حافظ محمد سعید کا مشن بلوچستان،بھارت میں کہرام

(Ali Imran Shaheen, )
15اگست2016 کا دن ہے اور بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا لال قلعہ ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک کا وزیر اعظم نریندر مودی روایتی انداز میں سالانہ یوم آزادی منا رہا ہے اور یہاں کھڑے ہو کر قوم سے تھکا دینے والا خطاب کر رہا ہے۔ اچانک اس کی رگ ابلیس پھڑکتی ہے اور وہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ اس نے حال ہی میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر ( آزادکشمیر) اور بلوچستان کے لوگوں کے’ حق تلفی‘ اور ان کی ’آزادی ‘کے لئے جو بات کہی تھی، اس پر بلوچ عوام شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ شکریہ کتنے لوگوں نے اور کب ادا کیا؟ یہ سوال تشنہ تھا کہ بلوچستان کے طول و عرض پر بھارت کے جھنڈے ،مودی کے پُتلے جلنے اور ان کے خلاف نعرے لگنے لگے ۔بلوچستان کا اصل منظر نامہ سامنے آ رہا تھا اور مودی اور اسی کے چیلوں کی بولتی بند ہو چکی تھی۔مودی جس لال قلعہ کی فصیل پر دنیا کا ایک مضبوط ترین سکیورٹی حصار قائم کئے بول رہا تھا اور جسے بھارت اپنی طاقت کی علامت سمجھتا ہے، 1648میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ اسی لال قلعہ پر 22دسمبر 2000کے روز لشکر طیبہ کے دوفدائیوں نے یلغارکر کے بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کرڈالا تھا اور خود دونوں محفوظ راہ سے نکل بھی گئے تھے۔ وہی لا ل قلعہ، جہاں بھارت نے کشمیری مجاہدین اوردہلی کے جبر سے آزادی چاہنے والے اپنے ہی دیس واسیوں کو اذیت ناک موت دینے کے لئے عقوبت خانے قائم کر رکھے تھے۔ نریند مودی کو شاید یہ بھی یاد نہیں تھا کہ بھارتی فوج نے اس حملے کے ٹھیک دو سال بعد2002میں عین 22دسمبر کے روز ہی لال قلعہ خالی کر دیا تھا اور اسے ایک تاریخی تفریحی مقام میں بد ل دیا گیا تھا۔
پھر کچھ یوں ہوا کہ بھارتی نیتاؤں نے اپنے آباء کی تاریخ دہراتے ہوئے بچوں، عورتوں سے بھری بسوں اورگھروں پرجگہ جگہ گولہ باری اور فائرنگ شروع کر دی۔ سخت سردی اور ہزاروں لوگ گھروں سے باہر رہنے پر مجبور تھے کہ پروفیسر حافظ محمد سعید نے ان مظلوم اہل کشمیر کے زخموں پر مرہم رکھنا شروع کر دیا۔ 15دسمبر کو وہ بنفس نفیس آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچے تو اہل کشمیر نے جس طرح ان کا والہانہ استقبال کیا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ مظفر آباد کی کشمیر یونیورسٹی کا وسیع و عریض سٹیڈیم اور اس کے اندر ہی نہیں، باہر بھی اہل کشمیر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر حافظ محمد سعید کی جھلک دیکھنے کو بے قرار دکھتا تھا۔ اس یونیورسٹی سٹیڈیم نے یقینا اس جیسا منظر پہلے نہیں دیکھا تھا، اسی لئے تو بھارت کو فکر لاحق ہوئی اور اس کے شیطانی ہرکارے ٹی وی چینلز دن رات زہر اُگلنے لگے۔ اس کے بعدحافظ محمد سعید اور ان کے رفقاء کا اگلا پڑاؤ کراچی تو اس کے بعد کوئٹہ کی منزل تیار تھی۔ بھارت کے ایوانوں میں لرزہ بڑھتا ہی جا رہا تھا اور وہاں ایک ہی درد کا روگ اوراسی کی رٹ ’’حافظ سعید کھلے عام دندنا رہا ہے، حکومت پاکستان نے دے رکھی ہے‘ بھارت اور اس کے وزیر عظم کو دھمکیوں پہ دھمکیاں دے رہا ہے اور ،نجانے کیا کیا……‘‘

19دسمبر کو جب حافظ محمد سعید کوئٹہ پہنچے تو دیکھنے سننے والوں کے بقول کوئٹہ اور بلوچستان میں ایک نئی امنگ، نئی ترنگ پیدا دکھائی دیتی تھی ۔ کوئٹہ شہر ’’دفاع اسلام کانفرنس‘‘ کے بینرز اورہورڈنگز سے خوب سجا ہوا تھاجس کا تذکرہ عالمی میڈیا بھی کر رہا تھا۔ یہاں حافظ محمد سعید کی آمد پر پریس کانفرنس کا اہتمام تھا۔جس ہوٹل میں یہ پریس کانفرنس تھی، اس کے مالکان تو خوشی سے ایسے نہال نظر آتے جیسے ان کے ہاں عید کا چاند طلوع ہوا ہو۔ ہوٹل مالک کسی کام سے کراچی پہنچے تھے، انہیں امیر جماعۃ الدعوۃ کی آمد کی خبر ملی تو وہ بھاگم بھاگ کوئٹہ پہنچے کہ ایک مصافحہ ہی کر لیں ۔ بھارت کیوں انگاروں پر نہ لوٹتا کہ آج اہل بلوچستان کو بھارت کے خلاف اپنے من میں جلتی آگ کی حرارت اس تک پہنچانے کا موقع جو میسر آیا تھا۔ پتہ چلا کہ بلوچستان کے ایک نامی گرامی قبائلی سردار میر ظفر اﷲ شہوانی نے حافظ محمد سعید کی آمد کا سن کر طویل شاہراہوں پر اپنے جیب خرچ سے لاکھوں کے خصوصی پینا فلیکس بورڈز تیار کروائے اور لگوائے ۔ جی ہاں! وہی میر ظفر اﷲ شہوانی جوشہوانی قبیلے کے سردار تو ہیں لیکن وہ آج تک کبھی حافظ محمد سعید سے ملے تک نہیں تھے۔ یہی بلوچ قبائلی سردارتین دن ایک سے بڑھ کر ایک دعوت طعام سجاتے، اپنے اہم ترین رفقاء اورمعززین شہر کو خاص طور پربلاتے اور حافظ محمد سعید کو مدعو کر کے یوں راحت محسوس کرتے دکھائی دیتے،جیسے انہیں آج زندگی کی سب سے بڑی خوشی ملی ہے۔ 22دسمبر کو جلسہ کا آغاز ہوا توکتنے ہی نامی گرامی بلوچ قبائل کے سردار جوق در جوق سٹیج بلکہ پنڈال کے چار اطراف موجود تھے۔ وہ جو دو دن تک حافظ محمد سعید کو رنگا رنگ ہار پہنا رہے تھے، آج عزت کی سب سے بڑی علامت خصوصی بلوچی دستار، چادر اور پگڑی پہنا رہے تھے۔پھولوں کی بارش کرتے چلے جا رہے تھے، جلسہ گاہ میں مخصوص سرخ جھنڈوں کی بھرمار دیکھنے کو ملی۔ پتہ چلا کہ یہ میرظفر اﷲ شہوانی کے قبیلے کے لوگ ہی ہیں جوسو سے زائد گاڑیوں میں خصوصی طور پر طویل سفر طے کر کے یہاں آئے ہیں۔اس سارے سفر کا مکمل خرچ جناب میر ظفر اﷲ شہوانی نے اپنی جیب سے ادا کیا ہے۔ کسی نے سٹیج پر کھڑے ہو کر ظفر اﷲ شہوانی سے کہہ دیا کہ آپ تشریف رکھئے، انہوں نے اپنے سینے پر لگے کارڈ کی طرف اشارہ کیا کہ دیکھو یہ کیا ہے ’’انتظامیہ‘‘ جب میں خود انتظامیہ ہوں تو بیٹھ کیسے جاؤں؟یہی عالم وہاں دیگر موجود سرداروں کا تھا۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی مرحوم کے پوتے شاہ زین اکبر بگٹی سٹیج پر موجود تھے جنہوں نے ایک روز پہلے جناب حافظ محمد سعید سے طویل ملاقات اور پھر میڈیا سے بات بھی کی تھی اور اپنے دلی جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ کہنے لگے، کشمیر کی آزادی کیلئے مجھے اور میرے قبیلے کو جب بھی حافظ صاحب کی جانب سے آواز دی جائے گی، ہم سب حاضر ہو جائیں گے۔پھر کہنے لگے کہ میں آپ سب کو اپنے علاقہ ڈیرہ بگٹی آنے کی دعوت دیتا ہوں کہ وہاں کے لوگ اور ہمارا قبیلہ آپ کی راہیں تک رہے ہیں۔ نجیب ترین، راز محمد لونی، راز محمد اودزئی، حاجی عبدالہادی کاکڑ، مولانا عبدالقادر لونی و دیگر سبھی معززین صوبہ، پاکستان اور حافظ محمد سعید سے یوں محبت کا اظہار کرتے کہ ماحول کا رنگ ہی بدل جاتا۔ سامنے بیٹھے شرکا اس قدر محبت و احترام کی مجسم تصویر بنے ہوئے تھے کہ جیسے سب ان کے گھر کا ہی پروگرام چل رہا ہو۔ جلسہ اختتام کو پہنچا اور واپسی کا سفر شروع ہوا تو کوئٹہ ایئرپورٹ پر ایک سوٹڈ بوٹڈ شخصیت پروفیسر حافظ محمد سعیدکو بے ساختہ پکارتی پائی گئی ، قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ یہ تو وزیراعلیٰ بلوچستان کے دست راست اور اہم ترین مشیر ہیں اور صرف ملاقات کے لئے اس قدر مشتاق ہیں۔ پھر وہ سبھی جاننے والوں کو بلا بلا کر مصافحہ کرواتے چلے جاتے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کو پتہ چلا تو مرکزی ذمہ داران سے لے کر سبھی عملہ جماعۃ الدعوۃ کے وفد اور حافظ محمد سعید کی آمد کو اپنے ہوائی اڈے کیلئے سب سے بڑی خوشی سمجھ کر لپٹ لپٹ مل رہا تھا۔ قاری محمدیعقوب شیخ بتانے لگے کہ جب جہاز میں بیٹھے تھے تو کئی ہمسفر بول اٹھے ،ہم بھی حاضر تھے ہاں لیکن فلائٹ مس ہونے کے خوف سے جلسہ گاہ سے جلد نکلنا پڑا۔ بس ہمیں اتنا بتا دو کہ جناب حافظ صاحب نے وہاں ہمارے بعد کیا کہا۔ محبتوں، الفتوں اور چاہتوں کا یہ عجب سفر اختتام کو پہنچا تو بھارت کی جیسے نیندیں حرام ہو گئیں۔ بھارتی میڈیا، پاکستان میں بیٹھے ان کے ایک دو کاسہ لیسوں کے حوالے دیکر د یکر دن رات رو رہاہے ، بس بار بار چیخ پکار اور حا فظ محمد سعید کی ساری آبلہ پائی بھارت کے عصاب پر مسلسل سوار ۔۔۔۔دنیا عجیب ہی نظارہ کر رہی ہے دِکھتا یہی ہے کہ بہت جلد بڑا نتیجہ بھی دیکھنے والی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Imran Shaheen

Read More Articles by Ali Imran Shaheen: 189 Articles with 81555 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Dec, 2016 Views: 509

Comments

آپ کی رائے