قانون کا قتل ہوگیا !

(Qadir Khan, Lahore)
میں اپنے گذشتہ کالموں میں عرض کرچکا تھا کہ پاکستانی کا عدالتی و قانونی نظام ایسا ہے ، جہاں فوری انصاف ملنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ویسے تو اس کی کئی مثالیں ہیں ، لیکن ہم ان سب مثالوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے حالیہ سیاسی تناظر میں پنامہ لیکس کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں کہ اعلی عدالت کس طرح تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے ۔ اس میں عدالت کا قصور نہیں ہے ، لیکن میں عرض کرچکا تھا کہ اگر میاں نواز شریف کے بچے فوری جواب داخل نہیں کریں گے تو عدلیہ کیا کرلے گی ۔ وہی ہوا ، پہلے نواز شریف صاحب نے وقت لیا کہ میرے بچے میری زیر کفالت نہیں ہیں ، عدالت حسب توقع برہم ہوئی ، پھر بچوں نے اگلی تاریخ پر کہا کہ ہم میاں نواز شریف کے زیر کفالت نہیں ہیں ۔ اثاثوں کی تفصیلات نہیں دی ، عدالت نے پھر تاریخ دے دی ، عمران خان اور مریم ، حسن اور حسین نواز کو بھی نوٹس جاری ہوگئے ۔ اس کے بعد پھر کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔ عدالت شائد پھر برہم ہوگی ۔ تاہم یہ طے تو ہوگیا کہ پہلی تلاشی وزیر اعظم کی ہی ہوگی ، کیونکہ وہ ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہیں ، اگر سب کی تلاشی لینے لگے تو سالوں لگ جائیں گے ۔متنازعہ خبر کیس پر ایک رکنی جوڈیشنل کمیشن بنا دیا گیا ۔ بعض جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ۔ لیکن اس انکوئری میں آئی ایس آئی ، آئی بی ، ایم آئی کے افسران بھی شامل ہونگے ، تحفظات ظاہر کرنے والے کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ جج ملک کے اہم ترین حساس اداروں پر حاوی ہوکر متنازعہ خبر کے ذمے داروں کا ساتھ دے گا ۔ یعنی تحفظات کا اظہار کرنے والے ان حساس اداروں پر بھی تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن کا انجام یہی ہونا تھا ۔ بلاول کے چچا عمران خان کے لئے ایک پریشانی اور سامنے آگئی ہے کہ انھوں نے آئین پاکستان کی دفعات کے تحت اپنی شادی کو چھپایا اور قوم سے جھوٹ بولا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر دی جانے والی اعلی عدلیہ میں دی جانے والی درخواست پر کیا حکم آئے گا۔ نکاح ایک پاکیزہ رشتہ ہے ، لیکن سیاسی مفادات کیلئے ایسے خفیہ رکھنا ، یقینی طور پر ان لاکھوں کارکنان اور کروڑوں عوام کے ساتھ دھوکہ ہے کہ لوگ بھوکے پیاس ، بے آسرا ، اپنے گھر بار چھوڑ کر سخت تعفن زدہ بد بو ، اور گندے ماحول میں اپنے لیڈر کے آواز پر جان دینے کو تیار بیٹھے ہیں ، لیکن لیڈر صاحب قوم سے جھوٹ بول کر شادی رچا رہے تھے ۔جو مقدس رشتہ پر جھوٹ بول سکتا ہو ، وہ کسی بھی معاملے میں جھوٹ بول سکتا ہے ۔ کراچی میں امن کے پائیدار قیام کیلئے قانون نافذ کرنے والوں نے قربانیاں دیں ، لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں جا رہی ہیں ، کیونکہ قوم سے جھوٹ بولا جارہا ہے ۔ فرقہ واریت جاری و ساری ہے ، پولیس کبھی کہتی ہے کہ ٹارگٹ کلر کا تعلق سیاسی جماعت سے ہے تو کبھی کہتی ہے کہ کالعدم جماعت سے ہے۔کچھ سمجھ نہیں آتا کہ سچ کیا ہے؟۔گڈانی میں بھارتی عملے کی جانب سے شپ بریکنگ کیلئے لائے گئے بحری آئل ٹینکر کو آگ لگ گئی۔بھارتی عملہ واپس چلا گیا یا غائب ہوگیا ، اس بات کو تو چھوڑیں ، بلوچستان کا کوئی بڑا ذمے دارگڈانی نہیں پہنچا ، جھلسے ہوئے جسموں کے ساتھ مزدوروں کی حالت زار ایسی کہ ایمبولنس تک دستیا ب نہیں تھی ، انسانیت شرما گئی۔لیکن حکمرانوں کو شرم نہیں آئی ، کراچی میں کھڑی ٹرین کو دوسری ٹرین نے ڈرائیور کی لاپروائی کی وجہ سے ٹکرا گئی ۔ قیمتی انسانیں ضائع ہوگئیں ، حکومتی ذمے دار اپنا محکمہ سنبھالنے کے بجائے ترجمان بن کر اپنی سیاسی قیادت کا دفاع کر رہے ہیں ، وزیر ریلوے ہو ، بھائی اپنے وزرات کا کام کرو ۔ اسے درست کرو ، لیکن نہیں ۔۔ قیمتی جانیں ان کے نزدیک سیاست سے زیادہ اہم ہیں ۔ کس کس واقعے پر سینہ کوبی کی جائے ، کس کس واقعے پر ماتم کیا جائے۔ کومبنگ آپریشن میں کچھ بڑی شخصیات پر ہاتھ ڈالا گیا ، لیکن ایک مظاہرے کی مار تھا ، سب کچھ واپس ہوگیا ۔ وزیر اعلی سندھ نے ایک بڑی پریس کانفرنس کرڈالی ، وہی ہوا کہ انھیں ماموں بنا دیا گیا ، امجد صابری کے بھائی کا بیان ہی کافی ہے کہ" اگر وزیر اعلی کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی کہہ ہونگے" ۔ ان کو خود سمجھ نہیں آرہا کہ قاتل جو اس سے پہلے پکڑے گئے تو اصلی قاتل وہ ہیں ، یا اب جو بتائے جا رہے ہیں ، وہ اصل قاتل ہیں۔پہلے سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے قاتل تھے ، اب کالعدم جماعت کے کارکن قاتل ہیں۔ اب کون جھوٹ کہہ رہا ہے ، یہ بھی نہیں معلوم ۔ وہاں یہ بھی حیران کن خبر آئی کہ وزیر اعلی نے جس دہشت گرد کی گرفتاری میڈیا کے سامنے دکھائی ، وہ موصوف ایم کیو ایم رکن اسمبلی کے قتل میں گرفتار ہوچکا ہے ۔ عدلیہ سے رہا ہوا ، یا ضمانت ملی ، کچھ علم نہیں ، جتنے دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں ۔ ان کا حشر کیا ہوتا ہے ، قانون اس کو کس انجام تک پہنچاتا ہے ، عوام میڈیا میں گھنٹوں گھنٹوں پریس کانفرنسیں دیکھ کر اب اکتانے لگے ہیں۔ شہلا رضا کو بھی ایک خط ملا ، یہ شازیہ مری کی طرح خون سے لکھے جانے والا محبت بھرا خط نہیں تھا ، بلکہ خون بہانے والے دھمکی دینے والا خط تھا ۔ خط میں رابطے کیلئے زمینوں پر تنازعے کے شکار عبدالباسط کا نمبر بھی تھا ۔ میڈیا نے فوراََ رابطہ کرلیا تو موصوف نے کہا کہ بھائی جس طرح تفتیش کرلو ، میں حاضر ہوں ، اب اس کے بعد کیا ہوگا ، ویسے بھی شہلا رضا کو کئی کروڑ روپے کی بم پروف گاڑی مل چکی ہے ، بڑا پروکوٹول ہوتا ہے ، فون اٹھاتی نہیں کہ کون ہے ۔الیکڑک میڈیا میں انتہا پسندوں کے خلاف کھل کر بات کرتی ہیں ۔اب سمجھ نہیں آتا کہ انھیں دہمکی دینے والا خط کا ہی کیوں استعمال کررہا ہے ۔ بات چلی تھی پانامہ لیکس سے اور جا پہنچی شہلا رضا تک۔انہونی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں ، لیکن سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، میں تو صرف یہ سوچتا ہوں کہ مملکت کی پہلی ترجیحات کیا ہیں ، پچھلے ہفتوں نئی جیلیں بن جانے کی خوش خبری ایسے دی گئی کہ جیسے کسی نے پی ایچ ڈی کرلیا ہو یا نوبل انعام حاصل کرلیا ہو ۔ نوبل انعام پر یاد آیا کہ کراچی کے علاقے میں مشن روڈ بھیم پورہ میں 700طالبات کے اسکول کو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا ۔ اسکول کا پرانا نام سیٹھ کھویرجی کامجی لوہانا گجراتی اسکول تھا ۔ پاکستان کے شمالی مغربی صوبے ( خیبر پختونخوا) میں جب تین آپریشن ، راہ نجات ، راہ راست ، راہ حق بیک وقت چل رہے تھے ، تو 6فروری2012ء کو ملالہ یوسف زئی ، ان کے والد ضیاالدین کی موجودگی میں سندھ کے سنیئر صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے مذکورہ اسکول کو ملالہ یوسف زئی کے نام سے منسوب کردیا تھا ۔ 2016میں کراچی میں موجود شدت پسندوں نے والدین اور اسکول انچارج کو دھمکیاں دے کر مالالہ یوسف زئی کا نام اسکول کے نام سے ہٹانے کا کہا اور نام نہ ہٹانے کی صورت میں سنگین نتائج کی دہمکیاں دیں گئیں ۔ ملالہ یوسف زئی گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول کی انچارج شاہین پروین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس تمام صورتحال سے آگاہ کیا ۔ لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں کیا گیا ، اسکول کی حالت پہلے سے خستہ اور چار دیواری نہ ہونے کے برابر ہے ، کوئی سیکورٹی گارڈ نہیں ہے۔ اسکول انتظامیہ نے خوفزدہ ہوکر ملالہ یوسف زئی کے نام کے آگے کاغذ چپکا کا چھپا دیا ۔تاہم طالبات اور ان کے والدین شدت پسندوں کی دہمکیوں سے سخت خوف زدہ ہیں ۔ والدین اور انچارج شدت پسندوں کا تعلق کسی خاص تنظیم سے نہیں جوڑتے ، اسکول کے اندر آج بھی ملالہ یوسف گورنمنٹ گرلز اسکول کی تختی لگی ہوئی ہے ۔ سندھ کے سابق سنیئر صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے اسکول کو کالج بنانے کا اعلان کیا تھا ، لیکن کالج بنانا تو دور کی بات شدت پسندوں کے خلاف تعلیم کے استعارے کے نام سے مشہور نوبل امن یافتہ شخصیت کے نام کو بھی شدت پسند و کالعدم تنظیم برداشت نہیں کرپا رہی ہے۔سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ قانون کا خون ہوچکا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 371 Articles with 143929 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2016 Views: 330

Comments

آپ کی رائے