سندھ کے فراعنہ

(Tanvir Sadiq, Lahore)
تاریخی تحقیق کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ وادی نیل کا تمدن دنیا میں قدیم ترین تمدن ہے۔بہت سارے محقق یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندستان کی تہذیب اس سے بھی پرانی ہے اور یہ ہندستان کے لوگ تھے جن کا تعلق موہنجو داڑو یا اس جیسے کسی دوسرے شہر سے تھا جنہوں نے مصر آباد کیا۔ گو اس دور کے ہندوؤں اور مصر کے لوگوں کے رسم و رواج اور رہن سہن میں بہت واضع فرق ہے اور تازہ تحقیق نے کسی حد تک اس بات کی نفی کر دی ہے مگر اس کے باوجود بہت سی باتیں مشترک بھی نظر آتی ہیں۔ اہرام کی کھدائی سے دنیا مصر کے قدیم حالات پوری طرح واقف ہو چکی ہے۔ قدیم بادشاہوں کے ان مقبروں کی کھدائی سے قدیم صناعی، نقاشی، سنگ تراشی، تخت، ہتھیار ، بیش قیمت زیورات، سامان آرائش اور کپڑے برآمد ہوئے ہیں۔ان مقبروں کی اندرونی دیواروں رنگین تصویریں ہیں جن سے ان بادشاہوں کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ایسی تحریریں بھی ملی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصریوں نے 3000 ق م سے پہلے لکھنا سیکھ لیا تھا۔وہ تصویریں بنا کر اپنا مافی الضمیر بیان کرتے تھے اور یہی فن آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے حروف تہجی کی شکل اختیار کر گیا۔

مغرب کے محققین کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ مصر انسانی تمدن کا سر چشمہ ہے۔ یہاں سے عرب ،بحیرہ روم کے گردونواح اور مغربی ایشیا کے علاقوں میں جو تہذیب پھیلی اسی تہذیب نے یونان اور روم کی تہذیب کی شکل اختیار کی اور آج پورے یورپ کا تمدن یونان اور روم ہی کا مرہون منت ہے۔پرانے زمانے کا مصر کئی حصوں میں بٹا ہوا تھاجس کے حکمران جدا جدا تھے پھر ملک کے دو حصے ہو گئے اوردو حکمران اس پر قابض۔ پھر ایک وقت آیا کہ تمام مصر ایک ہی بادشاہ کے زیر نگیں آگیا۔یہ پہلا بادشاہ نارمر تھا جس کے خاندان کی حکومت 3500 ق م میں شروع ہوئی اور3350 ق م تک رہی۔3350 ق م میں دوسرا خاندان اقتدار میں آیا جو 3190 ق م تک مصر پر قابض رہا۔ تیسرے خاندان کی حکومت 3190 ق م سے 3100 ق م تک رہی۔چوتھے خاندان کا اقتدار3100 ق م سے 2965 ق م تک رہا۔یوں 1100 ق م تک کل بیس (20) مختلف خاندان مصر پر حکومت کرتے رہے۔ ان میں ہر خاندان کا اور ہر فرد کا نام مختلف تھا مگر تمام بادشاہ فرعون کے نام ہی سے جانے جاتے ہیں۔فرعون کا لغوی معنی ـبڑے محل والا ہے اسی حوالے سے قدیم مصر کے بڑے محل کا ہر مکین فرعون کہلایا۔

مصر کے فراعنہ یا فرعون بادشاہوں کے مدفون یا مقبرے اہرام یعنی مخروطی مینار کی شکل میں ہیں جن کے اندر ان کی لاشوں کو مسالہ لگا کر محفوظ رکھا گیا ہے اورجوعجائبات میں شمار ہوتے ہیں۔یہ پانچ ہزار سال پرانے ہیں مگر ان پر انقلاب زمانہ کا کوئی مضر اثر نہیں ہوا۔ یہ اہرام ایک جگہ نہیں ہیں قاہرہ کے مغرب کی طرف میدان ابورعاش میں دریا کے ساتھ ساتھ ساٹھ (60) میل تک ان انوکھے اور شاندار میناروں کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔سوڈان میں دو جگہ یہ مینار موجود ہیں۔ غیزہ، سقارہ ،میدو م، ابوسیر میں بھی مختلف خاندانوں کے اہرام ہیں۔مگر ابورعاش کے اہرام سب سے مشہور اور شاندار ہیں۔غیزہ کے اہراموں میں کھفو کا بنوایا ہوا اہرام ، اہرام اعظم کہلاتا ہے۔ اس اہرام کی تعمیر میں اتنا چونا اور پتھر استعمال ہوا تھا کہ یس سے ایک بڑا شہر تعمیر ہوسکتا ہے۔اس کے پتھروں کا وزن ساٹھ لاکھ ٹن ہے۔اس کی اونچائی 481فٹ اور ہر پہلو 756 فٹ ہے۔ چار ہزار(4000) کاریگر اور ایک لاکھ (100000)مزدور بیس (20) سال تک اس کی تعمیر کرتے رہے۔بڑے ہوشیار انجینئروں نے اس کا نقشہ بنایا اور بہترین کاریگروں نے اسے موجودہ شکل دی۔ پتھر بڑی محنت اور ہوشیاری سے لگائے گئے۔ چونے کی تہہ کہیں بھی ناخن سے موٹی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک بھی ماہرین تعمیرات کو اس میں کبھی کوئی نقص نظر نہیں آیا۔

دوسرا اہرام یا مخروطی مینار(472) فٹ بلند ہے اور اس کا ہر ایک پہلو (706) فٹ چوڑا ہے۔یہ تعمیر کے اعتبار سے بہت عمدہ نہیں جانا جاتا۔ تیسرا اہرام ان دونوں کے درمیان ہے جسے من کوزہ کہتے ہیں۔یہ 215 فٹ اونچا اور 346 فٹ چوڑا ہے۔اس کی تعمیر بہترین اور نقشہ بہت شاندار ہے ۔یہ تینوں عمارتیں دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتی ہیں۔

انیسویں صدی کے شروع تک لوگوں کو پرانی چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس صدی کے شروع میں یورپ کے امرا کو پرانی چیزوں کے بارے جاننے کا شوق شروع ہواتو قدیم اشیا پر تحقیق شروع ہوئی۔ پرانی جگہوں کی کھدائیاں کی گئیں اور نویاب پرانی چیزیں حاصل کی گئیں۔پہلے یہ شوق امیر لوگوں تک محدود تھا مگر اب امرا کے بعد یہ شوق عوام تک پہنچ چکا ہے۔ قدیم اشیا کی قدر و قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ چیز جو ہم نے دس سال پہلے ناکارہ سمجھ کر پھینک دی تھی اب اس قدر با وقار اور قدرو منزلت کی حامل ہو گئی ہے کہ خریدنی ممکن نہیں رہی۔ اگر کسی کے پاس ایسی کوئی چیز ہو تو اہتمام سے رکھی اور لوگوں کو دکھائی جاتی ہے۔ لوگ پرانی سے پرانی چیز گھر رکھنے میں ایک دوسرے پر فوقیت لینے کے چکر میں ہوتے ہیں۔

چیزیں تو اپنی جگہ، حیراں بھی ہوں اور خوش بھی کہ امیرگھرانوں میں بوڑھے لوگوں کو بھی اہمیت ملنا شروع ہو گئی ہے۔کوئی شخص جتنا بوڑھا ، بیمار اور نزلے زکام کا شکار ہو تا ہے امیر گھروں میں اولاد سٹیٹس سمبل کے طور پر اسے استعمال کرنے لگی ہے۔ بڑے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں میں چلے جائیں بیمار ماں یا باپ ایک کمرے میں لیٹا ہو گا اور سارا خاندان لوگوں کو یہ بتانے میں مصروف کہ ابا یا امی بیمار ہیں اور روزانہ ان کے علاج پر اتنی رقم خرچ ہو رہی ہے گھر کا ایک فرد آنے والے کو اداس صورت بنائے ماں یا باپ کی بیماری اور اس پر آنے والے اخراجات کے بارے بتا رہا ہے تو دوسرا موبائل فون پر۔بیمار ماں یا باپ کو لوگ کم پوچھتے ہیں مگرتیمار داری کے لئے آنے والے مہمانوں کو بڑے اہتمام سے پوچھتے ہیں۔ اب تو صورتحال باقاعدہ مقابلے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔سال میں دو تین دفعہ کسی بیمار بزرگ کے نام پر ہسپتال پکنک بھی ہر بڑے خاندان کی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔

قدامت کی اس دوڑ نے پھیلتے پھیلتے اب سیاسی کلچر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی کے قدیمی رکن جناب قائم علی شاہ کو بہت عرصہ سندھ کا وزیر اعلی بنائے رکھا ۔ ان کا کمال تھا کہ نہ بولتے تھے، نہ سنتے تھے ، بس نظر آتے تھے۔ ان کے بارے مشہور تھاکہ موہنجوداڑو سے جو لوگ مصر گئے یا پھر مصر کا کوئی قافلہ سندھ آیا وہ لوگ انہیں یہاں بھول گئے۔ شاہ صاحب اسی قدیم دور کی یادگار ہیں ۔ چونکہ مقابلے کا دور ہے یہ کیسے ممکن تھا کہ مسلم لیگ (ن) پیچھے رہ جاتی۔ انہوں نے بہت ڈھونڈھ کر سندھ کے فراعنہ خاندان کا شاہ صاحب سے بھی دو صدیوں قدیم شخص بناب سعیدالزمان صدیقی کی شکل میں سندھ کا گورنر لگا دیا ہے۔ شاہ صاحب تو بولتے اور سنتے نہیں تھے۔ صدیقی صاحب کا کمال یہ ہے کہ یہ نہ بولتے ہیں، نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔چلیں خیال یہی ہے کہ معذورلوگ کرپٹ تو نہیں ہو تے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 221142 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
14 Nov, 2016 Views: 413

Comments

آپ کی رائے