پاکستان میں پس نو آبادیاتی اُردو شاعری(1947-1958)

(Ghulam Ibn-e- Sultan, Jhang)
 جب برصغیر سے بر طانوی نوآبادیاتی دور کا خاتمہ ہوا اور 14 اگست 1947 کو آزادی کی صبح درخشاں طلوع ہوئی تو بر صغیر کے مسلمانوں کواس بات کاقوی یقین تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو نو آزاد اسلامی مملکت میں تر قی اور خوشحالی کے ثمرات سے مستفیض ہونے کے فراواں مواقع نصیب ہوں گے ۔ آزادی کے فوراً بعد پاکستان کی نو آزاد مملکت میں سیاسی رسہ کشی زور پکڑ گئی ۔ وہ سیاست دان جن کا تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہ تھا، جو اس کے مخالف تھے وہ وزیر بن گئے۔ (1) بر صغیر میں اپنی نو آبادی میں نوے سال تک قیام کے بعد یہاں سے رخصت ہوتے وقت بر طانوی سامراج نے ہندوؤں کی ملی بھگت سے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کے بعد جغرافیائی طور پر منقسم اور عسکری اعتبار سے کم زور کرنے اور ہندوؤں کو خوش کر نے کی غرض سے جس مکروہ منصوبے پر عمل شروع کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے مخالفوں کو کھل کھیلنے کاموقع مل گیا ۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد قائد اعظم ؒکی علالت کے باعث ملکی نظم و نسق کی صورت حال اور بھی پیچیدہ ہوگئی ۔ بر صغیر سے نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعدآزادی کی منزل پانے کے لیے برصغیر کی ملت اسلامیہ کو جس قلز مِ خوں سے گزرنا پڑا اس کے تصو ر ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ برطانوی استبداد نے سر حدوں کا تعین کرنے کی غرض سے جو جارحانہ منصوبہ تشکیل دیا اس میں اِسلام دشمنی اور جانب داری نمایاں تھی ۔
30 جون 1947 کو آخری وائسرائے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن(Lord Louis Mountbatten)نے دوسرحدی کمیشن مقر ر کئے جن کا سربراہ ریڈ کلف(Cyril John Radcliffe) تھا۔(2 ) تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن (عرصہ ملازمت:اکیس فروری 1947 پندرہ اگست 1947 ) اور برطانوی قانون دان ریڈ کلف (1899-1977)دونوں مسلمانوں کے ساتھ ذاتی عناد رکھتے تھے اور کانگرس سے مل کرمسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں نہایت راز داری اور انہماک سے مصروف تھے۔ اس کمیشن نے 9۔اگست 1947کو تقسیم ہند کا نقشہ پیش کیا مگر اس کا اعلان چودہ اگست 1947کو کیاگیا۔بر طانوی سامراج کے مرتب کیے ہوئے اس ظالمانہ نقشے کے مطابق پنجاب اور بنگا ل کو تقسیم کر دیا گیا۔ برطانوی سامراج کی کینہ پروری کے باعث تقسیم ہند کے وقت بر صغیر کے مسلمانوں کو شدید دشواریوں ،جان لیوا صدمات ،پیچیدہ مسائل اور انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریڈ کلف کمیشن نے بددیانتی سے کام لیتے ہوئے مسلم اکژیتی علاقے بھارت کے حوالے کردئیے۔ جونا گڑھ اور حید ر آبا د دکن کی مسلم ریاستیں جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی، استحقاق کے باوجود مسلمانوں کے حوالے نہ کی گئیں ۔ فیروز پور اور زیرہ کی تحصیلیں بھارت کے حوالے کر کے پاکستان کو فیروز پور ہیڈ ورکس سے محروم کر دیا گیا۔بنگال کی تقسیم کے وقت بر صغیر کی قدیم ترین اور اہم بندر گاہ کلکتہ (Kolkata) کو بھارت کے حوالے کر دیاگیا۔ یہ بندر گاہ بر طانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سال 1870میں تعمیر کی تھی اور اس سے مشرقی بنگال کے مسلمان تجارت کرتے تھے۔ پنجاب میں گورداس پور اور بٹالہ کی جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم تحصیلیں بھارت میں اس لیے شامل کی گئیں کہ کشمیرپر بھارت کے غاصبانہ تسلط کی راہ ہموار کی جا سکے۔(3)کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اس لیے توقع یہ تھی کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو گا لیکن کشمیر کے حکمران ہر ی سنگھ نے برطانوی سامراج اور ہندوؤ ں کی شہ پر کشمیر کی مسلمان اکثریت کی رائے کے بر عکس ذاتی فیصلے اور بھارت کی ترغیب و تحریص پر کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے پر ضد کی۔کشمیری عوام کی طرف سے ہری سنگھ کے اس فیصلے کی شدید مزاحمت ہوئی اور بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں پہنچا دی ۔اس صورت حال پر کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ اور اضطرب پایا جاتا تھا وہ ہری سنگھ کے اس صریح ظلم اور ناانصافی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور جبر کے خلاف مزاحمت کا آغاز ہو گیا ۔ستائیس اکتوبر 1947کو کشمیر میں پاکستانی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو پاکستان کی نو آزاد مملکت کی فوج کے قائم مقام انگریز سپہ سالار جنرل گریسی(Douglas Gracey)نے یہ حکم ماننے سے معذوری ظاہر کر دی۔(4) پاکستانی فوج کے قائم مقام سپہ سالارجنرل گریسی نے بد نیتی کی وجہ سے بانیٔ پاکستان اور اس ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حکم عدولی کی۔اس کے پسِ پردہ بر طانوی سامراج کی اسلام دشمنی اور بھارت نوازی کی منفی سوچ کار فرما تھی۔ بانی ٔ پاکستان قائد اعظمؒ محمد علی جناح نے ریڈکلف ایوارڈ کو نا منصفانہ اور بد نیتی پر مبنی قرار دیا۔(5)1857میں بر صغیر میں مسلمانوں کی جائز حکومت کو بر طرف کرنے والے ظالم و سفاک بر طانوی سامراج نے نوے سال بعد ریڈ کلف ایوارڈ کی صورت میں مسلمانوں کو اُن کے جائز حقوق سے محروم کر کے اپنی اسلام دشمنی کا ایک اور شرم ناک ثبوت پیش کر دیا۔ریڈ کلف ایوارڈ کے بارے میں فیڈرل کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس محمد منیر (عہدہ :انتیس جون 1954تادو مئی(1960نے کہا:
’’اگر یہ ایوارڈ قانونی تھا تو اس میں قانونی فیصلے کی ہر صفت مفقو د تھی ۔ اگر یہ ایوارڈ سیاسی تھا تو پھر انصاف پسندی اور غیر جانبدار ی کا دعویٰ کیوں۔یہ کیوں نہ کہہ دیا جائے کہ ہندوستان انگریزوں کی ملکیت تھا اور ان کے وائسرائے نے جسے جو چاہا دے دیا۔‘‘(6)
جسٹس محمد منیر (1895-1979)نے ریڈکلف ایوارڈ کے بارے میں جن تحفظات کا اظہار کیا وہ بر محل تھے۔ نو آبادیاتی دور میں غاصب برطانوی سامراج نے پُورے بر صغیر کو اپنی خاندانی میراث سمجھ رکھا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ماؤنٹ بیٹن اورریڈکلف دونوں مِل کر ہندوؤں کی ضرورت کے مطابق بر صغیر کے وسیع علاقے جن میں مسلمان اکثریت کے علاقے بھی شامل تھے ، بلا تامل کانگرس کی جھولی میں ڈال رہے تھے۔ پس نو آبا دیاتی دور میں جنگل کے ایسے ہی دساتیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ضرورت کسی ضابطہ ٔ اخلاق یا قانون کی تابع نہیں ہوتی۔ حریص ضرورت مند کی کرگسی نگاہیں اپنی ضرورت کی خاطر خود اپنے لیے جائز یا نا جائز راہیں تلاش کرنے کی مجاز ہیں اورضروت کسی،مخالفت، مزاحمت یا مصلحت کی پروا نہیں کرتی ۔ نو آبادیاتی دور میں بر طانوی سامراج اور اس کے حامیوں نے ایک سازش کے تحت بر صغیر کیتہذیب،ثقافت،تمدن، معاشرت، اخلاقیات اور اقدارِ عالیہ کے مسلمہ معائر کو تحت الثریٰ میں گرا دیا ۔نوے سال پر محیط نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد پس نو آبادیاتی دور میں اس خطے کے با شندوں کو بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے طویل جد و جہد کی ضرورت تھی۔بر طانوی سامراج کی شقاوت آمیز نا انصافیوں کے باعث برصغیر کی ثقافت،قومیت ،لسانیات ،ادیان،رنگ و نسل کے مسائل اور عدل و انصاف کے معیار انحطاط کی زد میں آ گئے۔ نوے سال پر محیط غلامی کی بھیانک تاریک رات اور ہوائے جور و ستم کے مہیب بگو لوں نے بر صغیر کے عوام کی زندگی کا تما م منظر نامہ گہنا دیا۔
نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کو یہ توقع تھی کہ جب ایک آزاد ،خو د مختار اوراسلامی فلاحی مملکت کے خواب کی تکمیل ہو گی تو ان کے مقدر کا ستارہ چمک اُٹھے گا۔ المیہ یہ ہوا کہ ، بد دیانتی ، تعصب اور انتقام پر مبنی برطانوی استعمار کی شاطرانہ چالوں نے مسلمانوں سے آزادی کی خوشیاں چھین لیں۔ تقسیم ہند کے منصوبے میں جانب داری اور بر طانوی سامراج کی کینہ پروری کے باعث برصغیر کے مسلمانوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹُوٹ پڑے۔ انتقالِ آبادی کے نتیجے میں پاکستان میں پس ماندہ اور مفلوک الحال طبقے کا معیارِ زندگی غربت کی لکیر سے بھی نیچے چلا گیا ۔ ملک کی معیشت، دفاع ، تجارت ، صنعت اور دیگر تمام امور حالات کے رحم و کرم پر تھے ۔ اس تکلیف دہ صورتِ حال میں ملی درد اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے والے دیانت دار، مخلص اور جذبۂ ایثار سے سرشاربے لوث کارکنوں کی کمی شدت سے محسوس ہو نے لگی ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھاکہپاکستان کی نو آزادمملکت کو مصائب کے کوہ ِگراں کے نیچے سسکتے ہوئے بے یارو مددگار تارکینِ وطن کے مسائل کے فوری حل اور ان کی آبرو مندانہ بحالی کا کٹھن مرحلہ درپیش تھا۔ ان تمام مسائل کے پس پردہ ریڈ کلف کی بد دیانتی کارفرماتھی جس نے تمام اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال کر ظلم و استبداد ،کینہ پروری اور انتقام کی درد ناک داستان رقم کی۔ نوے سال پر محیط بر صغیر کے مسلمانوں کی جد جہد آزادی کے بعد بر طانوی سامراج کی بد دیانتی کے باعث جوعلاقے مسلمانوں کو مِلے،ان میں جغرافیائی اعتبارسے ربط ہی نہ تھا۔پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے میں ایک ہزار میل کا علاقہ بھارت کی تحویل میں تھا ۔برطانوی سامراج نے ہندوؤ ں سے ساز باز کر کے تقسیمِ ہند کے موقع پربر صغیر کے مسلمانوں کو جوعلاقے دئیے وہ ایک ناقابل فہم ،غیر مستحکم اور غیرفعال حکومت کا تصور سامنے لاتے تھے۔ بر صغیر سے نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعداسلام دشمن استعماری طاقتیں ایک سازش کے تحت بر صغیر کے مسلمانوں کو آزادی کے بعد ایسی نو آزاد مملکت کے شہری بنانا چاہتی تھیں جو اپنی تعمیر و ترقی کے کاموں کی تکمیل اور مؤثر دفاع کرنے سے معذور ہو ۔بر صغیر کے مسلمانوں نے اپنے ذہن میں آزادیٔ کامل کا جو نقشہ بنا رکھا تھا اس کی عملی صورت کے بجائے ریڈ کلف ایوارڈ کی صورت میں انھیں آزادی کاایسا دیمک خوردہ پروانہ تھمادیا گیا جس کی عصبیت کی بنا پر احمقانہ تحریف او ر مجنونانہ تمسیخ کر کے برطانوی سامراج نے مسلمانوں کے جذبا ت کو ٹھیس پہنچائی ۔
نوآبادیاتی دور میں برطانوی سامراج کے استحصالی ہتھکنڈوں کے باعث بر صغیر کے عوام کو دُکھوں کے کالے کٹھن پہاڑ اپنے سر پر جھیلنے پڑے۔نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد گلستانِ وطن میں سیاسی نشیب و فراز عجب گُل کھلا رہے تھے۔ بر طانوی سامراج کی سازش کے باعث علاقائی،لسانی،نسلی اورفرقہ وارانہ اختلافات میں شدت آ گئی۔ نو آبادیاتی دور میں موقع پرست اور متلون مزاج لوگ جو آئین ِ نو سے خوف زدہ تھے اور طرزِکہن پر اڑ گئے تھے ،اُن کی بن آ ئی۔ان لوگوں نے اپنی بے بصری،کور مغزی ،ذہنی افلاس اور قوت اِرادی کے فقدان کے باعث برطانوی استعمار کے دامن میں پناہ لے رکھی تھی۔وہ خود بھی شدید بے یقینی اور عدم تحفظ کا شکار تھے اور پُورے معاشرے کو بھی اسی نوعیت کے عدم تحفظ اورغیر یقینی حالات کی بھینٹ چڑھانے کی سازشوں میں مصروف ر ہتے تھے۔ایسے تھالی کے بینگن ،چکنے گھڑے رواقیت کے داعی بن بیٹھے اور معاشرے کے زیرک افراد کو اپنا دست نگر اور تابع بنانے کی سازش کرنے لگے۔ بر صغیر سے نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد نو آزاد مملکتوں میں سر حدوں کے تعیّن میں جو نانصافی اور بد دیانتی کی گئی اس کے باعث نہتے مسلمان مہاجرین کے قافلوں پر جن میں عورتیں ،کم سِن بچے اور معمر افراد بھی شامل تھے قاتلانہ حملے کیے گئے اور لُوٹ مار کی گئی ۔مسلح ہندوؤں اور سکھوں کے بُزدلانہ حملوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ مسلمان لقمۂ اجل بن گئے ۔بھارت سے پاکستان داخل ہونے والے مسلم تارکین وطن کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ بیان کی جاتی ہے۔ (7) بھارت سے ترکِ وطن کرنے والے مسلمان اپنے خون پسینے کی کمائی سے تعمیر کیے گئے مکانات اور جائیداد یں وہیں چھوڑ کر دامن جھاڑ کر اپنے دِ ل میں ہزاروں تمنائیں لیے موت کے سائے میں ارض پاکستان کی جانب رواں دواں تھے۔ آزاد وطن کی خاطر سب کچھ چُھوٹ گیا جو زادِ راہ ساتھ تھا وہ بھی بلوائیوں نے راستے میں لُوٹ لیا۔ آغازِ سفر کے وقت آزادی کے اس قافلے میں جو مخلص ر فیقِ سفر شامل حال تھے ،وہ سلامت نہ رہے اور منزل پر محض چند لوگ ہی پہنچ سکے باقی سب خاک نشینوں کا خون راستے ہی میں رِزق خاک ہو گیا۔ شریف اور خوش حال خاندانوں سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو بھارت میں اپنے مکان اور حویلی کے مالک تھے ،ہجرت کے بعد جانی اور مالی نقصان اُٹھا کر انھوں نے ارض ِ پاکستان پر قدم رکھا تو کس مپرسی کے عالم میں اُن کا اﷲ بیلی تھا۔بر طانوی سامراج کی کینہ پروری کی مظہر مجنونانہ ،حاسدانہ اور منتقمانہ تیراندازی میں آزادی کے متوالوں کی آرزوئیں مات کھا کررہ گئیں۔نو آبادیاتی دور تو ختم ہو گیا مگر بر طانوی سامراج کی مسلط کی ہوئی ذلت،تخریب، نحوست ،بد بختی ،بے توفیقی اور خانہ جنگی کا منحوس سلسلہ ختم نہ ہو سکا۔نو آبادیاتی دور کے اعصاب شکن ماحول میں غلامی کا طوق پہننے والی اقوام نے اپنے گلے سے غلامی کا طوق تو اُتا رپھینکا لیکن اُنھیں ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہ ہو سکی۔ بر طانوی سامراج کے اخلاق سے عاری فاتر العقل اور مخبوط الحواس کارندوں نے بر صغیر کے باشندوں کے ساتھ جو اہانت آمیز سلوک روا ررکھا اس سے تنگ آ کر انھوں نے مغرب کی مصنوعات ،تہذیب اور معاشرت کو ہمیشہ نفرت کی نگا ہ سے دیکھا۔ بر صغیر کے با شعور باشندوں بالخصوص مسلمانوں نے بر طانوی سامراج کے تما م اقدامات کو ہمیشہ شک و شبہ کی نگا ہ سے دیکھا۔بر صغیر سے بر طانوی استعمار کے خاتمے کے بعدبرطانوی سامراج کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنی سابقہ نو آبادی کو معاشی،سیاسی،تہذیبی ،ثقافتی اور عسکری شعبوں میں اپنا دست نگر رکھ کر اس قدر دباؤ ڈالیں کہ اس خطے کے باشندے ان کے تابع بن کر رہیں۔ان کے دیو ِ استبداد نے دکھاوے کی عالم گیریت ،تصنع کی مظہر آزاد خیالی اور جعلی جمہوریت کی آڑ میں ہر شورش اور سوزش کا قلع قمع کرنے کی سازش کی ۔بر طانوی استعمار کا وہ قصرِ عالی شان جو نوے برس تک اس خطے میں جاہ و جلا ل کی علامت سمجھا جاتا تھا ،حریت ضمیر سے جینے کی تمنا رکھنے والوں نے اس کی بنیادیں ہلا دیں۔اپنے اقتدار کی گرتی ہوئی دیوار کو پستہ لگانے کے لیے بر طانوی سامراج نے بہت کوشش کی مگر ان کی کوئی اُمید بر نہ آئی اور نہ ہی انھیں اپنے قیام کو مزید طویل کرنے کی کوئی صورت نظر آئی ۔ تقسیم ہند کے وقت بر صغیر کے مسلمانوں کے تمام شکوک درست ثابت ہوئے۔ رولٹ ایکٹ کے بعد تو بر طانوی سامراج سے انصاف کی توقع ہی اُٹھ گئی تھی ۔اہلِ ہوس نے ہر سُو اپنے دام بکھیر رکھے تھے ،شکایت اورانصاف کی التجا لا حاصل تھی۔ ریڈ کلف ایوارڈ نے بر طانوی سامراج کے کر یہہ چہرے سے نقاب اُٹھا دیا اور مسلمانوں پر اس سازش کے تمام پہلو واضح ہو گئے۔پس نو آبادیاتی دور میں بر طانوی سامراج کی ریشہ دوانیوں کے باعث مسلمانوں کو بے چینی ،اضطراب،تشویش اور پیچیدہ مسائل کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیاجس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ بر طانوی استعمار نے بر صغیر میں صنعت اور مواصلات کے شعبوں میں جو کام کیا اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے مسخرے ناسٹلجیا کے مہلک روگ میں مبتلا ہیں اور اپنے آقاؤں کی آواز کی آواز سنا کر بے وقت کی ر اگنی الاپتے ہیں۔ان کے مضحکہ خیز دلائل میں کوئی وزن نہیں بر طانوی استعمار کی غلامی نے یہاں کے باشندوں کومستقل نوعیت کی ذہنی اسیری اور احساسِ کم تری میں مبتلا کر دیا ۔بر طانوی سامراج نے ارضی حوالوں کے بجائے اپنی مرضی کے دلالوں پر انحصار کیا اورعلاقوں کے بجائے افراد کے اذہان اور قلوب کو مسخر کر کے اپنا اطاعت گزار بنانے کی ٹھان لی تا کہ وہ ثقافتی بالا دستی کی لاٹھی تھام کر اپنی تمام سابقہ نو آبادیوں کی سب بھینسوں کو بِلاروک ٹوک ہانکتے رہیں۔ نوآبادیاتی دور میں مہاجرین کے لُٹے پٹے قافلے جب پاکستان پہنچے تو ان کے لیے سر چھپانے کی جگہ میسر نہ تھی۔ نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد ایک سازش کے تحت بر طانوی سامراج نے اُجالا داغ داغ اور سحر شب گزیدہ بنا دی۔آگ اورخون کا دریا عبور کر کے پاکستان پہنچنے والے لاکھوں مہاجرین کے قیام ،طعام اور علاج کی مناسب سہو لیات کی فراہمی کے لیے وسائل میسر نہ تھے۔قانون آزادیٔ ہند 1947کی شق 8(1) کے تحت گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 میں مناسب ترامیم کرنے کے بعد اسے پاکستان کی وفاقی حکومت کے پہلے عبوری آئین کی حیثیت سے نافذ کر دیا گیا۔آئین ساز اسمبلی کا انتخاب 1947میں ہو گیا تھا جس نے نو سال بعد (1956) دستور کی منظوری دی۔
ہوس اقتدار کے مارے سیاست دانوں نے قائداعظمؒ کے خوابوں کی تکمیل نہ ہونے دی ۔ قائد اعظم ؒکی وفات سے قیادت کا جوخلاپیدا ہوا اسے ان کے جانشیں پر نہ کرسکے۔(8 ) قائد اعظم ؒ نے مسلمانوں کی خوشحالی کے جو منصوبے بنائے تھے ان پر عمل نہ ہوسکا ۔ حتیٰ کہ آزادی کے مقاصد اور تمام اقدار کو پس ِپشت ڈال دیا گیا۔ (9) برطانوی سامراج کی شہ پرریڈکلف ایوارڈ کی ناانصافیوں ، تارکین وطن کے مصائب و آلام،بھارت کی ہٹ دھرمی اور پاکستانی سیاست دانوں کے رویے نے قائد اعظمؒ کو بہت مایوس کر دیا۔ وہ برطانوی استعمار کی اِسلام دشمنی اور ہندوؤ ں کے تعصب سے سخت نالاں تھے۔ تقسیم ہند کے موقع پر جس سفاکی سے نہتے اور بے گناہ مہاجرین کے خون کی ہولی کھیلی گئی ،اُس پر قائد اعظم ؒ تڑپ اُٹھے ۔مہاجرین کے مصائب و آلام کے لرزہ خیز واقعات سُن کر قائد اعظمؒ کی آ نکھیں بِھیگ بِھیگ جاتیں اور دِ ل تھا م کر رہ جاتے۔1948 میں بیماری کے دوران جب قائداعظمؒ زیارت میں مقیم تھے توآکسفورڈ کے فارغ التحصیل اور آزادی کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ،لاہور کے پہلے مسلمان پرنسپل ممتاز معالج لیفٹنٹ کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش(1904-1960) اُن کے علاج پر مامورتھے۔ حالاتِ حاضرہ کے بارے میں قائد اعظم ؒ اپنے ذاتی معالج سے تبادلہ ٔ خیال کر لیتے تھے ۔ایک دِن قائد اعظمؒ نے اپنے معالج لیفٹنٹ کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش سے کہا:
’’میری خواہش تھی کہ میں زندہ رہوں ۔لیکن اب مجھے اس کی کچھ فکر نہیں کہ میں زندہ رہوں گا یا مرجاؤں گا۔(10)
آزادی کے بعد پاکستان کو مخلص ،وفادار اور جذبۂ خدمت سے سرشار بیورو کریسی نہ مِل سکی۔نو آبادیاتی دور میں بر طانوی سامراج کے پروردہ خود غرض اور مفاد پرست بیورو کریٹ نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد نو آزاد مملکت میں سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔عقابوں کے نشیمن اب زاغ و زغن ،بُوم ،شِپر اور کرگس کے تصرف میں تھے۔ اپنے معمولی نو عیت کے ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو پسِ پشت ڈالنے اور ملی وقار کو داؤ پر لگانے والے بیو ر وکریٹس کے روّیے نے تشویش ناک صورت اختیار کر لی۔ ڈاکٹروں کے مشورے سے 11 ستمبر1948 کوقائد اعظمؒ کوبلو چستان کے صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سے 130کلو میٹر کے فاصلے پر واقع صحت افزا مقام زیارت سے کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیورو کریسی کی نااہلی کا اندازہ اس امر سے لگایاجا سکتا ہے کہ با نی ٔپاکستان اورملک کے گورنر جنرل کو شد ید بیماری کی حالت میں ہوائی اڈے سے لانے کے لیے ایسی ایمبولنس بھیجی گئی جس کا نہ صرف پڑول ختم ہو ابلکہ بندر روڈ پر ایمبولنس خراب ہوگئی ۔(11) قائد اعظمؒ بے بسی کے عالم میں ایمبولنس میں لیٹے ہوئے تھے جہاں ان کے معالج لیفٹنٹ کرنل الٰہی بخش ان کی نبض محسوس کر رہے تھے۔ اس وقت صرف محترمہ فاطمہ جناح بھائی کے پاس بیٹھی تھیں اس طرح ایک قیمتی زندگی کا انجام ہونے والا تھا۔ دو گھنٹے کوئٹہ سے کراچی کے سفر میں لگے اور دو گھنٹے ہوائی اڈے سے گورنر جنرل ہاؤس تک ۔ یہ قدرت کی ستم ظریقی نہیں تو اور کیاہے؟(12)
نو آبادیاتی دورکے اختتام کے بعد جب پاکستان میں آزادی کے نئے دور کا آغاز ہو اتو اس نو آزاد مملکت کے سامنے مسائل کا ایک کوہِ گراں تھا۔اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار کے باعث ملک عدم استحکا م کااشکار کر ہو گیا۔سیاست دانوں کی باہمی چپقلش،بڑھتی ہوئی ہوسِ اقتدار،ذاتی مفادات کے حصول کی تمنا اور عوامی مسائل کے بارے میں عدم توجہی نے قومی سطح پر بے اطمینانی پیدا کر دی۔مقتدر حلقوں کے غیر جمہوری اقدامات کی وجہ سے سلطانی ٔ جمہورکے خواب کی تعبیر نہ مل سکی۔معاشرتی زندگی کی بے چینی،خلفشاراور غیر یقینی حالات پر سیاست دانوں کی خاموشی اور بے حسی کو دیکھ کر لوگ سیاسی عمل سے ناخوش و بیزار تھے۔حساس تخلیق کار اپنے افکار کی ضیا پاشیوں سے سفاک ظلمتوں کو کافور کرکے حوصلے اور اُمید کی شمع فرزاں رکھنے کی سعی کرتا ہے ۔مہیب سناٹوں میں جری تخلیق کار کی آواز بانگِ درا ثابت ہوتی ہے ۔ بر صغیر سے بر طانوی استعمار کے خاتمے کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔قیام ِ پاکستان کے فوراً بعد حالات نے جو رُخ اختیار کیا اُردو زبان کے شعرا نے اس کا نہایت خلوص اور دردمندی سے جائزہ لیا۔اس عرصے میں انھوں نے تخلیقِ فن کے لمحوں میں حالات و واقعات کی لفظی مرقع نگاری کرتے ہوئے دِلوں کو ایک ولولۂ تازہ عطا کرنے کی کوشش کی۔حریتِ فکر و عمل کی آئینہ دار یہ شاعری اخلاقیات کے نکھار،قومی کردار کی تعمیر اور بے یقینی کے خاتمے میں ممد و معاون ثابت ہوئی۔بر طانوی سامراج نے حقیقی آزادی کو آزادیٔ موہوم میں بدلنے کی جو سازش کی اس کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھا کر اُردو شعرا نے فکر و نظر کو مہمیز کیا اور قوم کو جہد و عمل کی طر ف مائل کیا۔ اُردو زبان کے ممتاز شعرا نے ذہن و ذکاوت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تخلیقی فعالیت کو ایک خاص نوعیت کے ردِ عمل کے مطالعہ پر مر کوز کر دیا ۔یہ ردِ عمل اس وقت سامنے آیا جب نو آبادیاتی دور اور اس کے خاتمے کے بعد نوآبادی کے باشندوں اور استعماری قوتوں کے مابین کشمکش کی کیفیت پیدا ہوئی۔ان تخلیق کاروں نے ان حقائق کی گرہ کشائی کی کہ نو آبادی کے باشندوں اور سامراجی طاقت کے فکری تصادم کے تہذیبی اور ثقافتی سطح پر کیا نتائج بر آمد ہوئے۔ مشرق کے مسلمان خاکِ مدینہ و نجف کو اپنی آ نکھ کا سُرمہ سمجھتے ہیں اس لیے وہ مغربی تہذیب کوجُھوٹے نگوں کی ریزہ کاری قرار دیتے ہیں اور مغربی تہذیب کی چکا چوند ان کی نگاہوں کوخیرہ نہیں کر سکتی ۔برطانوی استعمار نے بر صغیر کے باشندوں کو ہمیشہ ہیچ سمجھا اور اہلِ مغرب سے ان کا موازنہ کرتے وقت مشرق کے مکینوں کو نہایت حقارت سے ازمنہ اولیٰ کے قدامت پسند قرار دیا جوجاہل اور غیر مہذب ہیں۔مغرب کی استعماری طاقتوں نے مشرق کے پس ماندہ ممالک میں اپنی نو آبادیاں قائم کر کے ان ممالک کی تہذیب و ثقافت ،فنون لطیفہ ،سماج اور معاشرت کے بارے میں گمراہ کُن تجزیے پیش کیے۔حقائق کی تمسیخ اور مسلمہ صداقتوں کی تکذیب مغرب کے عادی دروغ گو محققین کا وتیرہ رہا ہے ۔یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب فرانس کے مہم جُو نپولین بونا پارٹ ( Napoleon Bonaparte)نے سال 1798میں مصر اور شام پر دھاوا بو ل دیا تھا۔ برطانوی نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد پاکستان کی نو آزاد مملکت میں معاشرتی زندگی کے معمولات میں کئی تبدیلیاں رُو نما ہوئیں۔اردو زبان کے ادیبوں نے زندگی کے نشیب و فراز ،لطافت و کثافت اور جور و ستم کے بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر اظہار و ابلاغ کے نئے انداز اور نئی طرزِ فغاں پر توجہ مرکوز کر دی۔نو آبادیاتی دور میں اس خطے کی صدیوں پُرانی تہذیب و ثقافت اور اقدار و رویات کو شدید ضعف پہنچا۔بر طانوی سامراج سے نجات کے بعد یہاں کے تخلیق کاروں نے زندگی کے تلخ و شیریں واقعات،ماضی کے سانحات،جذبات واحساسات کی متغیر کیفیات اور عوامی اُمنگوں کے مطابق حالات کی حقیقی ترجمانی کو اپنا نصب العین بنا کر صحیح فیصلہ کیا۔سماج ،معاشرے اور سیاست کے بدلتے ہوئے موسم،معاشرتی زندگی کے انداز ،رہن سہن کے طریقے ،ملبوسات ،اسالیب اور حصولِ رزق کے وسائل سب کچھ ان تخلیق کاروں کے موضوعات میں شامل رہا۔ آزادی کے بعد رُونما ہونے والے واقعات نے تخلیقی وجدان اور ذوقِ سلیم پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔جہاں تک اسالیب اور ڈسکورس کا تعلق ہے یہ عہدِ غلامی سے بالکل مختلف انداز کا حامل تھا۔آزادی کی فضا میں جذبات و احسات کے زیر و بم ،ماحول اور معاشرت کے نشیب و فراز ،افراد کی زندگی کی دُھوپ چھاؤں ،لوگوں کی پسند و نا پسند اور فکر و خیال کے اختلافات کے بارے میں ایک منفرد سوچ پروان چڑھنے لگی ۔پس نو آبادیاتی دور میں یہاں کے ادیبوں نے یہ باور کرانے کی مقدور بھر کوشش کی کہ تخلیقی فعالیت کے دوران وہ کون سی خوبیاں ہین جن کی بدولت کوئی تخلیق قبولیت عوام کی سند حاصل کرتی ہے اور وہ کون سے عیوب ہیں جو کسی تخلیق کو لائق استرداد ٹھہراتے ہیں۔
بر صغیر کے باشندوں کی طویل جد و جہد کے نتیجے میں چودہ اگست 1947کو بر طانوی سامراج نے بہ ظاہر یہاں سے کُوچ کیا لیکن عملاً یہ پیر ِ تسمہ پا اب بھی اس علاقے کو مکر کی چالوں سے اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔اپنی سابقہ نو آبادیات میں سامراجی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا غیر مختتم سلسلہ جاری ہے ۔ بعض تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ غیر محتاط سوچ ہے کہ بر صغیر سے نوآبادیاتی دور کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چُکا ہے ۔ عالمی سامراج اپنی سابقہ نو آبادیات کو اپنا تابع رکھنے کی خاطر جو ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ان میں ان سابق نو آبادیات میں سیاسی عدم استحکام،معاشی ابتری،معاشرتی افرا تفری،علاقائی ،لسانی ،نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات،خانہ جنگی،بد عنوانی،فوجی بغاوت اور قتل و غارت گری شامل ہیں۔ برطانوی سامراج نے ایک مکروہ سازش کے تحت بر صغیر کی صدیوں سے موجود عظیم اورقدیم تہذیب و ثقافت کی تمسیخ کرتے ہو ئے مسلمہ صداقتوں اور واقعاتی حقائق کی تکذیب کو اپنا وتیرہ بنائے رکھا۔یورپی استعمارنے نہایت رعونت سے مشرق کے غریب اور پس ماندہ مکینوں کو جاہل،غیر مہذب،گنوار،اُجڈ اور ازمنہ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی حقیر مخلوق سمجھا۔بر طانوی سامراج نے یورپ میں یہ تاثر دیا کہ بر صغیر کے باشندے جس ماحول میں زندگی بسر کرنے کے عادی ہیں وہ پتھر کے زمانے کی یاد دلاتا ہے ۔ بر صغیر کے با شعور ادیبوں کا خیال تھا کہ مشرقیت کے بارے میں کسی اعتذار کی ضرورت نہیں۔مشرق کے مکین اپنی تہذیب و ثقافت کو ایسے انداز ِ فکر کی مظہر سمجھتے تھے جوعلمِ موجودات،علم بشریات اور ظاہری علوم کی اساس پر استوار ہے ۔قیام ِ پاکستان کے بعدادیبوں نے اس نو آزاد مملکت میں طبقاتی منافرت،مشرق و مغرب میں پائے جانے والے فاصلوں او ر تہذیبی و ثقافتی دُوری کے مطالعہ کو مجبوری کے بجائے عصری آ گہی کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری خیال کرتے ہوئے قوم کو احساسِ کم تری سے نکالنے کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دیا۔ ترقی پزیر ممالک کی غربت ،پس ماندگی اور معیارِ تعلیم کی پستی کو یورپی اقوام نے بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور ان ممالک پر اپنی ثقافتی یلغار کے لیے راہ ہموار کرنے کی سازش کی۔ پاکستان میں خاکِ وطن کے ذرے ذرے سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت پس نو آبادیاتی ادب کا امتیازی وصف سمجھا جاتا ہے ۔ بر طانوی استعمار کے خاتمے کے بعد پاکستانی ادیبوں نے بر طانوی سامراج کے نوے سالہ مظالم کے خلاف کُھل کر لکھااور استعماری طاقتوں کی ہوسِ ملک گیری کے مذموم منصوبوں کے مسموم اثرات سے قارئین کو متنبہ کرنے میں کبھی تامل نہ کیا۔آزادی کے بعدپاکستانی ادیبوں نے تخلیقِ فن کے لمحوں میں جوڈسکورس اپنایا اس میں قومی وقار،ملی وحدت،انسانیت کا وقار اور سر بلندی،ملکی استحکام اور آزادی کا تحفظ شامل ہیں۔ادیبوں نے قارئین کو اس جانب متوجہ کیا کہ پاکستان کی خوش حالی ،استحکام اور بقا سے ہم سب کی بقا وابستہ ہے۔ تاریخ اور اس کے مسلسل عمل پر یقین رکھنے پر توجہ دی گئی اور ماضی کے تلخ واقعات سے سبق سیکھنے پرزور دیاگیا۔وطن،اہلِ وطن اور انسانیت سے محبت کے جذبات کو تقویت ملی اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی پر زور دیاگیا۔آزادی کے بعد پاکستانی ادیبوں نے اس جانب متوجہ کیا کہ جہد للبقا کے موجودہ زمانے میں حیاتِ جاوداں کا رازستیز میں پنہاں ہے ۔ہر انسان محنت شاقہ اور سعی ٔ پیہم سے اپنا مقدر سنوار سکتا ہے ،اسے یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مہیب سناٹوں جان لیوا ظلمتوں میں گھری فرہادکی کُٹیا میں روشنی کی ٹمٹماتی لو اس کے ہاتھ میں تھامے ہوئے تیشے کے شرر کی مرہونِ منت ہے ۔ پاکستانی ادیبوں نے آزادی کے بعد اس احساس کم تری سے نجات حاصل کرنے کی سعی پر توجہ مرکوز رکھی جس میں بر طانوی استعمار نے اپنے نوے سالہ غاصبانہ اقتدار کے دوران اس خطے کے مظلوم باشندوں کو مبتلا کر دیا تھا۔ سلطانی ٔ جمہور اور آزادی ٔ اظہار کی راہ میں حائل ہر دیوار کو تیشہ ٔ حر ف سے پاش پاش کر کے پاکستانی ادیبوں نے ثابت کر دیا کہ قلم کی طاقت کے سامنے کوئی فسطائی جبر اور استعماری قوت نہیں ٹھہر سکتی۔نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد پس نو آبادیاتی مطالعات دنیا بھر کے اہلِ علم و دانش کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ پسِ نو آبادیات ایک کثیر المعنی اصطلاح ہے جس کا دائرۂ کار نہایت وسیع ہے ۔دنیا بھر کے زیرک،فعال ،مستعد اور معاملہ فہم دانش وروں نے عالمی ادبیات ،تاریخ،سیاسیات،سماجیات،علمِ بشریات اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں پس نو آبادیاتی مطالعات کی ہمہ گیر اہمیت وافادیت کو اُ جاگر کرنے کی سعی کی ہے ۔ پسِ نو آبادیات کی مسحور کُن ہمہ گیری قارئین کے لیے ایک منفر د تجربہ ہے ۔وہ سوچتے ہیں کہ ماضی کی غلام اقوام آج کس عزم و استقلال ،حوصلے اور ولولہ ٔ تازہ کو رو بہ عمل لا کر نہایت قوت اور جرأت سے آلامِ روزگار کے مسموم بگولوں اور سیلِ زماں کے مہیب تھپیڑوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔قیام پاکستان کے بعدپاکستان کے ادیبوں نے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں عوام میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کے لیے دِن رات ایک کر دیا۔تخلیقِ فن کے لمحوں میں خون بن کر رگِ سنگ میں اُترنے کی تمنا کرنے والے ان تخلیق کاروں نے ثابت کر دیا کہ مظلوم کی حمایت اور حریت ِ فکر کی روایت زندہ اقوام کا شیوہ ہوتاہے ۔ان کے تخلیقی کام کا حقیقی تناظر میں جائزہ وقت کااہم ترین تقاضا ہے ۔کسی بھی مجوزہ تخلیقی فعالیت یا معجزہ ٔ فن کی تخلیق اور اس کے پسِ پردہ کار فرما لا شعور ی محرکات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کی خوب جانچ پرکھ اور شناخت کر لی جائے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو یہ امر توجہ طلب ہے کہ وہ کون سے حالات تھے جن میں تخلیق کار نے یہ تخلیقی کام انجام دیا ۔تخلیق کار کے قلب اورروح پر وقت کے کون سے موسم اپنا رنگ جمانے میں کامیاب ہوئے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ موضوع زیرِ بحث میں کون سے امور وضاحت طلب ہیں ۔جہاں تک پس نو آبادیاتی مطالعات کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان میں نو آبادیاتی دور کے محکوم باشندوں کے زوایہ ٔنگاہ ،وقت کے بدلتے ہوئے تیور ،فکر و خیال کی انجمن کے رنگ اور ان کے آ ہنگ پیشِ نظر رکھے جاتے ہیں۔پس نو آبادیاتی مطالعات نو آبادیات کے باشندوں کی سوچ پر محیط ہوتے ہیں۔ جری تخلیق کار اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ سامراجی طاقتوں کی نو آبادیات کے وہ مظلوم باشندے جو طویل عرصے تک سامراجی غلامی کا طوق پہن کر ستم کش ِ سفر رہے مگر سامراجی طاقتوں کے فسطائی جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا،ان کا کردار ہر عہد میں لائق صد رشک وتحسین سمجھا جائے گا۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ سامراجی طاقتوں کو جب اپنی نو آبادیات میں منھ کی کھانا پڑی اور ہزیمت اُٹھانے کے بعد جب وہ بے نیلِ مرام نو آبادیات سے نکلنے پر مجبور ہوئے تو اس کے بعد ان نو آبادیات کے با شندوں نے آزادی کے ماحول میں کس طرح اپنی انجمنِ خیال آراستہ کی۔ استعماری طاقتوں نے دنیابھر کی پس ماندہ اقوام کو اپنے استحصالی شکنجوں میں جکڑے رکھا۔سامراجی طاقتوں کی جارحیت کے نتیجے میں ان نو آبادیات کی تہذیب وثقافت،ادب،اخلاقیات،سیاسیات ،تاریخ ،اقدار و روایات اور رہن سہن کے قصر و ایوان سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ پس نو آبادیاتی مطالعات میں اس امر پر نگاہیں مرکوز رہتی ہیں کہ ان کھنڈرات کے بچے کھچے ملبے کے ڈھیر پر نو آزاد ممالک کے باشندوں نے آندھیوں اور بگولوں سے بچنے کے لیے صحنِ چمن کو کس طرح محفوظ رکھا۔ برصغیر سے نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد پاکستان میں رُو نما ہونے والے واقعات کو اُردو شعرا نے کس انداز سے دیکھا اس کا پرتو ان کی شاعری میں موجو دہے :
فیض احمد فیض (پیدائش:تیرہ فروری1911،وفات:بیس نومبر1984)
صبح آزادی : اگست 1947
یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وہ سحر تونہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل
کہیں توجاکے رُکے گا سفینۂ غم دل
جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیار حسن کی بے خواب صبر گاہوں سے
پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینان نو ر کادامن
سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن
سنا ہے ہوبھی چکا ہے وصال منزل وگام
بدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذاب ہجر حرام
جگر کی آگ ،نظر کی اُمنگ،دِل کی جلن
کِسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا کِدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانی ٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دِل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
---------------------------------
احمد ندیم قاسمی (پیدائش: بیس نومبر 1916،وفات:دس جولائی،2006)
ادب و سیاست
اگر لاشوں کے قتلوں کی تجارت ہی سیاست ہے
اگر دستورِ آدم ا فگنی جزوِ سیاست ہے
اگر افرنگ کی حلقہ بہ گوشی اب بھی جائز ہے
اگر اِنسان کی اِنسان فروشی اب بھی جائز ہے
اگر آزاد رہنے کی تمنا جُرم ہے اب بھی
اگر انصاف کرنے کا تقاضا جُرم ہے اب بھی
اگر روٹی طلب کر نا جہالت ہے، بغاوت ہے
تو کل کا عقیدہ ہی اگر محنت کی اُجرت ہے
اگر علم و ادب پر ایک طبقے کااجارہ ہے
اگر دانش وروں کو فن پہ پا بندی گوارا ہے
تو میں ایسی سیاست پر فد ا ہونے سے باز آیا
محبت میری فطرت، آدمیّت میرا سرمایہ
مِرے پیش نظر رعنائی و امن و جوانی ہے
مِرے مدِ نظرانساں کا حُسنِ جاودانی ہے
مشینوں کا دھواں اُجرت نہیں ہے جاں سپاری کی
مرصع گالیاں قیمت نہیں خدمت گزاری کی
مجھے محنت کشوں کو دہر کا آقا بنانا ہے
مجھے بچوں کے چہروں پر گلابی رنگ بھرنا ہے
محبت چاہیے مجھ کو، صباحت چاہیے مجھ کو
بغاوت ہے اگر یہ،تو بغاوت چاہیے مجھ کو
یہی میر ا ادب ہے ، اور یہی میری سیاست ہے
مرے جمہورہی سے میری فن کاری عبارت ہے
مِِرے جمہور ہی سے میری فن کاری عبارت ہے
مِرے جمہور ، جن کے خون سے ایوان سجتے ہیں
انہی کی چاپ سے اب آمروں کے کان بجتے ہیں
وہ اُٹھے قافلہ در قافلہ پُورب سے ،پچھم سے
وہ لپکے کارواں در کارواں اقصائے عالم ہے
ملوں سے ، مرغزاروں سے ، بنوں سے ، کوہساروں سے
دکانوں سے، گھروں سے علم و دانش کے اداروں سے
خلش ان کے دلوں میں ، اجتہاد ان کی نگاہوں میں
بچھی جاتی ہیں جمہوری روایات ان کی راہوں میں
مر ا فن ان کی عظمت کا جب استقبال کرتا ہے
تو استحصال مجھ پر کفر کا الزام دھرتا ہے
اگر یہ کفر ہے، اس کفر کو ایماں بناؤ ں گا
گجردم ظلمتِ شب کے ترانے میں نہ گاؤں گا
-----------------------------------------
احمدندیم قاسمی
یہ رات
دلیل صبح طرب ہی سہی یہ سناٹا
مگر پہاڑ سی یہ رات کٹ چکے تو کہوں
پس نقاب ہی پنہاں سہی عروس سحر
مگر یہ پردہ ظلمات ہٹ چکے توکہوں
یہ رات بھی تو حقیقت ہے تلخ و تند و درشت
اسے سحر کا تصور مٹا نہیں سکتا
مجھے تو نیند نہیں آئے گی کہ میرا شعور
شب سیاہ سے آنکھیں چرا نہیں سکتا
اگر نشان سفر تک کہیں نہیں ، نہ سہی
میں رینگ رینگ کے یہ شب نہیں گزاروں گا
شکست سے مرا اخلاق اجنبی ہے ندیمؔ
سحر ملے نہ ملے ، رات سے نہ ہاروں گا (1952)
-------------------------------------------------------------------
احمد ندیم قاسمی
غمِ وطن
میرا غم،صرف میرا غم تو نہیں ،کم کیوں ہو
آدم اِس دور میں بھی کشتۂ آدم کیوں ہو
جس کے دانتوں میں مِری قوم کے ریشے ہیں ابھی
وہی سفاک مِرے دیس کا ہم دم کیوں ہو
کٹ کے بھی جُھک نہ سکا جو سرِ پِندارِ وطن
کِسی سُلطان کے دربار میں اب خم کیوں ہو
مُجھ کو ڈر ہے تیری آواز ہے بھرائی ہوئی
حریت کا یہ ترانہ ہے تو مدھم کیوں ہو
جِس کو تہذیب وتمدن کا افق چھونا ہے
چند فرسنگ کی پرواز سے بے دم کیوں ہو
----------------------------------
عبدا لمجیدسالک (پیدائش:تیرہ دسمبر،1895)
بہار آ گئی لیکن کہاں بہار ابھی
جمالِ عارضِ گُل پر نہیں نِکھار ابھی
بجا کہ رات کٹ گئی آخر
مگر ہوا نہیں خورشید جلوہ بار ابھی
سکون ہو گیا حاصل سکوں پسندوں کو
مگر ہے فِطرتِ جمہور بے قرار ابھی
خدا کا شکر کہ آزاد و کامراں ہے وطن
مگر عوام کو ہونا ہے کام گار ابھی
یہی ہے پِھر بھی دعائے عوام پاکستان
مبار ک اہلِ وطن کو قیامِ پاکستان
----------------------------------------------
مجیدؔلاہوری (عبدا لمجید چوہان )(1913-1957)
یہ کیسی آزادی ہے
یہ کیسی آزادی ہے بھئی ! یہ کیسی آزادی ہے؟
کنگلے تو کنگلے ہی رہے اور دھن والے دھن وان ہوئے
رہزن رہبر بن بیٹھے جو غنڈے تھے پر دھان ہوئے
جاہل تو فرزانے ٹھہرے اورعاقل نادان ہوئے
شہد لگا کر ہم نے چاٹے جتنے بھی اعلان ہوئے
---------------------------------------------
دلاور حسین،دلاور فگار(پیدائش:آٹھ جولائی1929,،وفات:پچیس جنوری1998)
کل مزارِ قائد اعظم ؒ پہ کوئی حیلہ ساز
کہہ رہا تھا آپ نے یہ کیا کہا بندہ نواز
اِنقلاب آتے ہی چھوٹا ہو گیا سب سے بڑا
ہم کو آزادی کا یہ سودا بہت مہنگا پڑا
--------------------------------------------------------
محسن بھو پالی (عبدالرحمٰن)(پیدائش:بھوپال،اُنتیس ستمبر 1932،وفات:کراچی،سولہ جنوری2007)
تلقینِ اِعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہِ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاستِ دوراں تو دیکھیے
منزل انھیں مِلی جو شریکِ سفر نہ تھے
----------------------------------------------
علی سکندر جگر مرا دآبادی(1890-1960)
کیا طریقہ ہے یہ صیاد کا اﷲ اﷲ
ایک کو قید کیا ،ایک کو آزاد کیا
جرمِ مجبوری ٔ بے تاب الٰہی توبہ
یہ بھی اِک بے ادبی تھی کہ تجھے یاد کیا
-----------------------------------------
محمد افضل قریشی باقیؔ صدیقی(1908-1972)
آستیں میں سانپ اِک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موجِ دریا پر دیا جلتا رہا
-------------------------------------------
برطانوی سامراج نے جب بر صغیر میں اپنی نو آبادی کو مسلسل نوے برس تک لُوٹنے کے بعد بر طانیہ لَوٹنے کافیصلہ کیا تو عیار بر طانوی سیاست دانوں نے ریڈکلف ایوارڈ کی صورت میں ایک گہری سازش کی اور سرحدوں کے تعین میں ایسی بدنیتی کا مظاہرہ کیا کہ نو آزاد مسلمان مملکت مسائل کے گرداب میں پھنس گئی۔ عالمی سامراج اپنی نو آبادیات کی آسانی سے جان نہیں چھوڑتا ۔غلام قوموں کی تقدیر وہی رہتی ہے صر ف زنجیر بدل جاتی ہے۔ سامراجی طاقتوں کے مکر کی چالوں پر نظر رکھنے والوں کا خیال تھا کہ یہ تبدیلی نئے نو آبادیاتی نظام (neo-colonialism) اور نو سامراجیت( neo-imperialism) کی ایک شکل تھی۔بر طانوی سامراج اور اس کے ہم نوا لہ و ہم پیالہ شاطر یہ چاہتے تھے کہ نو آبادیوں سے انخلا کے بعد سابقہ نو آبادیات کے حاکموں کو گردشِ حالات اور اپنے انجام سے بے خبر شاہِ شطرنج بنا دیا جائے۔اپنی شاطرانہ چالوں سے بر طانوی سامراج نے پس ماندہ اقوام کی آزادی اور خو دمختاری کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا۔ اپنی سابقہ نو آبادیات کی آزادی کو اس قدر بے وقعت بنا دیا کہ ان کے حاکموں کے سر پر تو تاجِ شاہی سجا دیالیکن ان مجبور اقوام کے پاؤں سامراج کی پہنائی ہوئی بیڑیوں سے فگار تھے۔ برطانوی سامراج نے اپنی سابقہ نو آبادیوں کوخود کفیل نہ ہونے دیا اور زندگی کے ہر شعبے میں انھیں اپنا دست نگر بنا ئے رکھا۔ حالات کے جبر نے یہ دِن دکھائے کہ ان نو آبادیوں کے پاس رُخصت ہونے والے بر طانوی سامراج پر انحصار کرنے کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہ تھا۔ خود انحصاری کے بجائے یورپ کی استحصالی طاقتوں پر انحصار کرنے پر مجبور ان اقوام کی آزادی بے وقار ہو کر رہ گئی اور حقیقی آزادی کے بجائے آزادی ٔ موہوم کی فضا میں سانس لینا ان کا مقدر بن گیا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے براہِ راست فوجی یلغار اور خون خرابے کے بجائے جو حربے استعمال کیے گئے اُن میں پس ماندہ اور ترقی پزیر ممالک میں یورپی تہذیب وثقافت کی یلغار، ترغیب و تحریص کے لیے سرمائے کا بے دریغ استعمال، یاس و ہراس،دھونس و تشدد یا ڈرا دھمکا کرسیاسی قیادت کو اپنا ہم نوا بنانااور پُور ی دُنیا کو بنی نوع انسان کی ایک بستی قرار دے کر ساری کائنات کی قیادت سنبھالنے کی بالواسطہ کوشش کرناشامل ہیں۔آزادی کے فوراً بعد پاکستان کواسی نوعیت کے حالات درپیش تھے۔
قیامِ پاکستان کے صرف ایک برس بعدگیارہ ستمبر 1948کو بانی ٔپاکستان قائد اعظمؒ محمدعلی جناح خالق ِحقیقی سے جا مِلے۔قائد اعظم ؒ محمدعلی جناح کا شمار دنیا کے ایسے نابغۂ روزگار مدبروں، ممتاز قانون دانوں ،ذہین سیاست دانوں اور محب وطن دانش وروں میں ہوتا تھا جو طوفانِ حوادث میں گھری قوم کو ساحلِ عافیت پر پہنچانے کی صلاحیت سے متمتع تھے۔قائد اعظم ؒ کی اچانک وفات کے سانحہ پر پاکستان میں ہر شخص اشک بار اور پُور ا مُلک سوگوار تھا۔اس سانحہ پر قوم کا ہر فرد سکتے کے عالم میں تھا اور اسی سوچ میں تھا کہ اب طلوعِ صبحِ بہاراں اور فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم دیکھنے کی تمنا شاید کبھی پُوری نہ ہو سکے۔عوام اپنی آرزؤں اور اُمنگوں کی تکمیل قائداعظم ؒ کے وجود میں دیکھ رہے تھے لیکن بانی ٔ پاکستان کی اچانک وفات نے ان کی تمام امیدوں کومایوسیوں میں بدل دیا۔ ملک میں قیادت کا ایسا خطر ناک خلاپیدا ہوگیا جس کا کوئی متبادل موجود نہ تھا۔ آئین کی تیاری کا مرحلہ ابھی طے نہیں ہوا تھا کہ 16 ۔ اکتوبر 1951 کو وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راول پنڈی کے ایک جلسہ عام میں گولی مار کر قتل کردیاگیا۔(13)قومی تاریخ میں پاکستانی قوم کی بد قسمتی کا یہیں سے آغاز ہوتا ہے جب قومی سیاست کو قتل و غارت اور دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ لیا قت علی خان سیاسی حاسدوں کے ہاتھوں زندگی کھوبیٹھے۔(14 )1951 میں راول پنڈی سازش کیس کے سلسلے میں محمد ایوب خان اور اسکندر مرزا نے سیاست میں فوج کے عمل دخل کوروکنے کی کوشش کی۔ راول پنڈی سازش کیس پر تو قابو پا لیا گیا اور سازش کو انھوں نے ناکام بنا دیا لیکن فوج کی سیاست میں مداخلت مکمل طور پر ختم نہ ہوسکی ۔ راول پنڈی سازش کیس کے بارے میں فوج کے اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف اور سازش کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے میجر جنرل اکبر خان(عرصہ ملازمت:1934-1951) نے کہاتھا:
ــ’’ہما را اختلاف حکومت سے کشمیرکی آزادی کے مسئلہ پر تھا جنگ بندی قبول کرنے کے سلسلے میں تھا اور یہ کہ لیاقت علی خان نے آئین بنانے میں زیادہ تاخیرکی تھی۔۔۔۔۔ فیض احمد فیضؔ او رسجاد احمد ظہیر جیسے لوگ بھی ہمارے ساتھ تھے یہ لوگ کم ازکم مارشل لاکے حامی نہیں تھے۔‘‘(15)
فیض احمد فیضؔ9۔ مارچ 1951 کو گرفتار ہوئے اور اپریل 1955 میں رہا ہوئے ۔ ان کے ساتھی میجر اسحاق نے اپنی یادداشتوں میں اس مقدمے کے حوالے سے جو تلخ حقائق بیان کیے ہیں وہ اس عہد کی سیاسی سوچ کے بارے میں چشم کشا صداقتوں اور تلخ حقائق سے لبریز ہیں۔بعض لوگوں کا خیا ل ہے کہ یہ سب فرضی مقدمات تھے اور من گھڑت اور جُھوٹی گواہیوں کے ذریعے یاس و ہراس کا ماحول پید اکیا جا رہا تھا۔کینہ پرو