اداکار رتن کمار --میرا عجیب سا تعلق

(Munir Bin Bashir, Karachi)
بعض افراد سے کسی معمولی سی بات کے سبب ایک گہرا سا تعلق بن جاتا ہے - ایسا تعلق جو عمر کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتا جاتا ہے -

1955 -1965کے عشرے میں پاکستان کی سینما اسکرین پر چھائے ہوئے ماضی کے نامور اداکار رتن کمار سے میرا کچھ ایسا ہی تعلق تھا - اور جب مجھے اطلاع ملی کہ انکا 11 دسمبر 2016 کو امریکہ میں انتقال ہوگیا تو اس تعلق کی ساری یادیں ایک ایک کر کے میرے سامنے آنے لگیں- کوئٹہ -- چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ - ٹھنڈی سڑک - اس کو جڑتی ہوئی پرنس رود اور پرنس روڈ پر واقع عصمت سینما ،راحت سینما اور پھر ہمارا گھر -

مرحوم کی فلم 'ناگن' کوئٹہ میں ہمارے گھر کے سب سے قریبی سینما راحت میں لگی تھی - اس وقت میری عمر آٹھ برس کے قریب ہو گی - یہ فلم متواترآٹھ ہفتے لگی رہی - اس زمانے میں کوئٹہ میں کوئی فلم آٹھ ہفتے تک لگی رہے تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ کامیاب ترین فلم ہے - چنانچہ ایک کامیاب فلم تھی - اس کامیابی کا سبب اداکارہ نیلو کے شاندار رقص اور ہندوستان سے آئے ہوئے نئے اداکار رتن کمار کی متاثر کن اداکاری تھی - سینما والوں نے اس کا بڑا سا بورڈ لگایا تھا - جس پر اس فلم کے اداکاروں کے نام لکھے گئے تھے -
نیلو ،رتن کمار ،ساقی، حسنہ ،یوسف ،نذر -
ہر روز دن میں تین چار مرتبہ کسی بھی کام سے نکلتا تو اس بورڈ پر نظر پڑتی یوں ان سب فلمی ستاروں کے نام بشمول رتن کمار اچھی طرح ازبر ہو گئے تھے - ان سب سے ایک انسیت سی ہو گئی تھی خصوصا رتن کمار سے کیونکہ انہوں نے بچوں کی پسندیدہ فلم بیداری میں بھی کام کیا تھا -
رتن کمار کا اصل نام نذیر رضوی تھا ۔وہ مارچ 1941 کو اجمیر شریف، راجھستان میں پیدا ہوئے تھے - پاکستان بننے کے بعد ہجرت سے قبل انہوں نے بھارت میں فلم 'جاگ رتی' اور کئی دوسری فلموں میں بطور چائلڈ ایکٹر کام کیا -
'جاگ رتی'فلم بھارت کی نئی نسل کو بھارت سے تعارف کرانے اور ان میں اپنے دیش سے محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے بنائی گئی تھی - رتن کمار کی پاکستان ہجرت کے بعد یہاں کے ایک فلم ساز بھی اس مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے فلم 'بیداری ' کو پردہ سیمیں پر لے کر آئے اور اداکاری کے لئے رتن کمار کا ہی انتخاب کیا - یہ پوری کی پوری بھارتی فلم ‘جاگ رتی ‘ کا چربہ تھی - اور یہ نامناسب بات تھی - اداکار رتن کمار کو اس وقت کمسن ہی کہا جا سکتا تھا اور انہیں اس بات کا زیادہ ادراک نہیں ہو گا -
اس زمانے میں لوگ اس فلم بیداری پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کرتے تھے کہ کیا دونوں فلموں میں رتن کمار کی اداکاری کا معیار ایک ہی تھا ؟ ان کی رائے میں پاکستانی فلم میں رتن کمار کی اداکاری کا معیار بھارتی فلم میں اداکاری سے زیادہ اونچا نظر آتا تھا -
پھر سوال اٹھتا تھا کیا اس دوران میں ان کے کام میں پختگی آگئی تھی یا اب وہ حقیقی طور پر اس جذبے کے ساتھ کام کر رہے تھے جو ان کے دل میں اس نوزائیدہ مملکت کے لئے موجزن تھا ؟ - اکثر لوگ دوسری رائے سے اتفاق کرتے تھے

بھارت کی فلم 'بوٹ پالش' میں اداکار رتن کمار ایک جگہ کہتے ہیں
"آج اپنا ہندوستان آزاد ہو تا ہے --بھیک مانگنا بند- بات کر نا چالُو - گاندھی جی کی جے
یا فلم 'جاگ رتی' میں کہہ رہے ہیں
آؤ بچو تمہیں دکھائیں دھرتی ہندوستان کی
اس مٹی سے تلک کرو یہ دھرتی ہے بلیدان کی
دیکھو ملک مرہٹوں کا یہ جہاں شیوا جی ڈولا تھا
مغلوں کی طاقت کو جس نے تلواروں پہ تولا تھا
ہر پربت پر آگ جلی تھی -ہر پتھر ایک شعلہ تھا
بولی 'ہر ہر مہا دیو' کی ہر بچہ بولا تھا
شیر شیوا جی نے رکھی تھی لاج ہماری شان کی
اس مٹی سے تلک کرو یہ دھرتی ہے بلیدان کی
-بندے ماترم ---بندے ماترم

بندے ماترم کا فلسفہ یہ ہے کہ ملک کو ایک دیوی خیال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم تیرے بندے ہیں - اسے کچھ مسلمان پسند نہیں کرتے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں کہنے کی بجائے اپنے کو کسی ملک کا بندہ کہیں - چنانچہ پاکستان آکر پاکستان زندہ باد پر جوش انداز میں کہہ کر اور اداکاری میں پوری طرح ڈوب کر انہوں نے ذہن پر پڑے بوجھ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی -

اگر مجھ سے پو چھا جائے کہ وہ کیسے اداکار تھے اور کتنا مقبول تھے تو میں جناب سہیل انور کے فیس بک میں کہے ہوئے الفاظ دہرا دوں گا کہ گرچہ وہ قدرے کم مقبول اداکار تھے مگر ان کی اداکاری بھلائی نہیں جاسکتی۔ وہ بطور چائلڈ آرٹسٹ کے زیادہ مقبول تھے
پاکستان میں آنے سے پہلے رتن کمار نے بھارت میں بطور کمسن اداکار جاگ راتی اور بوٹ پالش کے علاوہ بیجوباورہ ، موتی محل ، دو بیگھے زمین ، لیلی مجنون ، بہت دن ھوئے ۔ وغیرہ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے - پاکستان میں بیداری اور ناگن کے علاوہ معصوم ، واہ رے زمانے ،دو استاد ،کلرک ،نیلو فر ،تاج اور تلوار ،بارات ،سمیرا ،داستان ان کی اچھی فلموں میں شمار کی جا سکتی ہیں - فلم 'واہ رے زمانے ' کی اس زمانے کے مطابق بہت اچھے انداز میں تشہیر کی گئی تھی -کراچی میں اوڈین سینما میں پیش کی گئی تھی - اس موقع پر اوڈین سینما خصوصی طور پر سجایا گیا تھا
لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں رتن کمار وہ مقام نہیں حاصل کرسکے جہاں وحید مراد ،ندیم، محمد علی یا سنتوش کمار پہنچے -

وہ ان حالات سے مایوس تھے یا نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اپنی پیاری بیٹی جو تقریباً چار پانچ سال کے سن میں تھی کی حادثاتی موت کا ان پر گہرا اثر ہوا - نصیب کی تختی پر جو کچھ درج کیا جا چکا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن کوئی دل کو کیسے سمجھائے - وہ دل برداشتہ ہو کر باہر چلے گئے - وفات کے وقت وہ امریکہ میں قیام پذیر تھے -
اب کوئٹہ کا راحت سینما موجود نہیں - اس کی جگہ ایک پھلوں اور پودوں کی نرسری قائم ہو چکی ہے - اس کے رنگین دلفریب بورڈ مع اپنی خوش نظر خطاطیوں کے غائب ہو چکے ہیں - اس کے اندر سے باہر آتی ہوئی موسیقی کی لہریں جو رات کے اندھیرے میں دور تک پھیل جاتی تھیں جانے کہاں چلی گئی ہیں - اس کی چھت جو اس کی شان دو بالا کرتی تھی اب موجود نہیں - رتن کمار بھی اس جہاں سے رخصت ہو چکے ہیں -- لیکن رتن کمار اور اس سینما کی یادیں جن سے میری آٹھ سال کی عمر سے رفاقت قائم ہے میرے ذہن سے ختم نہ ہوں گی اور نہ جانے کب تک رہیں گی - بے اختیاری کے عالم میں میرے منہ سے نکلتا ہے

بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا
جب یاد میری آئے مغفرت کی دعا کر نا

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَصَغِیْرِنَا وَكَبِیْرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا اَللّٰهُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَهُ مِنَّا فَأَحْیِهِ عَلَی الْاِیْمَانِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَی الْاِسْلَامِ اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ

اے الله!ہمارے زندوں اور مرنے والوں کو بخش دے اورہمارے چھوٹوں کو اور بڑوں کو،ہمارے مردوں کو اور عورتوں کو، موجود لوگوں کو اور جو موجود نہیں ہیں انہیں بھی بخش دے۔ اے الله!ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے تو اسے ایمان پر زندہ رکھ اورہم میں سے جسے تو موت دے تو اسے اسلام پر موت دے- اے الله!ہمیں اس مرنے والے کے اجر سے محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر دینا-
آمین --یا اللہ آمین -جو کہ میرا پالن ہار بھی ہے اور میرا پروردگار بھی ہے

( تصاویر کے لئے جناب زوہیب منظور - ملک یوسف جمال نیز معلومات کے لئے جناب سہیل انور کاشکریہ )
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1403 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134753 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

طفیل اختر اپنی کتاب ‘دفینے ‘ جو کہ فلمی شخصیات کے بارے میں ہے لکھتے ہیں “ ان میں سے بہت سوں کو سینما کے پردے پر اور اخبارات و جریئد کے صفحات پر دیکھا - ------ ایک رشتہ سا سب ہی سے بن گیا وہ سینما والے تھے اور ہم سیما دیکھنے والے ----- وہ نظارہ تھے اور ہم ناظر ---- “ ایسی کیفیت کئی افراد کی ہے -- میرا یہ کالم “ اداکار رتن کمار --میرا عجیب سا تعلق “ اسی کیفیت کے عالم کو ظاہر کرتا ہے
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Jun, 14 2019
Reply Reply
0 Like
Famous film journalist Sarfaraz Farid Neehash wrote following remarks on Face book on 12- 12 2017 " Bhot aala "
i am thankful to Sarfaraz Farid Neehash whose columns in Daily Jang gives us a lot of information
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Dec, 12 2017
Reply Reply
0 Like
واہ اشفاق احمد صاحب ----- کیا کیا نہ یاد آیا جب آپ نے پیر ابوالخیر روڈ کا نام لیا -- میزان اخبار -- جس میں میرا آٹھویں جماعت -- دسویں جماعت -- اور ایف ایس سی کا نتیجہ چھپا تھا - اس کے چند شمارے اب تک میرے پاس محفوظ پیں

رتن کمار کی فلم ‘بوٹ پالش“ بلا شبہ ایک نہایت ہی شاندار فلم تھی ٠ یہ میں نے نیٹ پر دیکھی ہے - بے بی ناز کی اداکاری بھی نہایت شاندار تھی - آپ نے جو قصہ لوگوں کے احتجاج کا اور اس کے بعد اسی فلم کو دیکھنے کا بیان کیا ہے بڑا دلچسپ ہے کہ جو لوگ احتجاج کر رہے تھے وہی فلم دیکھنے گھس گئے -
آپ کے کمنٹس کا شکریہ
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Dec, 24 2016
Reply Reply
0 Like
Well written pie e by Munir bin Bashir saab.
I lived at Abhul Khair Road (just before it joined Archer Road),directly.opposite Rahat Cinema.
We had Meezan office too there.
Rattan Kumar created a storm in India with another child artiste,baby Naaz when they worked together in RKs 'Boot Polish'.She too died a few years ago
I saw Boot Pish in 1955? PIIF.exhibition in Karachi where there were protests putsode India stall
Sarwary Jrfanullah standing on a table.shoulting to stop.indian films etc.As soon as there was music of the film from inside the stall e eryone disappeared.allwent it ..including me.
Perhaps Sarwary roo went I. To enjoy the master piece
David won filmfare award foe.the film
By: Ashfaq Ahmad, London on Dec, 17 2016
Reply Reply
0 Like
Language: