مطلوب حسین طالبؔ اور ’’انتظار ‘‘ کی شاعری

(Khalid Mustafa, )
مطلوب حسین طالبؔ سے میرا تعارف اُس وقت سے ہے جب ہم دونوں گورنمنٹ ہائی سکول فتح جنگ میں ہم جماعت تھے۔ آپ کو مطلوب حسین طالبؔ سے متعارف کرانے کے لئے میں اُس کے ایک خط سے اقتباس پیش کر رہا ہوں جو سا ماہی ’’قرطاس‘‘گوجرانوالہ کے پندرہویں شمارے (جولائی تا ستمبر ۲۰۰۸؁ء) میں شائع ہوا۔ مطلوب حسین طالبؔ کا احوال اُس کے قلم سے ملاحظہ ہو:۔ ’’میں پیدائشی طور پر معذور ہوں ، بیساکھیوں کے سہارے چلتا ہوں ، زبان میں لُکنت ہے مگر الحمداﷲ میں نے اس حال میں بھی بی ۔اے تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ محکمہ ڈاک کے مہربان افسران نے معذور افراد کے سپیشل کوٹے پر بھرتی کیا۔ میں نے اس حال میں دو بھائیوں اور بہنوں کو بی۔اے تک پڑھایا لکھایا، پال پوس کر بڑا کیا ، ملازمتیں دلوائیں ، الگ الگ مکان بنا کر دیئے ، شادیاں کروائیں۔ عرصہ ۲۵ سال سے فتح جنگ سے اٹک روزانہ (بسلسلہ ملازمت) آتا جاتا ہوں، کبھی ہمت نہیں ہاری۔اپریل ۲۰۰۷؁ء کو مجھے فالج ہوا۔ دس دن ہسپتال مین گذارتا ہوں اور تین دن گھر میں‘‘ درج بالا اقتباس پڑھ آپ اُس شاعر کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہیں جس کے پہلے شعری مجموعے ’’انتظار ‘‘ سے میں نے آپ کو متعارف کرانا ہے ۔اس اقتباس سے اُن نام نہاد دانشوروں کے اس قول کی قلعی بھی کھل جاتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ شاعر معاشرے کا ایک مسترد شد ہ مفلوک الحال شخص ہوتا ہے جس کا معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔

مطلوب حسین طالب ؔ کو جان لینے کے بعد اب ان حالات کا جائزہ لیتے ہیں جن میں طالبؔاپنے تخلیقی عمل کو سرانجام دے رہا ہے۔ ہر فنکار اپنے فن پارے کی تخلیق کے لئے خام مال اپنے گردو پیش سے حاصل کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کا یہ فن پارہ اُس کے حالات و واقعات کا آئینہ ہوتاہے ۔ کسی بھی فن پارے کو دیکھنے اورپر کھنے کے بعد آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ فن پارہ تخلیق کرتے وقت فنکار کس کرب سے گزرا ہوگا ۔ مطلوب احمد طالب ؔکی شاعری پڑھ کر بھی ہمیں اس اذیت کا انداازہ ہوتا ہے جو اُ س نے اپنی جسمانی کجی کی وجہ سے برداشت کی ۔اُس کی ایک غزل کے چند اشعار دیکھئے۔
جہاں میں اس لئے مشہور ہوں میں
کہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں میں
مجھے دولت کے پلڑے میں نہ تولو
متاعِ سرمد و منصور ہوں میں
میں ڈٹ جاتا ہوں باطل کے مقابل
اسی اک بات پرمغرور ہوں میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جیون کے وہ لمحات مجھے یاد رہیں گے
بے کیف سے دن رات مجھے یاد رہیں گے
گو زیست نے بخشی ہیں مجھے عارضی خوشیاں
لیکن مرے حالات مجھے یاد رہیں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دھوپ تھی صحرا میں لیکن سائباں کوئی نہ تھا
ہر طرف تھے میرے دشمن ، مہرباں کوئی نہ تھا
مجھ کو چپ رہنا پڑا ہر ظلم و استبداد پر
مجھ سے بڑھ کر شہر میں یوں بے زباں کوئی نہ تھا

مطلوب حسین طالب ؔاس کارگہِ حیات میں محبت کا متلاشی ہے ۔ اُسے کوئی ایسا ہمدم درکار ہے جواُس کے دکھ بانٹے ، اس کے راستے کے کانٹے چنے، زندگی کے نشیب وفراز میں اُس کا ہم رکاب ہو۔ مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کسی کو ہمسفر بنانے کے لئے زادِ راہ بھی د رکار ہے اور یہ زادِ سفر بصورت ِ سیم و زر میّسر ہو تو بات بنتی ہے۔ طالبؔ اپنی اس محرومی کا اظہار کرتے ہوئے یوں نوحہ کناں ہے۔
اُلٹے سیدھے راستوں پر ساتھ جو میرے چلے
زندگی میں ایک ایسا ہمسفر بھی چائے
صرف جذبوں کی صداقت پر نہیں کچھ منحصر
دوستی میں میرے طالبؔ سیم و زر بھی چائیے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کون دیتا ہے ساتھ مفلس کا
یہ وفاؤں کے خواب رہنے دو
محفلِ دوستاں میں اے طالبؔ
بند دل کی کتاب رہنے دو

ماں کا اولاد سے رشتہ ایک ایسا لازوال رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ہر شاعر نے ہر دور میں ماں کی لازوال محبت کو اپنے اشعار میں قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے مگر طالب کے ہاں ایسے اشعار کی تعداد قدرے زیادہ ہے جس میں ماں سے اظہار عقیدت کے پھول کھلتے دکھائی دیتے ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جب مایوسیاں ، رسوائیاں اور محرومیاں طالب ؔپر حملہ آور ہوتی ہیں تو اُسے صرف ماں کی آغوش میں ہی پناہ ملتی ہے۔ ایسے پُر آشوب حالات میں اُسے ماں کی باہیں کھُلی ملتی ہیں اور وہ اس گوشۂ عافیت میں آ کر سستانے لگتا ہے۔ اُس نے اپنے شعری مجموعے کے آخر میں ’’ماں دی یاد‘‘ کے نام سے ایک پنجابی نظم بھی شامل کی ہے ۔ماں کے حوالے سے طالبؔ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:۔
میں ا س لئے ہوتا نہیں ناکام جہاں میں
ہر گام مری ماں کی دعا ساتھ رہی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منہ کی کھائیں گے مرے دشمن کسی دن دیکھنا
ایک دکھیا ماں کی سردآہوں کا حاصل میں بھی تھا

تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو طالبؔ کی غزل میں وہ تمام اوصاف موجود ہیں جو ایک اچھی غزل کا خاصہ ہوتے ہیں۔طالب نے اپنی غزل کو تصنع اور بناوٹ سے دور رکھا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سادگی اور سلاست غزل کا حسن ہیں۔اُس نے لمبی،درمیانی اورچھوٹی بحر میں غزل کہہ کر نہ صرف اپنے کلام کو متنوع بنایا ہے بلکہ قاری کو یکسانیت کا شکار ہونے سے بھی بچایا ہے۔طالبؔ کو اس بات کا ادراک ہے کہ ایسی تراکیب جو شعر کی روانی میں خلل ڈالیں غیر مستحسن شمار کی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اُس نے ایسی تراکیب استعمال کی ہیں جن سے اس کے اشعارکی روانی میں اضافہ ہوا ہے۔ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ طالبؔ کا یہ شعری مجموعہ’’انتظار‘‘ بغیر کسی شک وشبہ کے معاصر شعری تصانیف میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khalid Mustafa

Read More Articles by Khalid Mustafa: 22 Articles with 25466 views »
Actual Name. Khalid Mehmood
Literary Name. Khalid Mustafa
Qualification. MA Urdu , MSc Mass Comm
Publications. شعری مجموعہ : خواب لہلہانے لگے
تحق
.. View More
30 Nov, 2016 Views: 1494

Comments

آپ کی رائے