تعلیم اور روٹی

(مقصود حسنی, قصور)
وہ کم پڑھا لکھا کامیاب ہنرمند تھا۔ گزارے سے بڑھ کر کما لیتا تھا لیکن اپنی ایک الگ سے فکر رکھتا تھا۔ ہنرمندوں کی بدحالی اسے خون کے آنسو رولاتی۔ کیا کر سکتا تھا۔ وہ کیا‘ معاملات روٹی ٹکر میں بڑے بڑے کھنی خان مجبور و بےبس ہو گیے تھے۔ دفتر شاہی ہو کہ انتظامیہ‘ اقتداری طبقے کی گماشتہ چلی آتی تھی۔ اسی طرح اقتداری طبقہ اس کے بغیر زیرو میٹر تھا۔

وہ دیر تک سوچتا رہا‘ آخر ہنرمند طبقے کی کس طرح مدد کرے۔ پھر اسے ایک خیال سوجھا۔ خوشی سے اس کا چہرا دمک اٹھا اور اس نے تعلیم ایسے مشکل گزار رستے پر چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ کتاب‘ کاپی اور قلم کی خریدداری کے لیے اس کے پاس پیسے تھے۔ تعلیمی معاملات میں مشکل پیش آ جانے کی صورت میں ماسٹر نور دین سے رابطہ ممکن تھا۔

صبح اٹھتے ہی‘ وہ سب سے پہلے کتابوں کی دکان پر گیا۔ پانچ پاس تھا‘ چٹھی کی کتابیں‘ ایک بڑا رجسٹر اور قلم خرید کیا۔ اس نے یہ غور ہی نہ کیا کہ پڑھے لکھے باشعور طبقے‘ روز اول سے‘ شعور سے عاری بااختیار طبقے کی چھتر چھاؤں میں زندگی کرتے آئے ہیں۔ ہنرمندوں کو‘ مکہ بردار اپنے محل اور خودسر گھروالیوں کے مقبرے بنانے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ دوسرا تعلیم اور روٹی کا کوئی رشتہ ہی نہیں‘ تعلیم تو آگہی فراہم کرتی ہے۔ یہ دماغ سے سوچنے کا درس دیتی ہے۔ پیٹ سے سوچنے کے لیے جہالت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دماغ کی سوچ شخص تعمیر کرتی ہے جب کہ پیٹ کی سوچ میں کو ہوا دیتی ہے اور کم زور سروں کی کھوپڑوں سے محل تعمیر کرتی ہے۔

وہ دیر تک کتابوں کے اوراق الٹ پلٹ کرتا رہا۔ رجسٹر پر کچھ لکھنے کی کوشش بھی کرتا رہا۔ اس کی ذہنی کیفیت جنونیوں کی سی تھی۔ چوں کہ سورج روشنی دے رہا تھا‘ اس لیے اسے احساس تک نہ ہوا کہ بجی کتنی بار گئی ہے۔ رات ہو گئی تھی‘ پھر اچانک ایک جھٹکے سے بجلی چلی گئی۔ اس کے منہ سے بےاختیار او تیرے کی نکل گیا۔ دوسرے ہی لمحے اسے خیال آیا‘ کہ وہ میٹرک پاس کرکے واپڈا میں بھرتی ہو کر ہنرمندوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ حکومت تو خود ہنرمندوں کی مدد کر رہی تھی۔

فیکس ٹائم کے علاوہ بھی چار چھے اچانکیہ جھٹکے‘ انرجی سیور ہی نہیں‘ اور بھی بہت ساری چھوٹی بڑی چیزوں کو لے دے جاتے تھے۔ بڑی بڑی کمپنیوں سے لے کر‘ چھوٹے سے چھوٹے ہنر مند کی دال روٹی کا سامان تو ہو رہا تھا۔ یہ ہی تو وہ کرنا چاہتا تھا جو پہلے سے ہی ہو رہا تھا۔ اسے اپنی گھٹیا سوچ پر بڑی شرمندگی ہوئی‘ کہ صاحب اختیار طبقے تو پہلے ہی ہنرمندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس نے کاپیاں کتابیں الماری میں رکھ دیں اور سر کے نیچے بازو رکھ کر سکون کی نیند سو گیا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 114313 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Nov, 2016 Views: 367

Comments

آپ کی رائے