جب تک اُردو زندہ ہے تب تک عالی زندہ ہیں

(Syed Musarrat Ali, Karachi)
محترم جمیل الدین عالی صاحب(مرحوم) کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ہماری ویب رائریز کلب کے صدر جناب ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب نے ایک نہایت خوبصورت آرٹیکل لکھا۔ عالی صاحب کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہی رہیگا لیکن جناب صمدانی صاحب نے جس طرح یہ حق ادا کیا میں نے اُس کی تعریف میں دو جملے لکھے تو جناب صمدانی صاحب نے عالی صاحب سے میری رشتہ داری کے انکشاف کے عوض ان کے بارے میں کچھ لکھنے کا قرض مجھ پر واجب کر دیا۔ اب عزیز و رشتہ دار تو سب ہی اپنوں کی تعریف ہی کرتے ہیں لیکن ساس و سُسر کے رشتہ میں ذرا کم کم ہی ایسا ہوتا ہے ۔حق کو بنیاد بنانے کیلئے عالی صاحب کی بہو یعنی اپنی بھتیجی کی زبانی چند گھریلو صفات کے ذریعے اُن کی پہلی برسی پر خراجِ عقیدت پیشِ خدمت ہے۔

"وہ ایک عظیم بیٹے، شوہر، بھائی، والد اور نہایت ہی شفیق سُسر تھے۔ ان خصوصی رشتوں کے ساتھ جس قدر انصاف انھوں نے کیا، بہت مشکل ہوتا ہے۔ اپنی والدہ کے حقوق کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی کی نشان دہی کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ اپنی اولاد سے محبت تو فطری امر ہے لیکن محنت سے جی چُرانے میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہ ہوتے۔ان کی ایک ہی خواہش ہوتی کہ ہر بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، خود مختار و با اختیار ہو تاکہ دوسرے کا بوجھ نہ بنے۔ محبت و شفقت کے ساتھ کبھی ان کے مستقبل کے بارے میں اپنی رائے نہ تھوپی بلکہ ہر بچہ کو اس کی خواہش، ذہانت و دلچسپی کے مطابق قابلیت و اہلیت ثابت کرنے کی آزادی دی۔ بس زور دیا تو ایک ہی شے پر کہ محنت، محنت اور محنت۔ بیٹے اور بیٹیوں کے معاملے میں سوچ میں بالکل امتیاز نہ تھا ۔ شاید کم لوگوں کو معلوم ہو کہ بیٹا ہو یا بیٹی ، فخر دونوں پر ہی کرتے تھے۔ پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ وقت گزارنا زیادہ اچھا لگتا تھا، ایک ادبی شخصیت ہونے کے باوجود وقت کے دھارے کے ساتھ چلنے کیلئے ان سے سائنس و ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتے اور جان کر محظوظ ہوتے۔ ویسے تو کسی بہو کو بیرونی عوامل میں شمار نہ کیا لیکن مجھے ان کی موجودگی میں بے حد احساسِ تحفظ رہتا۔ ان کے دوستانہ رویہ کے نہ ہونے کا احساس اب شدّت سے محسوس ہو رہا ہے۔ ان کی ادب و فن کی خدمات کی کمی تو دنیا محسوس کر رہی ہے لیکن ہم ان کی بے مثال شخصیت کی کمی کو"

ادب و فن میں کھو جانے والے اکثر انسانی رشتوں کیلئے بہت کم وقت نکال پاتے ہیں ۔ اپنی بھتیجی کے ذریعے رشتوں کی اہمیت کا جان کر مجھے خود بھی خاصی حیرانی ہوئ اور ویسے بھی ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب کے رو برو میری تحریر کی کیا وقعت اور وہ بھی اسقدر عظیم شخصیت کے بارے میں؟ لہٰذا حق و صداقت بیان کرنے کیلئے اُن کی بہو کا سہارا لیا۔ اللہ تعالیٰ جمیل الدین عالی صاحب مرحوم کی مغفرت عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ چین نصیب کرے۔ آمین۔
سید مسرت علی
سینئر وائس پریذیڈنٹ
ہماری ویب رائٹرز کلب
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Musarrat Ali

Read More Articles by Syed Musarrat Ali: 76 Articles with 51171 views »
Basically Aeronautical Engineer and retired after 41 years as Senior Instructor Management Training PIA. Presently Consulting Editor Pakistan Times Ma.. View More
25 Nov, 2016 Views: 1052

Comments

آپ کی رائے
ان کی شخصیت تحریر میں جهلکتی ہے. صحیح بات یہ کہ تحریر شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے.
By: فرحت طاہر , Karachi on Nov, 26 2016
Reply Reply
0 Like