یوسف ندیم : جذبات و احساسات کا شاعر

(Vaseel Khan, mumbai)
یوسف ندیم کی شاعری انہی فرحت انگیز کیفیات کی نقیب ہے ،جو فکری وسعت ، گہرے احساسات اور سماجی و معاشرتی مدوجزر کی آئینہ دار ہے ، اسی کے ساتھ ساتھ جب پیشکش کا انداز دل نشیںاور جادوئی ہو تو وہ شاعری دوآتشہ ہی نہیں سہ آتشہ اور چہار آتشہ ہوجاتی ہے ۔ایک عرصے تک شعبہ تدریس سے وابستگی اور معاشرت سے قربت کے سبب ان کی شاعری زمینی سطح سے اچھی طرح مربوط ہے ، یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں غم جاناں سے زیادہ غم دوران کا درد پایا جاتا ہے ۔ وہ اپنی شاعری کو اس عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں جو انسان کو انسان کامل بنانے کی طرف مائل کرتی ہے ۔
تعارف و تبصرہ : وصیل خان
نام کتاب : اجالےتخیل کے
شاعر : یوسف ندیم
ناشر : تقدیس پبلی کیشنز ، پونہ
قیمت : 200/-روپئے ۔ صفحات : 176
صورت حصول : اسلم بکڈپو، شاپ نمبر ۳قمرالدین مسجد ، نزد شیوا جی مارکیٹ ، کیمپ پونے
موبائل : 09326991977/09970198743/09448732190
شاعری انسانی جذبات و احساسات کی خوبصورت ترسیل کا نام ہے ،گوکہ اب یہ فن صرف تفنن طبع تک ہی محدود رہ ہوکر رہ گیا ہے اس کے باوجود اس کی اہمیت اوراثرانگیزی کی صفت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔اچھے اشعارآج بھی توجہ مبذول کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن زبان و ادب سے بڑھتی ہوئی عدم دلچسپی ، خصوصا ً اردو ادب کے انحطاط نے سب سے زیادہ ستم شاعری پر ڈھائے ہیں ۔نثر نگاری توبڑی حدتک آج بھی معتبریت کابھرم قائم رکھے ہوئے ہے لیکن زوال پذیر شاعری نے جیسے ادب کا جنازہ ہی نکال دیا ہے ۔آج اردو میں شائع ہونے والی کتابوں کا ایک بہت بڑا حصہ غیر معیاری اور ابتذال آمیز شاعری پر مشتمل ہوتا ہےاس پر مستزاد یہ کہ ہر شاعرخود کو میروغالب سے کسی طرح کمتر نہیں سمجھتا اور خودپرتنقید کو حرام سمجھتا ہے ۔بہر حال ان جملوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالنا چاہئے کہ فی زمانہ شاعری کے سوتے خشک ہوگئے ہیں ۔اچھی شاعری اب بھی ہوتی ہے لیکن بس خال خال ۔اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ادبی قحط میں اچھی شاعری شاذ و نادر ہی سہی کس قدر خوش کن اور مسرت بخش لمحات سے ہم کنار کرتی ہوگی ۔
یوسف ندیم کی شاعری انہی فرحت انگیز کیفیات کی نقیب ہے ،جو فکری وسعت ، گہرے احساسات اور سماجی و معاشرتی مدوجزر کی آئینہ دار ہے ، اسی کے ساتھ ساتھ جب پیشکش کا انداز دل نشیںاور جادوئی ہو تو وہ شاعری دوآتشہ ہی نہیں سہ آتشہ اور چہار آتشہ ہوجاتی ہے ۔ایک عرصے تک شعبہ تدریس سے وابستگی اور معاشرت سے قربت کے سبب ان کی شاعری زمینی سطح سے اچھی طرح مربوط ہے ، یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں غم جاناں سے زیادہ غم دوران کا درد پایا جاتا ہے ۔ وہ اپنی شاعری کو اس عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں جو انسان کو انسان کامل بنانے کی طرف مائل کرتی ہے ۔ ان کے کلام میں زیریں لہریں صاف محسوس کی جاسکتی ہیں ،جو دل کے نہاں خانوں کو روشن و منور کردینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں ۔ وہ اپنی فکر کو جب شعری پیکر میں تبدیل کرتے ہیں تو ان کی شاعری ایک ایسا آئینہ خانہ بن جاتی ہے ، جس میں اچھی یا بری تمام تصویریں اپنی اصل حالت میں نظر آنے لگتی ہیں ۔
اس سے قبل ’’پر پرواز ‘‘ کے ذریعے اپنی غزلوں کے حوالے سے لوگوں کو دلوں میں ہلچل مچا چکے ہیں۔اب دوسری پیشکش کے ذریعے بڑی گہرائی تک دلوں میں اتر بھی گئے ہیں ۔یہ کمال بلا شبہ انکی شاعری کا ہے جو لوگو ں کو حال سے آشنا اورمستقبل سے آگاہ کرتی ہے ۔اپنے اشعار میں وہ محاوروں کا بھی خوب استعمال کرتے ہیں ۔زبان و بیان پر قدرت اور شیریں لب و لہجے کے ساتھ قدیم و جدید رنگوں کی آمیزش سے جب ایک نیا رنگ ابھرتا ہے تو ان کی شاعری قوس قزح بن جاتی ہے جس سے مسرتوں کے چشمےابل پڑتے ہیں۔چند اشعار بطور تمثیل یہاں درج کئے جارہے ہیں ۔؍قتل ناحق پہ ہے غمگین اذان مسجد ؍غمزدہ ہوگئے مندر کے شوالے کتنے ؍ایک نشہ ہے تمہارے جلوؤں میں؍میری آنکھوں کی بے خودی تم ہو ؍رنگ سب کھل گئے زمانے کے ؍ دن گئے رازکو چھپانے کے ؍آج مہروخلوص و عشق و وفا ؍ دانت ہیں یہ فقط دکھانے کے ؍زخم آنسو، اذیتیں پیہم؍ یہ تو انعام ہیں زمانےکے ؍
ماہنامہ تحریرنو ( نئی ممبئی )
خالص ادبی جریدہ تحریر نو اپنے مشمولات کے تنوع او رحسن انتخاب کی ندرت کے ساتھ بڑی سرعت سے اس مقام عروج کی جانب رواں دواںنظرآتا ہے جس کی تمنا بیشتر ادبی جرائد کے مدیران کیا کرتے ہیں۔ڈاکٹر ظہیر انصاری کی مدیرانہ اور انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا شدید ناانصافی ہی کہی جائے گی ۔انہوں نے ۵۶؍صفحات کے اس مختصر سے رسالے کو ’دریا بہ کوزہ ‘ سمیٹ دینے کی مثال کو سچ کردکھایا ہے ۔اردو کے روشن مستقبل کے تعلق سے انہوں نے سندر پیچائی کے حوالے سے اردو سے ان کے عشق کی جو بات کی ہے وہ نہایت اہم اور قابل تقلید ہے لیکن اس کے لئے خلوص اور عشق حقیقی دونوں درکار ہیں جس کی فی زمانہ بے حد فقدان ہے ۔ عصمت چغتائی کی ادبی حیثیت پر سلام بن رزاق کا مضمون دلچسپ اور معلومات افزا ہے ۔نثار احمد صدیقی ، شہناز رحمان اور اظہرابرار کے مضامین ماضی سے مضبوط رشتہ قائم کرتے ہیں ۔جاوید ندیم کی نظمیں اور غزلیں روح کو بالیدگی فراہم کرتی ہیں ۔افسانوں کا انتخاب بھی عمدہ ہے ۔وحشی سعید کا افسانہ عہد عتیق سے عصر حاضر تک ایک تسلسل کے ساتھ جاری اس ظلم و جبر اور استحصال پر کسی تازیانے سے کم نہیں ۔ ندیم صدیقی کی کتاب ’پرسہ ‘ پر راشد اشرف ( کراچی ) کا تبصراتی و تجزیاتی مضمون نہ صرف سیر حاصل ہے بلکہ کتاب کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرنےمیں بھی کامیاب ہے ۔ مجموعی طور پر تحریر نو کا یہ شمارہ قارئین ادب کیلئے کسی سوغات سے کم نہیں۔ مدیر سے رابطہ : 9833999883
ماہنامہ تریاق ( ممبئی )
تریاق کا نومبر کا تازہ شمارہ حسب معمول اپنے ساتھ اہم مشمولات لئے ہوئے ہے ۔مدیر میر صاحب حسن نے اتحاد و یکجہتی کے استحکام کیلئے فسطائی طاقتوں اور سیاسی بازیگروں سے دو دو ہاتھ کرنے پر زور دیا ہے ۔سلام بن رزاق کا تجزیاتی کالم ایک بہترین سلسلہ ہے جس سے فن اور فنکار کی تفہیم میں آسانی ہوتی ہے ۔’گاڑی بھر رسد ‘ سریندر پرکاش کا ایک ایسا زندہ افسانہ ہے جس میں ہر دور کی خونچکا ںتاریخ دکھائی دیتی ہے ۔دیگر تجزیاتی و تحقیقی مضامین بھی دعوت فکر دیتے ہیں ۔ عشرت بیتاب کے فکرو فن پر ایک گوشہ بھی توجہ مبذول کرتا ہے جس میں ان کی تخلیقی صلاحیتو ں کو موضوع بنایا گیا ہے ۔مستقل کالمس کے علاوہ دیگر مشمولات میں بھی معیارکا خیال رکھا گیا ہے ۔ اس ماہ کے قلمکاروں میں مدحت الاختر، قائم چاندپوری ، نثار احمد صدیقی ، وحید انجم ، معین الدین عثمانی ، عطیہ خان ، ڈاکٹر کلیم ضیاء ، علیم اللہ حالی ، توقیر زیدی وغیرہم شامل ہیں ۔ مدیر سے رابطہ : 9867861713
سہ ماہی ہندوستانی زبان ( ممبئی )
ہندوستانی پرچار سبھاکے زیر اہتمام اشاعت پذیر یہ رسالہ واقعتاً خوب سے خوب تر کی طرف گامزن ہے ، جس کا سہرا مدیران سید علی عباس اور اطہر عزیز کے سر بندھتا ہے ، جن کی مدیرانہ صلاحیتیں اور ورق درورق معیار اور حسن انتخاب کی جلوہ آرائیاں جا بجا دکھائی دیتی ہیں ۔جولائی تا ستمبر کے اس شمارے میں قارئین کی ادبی تشنگی بجھانے کے لوازمات اکٹھا کردیئے گئے ہیں ۔پروفیسر حنیف کیفی کے مضمون ’ولی دکنی ،اردو کا چاسر ‘ میں ولی دکنی کی شخصیت اور شاعری کے ساتھ کلام میر سے ان کا موازنہ انتہائی فصیح و بلیغ انداز میں کیا گیا ہے ۔ندیم صدیقی کی کتاب ’ پرسہ ‘ پر ڈاکٹر سلیم خان کا ایک خوبصورت تجزیہ بھی قارئین کی توجہ مبذول کرتا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر مشمولات بھی جاذب اور تنوع سے بھرپور ہیں ۔غزلوں اور نظموں کے انتخاب میں بھی خاص معیار کا اہتمام نظر آتا ہے ۔ اس ماہ کے قلمکاروں میں سلیم شہزاد ، عظیم اقبال ،ڈاکٹر محمد مرتضیٰ، نازیہ عرشی ، ڈاکٹر نریش ، سعید رحمانی ، علی عباس امید ، فہیم انور ، بشیر فاروقی وغیرہم شامل ہیں۔مجموعی طور پر یہ جریدہ قارئین اردو کیلئے پرکشش اور معلومات افزا ہے ۔رابطہ : فون نمبر : 22812871
ماہنامہ خضرر اہ ( الہ آباد )
تصوف اور راہ سلوک کے موضوع پر شائع ہونے والے جرائدمیں خضر راہ واقعتاً اسم بامسمیٰ دکھائی دیتا ہے۔ شیخ ابوسعیدشاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی نگرانی میں یہ جریدہ ان تشنگان معرفت کیلئے مشعل راہ بنا ہوا جو آفاقی اور مادی لذائذ میں الجھ کر گم گشتہ ٔ راہ ہوچکے ہیں ۔اکتوبر کے اس شمارے میں جھاڑپھونک اور تعویذ ، محرم و عاشورہ کی فضیلت ، صبر و تحمل ، خلفائے راشدین اور ان کا زہد ، خلوت گزینی کی صفات ، حسن ظن ، صوفیانہ تعلیمات کی روشنی میں ، خانقاہیں انسان کو معبود حقیقی سے جوڑتی ہیں ، جیسے اہم ترین موضوعات پر مضامین روشن اور انتہائی فکر انگیزی کی دعوت دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ عرفانی مجلس ، دعوت قرآن ، اسرارالتوحید ، اور ضیائے حدیث جیسے عنوانات پر مشتمل مستقل کالمس بھی توجہ مبذول کرتے ہیں ۔ مدیرسے رابطہ : 9312922953

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Vaseel Khan

Read More Articles by Vaseel Khan: 126 Articles with 59396 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2016 Views: 530

Comments

آپ کی رائے