حکومت کی ناقص ہیلتھ پالیسیاں

(Karamat Masih, Lahore)
ملک پاکستان میں یوں تو بہت سے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے بر وقت اقداما ت نہ کئے گئے توصورت حال بد سے بد ترہو جائے گی البتہ اس تحریر میں محکمہ صحت کے ایشو ز کو زیر بحث لا یا جائے گا ایک انداز ے کے مطابق دنیا بھر کے تمام سرکا ری ہسپتا لوں کی فہرست میں پاکستان کے بھی ایک سرکاری ہسپتال کا نام آتا ہے اور یہ سرکاری ہسپتال اسلام آباد میں موجود ہے اور ورلڈ رینکنگ میں اس سرکاری ہسپتال کا نمبر پانچ ہزارواں5000ہے ویسے تو پاکستان میں زیادہ تر سرکار ی ہسپتال انگریز دور میں تعمیر ہوئے ہیں چندایک ہسپتال حکومت پاکستان نے بھی تعمیر کیے ہیں یوں تو ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے حالات ایک جیسے ہیں اور مریضو ں کے مسائل بھی ایک جیسے ہیں لیکن اس تحریر میں سب سے ز یادہ آبادی والے صوبے کو زیر بحث لائیں گے اس صوبے میں پچھلی کئی دہائیوں سے مسلم لیگ کی حکومت رہی ہے اور مو جود ہ حکومت بھی مسلم لیگ کی ہی ہے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس صوبے کا چیف ایگزیکٹو محنتی ، بلند حوصلہ اور ہر ایشو پر گہری نظر رکھتا ہے 18گھنٹے تک کام کرتا ہے اور اس کی پر فارمنس باقی صوبوں کے وزرا ء اعلیٰ سے بہتر ہے اور یہ ایکٹو ہیں اور یہ آؤٹ پُٹ بھی دیتے رہے ہیں۔CMپنجاب نے کئی محکموں کی طرح ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بھی ہنگامی اقدامات کئے ہیں مگر پھر بھی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں کوئی نمایا ں کار گردگی نہیں دیکھی جاسکی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسلتا ہے کہ لاہور شہر میں ایک منصوبے کیلئے ستر ارب خرچ کر دیے جاتے ہیں اور صحت کے لئے تین ارب کا بجٹ مختص کیا گیا صورتحال یہ ہے کہ آپ پنجاب کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں تشریف لے جائیں آپ "سکتے" میں آجائیں گے گندگی بے تحاشا نظر آئے گی ہسپتال کی وارڈز کی حالت بوسیدہ ہیں ایک بیڈ پر دو دو مریض پڑے ہیں اور واش روم تو بلکل نا قابل استعمال ہیں ۔ لیبارٹریز کا براحال ہے ہر طرف انفیکشن ، جراثیم موجود ہیں یوں سمجھ لیا جائے کہ اگر کوئی مریض ایک بیماری میں مبتلا تھا تو ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد مزید دو چار بیماریوں میں مبتلا ہوجائے گا۔ اگر پیرا میڈیکل سٹاف کی بات کی جائے تو وہ انتہائی بد اخلاق اور رشوت خور ہے جن کو کوئی پرواہ نہیں کہ مریض اور اس کے لواحقین کن مشکلات سے گزر رہے ہیں اور اگرڈاکٹرز کی بات کی جائے تو وہ کسی مریض یا لواحقین کی بات سننا گوارہ نہیں کرتے اور پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور مریضوں کے لواحقین کے درمیان جھگڑے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جو افسوس ناک بات ہے موجودہ صورت حال یہ ہے کہ حکومت پنجاب اور ڈاکٹرز کے درمیان سروس سڑکچر کو لے کر معاملات شدت اختیار کر رہے ہیں جسکی وجہ سے ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں کام بند کر کے ہڑتال کر دی ہے لیکن اس سارے مرحلے میں مریض اور اس کے لواحقین کو جس تکلیف اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے یہ تو بس خدا ہی جانتاہے۔یہی ڈاکٹرز سرکاری ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران تو ہڑتال پر ہوتے ہیں جبکہ پرائیوٹ کلینک میں پورا ٹائم دیتے ہیں پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کے لیے غریب مریضوں کی پوزیشن نہیں ہوتی یہاں پر سی ۔ایم پنجاپ سے التماس کرنا چاہتا ہوں کہ براہ کرم ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو مان لیا جائے اور ان کو واضح سروس سڑکچر فراہم کیا جائے تاکہ آئے دن ہڑتال نہ ہوسکے اور ساتھ میں ڈاکٹر وں سے بھی درخواست ہے کہ مریضوں کے لیے آپ ایک مسیحاء کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا آپکی نظر میں سب سے پہلے اپنے پیشے سے مخلص ہونا ضروری ہے اور مریضوں کے علاج کو اولیت کا درجہ دینا چاہیے اور تمام تر ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر اپنے حلف کی پاسداری کریں کیونکہ" جس کسی نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا " لاہور میں دل کا مرض بڑی تیزی سے بڑ ھ رہا ہے اور پنجاب میں صرف ایک ہی PIC ہسپتال موجود ہے وہاں پر مریضوں کو بڑی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے مثلا چیک اپ کے لیے لمبی لمبی لائین ، پھر ٹیسٹو ں کے لیے لمبی لمبی ڈیٹ ، آپریشن کے لیے مریضوں کو مہینوں اور سالوں کا ٹائم دیا جاتا ہے سو CM پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ و زیر آباد میں واقع کارڈیالوجی ہسپتال کو ورکنگ کنڈیشن میں لے کر آئیں حالانکہ اس ہسپتال کی بلڈنگ بلکل تیار ہے اور بس تھوڑی سی توجہ دینے سے ہسپتال اوپن ہوجائے گا اور مریضوں کو بہت سی مشکلات سے نجات مل جائے گی اور PIC سے بھی مریضوں کا بوجھ کم ہوجائے گا اس طرح قصبوں، دیہاتوں، میں ہیلتھ یونٹ کی پالیسی کو بہتر بنایا جائے اور وہاں پر بھی عملہ کی موجودگی کو لازمی بنایا جائے جدید سہولتیں فراہم کی جائے مزید ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کو وقتا فوقتا تربیتی کورس کروائے جائیں تاکہ اس ڈیپارٹمنٹ میں بھی واضح بہتری نظر آئے آخر میں عوام الناس سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی صبر و تحمل کا مظاہر ہ کیا کریں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر کے اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں اسی طرح صحت مندانہ سرگرمیوں میں بڑھ کر حصہ لیں۔ متوازن غذا استعمال کریں ڈیلی واک کریں ، ورزش کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالیں ، کسی نہ کسی گیم میں حصہ لیں تاکہ بیماریوں سے بچا جاسکے میری دعا ہے کہ خدا وند کریم تمام بیماروں کو شفاعطاء فرمائے آمین !
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Karamat Masih

Read More Articles by Karamat Masih: 30 Articles with 10811 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Dec, 2016 Views: 427

Comments

آپ کی رائے