نئے سال کی پہلی دُُعا اور مغرب کی کاربن کاپی اور مسلمان

(Mohammed Masood, Nottingham)
نئے سال کی آمد آمد ہے اس سے پہلے کسی کے لکھے یہ الفاظ ضرور پڑھیں یہ قوم کس قدر بدقسمت ہے

اے میرے رب میری زندگی کو کوئی مقصد دے دے

اے میرے رب میری زندگی کو کوئی مقصد دے دے

نئے سال کی آمد آمد ہے اس سے پہلے کسی کے لکھے یہ الفاظ ضرور پڑھیں یہ قوم کس قدر بدقسمت ہے جو ایک بار پھر دور جہالت کی طرف سفر کر رہی ہے اور جہالت کی اتھاه گہرائیوں میں جا رہی ہے مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے دیسی لبرل جس دھج سے نئے سال کو منا رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ کوئی مذهبی تہوار عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہو ان دیسی لبرل کو اس بات تک کا پتہ نہیں کہ مغرب جس رات کو نیو اہر نائٹ مناتا ہے اس رات میں وه لوگ پورے سال میں کرنے والے گناہوں کو ایک رات میں سمیٹتے ہیں شراب و زنا سے لے کر بنت حوا کو ننگا نچانے تک کر گزرتے ہیں اس رات میں اور ہم ہیں کہ ان کی نقلوں میں ان سے بھی آگے نکل رہے ہیں جیسے پولیس والا بھاگتے ہوئے چور سے آگے نکل جائے حیرت تو اس بات پر ہے کہ ہمارا پڑا لکھا نوجوان طبقہ بھی ایسے افعال پہ شرم محسوس نہیں کرتا اور لوگوں کو گمراہی سے نہیں بچاتا مگر ایسے پڑھے لکھے نوجوانوں سے کیا توقع رکھی جائے جو اپنی زندگی کا ایک چوتھائی سیکولر تعلیم کی گریڈ اور ڈگری میں ضائع کر دیتے ہیں اور سب سے اعلی گریڈ سب سے اعلی ڈگری قرآن و سنت کو سیکھنے کے لئے اپنی زندگی سے چھے ماه نہیں نکال سکتا اور حد تو یہ ہے سال کے آخری سورج کو بریکنگ نیوز ایسے بنایا گیا جیسے دنیا کا آخری سورج ہو اور مزید حیرانگی اس وقت ہوتی ہے جب علماء کرام کو اس پر خاموش دیکھتا ہوں کیونکہ کسی بد فعل پر علماء کی خاموشی اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وه کام اسلام میں جائز ہی مگر میرا جسم اس وقت کانپ اٹھتا ہے جب یہ سوچتا ہوں کہیں یہ علماء نیو ائیر نائٹ کو کہیں اسلام کی چوتھی عید نہ قرار دے دیں حالانکہ جس قوم کی کاربن کاپی بننے میں ہم ایک دوسرے سے آگے نکل رہے ہیں اس قوم کی نقالی اور پیروی سے قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں سختی سے روکا گیا ہے اور اسی قوم سے ہونے کی وعید سنائی گئی ہے لیکن میری سوچ یہ کہتی ہے اور کہانی کچھ یوں ہے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ کی رات کا آخری پہر ہے ۔ ایک پُر آسائش نیم تاریک کمرے میں آرام دہ صوفے پر میں ہیولا سا بیٹھا ہوں میں بار بار پہلو بدلتا ہوں کبھی دونوں ہاتھوں میں سر کو تھام لیتا ہوں اور کبھی بے چینی سے پیر پٹخنے لگتا ہوں میرا عالیشان گھر ، گاڑ یاں ، خوبصورت بیوی صحت مند ذہین بچے سب میری ہی کامیابی کے گواہ ہیں ۔ خاندان میں بڑے چھوٹے سب میری رائے کا احترام کرتے ہیں ۔ معاشرے میں مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مگر ایک خالی پن ہے جو میری روح میں بھرتا جا رہا ہے۔ نہ جانے ایسا کیا ہے جو مجھےحاصل نہیں ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر اگلے ہی لمحے میں یہاں نہ رہا تو کیا فرق پڑے گا ۔ میرے بیوی بچے کچھ دن غمگین رہیں گے پھر اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہو جائیں گے۔ کسی کو کیا فرق پڑے گا۔ آج مجھے اپنا وجود بہت کم مایہ محسوس ہو رہا ہے اتنی بڑی دُنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو مجھ سے زیادہ کامیاب ہیں زیادہ اونچے مقام اور رُتبے کے حامل ہیں ۔ پھر اس دُنیامیں اگر میں نہ رہا تو کیا فرق پڑے گا۔ شاید کل کے اخبار میں چار سطروں کی خبر چھپ جائے کہ معروف شخصیت راجہ محمد مسعود انتقال کر گئے مرحوم بہت سارے گھروں ۔ کمپنیوں اور بڑی بڑی اعلی گاڑیوں کے مالک تھے اُن کے پسماندگان میں اُن کے بیوی اور بچے شامل ہیں ۔ اُن کا جنازہ آج اتنے بجے اُٹھایا جائے گا۔ پھر وہی شب و روز ہوں گے شہر کی گہما گہمی میں کیا کمی آئے گی۔ سورج ، چاند، ستارے سب اپنے اپنے مدار میں اپنے نظام الاوقات کے مطابق گردش کرتے رہیں گے۔ اب اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں باآوازِ بلند میں سوچنے لگا اے میرے رب تو نے مجھے کس لئے پیدا کیا؟ میرے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اے میرے رب مجھے ہر دُنیاوی آسائش حاصل ہے۔ اگر میں سچ بولوں تو مجھے جنت کی بھی خواہش نہیں ۔ دُنیا میرے لئے جنت سے کیا کم ہے؟ تو پھر یہ میرے اندر کا خلا کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ جیسے میری روح کو گھن لگ گیا ہے آہستہ آہستہ میرے اطمینان میرے سکونِ قلب کو ختم کر رہا ہے میرا اعتماد کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے نہ جانے میں یہاں موجود ہوں یا یہ سب کوئی طلسم ہے میری آنکھ کھلے گی تو نہ یہ عالیشان مکان ہو گا نہ یہ چاہنے والے نہ یہ مقام نہ رُتبہ تو پھر مجھے اور کیا چاہیئے مجھے جینے کی اک وجہ چاہیئے جو میرے خالی وجود کو بھر دے جو اپنی ذات پر میرے اعتماد کو بحال کر دے

اے میرے رب میری زندگی کو کوئی مقصد دے دے
اے میرے رب میری زندگی کو کوئی مقصد دے دے


بروز ہفتہ 31/12/2015 ٹائم دوپہر 1 بجکر 39 منٹ
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammed Masood

Read More Articles by Mohammed Masood: 59 Articles with 99379 views »
محمد مسعود اپنی دکھ سوکھ کی کہانی سنا رہا ہے

.. View More
31 Dec, 2016 Views: 518

Comments

آپ کی رائے