عمران خان، طاہر القادری۔۔۔ وارنٹ گرفتاری پر عدم عملدرآمد

(Riaz Aajiz, Karachi)
پاکستان میں عدالتوں کے احکامات کو نظر انداز کرنے کا رواج عام ہے۔ ہر دوسرے روز عدالتی فیصلوں پر عدم عملد ر آمد کی وجہ سے توہین عدالت کے واقعات عام ہیں جس پر عدالتوں کی طرف سے بھی بہت زیادہ سخت ردعمل دیکھنے میں نہیں آتا۔ عدالتیں اس معاملے میں خاصے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔یہاں سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ توہین عدالت کا یہ عمل صوبائی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے دیکھنے بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ ہمارے ملک میں درجنوں کے حساب سے ایسے سیاسی رہنما موجود ہیں کہ جومختلف مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہیں یا عدالتیں ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہیں بلکہ بعض رہنماؤں کے خلاف نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی موجود ہیں لیکن نہ ان کو گرفتار کیا جاتا ہے اور نہ ہی عدالتوں میں یہ خود پیش ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں اور بااثر افراد کے خلاف مقدمات میں سب سے زیادہ خود حکومت ہی کی طرف سے توہین عدالت کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ حکومت سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر اور بعض اوقات کسی ادارے کے خوف کی وجہ سے با اثر ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی ہوتی اور جان بوجھ کر عدالتی احکامات کوہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔ منگل کو ایک عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اورپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پہلے سے جاری وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمدنہ ہونے پر پوچھا کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا تو جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کے گھر پر ان کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا گیا تھا لیکن وہ ملک میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے گھر پر نہ تھے جبکہ طاہر القادری بھی ملک میں موجود نہیں ہیں۔اس پرعدالت نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ عمران خان وطن واپس آ چکے ہیں۔ اس پر سرکاری وکیل کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ اس معاملے میں حکومت نے جان بوجھ کر عدالت کی طرف سے مذکورہ رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہیں کیا اور توہین عدالت کا ارتکاب کیا ۔ یہ جاننے کے باوجود کہ عمران خان وطن واپس آ چکے ہیں بلکہ روزانہ میڈیا کے سامنے آ کر اپنے حکومت مخالف جذبات کا اظہار کرتے ہیں ، انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ یہ حکومت کی سیاسی حکمت عملی ہے۔ حکومت خوب جانتی ہے کہ اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو ان کے سیاسی قد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا اور حکومت کے لئے مسائل پیدا ہونگے۔اس کا واضح طور پر یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ عدالتی احکامات سے زیادہ حکومت کو اپنی سیاست اور ساکھ عزیز ہے اور وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی کہ جس سے اس کے سیاسی حریف کو کوئی فائدہ ہو۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ عدالت کے احکامات کو جان بوجھ کر پامال کر کے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے لیکن اس باوجود عدالت برہم نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک کی عدالتیں یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے حکم پر حکومت جان بوجھ کر عملدرآمد نہیں کر رہی، کوئی ایکشن نہیں لیتیں اور نہ ہی کسی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ یقیناعدالتیں تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن دوسری طرف حکومتوں کی ہٹ دھرمی کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہاں یہ نکتہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر کسی عام ملزم کے خلاف عدالتیں وارنٹ گرفتاری یا نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں تو یہ تو ممکن ہو سکتا ہے ملزم مفرور ہو جائے یا کہیں پر چھپ جائے یاپولیس کے ساتھ کوئی مکھ مکا ہو جائے لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے گھر پر بھی سکون سے رہ رہا ہو ، اپنے معمول کے کام بھی کر رہا ہو اور اسے گرفتار بھی نہ کیا جائے۔ عام ملزم کے لئے پولیس فوری طور پر حرکت میں آ جاتی ہے اور ملزم کو غیر معمولی پھرتیاں دکھا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن با اثر لوگوں اور سیاست دانوں اور آرم فورسز سے تعلق رکھنے والے ایسے ملزمان جن کے خلاف عدالتوں کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہوں، پولیس گرفتار کرتے وقت دس بار سوچتی ہے اور اپنے اعلی افسران کے اشاروں کا انتظار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کو ضلع ملیر کے ایس ایس پی راؤ انوار نے اچانک اس بنیاد پر گرفتار کیا تھا کہ خواجہ اظہار الحسن کے خلاف ایک مقدمہ تھا جس میں انھوں نے ضمانت نہیں کروائی تھی۔ اس مقدمے میں عدالت کی طرف سے خواجہ اظہار کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے تھے لیکن کسی اشارے پر ایس ایس پی راؤ انوار نے انھیں اچانک گرفتار کر لیا تھا۔ اس کی پاداش میں راؤ انوار کو معطل کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں انھیں بحال کر دیا گیا۔ یہاں یہ مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عدالتی معاملات اور احکامات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے واقعات بہت زیادہ بڑھتے جارہے ہیں جن میں زیادہ تر حکومتوں کی طر ف سے توہین عدالت کا ارتکاب نظر آتا ہے۔اس صورت حال میں عدالتوں اور حکومتوں کو ملکر یہ سوچنا ہو گا کہ ہمارے ملک میں کب اور کیسے عدل وانصاف کا بول بالا ہو گا؟ کب پاکستان کے عدالتی نظام اور حکومتوں کے بارے میں عوام کی اچھی اور مثبت رائے قائم ہو گی یا یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40733 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2016 Views: 445

Comments

آپ کی رائے