سعادت کی زندگی شہادت کی موت ۔الوداع جنیدجمشید !!

(Inayat Kabalgraami, )
اﷲ نے انسان کو پیداکیا اور انسان کو اﷲ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ہر انسان کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ۔ہرمتنفس کو موت کامزہ چکھنا ہے ۔ (القرآن)خالق کائنات نے ہر جاندار کیلئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے ۔ موت نہ نیک لوگوں پر رحم کھاتی ہے اور نہ ظالموں کو بخشتی ہے ۔ اﷲ تعالی کے راستے میں جہاد اور تبلیغ کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لیتی ہے اور گھر میں بیٹھنے والوں کو بھی موت نہیں چھوڑتی ۔ ہر چیز فنا ہو نے والی ہے ۔ سوائے اﷲ تعالی کی ذات کے ۔ہر انسان کسی نہ کسی کیلئے اہم ہوتا ہے ،کوئی ماں باپ کیلئے تو کوئی بیوی بچوں کیلئے اور کوئی عزیز اقرباء کیلئے ،مگرکچھ لوگ ایسے بھی ہو تے ہیں کہ ماں باپ ،بیوی بچوں ، عزیز و اقربا ء کے ساتھ ساتھ دنیا والوں کیلئے بھی اہم ہو تے ہیں ۔ سب ہی انسانوں کا ایک وقت متعین ہے ۔ مگر کچھ انسان دار فانی سے کوچ کرنے کے بعد بعدبھی دلوں میں ہمیشہ ذندہ رہتے ہیں ۔ ایسے انسانوں کیلئے شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی ۔اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا ۔ بروز بدھ تین بجکر چالیس منٹ پر گلگت ائر پورٹ سے PK661 نے اڑان بھری تو کیسے پتہ تھا کہ یہ اڑان ان مسافروں کی آخری اڑان ثابت ہوگی ،کیسے پتہ تھا کہ اسلام آباد جانے کی نیت سے جہاز میں بیٹھے، 47 افراد بجائے اسلام آباد کے کہیں اور پہنچ جائیں گے ۔ گذشتہ دن گلگت سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہو نے والا جہاز PK661 سوا چار بجے ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں میں گر کر تباہ ہوگیا ، جہاز میں 42 مسافر اور عملے کے پانچ ارکان بھی شامل تھے جو سب کہ سب شہیدہوگئے ۔حادثے میں جاں بحق ہو نے والے سب ہمارے لئے خاص تھے ۔ مگر اس جہاز کے سیٹ نمبر 37 پر بیٹھا ہوا ایک شخصیت ہم سب کیلئے بہت ہی خاص تھی۔میری مراد جنید جمشید ہے ۔ جنید جمشید، اسلام و پاکستان کی آن اور شان تھا ۔اس بد قسمت جہاز میں وہ اپنی بیوی اور سسر کے ساتھ سوار تھا ۔جنید مرحوم مستورات کی جماعت میں اپنی بیوی اور سسر کے ساتھ چترال کے دورے پر گیا تھا۔ جنید جمشید 1964 ء کو لاہور میں پیدا ہوااعلی تعلیم حاصل کی ۔جنید جمشید مرحوم نے1981 ء میں وائٹل سائنزکے نام سے اپنا میوزیکل گروپ بنا یا اور سن 87 ء میں’ دل دل پاکستا ن جان جان پاکستان‘ کے ملی نغمہ سے شہرت کی بلندی کو پہنچ گیا ، اور کچھ ہی عرصے میں جنید جمشید کا شمار پاکستان کے نامور گلوکار وں میں ہونے لگا ، لیکن ایک دن جنید جمشید نے شوبز سے توبہ کرنے کا عزم کیا اور اس ہی عزم کو اپنانے کیلئے وہ سن2004 ء کو مولانا طارق جمیل سے ملاقات کرتے ہیں اور پر شوبز کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیتا ہے اور تبلیغ جیسے عظیم کام سے جوڑ جا تا ہے ۔جس وقت جنید جمشیدنے شوبز کو خیرباد کہا اور معروف تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوئے ،اس وقت جنید جمشید کا کئی بڑی نام گرامی شوبز کمپنیوں سے معائدے تھے ،جس کوختم کرنے کیلئے باری معاوضے ادا کرنے پڑیں ۔میرے ایک دوست نے ان کے ایک قریبی دوست کے توسط سے یہ بات مجھے بتائی کہ گانے چھوڑنے اور معاوضے ادا کرنے کے بعد جنید جمشید کے گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی ،اور شدید مالی پریشانی کے بعد بھی جنید جمشید نے ہار نہیں مانی اور اﷲ کی راہ سے جڑے رہے ۔ اس دوران کسی دوست قرض دار کرکے اپنے نام سے کپڑوں کا کام شروع کردیا ۔شروع شروع میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا پر اﷲ کی رحمت ہوئی تو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی سیڑیا ں چڑنے لگا ۔ جنید جمشید ایک نرم مزاج آدمی تھے ۔ وہ ہمیشہ در گزر کا معاملہ کیا کرتے تھے ۔اگر کوئی اس گالی بھی دیدیتا تو مسکرا دیا کرتے تھے ۔ ان پر نام نہاد مولو یوں کے فتوے مسلک کی بناد پر ہمیشہ لگا کرتے تھے۔ مگر جنید جمشید ان افتاء کرنے والوں کیلئے ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے ۔ جنید جمشید تبلیغ کے کام کے ساتھ اﷲ کی حمد و ثناء اور نعت رسول مقبولﷺ بھی پڑھا کرتے تھے وہ ایک سچے عاشق رسولﷺ بھی تھے۔ ان کی مشہور آڈیو نعتوں کا البم ـ"جلوا جانان " کافی مشہور ہوئی ۔اﷲ تعالی نے اپنے دین کے وجہ سے جنید جمشید کو ایک عظیم مرتبہ عطاء کیا، ورنہ جہاز میں تو اور لوگ بھی سوار تھے، لیکن صرف جنید جمشید کا ہی نام کیوں زبان زدِ عام ہے۔ ہر چینل، ہر اخبار ، تمام سوشل میڈیاپر صرف جنید جمشید کا ہی تذکرہ ہو رہا ہے۔ میڈیا ہاؤسز والے کسی بھی مہمان کو بلاتے ہیں تو وہ پورے حادثے میں صرف جنید جمشید کو ہی فوکس کر رہے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے۔۔۔؟ ۔اگرچہ اِس حادثے میں اور بھی قیمتی ہلاک ہوئیں تمام انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔آپ لوگ چاہے کچھ بھی سوچیں، لیکن جو بات میں سمجھ پایا ہوں وہ صرف جنید جمشید کا دین سے لگاؤ تھا اور محبت تھی۔ اور وہ محبت اور لگاؤ ایسا نہیں تھا کہ جو انہیں فری گفٹ کے طور پر ملا تھا۔ بلکہ اِس کیلئے انہوں نے باقاعدہ جدوجہدکی تھی اور اپنے نفس سے جہاد کیا تھا۔ کہاں مغرب ثقافت کا مزین جنید جمشید، ہاتھوں میں گٹار، جینز اور شرٹ، گلیمر کی زندگی، رنگینوں کا دور دورہ اور کہاں سنتِ رسول ﷺسے روشن چہرہ، درس و تدریس کی محافل، چٹائی کا بستر اور دین اسلام کی تبلغ کی زندگی بسر کرنے والا جنید جمشید۔یہی وہ چیز تھی جو جنید جمشید کو باقی مسافروں سے ممتاز کرتی ہے، حالانکہ جہاز میں انجینئر، ڈاکٹر، ڈی سی اور دیگر اہم انسان بھی سوار تھے ،لیکن صرف جنید جمشید کا ہی نام سب سے نمایاں ہونا اِس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنے آپکو اﷲ اور اُسکے دین کیلئے وقف کر دے پھر دنیا کی ساری عزتیں، توقیریں اور عظمتیں اُسکے گرد حصار بنا کر کھڑی ہو جاتی ہیں، پھر چاہے وہ زندہ ہو یا موت کی دہلیز پار کر چکا ہو۔ آج ہر آنکھ اشکبار ہے ۔ سب کو جنید جمشید یہی کہہ رہا ہوگا کہ حشر میں پھر ملیں گے اپنا خیال رکھنا ۔ ایک عجب اتفاق ہے ۔کہ جب ان کے والد فوت ہوئے وہ تب بھی اﷲ کی راہ تبلیغ میں ہی تھے۔ آج جب خود انتقال کیا تو خود بھی اﷲ کی راہ میں نکلے ہوئے تھے ۔ سعادت کی زندگی شہادت کی موت ۔الوداع جنید الوداع تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئیگی کیا کسی محفل میں میری نظر تجھے ڈھونڈ پائیگی ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو بھی دین اسلام کو سمجھ کر اُس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے و بھائی جنید اور دیگر شہداء شہادت کوقبول کریں اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء کریں اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔(آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 53165 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Dec, 2016 Views: 511

Comments

آپ کی رائے