجائیں اور نیا عرف و عادت بن جائے تو مفتیِ زمانہ کو نئے عرف و عادت کا لحاظ کرکے اس کے مطابق حکم شرعی بیان کرنا چاہیے مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ چونکہ متقدمین فقہاء نے مفتی کے لئے اجتہاد کی شرط رکھی تھی جواب مفقود ہوچکی ہے کیونکہ فی زمانہ کوئی فقیہ شرائط اجتہاد کو پورا نہیں کرتا اس لئے مجتہد مفتی تو اب معدوم ہوچکے ہیں پھر بھی عرف و عادت کے مطابق فتویٰ دینے کے لئے کم سے کم یہ شرط رکھی گئی ہے کہ مفتی وقت مسائل کی معرفت ان کی شروط و قیود کے ساتھ رکھتا ہو نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے عرف سے کما حقہ، واقف ہو اور اہل زمانہ کے حالات سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور کسی ماہر استاذ سے اس نے مسائل کے استخراج کا طریقہ بھی سیکھا ہو''مُنْیَۃُ المُفْتِی'اور''قنیہ'' میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔
''مجموعۃ رسائل ابن عابدین''،الرسالۃ الثانیۃ شرح عقود رسم المفتی،الجزء الأول،ص۴۴،۴۶.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed imaad ul deen

Read More Articles by syed imaad ul deen: 144 Articles with 157257 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Nov, 2016 Views: 2129

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ