ایم کیو ایم پاکستان میں قائد کا عہدہ خالی؟

(Riaz Aajiz, Karachi)
 ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن نے دبئی میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے ملاقات کی۔ ابتداء میں اس ملاقات کی تردید کی گئی تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ان کی جنرل (ر) پرویز مشرف سے ملاقات غیر سیاسی تھی۔ اگلے روز یہ خبر آئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنونئر ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی دبئی میں جنرل (ر) پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے تاہم حسب روایت ڈاکٹر فاروق ستارنے کراچی پہنچنے پر اس خبر کی تردید کر دی۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔اس کے ساتھ یہ خبر بھی آئی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی دبئی پہنچے ہیں اور انھوں نے بھی جنرل (ر) پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے۔ظاہر ہے کہ ایم کیو ایم کی طرف سے اس خبر کی بھی تردید کی جائے گی۔ ادھرسابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے بھی دبئی میں مذکورہ رہنماؤں کی ملاقات کی خبر ہے اور ڈاکٹر عشرت العباد خود بھی پرویز مشرف سے ملے ہیں ۔ دوسری طرف یہ خبر یں بھی آ رہی ہیں کہ پاک سر زمین پارٹی کے بھی اہم رہنماؤں کی سابق صدر پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی ہے۔ یہ تمام ملاقاتیں اپنی جگہ اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہیں کہ اب تک ایم کیو ایم پاکستان نے کسی کو اپنا قائد تسلیم نہیں کیا۔ قائد کی پوزیشن ایم کیو ایم پاکستان نے اب بھی خالی رکھی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ا یم پاکستان کے کنویئر ہیں۔ ایم کیو ایم کا ماضی کا سیٹ اپ یہ بتاتا ہے کہ ایم کیو ایم میں قائد کی پوزیشن الگ ہے اور کنونئر کی پوزیشن الگ ہے یعنی کنونئر کی موجودگی میں قائد کا عہدہ اس وقت تک خا لی ہی رہے گا جب تک اس پر کسی کو فائز نہ کر دیا جائے۔یا اس بات کو یوں کہہ لیجئے کہ ایم کیو ایم پاکستان تنظیمی اعتبار سے اس وقت تک نامکمل ہے کہ جب تک اس میں قائد کے عہدے پر کسی کو مقرر نہ کر دیا جائے۔ اس حوالے سے اگر ایم کیو ایم لندن پر ایک نظر ڈالی جائے تو وہ اپنی پوری ساخت اور تنظیمی سیٹ اپ کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں کنونئر بھی موجود ہے ااور اس کے تنظمی سیٹ اپ میں ماضی کی طرح قائد اطاف حسین بھی موجود ہے۔ایسی صورت حال میں یہ سوچا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے حالیہ ملاقاتیں ایم کیو ایم پاکستان کے نئے قائد کی تلاش کی کوششوں کا حصہ ہیں تاکہ پارٹی کے تنظیمی سیٹ اپ کو مکمل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ پی ایس پی کے رہنماؤں نے بھی سابق صدر پرویز مشرف سے ملاقاتیں کی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو ایک پلیٹ فارم کے لانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو پاک سر زمین پارٹی میں ضم کر دیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پی ایس پی کو ختم کر کے ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہوں لیکن ہر دو صورتوں میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مذکورہ دونوں پارٹیوں کے مشترکہ قائد بننے کے روشن امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ کراچی کے لئے اور سندھ کے شہر ی علاقوں کے لئے ملک کے مقتدر اداروں اور اسٹبلشمنٹ کا نیا کھیل ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم اسٹبلشمنٹ کے کھیل کا ایک بڑا حصہ رہی ہے ۔ ایم کیو ایم نے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کے ہر حکم پر ’’جی حضور‘‘ کہا تاہم اگر کبھی ایم کیو ایم نے کسی حکم پر’’ نہ‘‘ کہا تو پھر اسے نتائج بھی بھگتنے پڑے۔ یہ طے ہے کہ اب ایم کیو ایم لندن اسٹبلشمنٹ کے کنڑول سے باہر جا چکی ہے لیکن ہمارے ملک کی اسٹبلشمنٹ اور مقتدر اداروں کا ایم کیو ایم پاکستان پر اسی طرح کنٹرول ہے ۔ایم کیو ایم پاکستان کی ممکنہ نئی قیادت کے حوالے سے یہاں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ کیا ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی میں کسی بھی مجبوری کے تحت شامل ہونے والے کارکنان جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنا نیا قائد تسلیم کریں گے۔ ایم کیو ایم کے سیٹ اپ میں الطاف حسین نے سب سے زیادہ اہمیت یونٹ اور سیکٹر کی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں اور عہدیداروں کو دی ہے ۔ یہ ایم کیو ایم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی لئے ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں شامل ہونے والے یونٹ اور سیکٹر کی سطح کے کارکنوں کی رائے کی بہت اہمیت ہے۔گزشتہ دنوں کراچی میں ’’جنرل مشرف نہ منظور‘‘ اور ’’پلس ون نا منظور‘‘ کی وال چاکنگ بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے اشارے ملتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان میں کام کرنے والا یونٹ اور سیکٹر کی سطح کا کارکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو اتنی آسانی سے اپنا قائد تسلیم نہیں کرے گا۔ گزشتہ دنوں کراچی میں والی اس چاکنگ سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں جو کارکنان اور رہنما شامل ہوئے ہیں وہ مکمل طور پر ایم کیو ایم لندن سے لا تعلق نہیں ہوئے ہیں اور اس طرح کی وال چاکنگ اور دوسرے کاموں سے وہ اپنی الطاف حسین سے واستگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔یہ بات ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی دونوں کے لئے باعث تشویش ہونی چاہیے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 41667 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2016 Views: 249

Comments

آپ کی رائے