امیرخسروکی شاعرانہ عظمت

(Nayab Hasan, )
طوطیِ ہند:
ہندوستانی شاعری کی تاریخ میں امیرخسروکانام اس مہرِنیم روزکی طرح ہے،جس کی ضیاپاشیوں سے یہاں کی بیش از سات سوسالہ ادبی وشعری تاریخ منور ہے،ایسے وقت میں جبکہ اردوزبان ابھی ظہورونمودکے مرحلے میں تھی یہ اس کی خوش نصیبی کہیے کہ اسے خسروجیساعظیم وہمہ گیرصلاحیتوں سے لیس شاعر و نثرنگار ملا،جس نے ابتداہی میں اس کے دامن کومتنوع خوبیوں،رنگینیوں اور کمالات وخصائص سے مالامال کردیا۔ہندوستان کی سماجی،مذہبی وقومی تاریخ میں امیر خسروصرف اپنے پیرومرشدخواجہ نظام الدین اولیاسے بے پناہ محبت و شیفتگی کا استعارہ ہی نہیں؛بلکہ علمی،ادبی و فنی حیثیت سے فارسی وہندوستانی شاعری کا امام اور اردوزبان و ادب کامعمارِاولیں بھی ہے،اردوزبان جس لسانی،تہذیبی ومعاشرتی تنوع کی نمایندگی کرتی ہے،اس کی اساس دراصل امیرخسرونے ہی رکھی تھی؛چنانچہ ان کے یہاں اس کے مظاہر بھرپورتوانائی،خوب صورتی اور دل کشی کے ساتھ نظرآتے ہیں،انھوں نے اپنی شاعری میں عربی،فارسی،پنجابی اور ہندی کے الفاظ کو اس خوبی سے برتاکہ وہ امرہوگئے اور ہندوستان ہی نہیں،جہاں جہاں امیرخسروکے اشعارپہنچے وہاں کے خاص و عام کے وردِزبان ہوگئے،پھرشاعری میں امیرخسرونے جونوبہ نوتجربات کیے،ان کی معنویت و اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے،امیرکی شاعری میں زبان کی سلاست،معنیاتی گیرائی، فکری گہرائی، کنایات،تشبیہات،استعارات کی ایسی خوب صورت کائنات آبادہے کہ صدیاں بیتنے کے بعدبھی اسے پڑھنے اور سننے والاسردھنے بغیر نہیں رہتا، خسرو کو ہندوستان سے بے پناہ محبت ہے،سوان کے اشعار میں جابجاہندوستانی تہذیب،ہندوستانی حسن،یہاں کے پھول، رنگ، موسم، کھانے، مذہبی تہوار،رسم و رواج اورسماجی سروکارکی مدح و ستایش کاایک خوب صورت سلسلہ نظرآتاہے۔امیرخسرونے فارسی شاعری کونئے افکار و اسالیب سے لیس کرنے کے ساتھ شعری اَبعادکونئی وسعتوں اورہمہ گیریوں سے ہم کنارکیا۔نظم،غزل،قصیدہ،مثنوی،دوہے،گیت،قطعہ،رباعی وغیرہ شعری اصناف کے علاوہ نثر میں’’خزائن الفتوح‘‘ اور ’’رسائل الاعجاز‘‘امیرخسروکے عظیم کارنامے ہیں۔ہندوستانی موسیقی کوعربی وفارسی آہنگ سے مالامال کرکے اسے بین الاقوامی شناخت دلانے کاسہرابھی بلاشرکتِ غیر طوطی ِ ہندامیرخسروکے سرجاتاہے۔
پیدایش،تعلیم:
امیرکاپورانام ابوالحسن یمین الدین خسروہے اور امیر خسروسے مشہورہیں،ترکوں کے ایک قبیلے ’’لاچین‘‘سے نسلی تعلق ہے،والد کانام سیف الدین محمود ہے، ترکستان کے شہر’’کش‘‘کے رہنے والے اور اپنے قبیلے کے رئیس تھے،علامہ شبلی نعمانی نے فرشتہ و دولت شاہ کے حوالے سے لکھاہے کہ بلخ کے امرامیں سے تھے،بارہویں صدی عیسوی میں چنگیزی استبدادکا طوفان اٹھا،تواپنے ملک سے ہجرت کرکے ہندستان آپہنچے،تب یہاں سلطان محمد تغلق کی حکومت تھی، اس نے ان کی قدردانی کی اور اعلیٰ سرکاری عہدے پر مامورکیا۔یہاں ان کی شادی عمادالملک نامی شاہی امیر کی لڑکی سے شادی ہوئی،ان کا تعلق ’’پٹیالی‘‘ (ایٹہ، یوپی)سے تھااوران کے زیر کمان دس ہزارسپاہیوں پر مشتمل فوج تھی۔سیف الدین کوتین لڑکے ہوئے،جن میں امیرخسروتیسرے تھے،امیرکی پیدایش 1253ء میں ’’پٹیالی ‘‘میں ہی ہوئی،ابھی صرف سات سال کے تھے کہ والدکاانتقال ہوگیااورتعلیم و تربیت کی مکمل ذمے داری نانانے نبھائی۔
شعورسنبھالتے ہی استاذکی خدمت بٹھائے گئے،مگرکتاب پڑھنے سے زیادہ ان کی توجہ طبیعت کی فطری موزونی کی وجہ سے شعروشاعری پر رہتی تھی،البتہ تعلیم سے پوری طرح غافل بھی نہیں ہوتے تھے،جیساکہ ان کی دستیاب شاعری سے ان کی علمیت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے ،پندرہ بیس سال کی عمرمیں وہ مروجہ علوم کی تحصیل سے فارغ ہوگئے اورشعروشاعری میں تواساتذۂ فن بھی ان کے روشن مستقبل کی پیش گوئیاں کرنے لگے تھے،اسی زمانے (1272ء) میں ان کاپہلادیوان’’تحفۃ الصغر‘‘کے نام سے منظرعام پر آیا،اس میں امیرنے سولہ سے انیس سال کی عمرکے دوران کہے گئے کلام کوجمع کیاہے،اس دیوان میں کل 35 قصائد، پانچ ترجیح بند اور ترکیب بند، متعدد قطعات اور ایک چھوٹی مثنوی ہے،شروع میں وہ سلطانی تخلص کرتے تھے،سواس میں اسی تخلص کو برتا ہے۔
درباری تعلقات:
چوں کہ امیر خسروکی پوری زندگی سرکاری درباروں سے وابستگی میں گزری ہے اوران کی شعری یانثری تخلیقات کا راست یا بالواسطہ ان سے تعلق رہا ہے، متعددامرا، صوبے داراور شاہانِ دہلی کوتاج و تخت پربراجمان ہوتے اورپھرزوال پذیرہوتے ہوئے اُنھوں نے دیکھاہے،ان کی کئی ایک منظوم و منثور تصانیف شاہی فتوحات و غیرہ ہی سے متعلق ہیں؛اس لیے ان کی زندگی سے ان کے دورکے سیاسی احوال و انقلابات کوالگ نہیں کیاجاسکتااورخسروشناسی کے لیے لازمی ہے کہ خسروکے دورمیں ہندوستانی سیاست کے اتارچڑھاؤکابھی مطالعہ کیاجائے۔
جب خسروتحصیل ِعلم سے فارغ ہوئے اور ان کی شعری سرگرمیاں باقاعدہ شروع ہوئیں،اُس وقت دہلی میں غیاث الدین بلبن کی فرماں روائی تھی،اس کے درباری امرامیں ایک شخص کتلوخان(چھجوخان)تھا،جوبادشاہ کابھتیجااوراعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھا،شعرشناسی کی بھی صلاحیت رکھتاتھااور شعرا کو نوازتا بھی تھا،جس کی وجہ سے مصر،روم،عراق،خراسان و ترکستان وغیرہ کے شعرااس کی مجلس میں حاضری دیتے اوراعزازات سے نوازے جاتے تھے،امیر خسروبھی پہلے پہل اسی کی مجلس میں پہنچے،اپنے دل کش آہنگ میں معنیٰ خیزاشعارسنایااور کتلوخاں کے منظورِنظرہوگئے۔ایک دن اس کی مجلس میں سلطان غیاث الدین بلبن کا بیٹابغراخاں بھی موجودتھا،دیگر بہت سے شعرابھی حاضرتھے،شعروشاعری چلنے لگی،امیرنے بھی اپناکلام سنایا،بغراخاں متاثرہوئے بغیرنہ رہااور خوب نوازا،یہ منظرکتلوخاں کی آنکھ میں چبھ گیا،اسے یہ دیکھانہ گیاکہ اس کے دربارکاشاعرکسی دوسرے کے احسان اٹھارہاہے،بعدمیں امیرنے بارہااس کی تلافی کرنی چاہی؛لیکن کتلوخاں کی طبیعت کاتکدرختم نہ ہوا،بالآخرامیرنے بغراخاں سے وابستگی کافیصلہ کیا،وہ تومنتظرہی تھا،اس نے امیرپرنہ صرف نوازشات و اکرامات کی بارش کی؛بلکہ اپناندیمِ خاص بنالیا۔اسی دوران لکھنوتی(بنگالہ)کے صوبے دارطغرل خاں نے بغاوت کردی،جس کامقابلہ کرنے کے لیے بادشاہ آمادۂ سفرہوا،اس سفرمیں اس کابیٹابغراخاں بھی تھااوراس نے امیرخسروکوبھی ساتھ رکھا،بغاوت پر قابوپانے کے بعدسلطان نے بنگال کی حکومت بغراخاں کے سپردکردی،جس کی وجہ سے امیرکوبھی وہیں قیام پذیرہوناپڑا؛لیکن دہلی کی کشش نے انھیں زیادہ دن بنگال میں رہنے نہیں دیا اور وہ جلد ہی دہلی واپس آگئے،واپس آنے کے بعدان کی ملاقات بلبن کے بڑے بیٹے ملک محمدقاآن سے ہوئی،وہ نہایت ہی قابل،صاحبِ علم و نظراور علم و فن کا قدردان تھا،اس کی مجلس میں ہمیشہ شاہنامہ،دیوانِ خاقانی،انوری،خمسۂ نظامی کے اشعارپڑھے جاتے تھے۔جب اس نے امیر خسروکاشہرہ سنا، تو انھیں بلایااور اپنے خاص شعرامیں شامل کرلیا،جب 1279ء میں ملتان کاحاکم مقررہوا،توانھیں بھی اپنے ساتھ لیتاگیا،وہاں پانچ سال رہے،اسی دوران تیمورخاں نے بیس ہزارکی فوج کے ساتھ لاہورودیبل پورکوتاراج کرتے ہوئے ملتان پرچڑھائی کردی،ملک محمدنے مردانہ وارمقابلہ کیااورتیمورکوشکست بھی ہوگئی،اس کے بعدوہ اپنے پانچ سوسپاہیوں کے ساتھ ایک تالاب کے کنارے میں نمازِظہرکی ادائیگی میں مشغول ہوگیا،اسی دوران1283 ء میں تاتاریوں نے پوری جماعت پر حملہ کردیا اور ملک محمدقتل کردیاگیا،امیرخسروبھی اس معرکے میں شامل تھے،گرفتارکرکے بلخ لے جائے گئے،دوسال تک وہیں رہے،اس دوران اس سانحے سے متعلق انھوں نے نہایت ہی پردردمرثیے لکھے اور دہلی بھیجے،یہاں لوگ مہینوں تک ان مرثیوں کوسنتے،پڑھتے اوراپنے عزیزوں کی موت پرنوحہ کرتے۔دوسال بعدکسی حیلے سے امیرخسرودہلی واپس آنے میں کامیاب ہوگئے،سلطان بلبن کے دربارمیں حاضری دی،اس کے بیٹے ملک محمدکے ناحق قتل پرایک بہت ہی پردردمرثیہ پڑھا،اسے سن کرپورے دربارمیں کہرام برپاہوگیا،کسی کوکسی کاہوش نہ رہا،سب دہاڑیں مارماررونے لگے،خود بادشاہ روتے روتے بے حال ہوگیا،کثرتِ گریہ کی وجہ سے اسے بخارآگیااوربالآخروہ اسی صدمے میں جاں بحق ہوگیا۔
اس کے بعدامیرکاتعلق خانِ جہاں سے قائم ہوا،یہ بھی امراے شاہی میں سے تھا،جب وہ اودھ کاصوبہ دارمقررہوا،توامیرکوبھی اپنے ساتھ اودھ لے گیا، دوسال وہاں رہے،مگر پھراپنی والدہ کی محبت اوران کے بلاواپردہلی واپس آگئے۔یہاں کے سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے تھے،بلبن کی موت کے بعداس کے پوتے کیقبادخان کوحکمراں بنایاگیا،اس کی عمرصرف سترہ سال تھی اوروہ اس میدان کاآدمی بھی نہ تھا،شراب وکباب اور عیاشی میں ڈوبا رہتا، مفاد پرست امراے سلطنت فائدہ اٹھاتے رہے،سیاسی ناپختہ کاری کی وجہ سے اس نے خوداپنے باپ بغراخاں سے مقابلے کی ٹھان لی ،جواس وقت بنگال کا حکمراں تھااور دہلی سے فوج لے کر نکل بھی گیا،راستے میں دونوں طرف سے نامہ وپیام ہوتے رہے،بالآخرباپ بیٹے میں صلح ہوگئی،کیقبادنے امیرسے درخواست کی کہ اس واقعے کومنظوم کردیں؛چنانچہ چھ ماہ کی محنت کے بعدامیرنے مثنوی’’قران السعدین‘‘لکھی،یہ ان کی پہلی مثنوی ہے، اس میں اشعار کی تعداد تقریبا 3944 ہے ۔کیقبادصرف تین سال حکومت کرسکا،بیماری میں مبتلاہوکرمرگیا،اس کے بعداس کابیٹاشمس الدین کیکاؤس تخت نشیں ہوا،وہ بالکل بچہ تھا،صرف تین ماہ بعدامراے سلطنت نے اسے قیدکردیااوراس کے بعدجب بلبن کے خانوادے سے کوئی وارث نہ بچا،توترکی فوجی جلال الدین خلجی، جس کا پہلے سے دربارمیں اثرورسوخ تھا،تختِ سلطنت پربراجمان ہوگیا،یہ شخص علمی اعتبار سے بھی باصلاحیت تھا،ادب شناس و ادب نوازاور شعروسخن سے بھی دلچسپی رکھتاتھا،اس نے امیرخسروکواپنے دربارِخاص میں شامل کرلیا،امیرنے اس کی فتوحات کو’’تاج الفتوح‘‘کے نام سے نظم کیا،یہ امیر خسرو کی دوسری تاریخی مثنوی ہے، جو 1291ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچی، اس میں جلال الدین خلجی کی 4 فتوحات کا ذکر ہے، جو اسے ایک سال کے عرصے میں حاصل ہوئیں، اس کے بعدتختِ حکومت پراس کا بھتیجاعلاء الدین خلجی قابض ہوگیا،یہ شخص بھی متعددسیاسی و انتظامی خوبیوں کے ساتھ علم و ادب نوازتھا،اس نے بھی امیر خسرو کا خصوصی اعزازواکرام کیا،امیرنے اس کی فتوحات کے تفصیلی تذکرے پر مشتمل ’’تاریخِ علائی ‘‘یا’’ خزائن الفتوح‘‘ لکھی، یہ علاؤالدین خلجی کے عہد کی مختصر سی تاریخ ہے، اس میں 1295ء سے 1311 ء تک کے حالات درج ہیں،اسی زمانے میں انھوں نے خمسۂ نظامی کے جواب میں پانچ مثنویاں لکھیں۔یہ سب مثنویاں علاؤالدین خلجی کے نام منسوب ہیں:
(1) مطلع الا نوار: امیر خسرو کی اس تصنیف کا موضوع پند و نصیحت اوراخلاق وتصوف ہے، یہ نظامی گنجوی کی مثنوی’’ مخزن الاسرار‘‘ کے جواب میں ہے اور دو ہفتے میں مکمل ہوئی، اس کا سالِ تالیف 1298ء ہے۔
(2) شیریں خسرو:نظامی کی مثنوی ’’خسرو شیریں‘‘کاجواب ہے، اشعار کی تعداد 4134 ہے اور 1298 ء میں مکمل ہوئی۔
(3) لیلیٰ و مجنوں:نظامی کی مثنوی لیلیٰ ومجنوں کا جواب ہے اور 1299ء میں لکھی گئی ، یہ 2650 اشعار پر مشتمل ہے۔
(4) آئینۂ سکندری: نظامی کی مثنوی’’ سکندر نامہ‘‘ کے جواب میں 1299 ء میں لکھی گئی ہے۔
(5) ہشت بہشت:نظامی کی مثنوی’’ ہفت پیکر ‘‘کاجواب ہے،ا س میں اشعار کی تعداد 3350 ہے اور یہ 1301ء میں لکھی گئی ہے۔
مولاناجامی نے’’بہارستان‘‘میں امیرخسروکے خمسہ کوخمسۂ نظامی کے جواب میں لکھی گئی تمام مثنویوں میں بہترقراردیاہے۔
خلجی حکومت کے خاتمے کے بعدجب غازی ملک(غیاث الدین تغلق) دہلی میں تخت نشیں ہوا،تواس نے بھی خسروشناسی کابھرپورثبوت دیتے ہوئے امیرکوخوب نوازااورحسبِ مرتبہ ان کا اکرام کیا،امیرنے بھی احسان شناسی کاثبوت دیااور’’تغلق نامہ‘‘لکھا،جس میں اس کی تخت نشینی،فوج کشی اور حصول یابیوں کاذکرہے۔
دیگرتصانیف:
مولانا جامی نے امیرخسرو کی مکمل تصنیفات کی تعداد 99 بتا ئی ہیں، ممکن ہے کہ امیر خسرو نے اس قدر کتابیں تصنیف کی ہوں؛ کیونکہ آپ بہت پر گو شاعر تھے اور زندگی کے آخری لمحے تک شعر کہتے رہے،محتاط اندازے کے مطابق انھوں نے فارسی زبان میں پانچ لاکھ اشعارکہے،جبکہ ہندوی اور پنجابی وغیرہ کے اشعاربھی اتنے ہی ہوں گے؛لیکن ان کی کتابوں اورشعری دوادین میں سے صرف بیس بائیس دستیاب ہیں ۔کچھ تووہ ہیں،جن کااس مقالے میں مختلف حوالوں سے ذکرہوا،ان کے علاوہ’’وسط الحیات‘‘،’’غرۃ الکمال‘‘،’’بقیہ نقیہ‘‘،’’نہایۃ الکمال‘‘،’’عشقیہ‘‘،’’نہ سپہر‘‘،’’قصۂ چہاردرویش‘‘،’’جواہرِخسروی‘‘ اور ان کے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کے ملفوظات پر مشتمل ’’افضل الفوائد‘‘بطورِخاص قابلِ ذکرہیں۔
وفات:
غیاث الدین تغلق نے جب بنگال کاسفرکیا،توخسروکوبھی ساتھ لے گیا،ابھی وہیں تھے کہ اپنے مرشدخواجہ نطام الدین اولیاکی وفات کی خبرسنی،سنتے ہی بھاگم بھاگ دہلی آئے،غم کے مارے براحال ہوگیا،جوکچھ مال و دولت تھا،سب لٹادیااور بس اپنے محبوب کی یاد میں خودکوگھلانے لگے،یہاں تک کہ چھ ماہ بعد اکتوبر 1325ء میں انھوں نے بھی وفات پائی اور اپنے مرشدکے پاس ہی مدفون ہیں۔ (مستفادازشعرالعجم،علامہ شبلی نعمانی، ج:دوم، ص:107-123 ، ط:معارف پریس اعظم گڑھ،طبعِ سوم)
شاعرانہ فضل وکمال:
امیر خسرونے ہر رنگ وآہنگ میں شعر کہا ہے اور تمام اصنافِ سخن کواپنے نتائجِ فکرسے مالامال کیاہے، فارسی شاعری کی تاریخ میں دوسری ایسی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی، جس نے ہر صنف میں اس خوب صورتی، پختگی اور مہارت سے شعر کہے ہوں،جوخسروکے ہاں نمایاں طورپرنظرآتی ہیں،یہ واقعہ ہے کہ خسرو کے اشعار ہر صنفِ سخن کے استادوں کے ہم پلہ ہیں،فارسی کے نامورشعرامیں فردوسی کی شناخت مثنوی سے ہے، سعدی قصیدہ گوئی کے میدان میں لاچار نظر آتے ہیں،انوری قصیدے کا بادشاہ ہے؛ لیکن وہ غزل، مثنوی اور دوسری اصنافِ سخن میں طبع آزمائی نہیں کرسکتا ، حافظ اور نظیری غزل کے دائرے سے باہر نہیں نکل پائے؛ لیکن خسرو کا شاعرانہ کمال،ہمہ گیری اورفنکارانہ نابغیت غزل، مثنوی، قصیدہ اور رباعی سب پر محیط ہے؛ یہی وجہ ہے کہ تب سے اب تک فارسی شاعری میں ان کی دھاک جمی ہوئی ہے اور بڑے بڑے اساتذۂ فن نے ان کی برتری کوتسلیم کیاہے۔یہ بھی خسروکی انفرادیت کہی جائے گی کہ’’ غرۃ الکمال‘‘ کے دیباچے میں انھوں نے نہایت انصاف اور دیانت داری کے ساتھ خود اپنا محاکمہ کیاہے، وہ لکھتے ہیں کہ شاعری کے معاملے میں وہ شخص حقیقی استاد ہے، جس کے کلام میں یہ چار شرائط موجود ہوں:
1۔ صاحبِ طرزِ خاص ہو۔
2۔ اس کاکلام غلطیوں سے پاک ہو۔
3۔ اندازشاعرانہ ہو،واعظانہ و صوفیانہ نہ ہو۔
4۔ مرقع دوزی نہ ہو،یعنی دوسروں کاکلام سرقہ کرکے اپنی شاعرانہ عظمت کامحل نہ تعمیرکرے۔
ان شرائط کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ جو کچھ میں نے نصیحت کے طور پر اخلاقیات کے باب میں لکھا ہے، اس میں حکیم ثنائی اور خاقانی کی پیروی کی ہے،وہ کھلے دل سے کہتے ہیں کہ ان چار شرائط میں سے مجھ میں صرف دو شرطیں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے میں درحقیقت استاد نہیں ہوں، میرا کلام صوفیا اور واعظین جیسا نہیں ہے، دوسرا یہ کہ میں چوری نہیں کرتا،انصاف اور خودشناسی کی اس سے بہتر مثال بطورخاص شاعری میں شایدہی کسی نے پیش کی ہو۔ انھوں نے غزل میں سعدی، مثنوی میں نظامی گنجوی، اخلاقی شاعری میں ثنائی و خاقانی، قصیدے میں رضی الدین نیشاپوری ،عرفی و نظیری کو نمونہ بنایا ہے۔ خسروسے پہلے مخصوص اشیا مثلا:قلم، کاغذ، دریا، کشتی، شمع، صراحی، پھلوں اور پھولوں کے بارے میں ایسی مسلسل نظمیں نہیں کہی گئیں کہ ان کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے،یہ ایشیائی شاعری کانقص شمارکیاجاتاتھا، امیر خسرو نے اس کمی کو پورا کیا؛چنانچہ مثنوی ’’قران السعد ین‘‘ میں اکثر اسی قسم کی مثنوی لکھی ہے اوراس میں ہندوستانی آب و ہواسمیت یہاں کے پھل،پھول،کھانے،تہوار،رسموں؛سب کاتفصیلی ذکرکیاہے۔اس قسم کی شاعری کو خسرو وصف نگاری کہتے ہیں۔(شعر العجم،ج:دوم)

قصیدہ نگاری:
امیر خسرو نے قصا ئدمیں خاقانی،انوری اور کمال کی پیر وی کی ہے،جس استادشاعر کے جواب میں قصیدہ کہتے ہیں،اس کی پیر وی کر تے ہیں۔خاقانی کے ایک مشہور قصیدے کے جواب میں خسرو نے ایک طویل قصیدہ لکھاہے،جس میں اسلوب، طرزِ تحریر، تشبیہات وکنایات اور تر کیبات بھی انہی کے جیسی استعمال کی ہیں۔
غزلیاتِ خسرو:
غزل گوئی میں امیر خسرو کے پیش رو سعدی شیرازی ہیں،آپ کی شاعری کا شباب عین اس وقت شروع ہوا،جب سعدی اپنے دورِ شباب سے گزر چکے تھے، سعدی نے شیراز میں بیٹھ کرجونغمہ سرائی کی،اس سے ہندکے اربابِ ذوق نے خوب لطف بھی اٹھایااوربقدرِ ظرف استفادہ بھی کیا؛چنانچہ خسرو نے بھی غزل گوئی میں شیخ سعدی کی پیر وی کی؛اس وجہ سے انھیں طوطیِ ہند بھی کہاگیا۔البتہ انھوں نے غزل میں تقلیدِمحض نہیں کی؛بلکہ بہت سی نئی باتیں،حسن وکشش کے نئے مظاہر،دل کشی و جاذبیت کے مختلف پہلوبھی تلاش کیے۔بقول علامہ شبلی نعمانی خسروکی غزلیات،معاملاتِ عشق کے بیان،اسلوب کی جدت، عجزونیاز، زبان کی نرمی اور شیرینی،خیالات کی سادگی،بحروں کے ترنم کی وجہ سے نہایت دل پسندومقبول ہیں۔
سوز و گداز:
سعدی نے غزل کواس کے مزاج کے مطابق لہجہ بخشا اور اس کے دامن کو وسیع ترکیا، اس لیے انھیں فارسی غزل کا مقتدااورامام مانا جاتا ہے، امیر خسرو نے اپنی غزلوں میں ان کی پیروی کی اور ساتھ ہی اپنی فکری زرخیزی کی بہ دولت فارسی غزل میں نئی خصوصیات بھی سموئیں ،شدتِ جذبات واحساسات،حسن وعشق کے معاملات، قلبی واردات، محبوب کی بے نیازی وناز آفرینی،عاشق کی نیاز مندی و خاکساری، فراق کی اذیتیں اور جوش وحرارت ان کی غزلوں میں بہ تمام و کمال موجود ہیں،بقول شبلی نعمانی :’’سوزوگدازکے خیالات جب وہ اداکرتے ہیں،تومعلوم ہوتاہے کہ آگ سے دھواں اٹھ رہاہے‘‘۔(شعرالعجم ، ج:دوم،ص:170)مثال کے طور ایک شعر ملاحظہ ہو:
می روی وگریہ می آید مرا
ساعتے بنشیں کہ باراں گزرد
محبوب کی بے رخی اور چھوڑکرچلے جانے پر عاشق کی آنکھوں سے آنسووں کابہنامعمول کا واقعہ ہے؛لیکن اس کے بیان کاجواندازخسرونے اختیارکیا،اس نے اس شعرمیں ایک خاص قسم کی جاذبیت،اثرانگیزی اورمعنویت پیدکردی ہے۔ تمھارے جانے کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسوجاری ہیں،کچھ دیررک جاؤکہ بارش تھم جائے۔
جدتِ اسلوب:
جدتِ اسلوب غزل کے حسن و جمال اور اس کی جامعیت و کمال کا اہم ترین وسیلہ ہے۔فارسی شاعری میں شیخ سعدی اس کے موجد کہے جاتے ہیں؛لیکن امیر خسرونے اس میں جونئے نئے رنگ بھرے،ان کا پہلے کی شاعری میں تصوربھی نہیں تھا،مثلاً محبوب کی گراں قدری کوبیان کرنے کے لیے یہ اسلوب کس کے ذہن میں آیاہوگا؟
ہردو عالم قیمتِ خود گفتہ اِی
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
شاعرمحبوب سے مخاطب ہے کہ تم نے دونوں جہانوں کواپنی قیمت قراردیاہے؛لیکن تمھارے حسن و کشش،دل فریبی و دل ربائی کے سامنے تویہ قیمت بھی کم ہے؛اس لیے اپنی قیمت میں اضافہ کرو۔
معشوق ظلم و ستم،بے رخی و بے وفائی کرنے کے باوجودمحبوب ہے،اس مضمون کوبیان کرنے کایہ انوکھاانداز:
جاں زتن بردی ودرجانی ہنوز
دردہا دادی ودرمانی ہنوز
محبوب کے سامنے خودسپردگی کے لطیف وکیف آگیں احساسات کوبیان کرنے کایہ خوب صورت اسلوب بھی خسروکاامتیاز ہے:
خسرو بہ کمندِ تو اسیر است
بیچارہ کجا رود زکویت
خسروتوتمھارے کمندِ محبت کاقیدی ہے،بے چارہ تیری گلی سے نکل کر کہاں جائے۔اس شعرمیں جوعاشق کاعجزونیاز،طرزِاظہارکابے ساختہ پن اور خلوص کاوفورہے وہ صرف محسوس کیاجاسکتاہے۔
تشبیہات:
امیر خسروکی غزلوں میں تشبیہات کی بہتات ہے اور سبھی تشبیہات طبع زادہیں،ان کی شایدہی کوئی غزل ایسی ہو،جس میں یہ وصف نہ پایا جاتاہو، پھر چوں کہ خسروہندوستان کے پروردہ ہیں؛اس لیے انھیں ہندی ماحول سے تشبیہات کے کچھ ایسے مظاہر بھی مل جاتے ہیں،جوعموماً فارسی شاعری میں نہیں نظرآتے،مثلاً فار سی شاعری میں عام طورپر محبوب کی رفتارکو مور کے خرام سے تشبیہ دی جاتی ہے؛ لیکن خسرو کو کبوتر کی مستانہ چال میں بھی وہی کیف و مستی نظر آتی ہے:
خرامِ آں صنم ناز نیں بعیارے
کبوترے بخرام آمدہ است پندارے
منظر کشی:
منظرکشی بھی غزل کاایک اہم وصف ہے اوراس میں شاعرکی قوتِ ادراک وتخیل کااہم کردارہوتاہے،شاعرجتنا زیادہ فطرت کی دل فریبیوں سے آگاہ ہوگا، مناظرِفطرت کاجمال جس قدراس پر آشکارہوگا،اس کی منظرکشی اتنی ہی بامعنی اورخوب صورت ہوگی۔امیرخسرواس میں بھی صاحبِ کمال ہیں اورانھوں نے اپنی غزلوں میں جومنظرکشی کی ہے،بلاشبہ ان میں ظاہری و معنوی حسن وخوب صورتی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے،مثلاًیہ شعر:
بادِصبا چو از رخِ اوزلف درربود
ابرِ سیہ کشادہ شد و آفتاب کرد
باد صبا کے جھونکے نے جب محبوب کے چہرے سے زلف کو ہٹا دیا توایسالگاکہ گویا بادل چھٹنے کے بعد سورج نکل آیاہو۔اس شعرمیں محبوب کی زلف کوبادل اوراس کے چہرے کوآفتاب سے تشبیہ دی ہے اورساتھ ہی چہرے سے زلف کے ہٹنے کے منظرکواس خوبی سے بیان کیاہے کہ قاری عش عش کیے بنانہیں رہتا۔
معاملہ بندی:
معاملاتِ عشق کے بیان کو بقول مولانا شبلی نعمانی اہلِ لکھنؤمعاملہ بندی کہتے ہیں اور مولانا آزادنے امیر خسرو کو معاملہ بندی کا موجدقراردیاہے:
خوش آں زمانے کہ بہ رویش نظرِ خفتہ کنم
چو سوئے من نگر د او نظر بگردانم
وہ وقت بہت ہی لطف انگیزہوتاہے، جب میں اسے دزدیدہ نظروں سے دیکھتا ہوں؛ لیکن جب وہ میری طرف دیکھتا ہے، تو میں نظریں جھکالیتا ہوں۔
موسیقی:
موسیقی میں توامیرخسروامامِ وقت تھے،سوانھوں نے جہاں اپنی شاعری میں الفاظ و اسلوب کی خوب صورتی پر توجہ مرکوزکی ہے،وہیں موسیقیت اورترنم پر بھی زور دیا ہے،ان کے زیادہ تر اشعارمیں غنائیت کاایک خاص عنصرپایاجاتاہے،جس سے سامع یاقاری کے وجدان پرکیف و سرمستی طاری ہوجاتی ہے اور وہ جھومنے لگتاہے،ان کے اشعارزیادہ تر چھوٹی بحروں میں ہیں اوراس کے ذریعے انھوں نے ان اشعارمیں روانی،سلاست اور ترنم ریزی پیداکرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔
مضمون آفرینی:
مضمون آفر ینی سبکِ ہندی کی خصوصیت ہے اورفارسی شاعری میں یہ کمال اسمٰعیل کی ایجاد ہے؛ لیکن ان کی مضمون آفرینی قصائد تک محدود ہے،غزل میں مضمون آفرینی کے موجد امیر خسرو ہیں،مثلاًان کاایک شعرہے:
زہے عمرِ درازِ عاشقاں گر
شبِ ہجراں حسابِ عمرگیرند
اگرعاشقوں کی عمر میں ہجروفراق کی رات کو بھی شامل کرلیا جائے تو ان کی عمر بہت ہی دراز ہوجائے گی۔مرزا غالب نے اسی مضمون کویوں بیان کیاہے:
کب سے ہوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں
شب ہاے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
بیان کا تسلسل:
غزل کایہ عیب شمارکیاجاتاہے کہ اس کے مضامین میں تسلسل نہیں ہوتا،نہ قدماکی شاعری میں تسلسل نظرآتاہے اور نہ متاخرین کی غزلوں میں ایسا ہوا، قصیدے مدح کے لیے مخصوص ہیں،مثنوی اخلاقیات یاقصے کہانیوں کے لیے ہیں اوران میں میں موضوع ومضمون کے لحاظ سے تسلسل ہوتاہے؛لیکن اگرغزل میں معاملاتِ حسن و عشق کوتفصیل سے بیان کرناہو،تواس صورت میں مضامین و معانی کے تسلسل کی داغ بیل امیر خسرونے ڈالی،کسی مخصوص کیفیت کے سحرمیں ڈوب کر پوری غزل لکھ جاتے ہیں۔(شعرالعجم،ج:دوم)
اس کے علاوہ تصوف کے نکتے،صنائع و بدائع،روزمرہ اور عام بول چال کی زبان کا بخوبی استعمال بھی امیرخسروکی شاعری کے نمایاں اوصاف ہیں،سادی زبان اور سہل اسلوب میں اخلاقیات کی تلقین و تعلیم پربھی انھوں نے ہزاروں اشعارمیں زوردیاہے،عربی وپنجابی ،سنسکرت زبانوں سے بھی انھیں بھرپور واقفیت تھی،سوانھوں نے جابجاان زبانوں کے الفاظ بھی بخوبی استعمال کیے ہیں اورجوان کے لاکھوں ہندوی یاہندوستانی زبا ن کے اشعار ہیں،وہ اگرچہ محفوظ نہیں کیے جاسکے،مگرجوکچھ بھی سینہ بسینہ محفوظ رہ گئے،وہ ہندوستانی شاعری کونئے آفاق تک پہنچانے کے ساتھ اردوزبان وشاعری کی بنیادواساس بن گئے۔ایک شعرمیں دوالگ الگ زبانوں کااستعمال بھی امیر خسروکے یہاں بہت ہی بھلااور خوب صورت معلوم ہوتا ہے، اس حوالے سے ان کی ایک معروف غزل کے چند اشعار:
زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
(اس غریب کے حال سے تغافل مت برت،باتیں بنا کرآنکھیں نہ پھیر ، میری جان اب جدائی کی تاب نہیں، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے)
شبانِ ہجراں درازچوں زلف وروزِوصلت چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
(جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصرہیں،اے دوست محبوب کو دیکھے بِنا یہ اندھیری راتیں کیوں کر کاٹوں؟)
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں
کسے پڑی ہے ،جو جا سنائے پیارے پی کو ہماری بتیاں
(پلک جھپکنے میں وہ دو جادو بھری آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں،اب کسے پڑی ہے کہ جا کر محبوب کو ہمارے دل کا حال سنائے)
چوں شمعِ سوزاں ،چوں ذرہ حیراں ہمیشہ گریاں بہ عشق آں ام
نہ نیند نیناں ،نہ اَنگ چیناں ،نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
(میں عشق میں جلتی ھوئی شمع اور ذرۂ حیراں کی طرح مسلسل گریہ کناں ہوں،نہ آنکھوں میں نیند، نہ تن کو چین ؛کیوں کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں اورنہ کوئی پیغام بھیجتے ہیں)
اعترافِ کمال:
خسروکی شاعرانہ عظمت کااعتراف ان کے معاصرعظیم شعرانے کیاہے،مؤرخین وادبانے انھیں خراجِ تحسین پیش کیاہے،متاخرین نے ان کے شعری سرمایے سے استفادہ واستفاضہ کے ذریعے اپنی شاعری کے چراغ روشن کیے ہیں،اردوشاعری اور اردوزبان کوان سے فکرونظرکی بنیادیں حاصل ہوئیں ،یہی اسباب ہیں کہ آج کم وبیش ساڑھے سات سوسال کاطویل ترین عرصہ گزرجانے کے باوجودہندوستانی وفارسی شعری و ادبی دنیاان کی بارگاہِ عظمت کے سامنے تعظیماً جھکی ہوئی ہے۔
فارسی شاعری میں حافظ شیرازی کامقام ومرتبہ خود بہت بلندہے،مگروہ بھی خسروکے عقیدت کیش ہیں،اسی عقیدت کے زیر اثرانھوں نے خسرو کی منتخب غزلیات کا ایک قلمی نسخہ بھی تیار کیاتھا۔ اس کے علاوہ حافظ نے غیاث الدین حاکم بنگال کو جو غزل بھیجی تھی، اس کے ایک شعر میں امیر خسرو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھاہے:
شکر شکن شوند ہمہ طوطیانِ ہند
این قدر پارسی کہ بہ بنگالہ می رود
عرفی لکھتا ہے:
بروحِ خسرو ازیں پارسی شکر دارم
کہ کامِ طوطی ہندوستاں شود شیریں
’’جواہرالاسرار‘‘کے مصنف نے لکھاہے کہ شیخ سعدی خسروسے ملاقات کے لیے دہلی تشریف لائے تھے،علامہ شبلی نعمانی تاریخی حقائق کی وجہ سے اس واقعے کی تردیدکرتے ہیں،البتہ یہ بالکل درست واقعہ ہے کہ جب ہندوستان کے بادشاہ نے شیخ سعدی کوبلابھیجا،توانھوں نے بڑھاپے کی وجہ سے آنے سے معذرت کردی اورساتھ ہی یہ کہاکہ:’’خسروجوہرِقابل ہیں،ان کی تربیت کی جائے‘‘۔اس وقت خسروکی عمرمحض تیس بتیس برس تھی۔ (شعرالعجم، ج: دوم، ص:143) ان کے علاوہ امیر حسن علاسجزی،جوخسروکے معاصراور اساتذۂ غزل میں سے تھے،اپنے کلام کا خسروسے موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
خسرو ازراہِ کرم بہ پذیرد
آنچہ من بندہ حسن می گویم
سخنم چوں سخنِ خسرونیست
سخن ایں است کہ من می گویم
ملاعصمت بخاری وباباخجندی بھی خسروکے مداح ہیں،کاتبی نیشاپوری کہتے ہیں:
میرخسروراعلیہ الرحمہ شب دیدم بخواب
گفتم ایں عصمت ترایک خوشہ چینِ خرمن است
شعرِ اوچوں شعرِ تواندرجہاں شہرت گرفت
گفت باکے نیست شعرِاوہماں شعرِ من است
مولاناجامی نے ’’بہارستان‘‘میں ان کوخراج ِتحسین پیش کیاہے،مؤرخین میں ضیاء الدین برنی جوان کے معاصرتھے،انھوں نے ’’تاریخِ فیروزشاہی‘‘میں بڑے وقیع الفاظ میں امیر خسروکاذکرکیاہے،صوفیاکے طبقے میں داراشکوہ نے’’سفینۃ الاولیا‘‘میں،شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے محدث کی حیثیت سے اپنی ایک تحریر میں امیر خسروکاذکرکرتے ہوئے انھیں سلطان الشعرا،برہان الفضلا،یگانۂ عالم دروادیِ سخن کے خطابات سے یادکیاہے،تذکرہ نویسوں میں فرشتہ، دولت شاہ سمرقندی،آزادبلگرامی نے خسروکے فضل و کمال پرتفصیلی کلام کیاہے۔(خسروشناسی،مرتبہ:ظ انصاری،ابوالفیض سحر، ص:192، قومی کونسل برائے فروغِ اردوزبان،نئی دہلی1998ء)علامہ شبلی نعمانی ’’شعرالعجم‘‘میں لکھتے ہیں:
’’ہندوستان میں چھ سوبرس سے آج تک اس درجہ کاجامعِ کمالات نہیں پیداہوا اور سچ پوچھوتواس قدرمختلف اور گوناگوں اوصاف کے جامع ایران و روم کی خاک نے بھی ہزاروں برس کی مدت میں دوچارہی پیداکیے ہوں گے،صرف ایک شاعری کولو،توان کی جامعیت پر حیرت ہوتی ہے! فردوسی، سعدی، انوری، حافظ، عرفی،نظیری بے شبہ اقلیمِ سخن کے جم و کَے ہیں،مگران کی حدودِحکومت ایک اقلیم سے آگے نہیں بڑھتیں،حافظ،عرفی،نظیری غزل کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتے اور انوری غزل کوچھونہیں سکتا؛لیکن خسروکی جہانگیری میں غزل،مثنوی،قصیدہ،رباعی سب کچھ داخل ہے اور چھوٹے چھوٹے خطہ ہاے سخن یعنی تضمین،مستزاداور صنائع و بدائع کاتوشمارنہیں․․․․․․․مختلف زبانوں کی زبان دانی کایہ حال ہے کہ ترکی اور فارسی اصلی زبان ہے،عربی میں ادباے عرب کے ہمسرہیں اورسنسکرت کے ماہر ہیں‘‘۔(ج:دوم،ص:132-34،متفرقاً)اوربیسویں صدی میں اردووفارسی شاعری کی تواناترین آوازعلامہ اقبال نے خسروکے نقشِ دوام کاذکریوں کیاہے:
رہے نہ ایبک و غوری کے معرکے باقی
ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسرو
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nayab Hasan

Read More Articles by Nayab Hasan: 28 Articles with 12487 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2016 Views: 1219

Comments

آپ کی رائے