جرنیلوں کی پھیلائی ہوئی گندگی

(Ata Muhammad Tabussum, Karachi)
مشرف کا دور تھا اور جنرل تنویر نقوی ضلعی حکومتوں کے نئے نظام کے ایک تعارفی سیمنار میں فرما رہے تھے کہ ،،اب یہ نہیں ہوگا کہ ایک بہت بڑی دعوت ہو، جس میں خوب جشن منایا جائے اور ڈھیروں گندگی اور کچرا پھینک کر لوگ چلے جائیں اور ہم صفائی کرتے رہیں،، فوجی حکومتیں ہمیشہ سول حکومتوں کی پھیلائی گند کو سمٹنے اور صاف کرنے کے لئے آئے اور پھر ان کی چھوڑی اور پھیلائی ہوئی گند کا تعفن ہمیں عرصہ دراز تک بھگتنا پڑ گیا۔مجھے جرنیلوں کی پھیلائی ہوئی گند اور گندگی سے روز کا واسطہ ہے، کیونکہ میرا راستہ نیشنل اسٹیڈیم کے عقب میں قائم جرنیل سوسائٹی کی سڑک سے گذرتا ہے، جو گلشن جانے والوں کا واحد اندرونی راستہ ہے۔ یہ سڑک جرنیلوں کی پھیلائی ہوئی گند کا شاہکار ہے، سڑک تو ٹوٹ پھوٹ گئی۔ اب تو گڑھے ہیں اور ان میں بھرا ہوا گندا پانی ۔جانے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے پیچھے کرکٹ کنٹرول بورڈ کی یہ زمین کب کنٹونمنٹ بورڈ کی تحویل میں آ گئی اور کب آرمی آفیسرز کالونی اور جانے کب یہ جنرل کالونی بن گئی اور کیسے چھ لاکھ کا پلاٹ راتوں رات ڈیڑھ کروڑ کا ہوگیا۔کب جنرل توقیر ضیا کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے کب اور کیسے یہ بندر بانٹ ہوئی اور وہ کب چلے گئے۔ جرنیلوں کی داستان بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے، پورے ملک میں ڈی ایچ اتھارٹی کے پلاٹ اور اسلام آباد کے پلاٹوں میں کیا کیا نہ ہوا۔ اس بارے میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے کچھ پوچھنا اس لیے زیادتی ہے کہ وہ تو چک شہزاد کے زرعی فارم ہاو ¿سز میں سبزیوں کی جگہ محلوں کی کاشت تک نہ رکوا سکی۔ ایک وزیرخزانہ تھے، حفیظ شیخ ہمیشہ فوجی دور میں کمال دکھاتے رہے، ایک کیس میں نہایت ہوشیاری سے سینٹ آف پاکستان کو نینشل لاجسٹک سیل میں ہونے والے چار ارب روپے کے سٹاک ایکسچینج سکینڈل میں ملوث دو ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرلز اور ایک میجر جنرل کے خلاف ہونے والی انکوائری کی تفصیلات اور اس کی روشنی میں ہونے والی کاروائی کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا ہے، تاکہ ان سابق جرنیلوں کی میڈیا اور عوام میں سبکی نہ ہو۔ سینٹ آف پاکستان نے وزارت خزانہ کو کہا تھا کہ نیشنل لاجسٹک سیل میں تین سال قبل ہونے والے چار ارب روپے کے سکینڈل کی تفصیلات بتائی جائیں اور یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ آیا نیشنل لاجسٹک سیل کو چلانے والے ان فوجی افسران نے خلاف قانون سٹاک ایکسچینج میں بھاری رقم کی سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ پاکستانی تاریخ کی ایک بہت بڑی مالی بدعنوانی تھی۔برطانوی تحقیقی صحافی جیمز ڈی کرکٹن نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف پرویزمشرف اوراشفاق پرویز کیانی کے سوئٹزر لینڈ میں بینک اکاونٹ ہیں جن میں کئی ملین ڈالر کی رقوم موجود ہیں۔انکا دعویٰ ہے کہ سوئس بینک ’جولیس بیئر‘ میں علیحدہ علیحدہ اکاﺅنٹس ہیں اوران میں لاکھوں ڈالرزموجود ہیں۔ یہ بٹیر جیمز کے ہاتھوں میں خود بخود آگئی تھی۔ورلڈ پریس پلیٹ فارم پراپنے بلاگ میں جیمز ڈی کرکٹن نے لکھا کہ دونوں سابق جرنیلوں کے اکاﺅنٹس کی معلومات اس کے ہاتھ اتفاقی طور پر اس وقت لگیں جب وہ وزیراعظم نوازشریف کےاکاؤنٹس کےمتعلق کھوج لگا رہے تھے۔بعدبھارتی اخبار نے دونوں سابق آرمی چیفس کے اکاؤنٹ نمبر بالترتیب 3861337 اور583106 بھی بتائے، پہلے انکار اور تفصیل آنے پر کہ دیا کہ یہ بھی بادشاہ نے بادشاہ کو تحفہ دیا تھا۔ آج ایک اور بادشاہ کی کہانی بھی ختم ہوگئی، اس کے من پسندیدہ دوچیف اسے مل گئے، پانامہ گیا بھاڑ میں۔ عدالت میں مقدمے چلتے رہتے ہیں ۔ جب بے گناہوں کو پھانسی چڑھا کر انھیں بریت کا اعلان ہو، تو پھر ہماری عدالتیں کچھ بھی کرسکتی ہیں
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ata Muhammed Tabussum

Read More Articles by Ata Muhammed Tabussum: 374 Articles with 265788 views »
Ata Muhammed Tabussum ,is currently Head of Censor Aaj TV, and Coloumn Writer of Daily Jang. having a rich experience of print and electronic media,he.. View More
11 Dec, 2016 Views: 498

Comments

آپ کی رائے