لبریشن لیگ کی سچی باتیں

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
ریاست جموں و کشمیر میںبہت کم ہی سہی لیکن ایسی شخصیات موجود ہیں، جو کشمیر کاز اور پاکستان کے قومی مقصد و مفاد کے پیش نظر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی کشمیر سے متعلق پالیسیوں کو اصلاح،بہتری کے حوالے سے حرف تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ایسی شخصیات کی کشمیر کاز اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کے حوالے سے پالیسیوں اور حکمت عملی میں بہتری کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کشمیریوں کی پاکستان سے گہری محبت کی عکاسی بھی کرتی ہے، جو پاکستان کے نظرئیے،پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی غلط،نقصاندہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے، پاکستان کی قدر کا ادراک رکھتے ہوئے ملک کو بہتری کی جانب مائل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیںَ۔پاکستان اور کشمیر کاز کے بہترین مفاد میں ایسا کردار ادا کرنے والی شخصیات کوبعض عناصر کی طرف سے مختلف تکلیف دہ الزامات اورصورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔لیکن ایسی شخصیات یہ سوچ کر یہ ستم بھی سہہ جاتی ہیں کہ یہاں تو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح پر بھی گمراہ کن جھوٹے الزامات لگائے گئے۔حکام میں کم ہی ایسے افراد ہیں جو درد دل رکھنے والی ایسی شخصیات کے منفرد کردار کا احساس و اعتراف رکھتے ہوں۔
سیز فائر لائین کے دونوں طرف کشمیر کے منقسم حصوں میں وسیع پیمانے پر پاکستان کی حمایت اورپاکستان سے گہری محبت و عقیدت پائی جاتی ہے۔کشمیریوں کی پاکستان سے انمٹ لگاوٹ کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ہندوستان کے لئے بار بار کام آنے کے باوجود انڈین اسٹیبلشمنٹ شیخ عبداللہ خاندان،مفتی سعید خاندان سمیت کسی بھی بھارت نواز شخص پر بھروسہ،اعتماد نہیں کرتی۔کشمیر میں ایسا عنصر محدود پیمانے پر موجود ہے جو بھارت سے روابط اور تعاون کے حوالے سے کشمیریوں میں جانے جاتے ہیں اور ان کے کشمیرکی جدوجہد آزادی کے خلاف سرگرمیوں کو ایک نظر میں ہی پہچان لیا جاتا ہے۔متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میںبہت کم ہی سہی لیکن ایسی شخصیات موجود ہیں، جو کشمیر کاز اور پاکستان کے قومی مقصد و مفاد کے پیش نظر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی کشمیر سے متعلق پالیسیوں کو اصلاح،بہتری کے حوالے سے حرف تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ایسی شخصیات کی کشمیر کاز اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کے حوالے سے پالیسیوں اور حکمت عملی میں بہتری کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کشمیریوں کی پاکستان سے گہری محبت کی عکاسی بھی کرتی ہے، جو پاکستان کے نظرئیے،پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی غلط،نقصاندہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے، پاکستان کی قدر کا ادراک رکھتے ہوئے ملک کو بہتری کی جانب مائل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیںَ۔پاکستان اور کشمیر کاز کے بہترین مفاد میں ایسا کردار ادا کرنے والی شخصیات کوبعض عناصر کی طرف سے مختلف تکلیف دہ الزامات اورصورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔لیکن ایسی شخصیات یہ سوچ کر یہ ستم بھی سہہ جاتی ہیں کہ یہاں تو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح پر بھی گمراہ کن جھوٹے الزامات لگائے گئے۔حکام میں کم ہی ایسے افراد ہیں جو درد دل رکھنے والی ایسی شخصیات کے منفرد کردار کا احساس و اعتراف رکھتے ہوں۔

یہ اہم بات ہے کہ کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلق میں قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور کردار کا بڑا عمل دخل ہے۔ریاست جموں و کشمیر کے ایک ممتاز و معروف سیاسی رہنما خورشید حسن خورشید محض بیس سال کی عمر میں قائد اعظم کے سیکرٹری بنے،تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا،تحریک آزادی کشمیر کے لئے زندگی کی آخری سانس تک مصروف جدوجہد رہے۔کے ایچ خورشید آزاد کشمیر کے صدر بنے اور انہوں نے آزاد کشمیر میں ایک نئی سیاسی جماعت لبریشن لیگ قائم کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے سامنے یہ تجویز،مطالبہ رکھا کہ پاکستان آزاد کشمیر حکومت کو تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتے ہوئے اسے ریاست کشمیر کی جدوجہد آزادی کی ترجمان حکومت کے طور پر دوسرے ملکوں سے بھی تسلیم کرایا جائے۔کشمیر کاز کی کامیابی اور پاکستان کے لئے مخلصانہ جدوجہد کرنے والی اس شخصیت پر بھی غلط الزامات لگائے گئے۔سیاسی انحطاط پذیری کے کئی عشروں کی تاریخ دیکھتے ہوئے آج آزاد کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں بھی کے ایچ خورشید کے لئے وسیع پیمانے پر احترام پایا جاتا ہے اور باشعور نوجوان ان کے مطالبے کو ایک درست فیصلہ قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں آزاد کشمیر کے 'منی لندن ' کہلانے والے شہر میر پور میں منعقدہ لبریشن لیگ کے مرکزی کنونشن میں آزاد کشمیر کے سابق چیف جسٹس عبدالمجید ملک کو دوبار لبریشن لیگ کا صدر منتخب کیا گیا۔صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ (ر)چیف جسٹس عبدالمجید ملک نے کنونشن سے خطاب میںکہا کہ کشمیری عوام گزشتہ70سالوں سے حکمرانوں کی نا اہلی کی وجہ سے آزادی سے محروم ہیں، پاکستان آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق بھی بھیک کے مطابق مرضی سے دیتاہے، ان سے کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کے حقوق بھارت سے لے کر دینے کی کیسے امید رکھی جا سکتی ہے۔صدر لبریشن لیگ نے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے 1947سے لے کر موجودہ حکومت تک تفصیلات بتائیں کہ کس طرح کشمیری آزادی سے محروم چلے آ رہے ہیں جس میں زیادہ کمزوری ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی رہی ہے، محض اقوام متحدہ میںجذباتی تقریر کر دینے سے 70سالہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا موجودہ حکومت اور سابقہ حکومتوں نے بھی مسئلہ کشمیرکے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر نے کیلئے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جنہیں تحریک آزادی کشمیر سے آگاہی نہیں، سند ھ طاس معاہدہ، اور شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور پاکستان کی پسپائی کی نشانیاں ہیں ان تمام معاملات کے زریعہ بھارتی موقف کو تقویت پہنچائی گئی۔ ملک عبدالمجید نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں چلنے والی تحریک نے پوری دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں مگر ہمارے سیاست دان اسمبلی میں اس مسئلہ پر بات کر نے کے بجائے بائیکاٹ کر تے ہیں میڈیا خاموش ہے انہوں نے کہا کہ جب تک پوری قوم متحد نہیں ہوتی مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں اور مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل کشمیری عوام قبول نہیں کریں گے ملک مجید نے کہا کہ حکومت پاکستان آزادکشمیر کے عوام کو ان کے حقوق خود دینے کو تیار نہیں اور انہیں بھکاری بنا کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1962میں لبریشن لیگ کا قیام عمل میں آیا اور قائد اعظم محمد علی جناح کے پرسنل سیکرٹری خورشید حسن خورشید پہلے صدر منتخب ہوئے گزشتہ54سالوں میں جماعت پر بڑے بڑے تابڑ توڑ حملے ہوئے اور اسے ختم کر نے کی کوششیں کی گئیںلیکن اللہ کے فضل وکرم سے آج مخلص کارکنان کی وجہ سے لبریشن لیگ متحد قائم ودائم ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 319303 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
29 Dec, 2016 Views: 459

Comments

آپ کی رائے