دیوانے کی دو’’ بڑ‘‘ تو پوری ہو چکی ہیں!

(Syed Muhammad Ishtiaq, Karachi)
 کہا جاتا ہے کہ دیوانے کی بڑ کے پیچھے قدرت کے ساتھ خفیہ ہاتھ بھی ہوتا ہے۔ مملکت خداداد پاکستان میں بھی ایک دیوانہ کپتان اپنے کھیل کے عروج میں کہا کرتا تھاکہ ورلڈ کپ جیت کر لاؤں گا اور انگریز کی برتری کا خاتمہ کروں گالیکن قوم کے ساتھ سابق کہنہ مشق کھلاڑیوں کی اکثریت کا یہی خیال تھا کہ یہ محض دیوانے کی بڑ ہے۔ ایسا ہوناناممکن تو نہیں لیکن مشکل بہت ہے۔ پھر قدرت کا کرنا ایسا ہوا کے دیوانے کی بڑ پوری ہوئی اور پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا۔ تنقید اور اعتراض کرنے والے تو اپنی پیش گوئی کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی منطق لے آتے ہیں۔ اس دفعہ بھی یہی رویّہ اپنایا گیا اور کہا گیا کہ اس میں دیوانے کا کیا کمال۔ وہ تو قدرت مہربان تھی ۔ موسم نے ایسے رنگ بدلے کہ اچھی سے اچھی ٹیم جیتے ہوئے میچ ہارگئی اور پاکستان کو سیمی فائنل کھیلنے کا موقع مل گیا ۔ دوسرے ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھی ساتھ دیا ورنہ ورلڈ کپ تو اس دفعہ نیوزی لینڈ نے جیتنا تھالہٰذا ثابت ہوا کے دیوانے کی بڑ کے پیچھے جہاں قدرت مہربان تھی وہاں ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کا بھی ہاتھ تھا۔ لیکن دیوانہ کہاں ایسی باتوں کو خاطر میں لاتا ہے۔ اب اس نے اعلان کیا کہ وہ غریبوں کے مفت علاج کے لیے کینسراسپتال بنائے گا ۔ اس کو بھی دیوانے کی بڑ سمجھا گیااور کہا گیا ۔ پاکستان جیسے ملک میں بہت مشکل ہے کہ اس طرح کا کوئی اسپتال بنے لیکن اس دفعہ بھی قدرت نے ساتھ دیا ۔ سابقہ کپتان کے ساتھ کھیل کا شرف حاصل کرنے والے موجوہ وزیر اعظم پاکستان نے ایک پلاٹ اس مقصد کے لیے عطا کردیا۔ کپتان سے محبت کرنے والے مختلف شعبوں میں کامیاب اور متمول افراد نے کپتان کی طرف دست تعاون بڑھایااور یہ ناممکن دکھنے والا منصوبہ بھی کامیابی سے اپنے انجام کو پہنچالیکن کہا یہی گیا کہ یہ اﷲ کا کرم تھا اور لوگوں کی کپتان سے محبت۔ جو کپتان اپنے منصوبے میں کامیاب ہوا۔

اپنی کامیابیوں پر کپتان خوشی اور تشکر کے جذبے سے سرشار تھا۔ اس دفعہ کپتان کے دماغ میں یہ سودا سمایا کہ پاکستان اور اس کے عوام کی تقدیر کو بدلا جائے۔ اس لیے عملی سیاست میں قدم رکھا ۔ اس کو بھی دیوانے کی بڑ سمجھا گیا۔ کئی دینی و سیاسی جماعتوں نے کوشش کی کہ کپتان اپنی سیاست کا آغاز ان کی جماعت سے کرے لیکن کپتان کو ہمیشہ اپنے زور بازو پر بھروسہ رہا ہے ۔ اس لیے تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی ۔ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے اﷲ کی مدد کے ساتھ خفیہ ہاتھ کا بھی تعاون درکار ہوتا ہے۔ غالبا اوائل سیاست میں کپتان اس بات سے لاعلم تھا کیونکہ اس نے پولیٹکل سائنس آکسفورڈ سے پڑھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پنڈی کی سیاست کرنے والے کسی سیاستدان نے کپتان کو سمجھایا ۔ عمر ہے کہ بیتی جارہی ہے ۔ پنڈی میں کوئی خفیہ ہاتھ تلاش کرو تاکہ پاکستان کو تبدیل کرنے کا تمہارا خواب پورا ہو۔ لگتا تو یہی کہ مشورہ سنتے وقت کپتان خوشگوار موڈ میں تھا جو اس نے مشورے پر دھیان دھرا اور 30 اکتوبر2011 کو لاہور میں ایک دھماکے دار جلسا کر کے مخالف سیاستدانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اب قدرت کے ساتھ کپتان کے ساتھ کوئی اور قوت بھی مہربان ہے۔

کامیاب جلسے کے بعد پھر کپتان کے قدم نہ رکے ۔ 2013 کے انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹوں سے کپتان کی جماعت کو خوب نوازا لیکن کپتان نے انتخابات کے نتائج کو دل سے قبول نہیں کیا اور دھاندلی کا نعرہ لگا یا جیسا کہ ہر ہارنے والی جماعت لگاتی ہے۔ بحرحال کپتان کے پاس اتنی اکثریت تھی کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں مخلوط حکومت بناسکے ۔ جماعت اسلامی نے حسب معمول حکومت میں شمولیت کی دعوت کو قبول کرلیا ۔ اس کے ساتھ ہی قومی وطن پارٹی کو بھی صوبے کی اور اپنے ارکان کی خدمت کرنے کا موقع میّسر آیا۔ صوبے میں حکومت تشکیل دینے کے بعد کپتان کو اس کے کچھ بہی خواہوں نے مشورہ دیاکہ صوبے اور اس کے عوا م کی تقدیر بدلو لیکن کپتان مصر ہے کہ تبدیلی کا آغاز اسلام آباد سے کروں گا۔ ابھی تک تو حسب سابق اس کو دیوانے کی بڑ ہی سمجھا جارہا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ مستقبل میں قدرت کے ساتھ کون سا خفیہ ہاتھ کپتان کے خواب کی تکمیل کا باعث بنے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Ishtiaq

Read More Articles by Syed Muhammad Ishtiaq: 44 Articles with 19953 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2016 Views: 466

Comments

آپ کی رائے