رقم دگنی کرنے کا نسخہ

(Samiya Saeed, Rawalpindi)

 جب میں چائنا پڑھائی کے سلسلے میں گیا تو لڑکوں کے ایک گروپ کے ساتھ ایک ہی فلیٹ میں رہنا پڑتا تھا ۔ مختلف قومیت ، مذہب ، رنگ اور نسل کے لڑکے مل جل کر وہاں رہتے تھے۔ کچھ پاکستانی لڑکے بھی ساتھ رہتے تھے۔ ایک لڑکا پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر لیہ سے آیا ہوا تھا۔ سمسٹر فیس سر پہ آئی تو زیادہ تر طالبعلموں کے گھر والوں نے ان کو رقم بھیجی۔ رات کو جب میں ہمارے مشترکہ کمرے میں پہنچا تو لیہ والا لڑکا رقم ہاتھ میں لے کر پریشان بیٹھا دونوں ہاتھ پھیلائے دعا مانگ رہا تھا ۔ "یا اللہ ۔ اس رقم کو تگنا نہیں تو دگنا کر دے"۔
"یہ تم کیا کر رہے ہو؟" میں نے حیرت سے پوچھا۔
"دیکھ نہیں رہے ، دعا مانگ رہا ہوں"۔ اس نے بگڑ کر کہا۔
"یہ کیسی دعا ہے؟" میں بدستور حیرت زدہ تھا ۔
ایسی حماقت کی توقع اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے چین کا سفر کرنے والے کسی طالبعلم سے مجھے ہرگز نہیں تھی۔
"دیکھو۔ گھر والوں نے صرف فیس کے پیسے بھیجے ہیں۔ مجھے کرائے اور خوراک کی مد میں بھی ادائیگی کرنی ہے۔ " میری پوچھ گچھ سے تنگ آ کر اس نے بتانا شروع کیا۔ "لہذا میں دعا کر رہا ہوں کہ یہ رقم دگنی یا تگنی ہو جائے ۔ تا کہ باقی کے اخراجات پورے ہو سکیں"۔
اس کی شاندار دلیل سن کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
"تمھیں کیا لگتا ہے، تمھاری رقم واقعی دگنی ہو جائے گی؟" میں نے اس سے جرح کرنے کی کوشش کی ۔
"ہاں نا۔ سچے دل سے دعا کرو تو دگنی کیا، تگنی بھی ہو سکتی ہے"۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے جذب سے کہا۔
"چلو کوشش کر کے دیکھ لو۔ لیکن اگر یہ رقم صبح تک دگنی نہ ہوئی تو میرے پاس رقم دگنی کرنے کا ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو یہ رقم دگنی کیا، تگنی بھی ہو سکتی ہے"۔میں نے جواب دیا۔
"تمھارا نسخہ میر ی دعا اور توکل سے زیادہ کارآمد نہیں ہو سکتا۔ اب جا ؤ ابھی مجھے وظیفہ بھی کرنا ہے، دعا کی قبولیت کا وظیفہ ہے"۔
"اگر تمھارے وظیفے سے کچھ نہ بنا تو میرے ٹوٹکے پر عمل کرو گے نا؟"میں نے دروازے کی سمت جاتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں، ہاں، کر لوں گا۔ وعدہ رہا۔" اس نے جیسے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔
اگلی صبح اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر میں اسے حسب وعدہ، اپنا آزمودہ نسخہ استعمال کروانے کے لئے اپنے ساتھ لے گیا۔ کیفے مینجر نے اس کا مختصر سا انٹرویو کر کے میرے ریفرینس سے اس کو بطور ویٹر ہائر کر لیا۔ کام کے اوقات شام کو یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد شروع ہونے تھے۔ اب اس کی جیب میں موجود رقم کچھ ہی عرصے بعد دگنی یا شاید تگنی بھی ہو سکتی تھی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Samiya Saeed

Read More Articles by Samiya Saeed: 6 Articles with 14759 views »
"Humble enough to know I'm not better than anybody and wise enough to know that I'm different from the rest". .. View More
22 Nov, 2016 Views: 764

Comments

آپ کی رائے
Thank you so much :-)
By: Samiya Saeed, Rawalpindi on Nov, 24 2016
Reply Reply
0 Like
Very well structured and written. Keep up the great work.
By: Dr. Ammaar, Rawalpindi on Nov, 23 2016
Reply Reply
2 Like