مجالس حسین رضی اللّٰہ عنہ سے ہونے والے فوائد وبرکات:ایک تجزیہ

(Ata Ur Rehman Noori, India)
واقعات کربلاحوصلوں کو تقویت،ارادوں کو مظبوطی اورعزائم کے استحکام کا ذریعہ

 واقعۂ کربلانے انسانیت کوجینے کاسلیقہ سکھایااور ظالم وجابر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کاحوصلہ بخشا۔کربلا کے شہیدوں نے انسانیت کی عظمت وجلالت کوواضح کیااور رہتی دنیاتک ایسانمونہ پیش کیاجسے کسی بھی دور کاانسان فراموش نہیں کرسکے گا۔امام عالی مقام کی قربانی،وفاداری اور خلوص کی عظیم علامت ہے۔آپ نے زبردست تحمل اور بردباری سے تمام مصائب کوبرداشت کیا،چمنستان مصطفیﷺکی آبیاری اپنے اور اپنے جاں نثاروں کے خون سے کی،آپ نے راہِ خدا میں سر کانذرانہ پیش کرکے شریعت مصطفوی کوبچایااور دین اسلام کا پرچم سربلندکیا۔اسی لیے ہر سال ماہ محرم میں عاشقان اہل بیت کربلاکے تاجداروں سے منسوب مجالس کا اہتمام کرتے ہیں جس میں فضائل اہل بیت،فضائل حسنین کریمین،واقعات کربلا اور شہادت کی رقت انگیز داستان پر تفصیلی خطابات ہوتے ہیں۔جس طرح مجالسِ میلاد سیرت وکردار رسولﷺسے آگاہی کا اہم ذریعہ ہے اسی طرح مجالسِ محرم کے بھی بے حد فوائد ہیں جن کا مختصرتذکرہ ذیل میں پیش کیا جارہاہے۔

محبت اہل بیت میں اضافہ:
مجالس محرم میں قرآن وحدیث صحیحہ کے ذریعے خانوادۂ نبوت کے فضائل ومناقب بیان کیے جاتے ہیں۔ فضائل ومناقب کوسننے کے بعدایک عام مسلمان کے دل میں محبت ِاہل بیت کی روشن شمع میں مزید تیزی آتی ہے۔اسے اس بات کا علم ہوتاہے کہ کس طرح رب تعالیٰ قرآن مقدس میں خانوادۂ نبوت کی عظمتوں کے ترانے سناتا ہے ،فرامین مصطفی ﷺمیں ان کی رفعتوں کے کیسے کیسے لاہوتی و مدُھر نغمے آلاپے جاتے ہیں اور صحابۂ کرام واہل محبت ان کی مدحت میں کس طرح رطب اللسان رہتے تھے۔اسے اس بات کا اندازہ ہوتاہے کہ صرف ایک ہم نہیں بلکہ صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین کس طرح سے اہل بیت اطہار کی بارگاہ میں عقیدتوں کاخراج پیش کرتے تھے۔ان کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کیے رہتے تھے۔ان کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے مبارک الفاظ کواپنے لیے ذریعۂ نجات تصور کرتے اور ان کی خدمت کرنے کورضائے رسول ورضائے الٰہی تعبیر کرتے۔

خدمت دین کاجذبہ:
مجالس حسین رضی اﷲ عنہ کے شرکا ،اہل بیت کی عظیم قربانیوں سے آگاہی کے بعد محبت اہل بیت سے سرشارہوکردین متین کی خدمات انجام دینے میں منہمک ہوجاتے ہیں،انھیں اس بات کا احساس ہوتاہے کہ جب خانوادۂ رسالت نے دین محمدی کے تحفظ کے لیے جانوں کانذرانہ پیش کرنے سے پش وپیش نہیں کیا تو کیا ان کے شیدائی تن من دھن کے ذریعے بھی اس مشن کے احیاء واشاعت کے لیے کمر نہیں کسے گے،جس کی آبیاری کے لیے یہ عظیم سانحہ پیش آیا۔اس احساس کابیدار ہونااور تبلیغ دین کافریضہ بخوبی انجام دینا ہی صحیح معنوں میں حسینیت ہے ۔

عمل کاجذبہ:
بھوکے پیاسے رہ کربھی گلستان فاطمی کے گُلوں نے اسلامی احکام کاپاس رکھا،نظروں کے سامنے تڑپتے ہوئی لاشیں ہیں باوجود اس کے نماز ترک نہ ہوئی،دشمنوں کے نرغے میں بھی پردہ کااہتمام کیا ،شکوہ وشکایت کرنے کی بجائے صابر وشاکر رہیں،ان واقعات کوسن کر مسلمانان عالم بھی مذکورہ اخلاق حسنہ ا وراوصاف حمیدہ کو اختیار کرتے ہیں گویاکہ واقعات کربلا عمل کاجذبہ بیدارکرنے کامؤثر ذریعہ ہے۔انھیں سن کر انسان کا دل نرم ہوتاہے،شقاوت قلبی کاخاتمہ ہوتاہے اور انسان نیکی کی طرف راغب ہوتاہے۔

استقامت کادرس:
یزیدنے اپنے مذموم نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے طاقت و قوت کا سہارا لے کر سیدنااما م حسین رضی اﷲ عنہ کو قائل کرنا چاہا ۔سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اسلام کے محافظ و پاسبان اور شریعت اسلامیہ کے پاسدار تھے ۔ آپ نے یزید کی اطاعت و بیعت سے صاف انکار کردیا اور اس کی آمریت کو للکارا ۔ اپنے بہتر(۷۲)عزیز و اقارب کے ساتھ قربانی دے دی مگر شریعت سے سرِ مو بھی انحراف گوارہ نہ کیا ۔حالات کی ستم ظریفی آپ کے پائے نا ز کو متزلزل نہ کرسکی ،ظلم و جور کی آندھیاں پاش پاش ہو گئیں ،مگر عزم حسینی کا کوہِ محکم مستقیم رہا ۔تا قیام قیامت باطل کی معرکہ آرائی ،اسلامی اصولوں کی پامالی کی گرداب میں امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات نمونۂ عمل ہے اور حوصلوں کی بلندی کا سبب ۔جب بھی باطل و طاغوتی قوتیں افکارِ اسلامی پر حملہ آور ہوں گی سیدنا امام ِ حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت خونِ تازہ فراہم کرکے ہما ری رہنمائی کرے گی ۔الحمد ﷲ! سنت نبوی اور اُسوۂ حسنہ کو اپنا کر ہمارے اسلاف و اکابر نے شریعت کی حفاظت و صیانت فرمائی ہے اور رہوار فکر کومہمیز دی ہے ۔ ان کے عزم ِ حسینی کے آگے نا معلوم کتنی یزیدی قوتیں سرنگوں ہوئی ہیں ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی اورحضور سیدی مفتی اعظم رضی اﷲ عنہما نے شریعت پر استقامت کے ساتھ گامزن رہ کر محبت رسول اور سنتوں پر عمل کا درس دیا ہے اور یہی درس یزیدان ِعصر سے ہمارے تشخص کی کلید و ضمانت ہے اور ہماری داعیانہ کا وشوں کی کامیابی بھی اسی درس پر عمل میں مضمر ہے ۔

حوصلوں کی بلندی کا سبب:
آج بھی یزیدی قوتیں اسلام کوسرنگوں کرناچاہتی ہے مگر شہادت حسین رضی اﷲ عنہ ہمارے لیے قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہے۔جب جب یزیدی طاقتیں اسلام کے خلاف سر اٹھائیں گی اسلام وشریعت کی حفاظت کی خاطرحسین اعظم کے شیدائی جان دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے اور جان لینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔کیونکہ میدان کربلاسے ہمیں یہی پیغام ملاہے کہ تحفظ شریعت کے لیے جان،مال،گھربار حتیٰ کہ ننھے ننھے بچوں کی قربانی بھی دینی پڑے تو پیچھے نہیں ہٹناگویاکہ واقعات کربلاحوصلوں کوتقویت،ارادوں کومظبوط،عزم کومستحکم اور مقصد کی تکمیل کرتے ہیں۔

محبت ورواداری میں اضافہ:
ٰیوم عاشورہ کومحبان اہل بیت نذرونیاز وایصال ثواب کااہتمام کرتے ہیں،کھچڑاپکاکر ایک دوسرے کواپنے گھر کھانے پرمدعوکرتے ہیں،گلیوں میں نیاز کی تقسیم ہوتی ہے،سبیل کاانتظام کیاجاتاہے اور یتیموں غریبوں کی خبرگیری کی جاتی ہے،ان اعمال سے محبت اور رواداری میں اضافہ ہوتاہے،صلہ رحمی ،اخوت ،یک جہتی اوربھائی چارگی کاجذبہ پروان چڑھتاہے۔اور اس دن دستر خوان کشادہ کرنے پر اﷲ پاک سال بھر دستر خوان کشادہ فرماتاہے۔اﷲ پاک تاقیامت ان محفلوں کوسلامت رکھیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 408459 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
23 Nov, 2016 Views: 528

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ