پاکستان کو گیدڑ بھبکی……خود بھارت کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا خوف

(عابد محمود عزام, Lahore)
کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں مسلسل 157 ویں روز بھی مظالم کی نئی تاریخ رقم کرنے کے باوجود بھارت غیور کشمیری عوام کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکا ہے۔ گزشتہ5ماہ کے دوران بھارتی فورسز نے وادی کشمیر میں جو مظالم ڈھائے ہیں، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ گزشتہ 5ماہ کے دوران ظلم و ستم، غارت گری اور بربریت کے تمام ریکارڈ مات دے دیے گئے ہیں۔ 100 سے زاید معصوم اور بے گناہوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا، لیکن سنگ دل حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے اور نہ ہی لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر نادم ہیں۔ تمام تر مظالم کے باوجود بھارتی فورسز حریت پسند کشمیری عوام کو آزادی کے مطالبے سے روک نہیں سکی، بلکہ کشمیری عوام سینہ تان کر بھارت کے غرور کو خاک میں ملا رہے ہیں۔ کشمیری عوام کے حوصلے، استقامت اور جرات کے سامنے نہ صرف بھارت گھٹنے ٹیک چکا ہے، بلکہ اس کے پاگل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور حریت پسندوں کے سامنے بھارت کی بے بسی کا اظہار پاکستان کے خلاف مبتلا جنگی جنون میں دن بدن اضافے سے واضح نظر آرہا ہے۔ اسی لیے بھارت نے ایک طرف پاکستان کے خلاف سرحدی خلاف ورزی کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ کئی روز سے سرحد پر موجود نہتے عوام پر گولہ باری کر کے اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کرتا ہے اور دوسری جانب پاکستان میں اپنے ایجنٹ و جاسوس چھوڑ کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔ کبھی پاکستان کا پانی روک لیتا ہے تو کبھی پاکستان کو دھمکیاں دینے پر اتر آتا ہے۔ اب بھارت کو بوکھلاہٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ پاکستان کے ٹکڑے کرنے جیسے بیانات دینے لگا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ راجناتھ سنگھ نے ایک مرتبہ پھر خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی کہ بھارت 1947ء میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوا، مگر ہم نے آج تک اس تقسیم کو قبول نہیں کیا۔ بھارت کو ایک بار پھر مذہبی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان نے دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھی تو وہ 10 ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے ذریعے کشمیر کو بھارت سے الگ کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ دہشت گردی بزدلوں کا ہتھیار ہے، بہادروں کا نہیں۔ راجناتھ کے بیان پر ردعمل میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کی دھمکی گیدڑ بھبکی ہے۔ لگتا ہے راج ناتھ سنگھ بوکھلاہٹ میں ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ آج کا پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ مودی سرکار مزید رہی تو بھارت کو اپنے ٹکڑے گننا مشکل ہو جائے گا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کے پاکستان کو 10 ٹکڑے کرنے کے بیان پر وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے بھی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا پاکستان کو ٹکڑے کرنا محض ایک دیوانے کا خواب ہے، جو اﷲ کے حکم سے کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے صرف کشمیرکو ہی نہیں، بلکہ پورے بھارت میں اپنے مذموم مقاصد کی خاطر نفرت کی دیوار کھڑی کردی ہے۔ بھارت میں موجود مسلمانوں کے علاوہ دلتوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کا استحصال کیا جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بی جے پی کی حکومت کی اقلیت کش پالیسوں سے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتں شدید خطرات اور خوف کا شکار ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خطے میں دہشت گردی کی وجہ پاکستان نہیں، بلکہ وہ ممالک ہیں، جہاں انسانی حقوق کی پامالی، جبر و تشدد اور مذہبی منافرت ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ بھارتی تنظیمیں آج بھی اشتعال انگیزی، مذہبی تعصب اور اقلیتوں کی نسل کشی کو اپنا ایجنڈا سمجھتی ہیں۔ بھارتی حکومت پاکستان پر تنقید کی بجائے اپنی پرتشدد تنظیموں پر توجہ دے اور بھارتی حکمران آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں خود نظر آجائے گا۔ بھارتی حکمرانوں کی پالیسیوں نے جہاں خود بھارت کو منقسم اور انتشار کا شکار کردیا ہے، وہاں پاکستانی قوم کو ان پالیسیوں کے خلاف زیادہ متحد اور منظم کردیا ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ بھارت بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں کھلے عام مداخلت کررہا ہے اور اس کا برملا اظہار و اعتراف کسی سے پوشید ہ نہیں۔ کل بھوشن یادیو سمیت دیگر بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاری بھی پاکستان میں تخریب کاری میں بھارتی ہاتھ کے ملوث ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، لیکن افسوس ہے کہ بھارت کی اشتعال انگیزی اور پاکستان میں سرعام مداخلت پر عالمی برادری خاموش ہے۔ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن بھارت کا تسلط و اجارہ داری اور موجود بھارتی حکومت کی پرتشدد پالیسیاں کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کے پاکستان کو ٹکڑے کرنے کے بیان پر خود بھارتی کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان بھارت کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر رہا ہے تو یہی کام راجناتھ سنگھ تم اور تمہارا باس نریندر مودی بھی کر رہا ہے۔ گزشتہ سال جنتا دل اتحاد کے رہنما لالو پرساد نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر مودی سرکار رہی تو بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ پاکستان کے خلاف بیان دینے پر دنیا بھر سے بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جبکہ پاکستان میں اس بیان کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ پاکستان کی طرف میلی نگاہ ڈالی تو پاکستانی قوم افواج پاکستان کے ساتھ مل کر انڈیا کا وہ حشر کرے گی کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ مودی سرکار اور اس کے وزراء کی پاکستان کو کھلی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ کشمیریوں کی مضبوط جدوجہد آزادی کے نتیجہ میں ہندوستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا۔
بھارت روز اول سے پاکستان کا دشمن ہے، جس کا اظہار بھارتی حکومت کے ارکان بارہا کرچکے ہیں۔ پاکستان سے دشمنی نبھانے کے لیے بھارتی سرکار ہمیشہ پاکستان کے خلاف سرگرم رہی ہے، بلوچستان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھارت کے ایجنٹ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ پاکستان میں آئے روز دہشتگردی اور بدامنی کو فروغ دینے کے لیے بھارت ایڑھی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں دھماکے بھی کرواتا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کے وجود کو خطرات سے دوچار کرنا ہوتا ہے، بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر ان حالات سے دوچار کیا جائے جن حالات سے 1971ء میں مشرقی پاکستان توڑ کر کیا گیا تھا۔ اسی گھناونے خواہش کا اظہار بھارتی وزیر خارجہ نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ پاکستان کے دس ٹکڑے کردیں گے، لیکن اس کے جواب میں خواجہ آصف اور چودھری نثار نے بھی بالکل ٹھیک جواب دیا ہے، جوبالکل حقیقت ہے۔ بھارت کی انتہاپسندانہ اور غیرمنصفانہ پالیسیوں کے سبب بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔ بھارت کو ٹکڑے کرنے کے لیے بھارت کی پالیسیاں ہی کافی ہیں۔ پاکستان کو ٹکڑے کرنے کی دھمکی دینے والا بھارت اپنی ہی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خود کچھ سالوں کے بعد کئی ٹکروں میں بٹ جائے گا، جس کا انکشاف گزشتہ سال ایک معروف امریکی جریدے نے کیا تھا کہ بھارت دہشتگردوں کی جنت ہے اور 317 دہشتگردی کیمپوں کی موجودگی کے باعث دنیا کا سب سے خطرناک ملک اور دہشتگرد حملوں میں ہلاکتوں کے لحاظ سے عراق کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے، جبکہ علیحدگی زور پکڑتی تحریکوں کے باعث بھارت 2025ء تک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ معروف جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق قومی انسداد دہشتگردی مرکز (این سی سی)واشنگٹن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں ماؤ نواز باغیوں، تامل علیحدگی پسندوں، کشمیری مجاہدین، خالصہ تحریک سمیت علیحدگی کی تحریکیں عروج پر ہیں اور دن بدن زور پکڑ رہی ہیں۔ 2025ء تک بھارت کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے خدشات حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ جریدے کا کہنا تھا کہ بھارت میں وقوع پذیر ہونے والے تمام واقعات میں ہمیشہ بھارت نے بیرونی مداخلت خاص طور پر پاکستان اور بنگلا دیش پر الزام تراشی کی، لیکن نتائج ہمیشہ بر عکس نکلے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو بیرونی نہیں اندرونی خلفشار سے خطرہ ہے، جبکہ بھارت نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بھی دہشتگرد تحریک کا روپ دیا ہے اور انتہا پسند ہندو تنظیموں نے بھی اپنے تربیتی کیمپ کھول رکھے ہیں۔ شیو سینا اور بجرنگ دل کے مظالم، گجرات اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام اور امتیازی سلوک کی وجہ سے ہی مسلمان بھارت سے علیحدگی کا نیا خواب دیکھنے لگے ہیں۔ جبکہ ذرایع کے مطابق بھارت میں اس وقت 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں، جن میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی تحریکیں ہیں اور ان تحریکوں نے دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ صرف آسام میں 34دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے، جبکہ نکسل باڑی تحریک نے خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ اس وقت بھارت میں ناگالینڈ، مینرورام، منی پوراور آسام میں یہ تحریکیں عروج پر ہیں۔ جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی آزادی کی تحریک عروج پر ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد علیحدگی کی تحریکیں بھارت کی تقسیم کے لیے چل رہی ہیں، جن سے نمٹنا بھارت کے لیے مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت وہ ملک ہے جہاں ذات پات، نسل و برادری، مذہب اور رسم و رواج کے نام پر انسانی حقوق کی جی بھر کر تذلیل کی جاتی ہے۔ حقوق انسانی کے چارٹرز کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ مذہب، عقیدہ اور ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو ہراساں کرنا، ان کا قتل عام کرنا، کاروبار اور جائیداد کو نذر آتش کرنا معمول کی بات ہے اور ستم یہ کہ یہ سارے کام حکومت کی محفوظ چھتری تلے سرانجام دیے جاتے ہیں۔جب عوام کی برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ ہتھیار اٹھا کر اپنے حقوق کے لیے مسلح تحریک کا آغاز کر دیتے ہیں۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں فقط کشمیر میں ہی انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور صرف کشمیر سے ہی آزادی اور علیحدگی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، حالانکہ یہ تاثر درست نہیں ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پورا بھارت آتش فشاں بنا ہوا ہے، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب (خالصتان)، تامل ناڈو، آسام، ناگا لینڈ، تری پورہ، منی پورہ، میزورام سمیت شمال مشرقی بھارت کی کئی ریاستوں میں علیحدگی کی مضبوط تحریکیں چل رہی ہیں۔ بھارت عالمی طاقتوں کی پشت بانی، کالے قوانین اور قوت کے بے محابا استعمال کی وجہ سے علیحدگی کی ان تحریکوں کو دبائے رکھنے میں کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے، لیکن وہ کب تک ایسا کرسکے گا؟ اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے سبب ایک دن ان علیحدگی پسند تحریکوں کے سامنے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے۔

بھارت میں علیحدگی کی کئی تحریکوں نے بھارت کے ناک میں دم کیا ہوا، جن میں سے کئی تو اتنی طاقتور ہیں کہ بھارت ان کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔1970ء میں بھارتی پنجاب میں سکھوں نے اکالی دل کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جس کا مقصد سکھوں کے حقوق کی پاس داری تھا۔ تنظیم کے تحت وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں سکھوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کو ختم کرے اور انھیں تمام شعبوں میں ہندو اکثریت کے مساوی حقوق دیے جائیں، تاہم بھارت کی اس عرصے میں بننے والی کسی بھی حکومت نے سکھوں کے ان جائز مطالبات پر کان نہیں دھرا اور نسلی و مذہبی تعصب کی بنا پر امتیازی سلوک اور زیادتیاں جاری رکھیں تو سکھوں نے 1980ء میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا، بھارتی حکومت نے سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ سکھوں کی آبادیوں پر باقاعدہ فوج کشی کروائی گئی اور 1984ء میں بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر باقاعدہ حملہ کردیا۔اس دوران اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے قتل کردیا جس سے صورت حال مزید خراب ہوگئی۔ حکومت کے حکم پر بھارتی فوج نے اکالی دل و خالصتان تحریک کی قیادت کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے تحریک کو دبادیا، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک کسی مناسب وقت پر بھارت کو دن میں تارے دکھانے کی تیاری میں مصروف ہے اور طاقت پکڑتے ہی بھارت کو خالصتان کا ’’تحفہ‘‘ دے گی۔ اسی طرح تاملوں نے بھی بھارت سے علیحدگی کی ٹھانی ہوئی ہے۔ 1937ء میں کانگریس کی صوبائی حکومت نے مدراس کے اسکولوں میں (موجودہ چنائے) میں جہاں تامل زبان بولنے والوں کی اکثریت تھی۔ حکومت نے ہندی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا تو تاملوں نے ہندی زبان کا تسلط قبول نہیں کیا۔ بدلے میں پولیس اور فوج نے تاملوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ پر امن احتجاج کرنے والے تاملوں پر بھارتی حکمرانوں نے بہیمانہ تشدد کرایا، جس کے بعد تاملوں نے ’’ہندی زبان سے آزادی‘‘ حاصل کرنے کی بجائے بھارت سے ہی آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کردی اور اب بھی تامل ناؤ میں آزادی کی تحریک جاری ہے۔ بھارتی ریاست آسام میں بھی آزادی کی تحریک 90 کی دہائی میں شروع ہوئی، جب ایک مسلح گروہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے آسام کی آزادی کا مطالبہ کیا۔بھارتی فوج نے آسام کے لوگوں پر ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ 10 ہزار سے زائد آسامیوں کو قتل کیاگیا۔آسام میں مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام کے نام سے ایک مسلم تنظیم بھی کام کررہی ہے جو آسام کے مسلمانوں کو بھارت سے آزادی دلانا چاہتی ہے۔ آسامیوں پر بھارتی فوج کے مظالم کے سبب آسامیوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ مزید بڑھتی جارہی ہے۔ وقت کے ساتھ آزادی کی یہ چنگاریاں شعلہ حوالہ میں ڈھل رہی ہیں جو ایک دن بھڑکے گا اور اپنی راہ کی ہر رکاوٹ کو جلاکر خاک کردے گا۔ علیحدگی کی ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ، منی پور اور تری پورہ میں بھی جاری ہیں اور ان ریاستوں کے باسی بھی بھارت کی حکومتوں کے جانب دارانہ رویوں اور بھارتی فوج کے آپریشن کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے سخت نالاں ہیں اور بھارت کے ساتھ مزید رہنے کو تیار نہیں۔ ان کی مشکل و سائل کی کم یابی اور مناسب قیادت کا فقدان ہے جس دن وسائل اور اچھی قیادت ملی علیحدگی کی تحریکیں پوری توانائی سے شروع ہوجائیں گی اور بھارت کا ان ریاستوں کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہ رہے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419054 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2016 Views: 624

Comments

آپ کی رائے