ہے فرشتے سے بہتر انسان بننا۔۔۔

(Diya Khan Baloch, Lahore)
صبح آنکھ کھلی تو باہر ہلکا ہلکا شور سنائی دیا۔جب جا کے دیکھا تو پتہ چلا کہ ایک خاتون جو کے ساتھ والی گلی میں رہائش پذیر ہیں ،غصے سے چلا رہی ہیں۔جب کہ سامنے والی خاتون نے پرواہ نہ کی۔وہ مسلسل بولے جا رہیں تھیں۔تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ان کی ہمسائی پانی کی موٹر چلاتی نہیں اور پانی شاہا نہ طریقہ سے ا ستعمال کرتی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی کے وقت کا خیال نہیں کرتی ہیں۔کبھی کبھی کچرا بھی ان کے گھر ڈال دیتی ہیں۔ کبھی ان کے بچے پتھر پھینکتے ہیں۔روز بروز ان کی تکلیفوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب وہ مزید برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ ہر روز کا یہی معمول بن گیا ہے۔میں نے ہر طر ح سے سمجھایا ہے کہ ایسا نہ کیا کریں مجھے تکلیف ہوتی ہے مگر انہیں ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑا۔آج تو میں پولیس کو بلاؤں گی۔ آپ لوگ میرا ساتھ نہیں دے رہے ،بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔جا رہی ہوں اور اب پولیس ہی ان سے نبٹے گی۔
ان کے جانے کے بعد مجمع بھی ختم ہوگیا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہم میں انسانیت ہے؟
ہم زندہ ہیں؟
مجھے دکھ تو اس بات کا ہوا کہ کوئی آگے نہیں بڑھا ان کے معاملے کو سلجھانے کے لئے،آخر محلے داروں کا حق ہوتا ہے۔سن کر چلے جانے سے کیا فائدہ ہوا۔عجیب ہی روش ہے اس دور کے انسان کی ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں کی خبر گیری کرتے رہا کریں۔
نبیﷺ نے فرمایا:
اﷲ کی قسم وہ ایمان نہیں رکھتا،
پوچھا گیا’’ اے اﷲ کے رسولﷺ! کون ایمان نہیں رکھتا؟‘‘
فرمایا کہ: ’’ وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ رہے۔‘‘
تو کیا ہم اپنے ایمان کو بھی بھلا بیٹھے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کو بھی؟ پڑوسی کا ہم پہ سب سے زیادہ حق ہوتا ہے۔ان کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہمارے اردگرد ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں۔کچھ لوگ ہماری ہمدردیوں کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو اپنی زندگی کی آخری شامیں گزار رہے ہیں۔جو ہمسائیہ تنہا ہو اس کی دل جوئی کرنا اخلا قیات میں شامل ہے۔ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے۔
نبیﷺنے فرمایا کہ:
’’جبریل علیہ السلام مجھ کو پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی برابر تاکید کرتے رہے،یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ پڑوسی کو پڑوسی کا وارث بنا دیں گے۔‘‘
ہم بچپن سے پڑھا کرتے تھے کہ خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا کا ہر طرح سے خیال رکھے۔ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا کہ:
’’وہ شخص مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی جو اس کے پہلو میں رہتا ہو بھوکا رہے۔‘‘
آج بھوک افلاس پھیلی ہوئی ہے۔تمام برائیوں کا آغاز ہی بھوک سے ہوتاہے۔اگر پیٹ بھرا ہو تو انسان اچھا سوچتا ہے۔بھوکا انسان کیا اپنی اور ملک کی ترقی کا کیا سوچے گا؟ہمیں خود اپنی ذمہ داریوں کو پوراکرنا ہوگا۔ہمارا چھوٹا سا قدم کتنی زندگیوں کو سنوار سکتا ہے،انہیں بکھرنے سے روک سکتا ہے۔اگر ہم اپنے ساتھ رہنے والے ساتھیوں کی خبر گیری کرتے رہیں تو ہمارا معاشرہ ایک بہتر ین معاشرہ بن جائے گا۔اگر ہم بذات خود بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں تو اس میں کو ئی مضائقہ نہیں۔یہ دین و دنیا دونوں کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔حقوق اﷲ تو معاف ہوسکتے ہیں ،پر حقوق العباد نہیں۔
ایک آدمی نے نبیﷺ سے کہا کہ:
فلاں عورت بہت زیادہ نفل نمازیں پڑھتی ،نفل روزے رکھتی اور صدقہ کرتی ہے اور اس لحاظ سے وہ مشہور ہے۔لیکن اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف پہنچاتی ہے۔‘‘
آپﷺ نے فرمایا کہ: ’’وہ جہنم میں جائے گی۔‘‘
اس آدمی نے پھر کہا کہ ’’ اے اﷲ کے رسولﷺ!فلاں عورت کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کم نفل روزے رکھتی ہے اور بہت کم نفل نمازپڑھتی ہے اور پنیر کے کچھ ٹکڑے صدقہ کرتی ہے،لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی۔‘‘
آپﷺ نے فرمایا کہ ’’یہ جنت میں جائے گی۔‘‘
اس حدیث مبارکہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پڑوسیوں کو تکلیف دینے کی کتنی بڑی سزا ہے۔ ہم اس سزا سے بچ سکتے ہیں اگر ہم اپنی زبان سے ان کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ ۔یہ مشکل ہے پر ناممکن نہیں۔ بقول شاعر ،
ہے فرشتے سے بہتر انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
ہمیں فرشتہ نہیں انسان بننے کی ضرورت ہے۔انسان بننے کے لئے درگزر کرنا بھی ضروری ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو اگنور کرنا چاہئے۔کیوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو طول دینا بڑی لڑائیوں کی وجہ بن جاتی ہے۔
اس تحریر کا لب لباب یہی ہے کہ اس معاشرے میں ہر طرح کے ہمسائے ملیں گے ،ہمیں بس یہ یاد رکھنا چاہئے کہ روز قیامت جو سب سے پہلا مقدمہ پیش کیا جائے گا وہ پڑوسی کا ہو گا۔جب دل میں خوف خدا ہو گا تو کبھی بھی ظلم وستم کا ارتکاب نہ کریں گے۔ہر ممکن کوشش کریں کے اپنے ہاتھ،زبان اور عمل سے اپنے ہمسائے کی دل آزاری یا تکلیف کا سبب نہ بنیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Diya Khan Baloch

Read More Articles by Diya Khan Baloch: 2 Articles with 3561 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2016 Views: 371

Comments

آپ کی رائے