آرمی چیف کا تقرر۔۔۔ آئینی ترمیم کی ضرورت

(Riaz Aajiz, Karachi)
آئین پاکستان کی رو سے وزیراعظم کا یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی سینئر ترین یا نسبتاً جونئر لفٹینٹ جنرل کو آرمی چیف مقرر کر دے۔ اس بار پانچ لیفٹینٹ جنرل کی فہرست پرائم منسٹر ہاؤس بھجوائی گئی تھی ۔ ابتداء میں خبریں آ رہی تھیں کہ چار نام بھجوائے گئے ہیں تاہم بعد میں اطلاع ملی کی فہرست میں ایک اور جنرل کے نام کا اضافہ کر دیا ہے کہ جن میں سے ایک کو آرمی چیف اور دوسرے کو چیئرمین جوانٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا جانا تھا۔سینارٹی لسٹ میں مجموعی طور پر19افسران شامل تھے تاہم ان میں سے حتمی طور پر پانچ ناموں پر غور کیا گیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اب ان باقی ماندہ افسران میں سے کوئی بھی آرمی چیف یا چیئرمین جوانٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے تک نہیں پہنچ پائے گا کیونکہ اس سے قبل ہی ان کے ریٹائرمنٹ کا وقت آ جائے گا۔ وزیراعظم میں محمد نواز شریف نے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے نسبتاً جونئر افسر لفٹینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جنرل کی عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انھیں پاک فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے جبکہ لیفٹینٹ جنرل زبیر محمود حیات کو جوانٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور نئے چیئرمین جوانٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کی تقرری کو پاکستان بھر میں سراہایا گیا ہے اور ہر طبقے کے افراد اور اداروں نے وزیراعظم کی طرف سے نئی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔ ہمارے ملک میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو وہ اہمیت اور ترجیحات نہیں دی جاتیں کہ جو آرمی چیف کو حاصل ہیں لیذا میڈیا میں سب سے زیادہ تبصرے اور تجزیے بھی نئے آرمی چیف کے حوالے سے کئے جا رہے تھے مگر یہ حقیت ہے کہ زیادہ تر دنیا کے اہم ممالک میں معاملات اس کے برعکس ہوتے ہیں اور جوانٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنا آئینی اختیار استعمال کیا اور اپنی مرضی سے نئے چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر کر دیا لیکن ان کے اس عمل سے ہر بار کی طرح اس بار بھی سینئر افسران کا حق مارا گیا۔اب ان سینئر افسران کے پاس دو ہی آپشن ہیں کہ یا تو وہ اپنے سے جونئر افسر کے ماتحت بن کر کام کریں یا پھر ایٹائرمنٹ پر چلے جائیں۔ اس حوالے سے ماضی میں دونوں مثالیں موجودہیں۔ پاکستان میں اب تک 16آرمی چیف مقرر ہو چکے ہیں جن میں سے دو کا تعلق برطانیہ سے تھا لفٹینٹ جنرل سر فرینک میسروی اور جنرل ڈگلس گریسی ۔ یہ پاکستان کے ابتدا کی بات ہے۔ لیکن اس کے بعد سے اب تک جنتے بھی آرمی چیف مقرر ہوئے ہیں ان میں سے صرف چار ایسے ہیں کہ جو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتے وقت سینئر موسٹ (سنئر ترین) افسر تھے۔ ان چار افسران میں جنرل یحیٰ، جنرل ٹکا خان، جنرل مرزا سلم بیگ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی شامل ہیں کہ جنھیں سینئر موسٹ ہونے کی بنا پر پاک فوج کا سربراہ بنایا گیا۔ باقی 12پاک فوج کے سربراہوں کو کسی نہ کسی کو سپر سیڈ کر کے آرمی چیف مقرر کیا گیا۔میاں نواز شریف نے تقریباً پانچ آرمی چیف مقرر کئے ہیں اور ہر بار انھوں نے اپنی پسند اور نہ پسند کا خیال رکھا ہے۔ یہ پاکستان میں پانچ آرمی چیف مقرر کرنے والے واحد وزیراعظم ہیں۔ اگرچہ یہ ان کا آئینی اختیار ہے لیکن ان کے اس عمل سے ہر بار سینئر افسران کا حق ماراجاتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو بھی کئی سینئر افسران پر فوقیت دے کر پاک فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ لیکن اسی جنرل پرویز مشرف نے ان کے ساتھ کیا کیا یہ ساری دنیا پر آشکار ہے۔ اسی طرح مرحوم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سات سینئر افسران کو سپرسیڈ کر کے جنرل ضیاء الحق کو پاک فوج کا سربراہ مقرر کیا ۔ جنرل ضاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا کیا یہ بھی پاکستان کی تلخ ترین تاریخ ہے۔ اس سے قبل جنرل ایوب خان کو بھی سینئر پر سپر سیڈ کر کے پاک فوج کا سربراہ بنایا گیامگر اس کے بعد ملک کو پہلا مارشل لاء دیکھنا پڑا۔ اہم بات یہ ہے کہ پاک فوج کے ان تینوں سربراہوں نے ملک پر کم و بیش دس سال کے لئے مارشل لا ء نافذ کیا۔خیر اپنے اس مضمون میں میری بحث یہ نہیں کہ ملک میں بار بار مارشل لاء نافذ ہوا اس کی وجہ کیا تھی ۔ میں یہاں اس معاملے پر اپنی رائے دینا چاہتا ہوں کہ سینئر افسر کی موجودگی میں جونئر کو سربراہ بنانے سے کسی وزراء اعظم کو ماضی میں کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کا انھیں نقصان اور خمیازہ بھگتنا پڑا اور دوسری طرف سینئر جنرنیلوں کو اپنے حق سے محروم کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آئین پاکستان میں کیا کوئی ایسی تبدیلی نہیں ہو سکتی کہ ہر وزیراعظم اپنی مرضی کا آرمی چیف لانے کے بجائے سینئر موسٹ کو آرمی چیف کے عہدے پر مقرر کرے۔ اس طرح انصاف کے تقاضوں کے مطابق سینئر موسٹ کو اس کا حق مل جائے گا اور یہ بحث ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی کہ نیا آرمی چیف کون ہو گا۔ جس طرح سپریم کورٹ کے ججوں میں سینئر موسٹ خود بخود چیف جسٹس آف پاکستان بن جاتا ہے اسی طرح یہ قانون بننا چاہیے کہ سینئر موسٹ فوجی افسر بھی خود بخود آرمی چیف کے عہدہ سنبھال لے چاہے اس کی تقرری چند ماہ ہی کے لئے کیوں نہ ہو۔ اگر آئین کی اس تبدیلی کی پارلیمنٹ کی اکثریت منظوری دے دے تو فوجی سربراہ کی تقرری کے معاملات میں سیاسی مداخلت کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جا سکتا ہے۔اگر پارلیمنٹ اس طرح کی کوئی آئینی ترمیم لائے تو یہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق بھی ہو گی۔ہمیں ہر سینئر ترین افسر کی صلاحیتوں اور حب الوطنی پر پورا پورا بھروسہ کرنا ہوگا ورنہ پاکستان میں جمہوریت اور بہتر نظام کی کشتی ہمیشہ ہچکولے ہی کھاتی رہے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40371 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2016 Views: 360

Comments

آپ کی رائے