کیا اب گدھے ایکسپورٹ ہونگے؟

(Muhammad Shafiq Ahmed Khan, Kot Addu)

پچھلے دنوں ایک مزیدار خبر آئی تھی کہ حکومت گدھے ایکسپورٹ کرنے کا پروگرام بنارہی ہے۔یا پھر اسکا گوشت یا کھال۔ اصل میں کافی عرصہ سے پاکستان بالخصوص پنجاب میں ہو یہ رہاہے کہ یار لوگ گدھا کاٹتے ہیں، اسکا گوشت انسانوں کو کھلاتے ہیں اور کھال دوسرے دوست ممالک کو فروخت کر دیتے ہیں جس سے کہ لگے ہاتھوں اچھا خاصا منافع حصے میں آ جاتا ہے۔ ویسے بھی اچھا ہی ہوا کہ گدھا گاڑی کے آگے موٹر سائیکل لگنے سے گدھے واقعی بیکار ہو گئے تھے کہ چلو کسی کام تو آئے۔ نا چیز نے تو ویسے ابھی بھی کئی لاوارث گدھے پھرتے دیکھے ہیں، پتہ نہیں یہ کیسے نظرِ بد سے بچے ہوئے ہیں؟؟؟ویسے تو گدھے بیچارے ا بھی اتنے بھی بیکار نہیں کہ انہیں بالکل ہی لاوارث چھوڑ دیا جائے۔ انکی ویلیو تو لیاری کراچی والوں سے یا پھر بدین (سندھ) والوں سے پوچھیں کہ جہاں ہر سال گدھوں کی منڈی لگتی ہے اور انسے پوچھیں کہ جہاں ایک ایک گدھا بھی لاکھوں کا بکتا ہے۔یعنی انسانوں سے زیادہ ویلیو۔کھال کی بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اچھے داموں بک جائیگی، پر گوشت کا کیا بنے گا یہ کیسے ایکسپورٹ ہوگا یا پھر پاکستانیوں ہی کی قسمت میں کھانا لکھا ہے؟ اور اسکی لذت سے کون کون سے لوگ لطف اندوز ہونگے؟

اب جہاں تک بات رہی گدھے ایکسپور ٹ کرنے کی تو جناب گدھے تو کئی قسم کے ہوتے ہیں ، پتہ نہیں سرکار کو ن سے قسم کے گدھے ایکسپورٹ کرے گی۔ ہمارے ہاں تو ہر جگہ گدھے بھرے پڑے ہیں۔ مثلا: بیویوں کے آگے سر ڈھائے شوہر لائک گدھے، اسمبلیوں میں بیٹھے عوامی مسائل سے نظریں چرائے گد۔۔۔۔، سرکاری اداروں میں حرام کھا تے گدھے اور نہ جانے کتنے قسم کے گدھوں سے واسطہ ہے آجکل عوام کا؟ ۔ تو جناب کونسے گدھے، کس کے گدھے اور کیسے گدھے ایکسپورٹ ہونگے پتہ نہیں ؟؟۔ یہاں مجھے اپنے ایک پرانے کالم ـگدھوں میں گول میز کانفرنس یاد آرہی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ www.hamariweb.com پر موجود ہے اسے پڑھیں تو آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے کہ ایک گدھا کہتا ہے کہ انسانوں نے ہماری خوراک پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ تو لہٰذا میں بھی اس بار مرحوم ارشاد احمد حقانی صاحب کی طرح اس کالم کے پرانے حوالہ جات لکھتا ہوں کہ مثلا پہلے میں نے لکھا کہ:

ویسے اگر آپ لوگ ناراض نہ ہوں تو ایک بتاؤں کہ گدھے اور شوہر میں بھی بہت سی چیزیں کامن ہوتی ہیں۔ مثلا: گدھا اور شوہر دونوں ہی سر ڈھا کر کام میں لگے رہتے ہیں۔ گدھا دن بھر مشقت کرتا ہے ، شام کو مالک پیٹ بھر کے کھانا بھی نہیں دیتا۔ اسی طرح شوہر بیچارا بھی دن بھر مشقت کر تا ہے، شام کو بیوی اور بچوں کے کوسنے سنتا ہے اور بچا کھچا کھاتا ہے ۔ گدھے کا مالک خود اچھا کھاتا پہنتا ہے گدھے کو گندمند کھلاتا ہے۔ اسی طرح شوہر بیچارہ گھر بھر کے لیے کما کر چوری کھلاتا ، خود اس بیچارے کو بعض دفعہ سوکھی روٹی بھی نہیں ملتی۔گدھے کا مالک اسکی پٹائی چھوٹی لکڑی سے کرے یا بڑی سے، گدھا چپ کر کے برداشت کرتا ہے۔ شوہر کی پٹائی بیوی چاہے زبان سے کرے ، ہاتھ سے کرے یا برتنوں سے کرے شوہر بیچارہ بچوں کی خاطر برداشت ہی کرتا رہتا ہے۔ گدھے پر جتنا بھی وزن لاد و اسے اٹھانا پڑتا ہے۔ شوہر پر بھی بیوی جتنے اخراجات کا بوجھ ڈال دے اس بیچارے کو برداشت کر نا ہی پڑتا ہے۔ گدھا بیچارہ اگر کبھی تنگ آکر کہیں بھاگ بھی جائے تو کوئی دوسرا پکڑ کر اس سے پھر وہی کام زیادہ لینا شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر میاں بھی کسی اور بیوی کے چکر میں پڑ جائے تو وہ پہلے والی سے بھی دو ہاتھ آگے ہی پائی جاتی ہے۔

اگر ہم بیوی سے گدھے کا موازنہ کریں تو یہاں بھی بہت سی مشترکہ چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مثلا: کہتے ہیں نہ کہ گدھے کی کھال اور دماغ بہت موٹا ہوتا ے اسلیے اس پر کوئی مار یا بات جلد اثر نہیں کرتی، بیوی کا بھی کچھ یہی حال ہوتا ہے ۔ہمار ایک ایسے انگریز کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا جو کہ چین میں بھی کام کر چکاتھا۔ ہم نے پوچھا کہ اتنا عرصہ چین میں رہنے کے باوجود آپنے چین میں شادی کر کے ے بیوی کیوں نہ بنا ئی ؟ اس انگریز کے جواب نے ہمیں ورطہء حیرت میں ڈال دیا کہ: آپ کسی گدھی سے شادی کر کے بیوی بنالیں پر چائنیز لیڈی کو بیوی نہ بنائیں۔پر اسنے وجہ نہیں بتائی کہ کس تجربے کی بنا پر وہ یہ بات کر رہا تھا؟؟گدھے کو کچھ کھانے پینے کا سا مان نظر آجائے تو اسکی سپیڈ فورا تیز ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بیوی کو بھی میاں کی طرف سے کچھ زیور یا پیسے آتے نظر آئیں تو اسکی بھی کام اور چاپلوسی کی رفتار فورا تیز ہو جاتی ہے۔گدھے کو آپ لاکھ میک اپ میں تھوپ دیں، گدھا تو گدھا ہی رہتا ہے، اسی طرح پانچ بچوں والی بیوی پر لاکھ میک اپ کا خرچہ کر لیں، جتنی چاہے میک اپ کی اسٹکیں یا کٹیں لگادیں ، جتنا چاہے فیشل کر وادیں ا سکے بوتھے پر بھی گھٹ ودھ ہی تبدیلی آتی ہے۔

اور اب اپنے ملک کے عزیز و غریب سیاستدانوں سے انتہائی معذرت کے ساتھ کہ سیاسی لوٹے تو آپنے بہت سنے ہونگے جن میں ہم کافی حد تک خود کفیل ہیں۔ تا ہم سیاسی گدھے،سوری، میرا مطلب کہ سیاستدانوں اور گدھوں میں بھی بہت سی باتیں کامن ہوتی ہیں۔ مثلا:حالیہ قومی اسمبلی ، کے پی کے اور پنجاب اسمبلی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق اسمبلی میں جو کچھ بھی ہوتا رہا ممبران کی زیادہ تعداد خاموش ہی رہی۔ گدھے کے ساتھ بھی کچھ بھی کر لیں زیادہ تر خاموش ہی رہتا ہے۔ ہمارے اکثر ممبرانِ اسمبلی اتنے بھولے ہیں کہ انگریزی تو کیااردو زبان سے بھی نابلد ہیں ۔ اسی طرح گدھا بھی ہر طرح کی زبان سے نابلد ہوتا ہے ۔ ہمارے معصوم سیاستدانوں کو ہمیشہ صرف آمر کے ڈنڈے کی زبان سمجھ میں آتی ہے، اسی طرح گدھا بیچارہ بھی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتا ہے۔ سیاست دان دولت کی مار مارتے ہیں، گدھا دولَت یعنی دو لَات مارتا ہے۔سیاستدان کبھی کسی ایک کا نہیں ہوتا۔ گدھا بھی کسی ایک کا نہیں، جو پکڑ لے اسی کا ہوجاتا ہے۔گدھا ایک عام آدمی سے زیادہ ہی کھاتا ہے۔ سیاستدان کو بھی جتنا کھلا دو کم ہے۔ گد ھے کو زیادہ دیر کچھ نہ ملے تو ڈھینچوں ڈھینچوں دھاڑنا شروع کر دیتا ہے، سیاستدان کو بھی اگر وزارت نہ ملے تو میڈیا پر چیخ چیخ، حکومت میں کیڑے نکال نکال کر سارا ملک سر پر اٹھا لیتا ہے۔گدھے کے آگے جتنے بھی بین بجالو اسے کچھ اثر نہیں ہوتا، ہمارے سیاستدانوں کے کالے کرتوتوں پر بھی جتنا چاہے چیخ لو ان پر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایک مشہور واقعہ تو شاید سبھوں کو یاد ہوگا کہ: ایک مشہور و معروف سیاستدان سے میڈیا والوں نے پوچھا کہ جناب آپ کے کالے کرتوتوں سے اخبارات بھرے پڑے ہیں تو کیا آپکی ریپوٹیشن ؟؟پر کچھ فرق نہیں پڑیگا؟ تو موصوف بولے کہ میرے حلقے کے لوگ اخبارات ہی نہیں پڑھ سکتے!لہٰذا کیسی ریپوٹیشن؟

اگر آپ اسی چیز کو موجودہ حالا ت کے تناظر میں دیکھیں توپانامہ لیک ، سیکرٹ لیک، اور بلا لیک نے عوام کو گدھا بنایا ہوا ہے۔ ایک صاحب نے تقریبا چار سال سے عوام کو تبدیلی کے نام پر الو اور گد۔۔۔۔۔ بنایا ہوا ہے۔حکومت نے عوام کو سی پیک کے نام پر ۔۔۔۔۔۔ڈھول پیٹ پیٹ کر۔۔۔۔ بنایا ہواہے۔ ہم عوام ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تبھی تو ہر بار سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں۔

تو جناب گدھے کو کبھی بھی فارغ مت سمجھیے گا۔ ہمارے پیارے لش گرین، سیاحوں کی جنت، صوبہ خیبر پختونخواہ اور کشمیر میں لوگ پہاڑوں پر سامان لانے لیجانے کے لیے ابھی بھی گھوڑے ، گدھے اور خچر استعمال کرتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Shafiq Ahmed Khan-0333-6017660

Read More Articles by Mohammad Shafiq Ahmed Khan-0333-6017660: 93 Articles with 167273 views »
self motivated, self made persons.. View More
23 Nov, 2016 Views: 872

Comments

آپ کی رائے