اداکار اظہار قاضی(مرحوم ) کی یاد میں !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
پاکستان فلم انڈسٹری کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق فنکار جنہوں نے گلوکاری اور اداکاری کی فیلڈ میں نمایاں مقام حاصل کیا !
پاکستان کی سرزمین فنکاروں کے لحاظ سے بھی بڑی زرخیز واقع ہوئی ہے یہاں پیدا ہونے والے فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنا نام اور مقام بنایا ۔بولی ووڈ ہو یا لولی ووڈ دونوں فلم انڈسٹریز میں سپر اسٹارز کے درجے پر فائز ہونے والے اکثر وبیشتر فنکاروں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور خانز اور ان کے آباؤاجداد کا تعلق بھی پاکستان سے رہا ہے ،سپراسٹار دلیپ کمار سے لے کرسلمان خان تک سب ہی ’’خان ‘‘مسلمان ہیں اور ان سب کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہے جبکہ بولی ووڈ کے بعض ہندو فنکاروں کی جنم بھومی بھی پاکستان ہی ہے جن میں راج کپور اورراجیش کھنہ جیسے سپر اسٹار ز کا نام سرفہرست لیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری جسے لولی ووڈ بھی کہا جاتا ہے میں بھی باصلاحیت فنکاروں کی کوئی کمی نہیں ہر دور میں یہاں بڑے بڑے نامور فنکاروں اور گلوکاروں نے جنم لیا جن میں سنتوش کمار سے لے کرارباز خان تک بے شمار نام شامل ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستانی سینما کو دنیا بھر میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اگر ہم پاکستانی سپر اسٹارز کا تذکر ہ کریں تو ان میں نمایاں ترین نام اداکار وحیدمراد،محمدعلی ، ندیم اور سلطان راہی کے ہیں جنہیں سب سے زیادہ شہرت ،عزت اور کامیابی حاصل ہوئی جبکہ موجودہ دور میں سپر اسٹار کے درجے پر فائز ہونے والے فنکاروں میں اداکارشان،معمر رانا اور ارباز خان کے نام لیئے جاسکتے ہیں۔

پاکستان فلم انڈسٹری میں کچھ فنکار ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ شعبوں میں نام اورمقام بنایا جن میں ملکہ ترنم نورجہاں،وحیدمراد،ندیم ،رنگیلا،سنگیتا،اظہار قاضی ،عجب گل،ریما اور عمر شریف کے نام شامل ہیں۔لولی ووڈ میں بہت کم ایسے فنکار تھے جنہوں نے گلوکاری اور اداکاری کے میدان میں یکساں شہرت حاصل کی ،ایسے فنکاروں میں ملکہ ترنم نورجہاں،اداکار رنگیلا،ندیم اور اظہار قاضی کے نام سر فہرست لیئے جاسکتے ہیں۔اداکار ندیم کی طرح اظہار قاضی بھی گلوکار بننے کے لیئے شوبز کی دنیا میں آئے لیکن قسمت نے انہیں اداکار بنادیا،ٹی وی سے فلم کی طرف آنے والے فنکار اظہار قاضی نے گلوکاری سے زیادہ اداکاری کے شعبے میں شہرت حاصل کی ۔

ٹی وی اور فلم کے اداکار اظہار قاضی1957 میں کھارادر کراچی میں پیدا ہوئے اور24 دسمبر 2007 میں اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے صرف 50 سال کی عمر میں گلستان جوہر کراچی میں انتقال کرگئے ان کی نماز جنازہ مدرسہ ومسجد ’’دارالخیر‘‘ گلستان جوہر بلاک 15 میں اداکی گئی جس میں فلم اور ٹی وی کے نامور فنکاروں ،میڈیاپرسنالیٹیز،اہلہ محلہ ،اظہار قاضی کے رشتہ داروں،دوستوں اور ہزاروں مداحوں نے شرکت کی جبکہ ملک بھر کے اخبارات اور رسائل نے اظہار قاضی کے حوالے سے خصوصی مضامین اور ایڈیشن شائع کیئے جبکہ ٹی وی چینلز نے ان کے فن وشخصیت پر خصوصی پروگرام پیش کرکے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا، اظہار قاضی مرحوم کو ہم سے بچھڑے 5 برس بیت گئے ہیں لیکن ان کو آج بھی بھلایا نہیں جاسکا ،ان کے متعدد کامیاب ٹی وی ڈرامے اور سو سے زائد یادگار فلمیں ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لیئے کافی ہیں ۔اظہار قاضی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت فنکار تھے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر گلوکاری اور اداکاری کے شعبے میں نمایاں نام اور مقام پیدا کیا۔ان کی پہلی فلم ہدایتکار نذرشباب کی فلم ’’روبی ‘‘ تھی جس میں انہیں ایک بہت ہی جاندار کردار میں بھارتی سپر اسٹار امیتابھ بچن کے انداز میں پیش کیا گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اظہار قاضی کے چہرے مہر ے اور قد کاٹھ میں امیتابھ بچن کی کافی مشابہت پائی جاتی تھی۔فلم روبی ریلیز ہوکر نہایت شاندار کامیابی سے ہمکنا رہوئی اور لولی ووڈکو اظہار قاضی کی شکل میں ایک بہترین فنکار مل گیاجسے ابتداء میں پاکستانی امیتابھ بچن بھی کہا گیا۔اس کے بعد ان کو متعدد فلموں میں کاسٹ کیا گیا جن میں ہدایتکار جان محمدجمن کی فلم’’بنکاک کے چور‘لوان نیپال،منیلا کی بجلیاں،چوروں کابادشاہ،منیلا کے جانباز،،میرا انصاف،انسانیت کے دشمن،لیڈر،سرکٹا انسان،برداشت،اولاد کی قسم اور خزانہ جیسی معیاری اور مقبول فلمیں شامل ہیں جن میں اظہار قاضی کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔لیکن افسوس اظہار قاضی 2007 میں صرف 50 سال کی عمر میں اچانک انتقال کرکے دنیائے فن کو سوگوار کرگئے۔

اظہار قاضی ایک طویل عرصہ تک پاکستان اسٹیل مل سے وابستہ رہے لیکن انہیں شروع سے ہی گلوکاری اور اداکاری کا شوق تھا جسے پورا کرنے کے لیئے وہ نجی محفلوں میں اکثر اپنے فن کا اظہار کرتے رہتے تھے پھر انہوں نے اسٹیل مل کی ڈرامیٹک سوسائیٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے تحت ہونے والے کئی اسٹیج شوز اور ڈراموں میں حصہ لیا اور ایک فنکار کے طور پر جانے پہچانے لگے ۔1980 میں اسٹیل مل میں اسٹیج ہونے والے ایک اسٹیج ڈرامے کی کاسٹ میں اظہار قاضی بھی شامل تھے، اس اسٹیج پلے کو معروف ڈرامہ رائیٹر فاطمہ ثریا نے تحریر کیا تھا جو ان کی شکل وصورت،مردانہ وجاہت اور فنکارانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوکران کو ٹی وی کی طرف لے آئیں اور فاطمہ ثریا بجیاہی کے لکھے ہوئے پی ٹی وی کے ایک ڈرامائی سلسلے ’’دائرے‘‘ کے کھیل’’تھکن ‘‘ میں اظہار قاضی کو مرکزی کردار میں کاسٹ کرلیا گیااور یوں اظہار قاضی شوبز کی دنیا میں اداکار کی حیثیت سے باقاعدہ ’’ان ‘‘ ہوگئے اس دوران جب لوگوں کو پتہ چلا کہ اظہار قاضی بہت اچھے گلوکار بھی ہیں تو ایک ٹی وی پروڈیوسر نے ان کے گائے ہوئے گانوں پر مشتمل ایک خصوصی پروگرام بھی پی ٹی وی پر پیش کیا جس کو دیکھ کرلوگ ان کے گرویدہ ہوگئے بعد میں ان کے گائے ہوئے گانوں کی کئی آڈیو کیسٹس بھی ریلیز ہوئیں۔ وہ نہ صرف ایک عمدہ اداکار بلکہ بہت اچھے گلوکار بھی تھے اور’’ ٹو ان ون ‘‘ہونے کی وجہ سے وہ بہت جلدمشہور ہوگئے ۔ان کو بچپن سے ہی گلوکاری کا شوق تھا لیکن قسمت ان کو اداکاری کی طرف لے آئی۔پروڈیوسر اقبال حیدر اور رائٹرفاطمہ ثریا بجیا کے ٹی وی ڈرامہ’’ تھکن ‘‘میں اظہار قاضی نے اپنے کردار میں بہت جم کر شاندار اداکاری کی اور اس ڈرامہ کے آن ائیر ہونے کے فوراًً بعد ہی وہ اپنی عمدہ اداکار ی اوربھارتی اداکار امیتابھ بچن سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے فلم والوں کی نظروں میں آگئے، ان کو سب سے پہلے ہدایتکار نذر شباب نے اپنی فلم’’روبی‘‘ میں بطور ہیرو کاسٹ کرلیا۔ٹی وی کی طرح فلم میں بھی اظہار قاضی کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور فلم روبی کی کامیابی کے بعد ان کے پاس فلموں کی لائن لگ گئی۔اظہار قاضی نے نہ صرف اردو فلموں بلکہ پنجابی فلموں میں بھی بہت کامیابی حاصل کی ۔ان کی فلمی ہیروئنز میں سبیتا ،ببیتا،بابرہ شریف،شبنم،ریما ،انجمن،نیلی،کویتا،نادرہ ،مدیحہ شاہ ، صائمہ ،صاحبہ اور نرگس وغیرہ شامل تھیں۔اظہار قاضی نے 4 نگار ایوارڈحاصل کیئے جو انہیں فلم بختاور،ہیرو،سخی بادشاہ اور فلم کالاراج میں عمدہ اداکاری پر دیئے گئے۔انہوں نے کل 90 فلموں میں کام کیا جن میں سے 30 ،اردوفلمیں ، 27 پنجابی فلمیں،29 ڈبل ورژن فلمیں ،3 ،اردو/ پشتو فلمیں اورایک سندھی ورژن فلم ’’سجاول‘‘ شامل ہے جو فلم کالا پانی سے متاثر ہوکر بنائی گئی۔ان کی آخری فلم’’پرچم‘‘2005 میں ریلیز ہوئی جبکہ ا ن کی آخری مکمل فلم’’ایشیا ء کے ٹائیگر‘‘ تھی جوناگزیر وجوہ کی بنا پر اب تک ریلیز نہیں ہوسکی۔ان کی سب سے کامیاب فلم’’بنکاک کے چور ‘‘ تھی۔انہوں نے سب زیادہ ہدایتکار مسعودبٹ کے ساتھ کام کیا جن کی تعداد گیارہ ہے۔ان کی ابتدائی چار فلموں کی شوٹنگ بیرونی ممالک میں ہوئی۔

اظہار قاضی نہ صرف ایک باصلاحیت فنکار بلکہ بہت ہی اچھے اور نفیس انسان بھی تھے, اظہار قاضی کا پورا نام قاضی اظہار احمد تھا جبکہ ان کے والد کانام قاضی مقبول احمد تھا،انہوں نے ابتدائی تعلیم عبداﷲ ہارون اسکول بغدادی لیاری سے حاصل کی اور ایس ایم کالج سے انہوں نے بی اے کا امتحان پاس کیا اس کے بعد انہوں نے ایم اے اکنامکس اورLLB میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔اظہار قاضی کی شادی 12 نومبر1989 کو ہوئی ،ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ابراہیم قاضی ہے۔1992 سے ان کا رجحان مذہب کی جانب بڑھ گیا تھا اور وہ غیر محسوس طریقے سے فلموں سے دور ہوتے جارہے تھے اور 2000 وہ سال تھا جب ہماری فلم انڈسٹری کا زوال شروع ہوا جس سے دیگر تمام فنکاروں کی طرح اظہار قاضی بھی متاثر ہوئے اس دور میں فلمسازوں کے روپ میں کالا دھن رکھنے والے افراد نے فلم انڈسٹری پر اپنی گرفت مظبوط کی اورتعلیم یافتہ لوگ فلم انڈسٹری سے دور ہونے لگے۔فلم انڈسٹری سے دور ہونے کی وجہ سے ان کو وقتی طور پر مالی نوعیت کی پریشانیاں بھی لاحق ہوئیں لیکن چونکہ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت انسان تھے اور ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کرنا جانتے تھے اس لیئے انہوں نے اپنے روزگار کے حوالے سے بہت جلد ایسے ذرائع اختیار کرلیئے کہ پھر انہیں آخر تک کسی مالی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ وہ گلوکاری اور اداکاری کے علاوہ شاعری بھی کرلیا کرتے تھے۔جس دن ان کا انتقال ہوا اس روز وہ اپنی سالی جوکہ ان کی چچا زاد بہن بھی ہیں کی منگنی کی تقریب میں بہت خوش وخرم موڈ میں شریک تھے اور وہ اس تقریب کے شرکاء کے سامنے کھڑے ہوکر شعروشاعری کا اظہار کررہے تھے کہ ان کو اچانک معمولی سا ہارٹ اٹیک ہوااور وہ زمین پر گر پڑے جس سے ان کے سرکے پچھلے حصے پر گہری چوٹ آئی اور ان کا کافی زیادہ خون بہہ گیااور ان کے دماغ کی شریان بھی پھٹ گئی جس سے وہ بے ہوش ہوگئے ان کوہسپتال لے جانے کے لیئے کار میں ڈالا گیا لیکن گھر سے کچھہ ہی دورجانے کے بعد ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اور ہم سے ایک بہت ہی باصلاحیت فنکار اور نفیس انسان ہمیشہ کے لیئے بچھڑ گیا۔

اظہار قاضی کاشمار پاکستان فلم انڈسٹری کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت فنکاروں میں ہوتا تھا وہ نہ صرف ایک عمدہ فنکار تھے بلکہ بہت اچھے انسان بھی تھے یہی وجہ تھی کہ ان کے دوست احباب اور مداحوں کا حلقہ خاصہ وسیع تھا اور ان کے چاہنے والوں نے ان کے نام سے منسوب فین کلب بھی بنایا ہوا تھا جو آج بھی اظہار قاضی کی یاد میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس فعال فین کلب نے اظہار قاضی کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل اظہار قاضی کے اعزاز میں ایک شام آرٹس کونسل کراچی میں منائی تھی جس کی کمپئر نگ کرنے کا اعزاز راقم کو حاص ہوا جس کے دوران راقم نے اظہار قاضی کے فن اور شخصیت کو منظوم خراج تحسین پیش کیا جسے نہ صرف ان کے مداحوں نے بلکہ خود اظہار قاضی نے بھی بہت زیادہ پسند کیا اور راقم کو خوش ہوکر گلے سے لگا کر عمدہ اشعار کہنے پر مبارکباد پیش کی جس کی یادگار تصویر راقم کے پاس آج بھی ایک ناقابل فراموش یادگار کے طور پر محفوظ ہے جو ان کی یاد میں لکھی گئی اس خصوصی تحریر کے ہمراہ شائع کی جارہی ہے ۔

اظہار قاضی کے اچانک انتقال کرجانے کے چند ہی روز بعدان کے مداحوں نے ان کی یاد میں آرٹس کونسل کراچی میں ایک پروقارتعزیتی پروگرام بھی پیش کیا جس میں فلم اور ٹی وی کے نامور فنکاروں اور صحافیوں کے علاوہ ان کے مداحوں نے بھی اظہار قاضی مرحوم کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیاکہ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو فراموش نہیں کیا کرتیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ فنکاروں کی پذیرائی ان کی زندگی میں ہی کی جائے کہ شاعر کے لیئے داد اور فنکار کے لیئے تالیاں آکسیجن کاکام کرتی ہیں ۔

نامور فنکار اظہار قاضی ہمارے ملک کے ایک ملٹی ٹیلنٹڈفنکار تھے جن کی فنکارانہ صلاحیتیں سے سجے ہوئے شاہکار ٹی وی ڈرامے اور فلمیں ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے ۔اﷲ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرماتے ہوئے ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے (آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 73330 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
26 Dec, 2016 Views: 1195

Comments

آپ کی رائے